April 10, 2017
موسم بہار، خوش رنگ پھولوں کی نمائش

موسم بہار، خوش رنگ پھولوں کی نمائش

موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی درخت کا ہر پتّا، سبز رنگ کی چادر اوڑھے کھِل اُٹھتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے خزاں کا موسم کبھی آیا ہی نہ تھا اور چہار سو پھیلی یہ خوش رنگ بہار کبھی گئی ہی نہ تھی… بہار کی رُت ہے ہی ایسی کہ خزاں کی خشک اور سرد شام کو بھول کر باغوں میں جھولے ڈالنے، برگ و گل کی خوشبو میں کھوجانے کو دل بے چین ہوجاتا ہے۔
سرسبز درخت، رنگین پتے، پھلوں کی میٹھی خوشبوئیں، بارش اور پھول… موسم بہار کی شان ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بہار کی آمد آمد ہو اور ہم ان سے دور رہیں؟ پاکستان کی حسین دلفریب وادیوں میں موسم بہار کے دل لبھاتے رنگین پھولوں سے لطف اندوز ہونا تو عام بات ہے مگر کراچی جیسے شہر میں جہاں ہر طرف فلک بوس عمارتیں نظر آتی ہیں، شہریوں کو بہار کے اصل رنگ دیکھنے کا موقع کم ہی ملتا ہے… ایسے میں اگر شہر کے کسی کونے میں پھولوں کی نمائش منعقد ہو جائے، جہاں موسم بہار کی نوخیز کلیاں، گل و گلزار کا نمونہ پیش کر رہی ہوں تو سمجھیں جیسے موسم بہار، موسم گل میں بدل گیا ہو۔
کراچی ایک بے حد مصروف شہر ہے اور کراچی والے بھی کچھ کم مصروف نہیں۔ یہاں سب جلدی میں رہتے ہیں اور اس جلدی کا اظہار یہاں کی ٹریفک زدہ سڑکوں سے ہوجاتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مصروفیت، ٹریفک، گرمی اور تھکن کے باوجود قدرتی حسن اور موسم بہار کی سوغات کو سراہنے کے لیے کراچی والوں کا جذبہ کبھی کم نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے پچھلے دنوں جب ناظم آباد کے معروف پارک میں موسم بہار کے خوش رنگ پھولوں کی نمائش منعقد کی گئی تو شہر بھر سے لوگ، یہ دلفریب نظارہ دیکھنے کے لیے امڈ آئے۔ تین روز تک جاری رہنے والی اس نمائش میں پھولوں کی کئی اقسام شامل کی گئی تھیں، خاص طور پر سرخ، سفید، جامنی، ارغوانی، گلابی اور آتشی گلابی رنگ کے ’’گل اطلس‘‘ ہر جانب نظر آرہے تھے۔ اس پھول کو انگریزی میں Petunia کہتے ہیں اور فی الحال یہی اس موسم کا سب سے زیادہ کھلنے والا پھول ہے۔ گل دائودی (Chrysanthemum) کی کئی اقسام بھی نمائش کا حصہ تھیں۔ گیندا، سدا بہار، ڈریگن فلاور، مارگریٹ، گل مینا (Aster) اور کئی برس بوڑھے بونسائی (Bonsai) کے پودے توجہ کا مرکز رہے۔ پھولوں پر شائقین کی توجہ مرکوز تھی تو دوسری طرف سبز اور سرخ پتوں والے آرائشی پودے، جنس کولیس کے رنگے برنگے پتوں والے پودے اور کیکٹس کو پسند کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہ تھی۔
نمائش میں آئے ہوئے زیادہ تر افراد یہی جاننا چاہتے تھے کہ گھر میں ان پودوں کی دیکھ بھال کیسے کی جائے اور موسم بہار میں گھر میں لگانے اور سجانے کے لیے کون سا پھول سب سے مناسب ہے؟ منتظمین سے بات چیت کی گئی تو پتہ چلا کہ کراچی کے گرم موسم میں فی الحال ’’گل اطلس‘‘ کا پودا سب سے مناسب ہے۔ نمائش میں ایسے بہت سے پھول موجود تھے جو عام طور پر کسی نرسری میں بھی دستیاب نہیں ہوتے، ان منفرد اور خاص پھولوں میں گل بابونہ (جنس رد بیکیا)، ارغوانی رنگ کے گل شمعدانی (جنس جرینیم) اور جنس جرجر کی چمکیلی، نارنجی، زرد اور سرخ پھولوں والی زمینی بیل نمایاں تھی… سوئٹ ولیم، جنس سالویا (Salvia) کے قرمزی پھول، نمائشی میلے میں انوکھے رنگوں کا اضافہ کر رہے تھے اور چنبیلی کی خوشبو ہر جانب بکھری محسوس ہوتی تھی۔
تین روزہ نمائش کیلئے مختلف رنگوں کے منفرد پھولوں اور پودوں کو جس فنکارانہ انداز میں سجایا گیا، وہ بھی قابل تعریف ہے۔ موسمی پھولوں کو فواروں کے اردگرد نہایت دلفریب انداز میں، سنگ مر مر کے رنگ برنگے پتھروں کی مدد سے سجانے کا اہتمام کیا گیا تھا، نمائش میں آئے ہوئے زیادہ تر افراد اس سجاوٹ کے اردگرد سیلفی لیتے نظر آرہے تھے۔ سورج ڈوبنے کے بعد پارک میں لگائے گئے سجاوٹی قمقمے روشن کیے گئے۔ ان قمقموں کی سنہری روشنی میں رنگین پھول، پودے جو انوکھا تاثر قائم کر رہے تھے، وہ دیدنی تھا۔
ہر عمر کے افراد کیلئے یہ خوش رنگ میلہ، اس لیے بھی دلچسپ رہا کہ پھولوں کی نمائش کے ساتھ ساتھ یہاں آرائشی ساز و سامان کے مختلف اسٹالز کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ کھانے پینے کے اسٹالز پر خاص طور پر گہماگہمی نظر آئی۔ پھولوں کی تین روزہ نمائش یوں تو صبح 10بجے سے رات 11 بجے تک جاری رہی لیکن گرم موسم اور دھوپ کی وجہ سے زیادہ تر لوگ شام 4بجے کے بعد نمائش دیکھنے کے لیے پہنچے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ پھولوں کی نمائش، روزمرہ مصروفیات سے وقفہ لینے اور قدرتی خوبصورتی سے قریب ہونے کا ایک دلکش موقع ہے۔