March 06, 2017
ینگ اور دبنگ، صالحہ خان

ینگ اور دبنگ، صالحہ خان

جب یہ خبر سامنے آئے کہ انڈیا میں ایک مسلمان لڑکی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے سوترا بائی پھولے ایوارڈ (Savitrabai Phule) دیا گیا ہے تو یقینا حیرانی تو ہوگی۔
17؍فروری کو انڈیا کے ایک مشہور اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر کے مطابق17سالہ صالحہ خان جو کہ کالج کی اسٹوڈنٹ ہیں اور ممبئی کے ایک کچی بستی والے علاقے گوندی میں رہائش پذیر ہیں ، کو گزشتہ دنوں اس اعزاز سے نوازا گیا۔ انہوں نے کچی آبادی میں رہتے ہوئے وہاں رہائش پذیر دوسری بچیوں کی تعلیم کے لئے آواز اٹھائی ہے۔ صالحہ خود غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان میں آگے پڑھنے کی لگن موجود ہے۔ وہ آگے پڑھنے کی خواہش دل میں رکھتی تھیں لیکن ان کے پاس چونکہ وسائل اتنے تھے کہ وہ اپنی پڑھائی کا خرچہ اٹھاسکیں، اسلئے انہیں ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے اب ان کی پڑھائی رُک جائے گی، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اس مسئلے پر حکام بالا کی توجہ دلوانے کی کوشش کی، یہی وجہ ہے کہ وہاں کی ایک نجی این جی او نے صالحہ کو پڑھائی میں مدد دینے کی پیشکش کی، یوں وہ مشکل حالات کے باوجود اپنی پڑھائی پر توجہ دے رہی ہیں۔ صالحہ کا کہنا ہے کہ وہ جہاں رہتی ہیں، اس جگہ پر رہتے ہوئے یہ مشکل کام ہے کہ لڑکیاں اپنی پڑھائی کو جاری رکھ سکیں، اس علاقے کے لوگوں کے پاس بچوں کو کھلانے کے پیسے نہیں ہوتے، وہ کس طرح ان کو پڑھائیں گے۔صالحہ اور ان کی ماں کی جانب سے کی جانے والی کوششیں اس وقت رنگ لائیں کہ جب انہیں آگے پڑھنے کے لئے دوسرے لوگوں کا ساتھ ملا۔ صالحہ ینگ اور دبنگ تو ہیںہی، لیکن وہ ممبئی کی اس کچی بستی کی لڑکیوں کے لئے وہ شمع بن چکی ہیں، جس کی روشنی میں وہاں کی دیگر بچیاں اپنے اصل راستے پر چل پڑی ہیں اور تعلیم حاصل کررہی ہیں ۔
17 سالہ صالحہ خان کورواں سال سوترا بائی پھولے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، عموماً یہ ایوارڈ بڑی عمر کی ایسی خواتین کو دیا جاتا ہے، جنہوں نے کسی سماجی مسئلے پر سالوں خدمات انجام دی ہوں۔ تاہم اپنے علاقے کی ینگ دبنگ صالحہ خان نے یہ ایوارڈ جیت کر دوسری لڑکیوں کے لئے مثال قائم کی ہے کہ اگر ہمت نہ ہاری جائے تو ہر راستہ منزل تک پہنچا ہی دیتا ہے۔