تازہ شمارہ
Title Image
January 23, 2017
نواب سلیم اللہ خان

نواب سلیم اللہ خان

آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن نواب سلیم اللہ خان 7 جون 1871ء کو ڈھاکا میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق بنگال کے معزز خاندان سے تھا۔ سلیم اللہ نے ابتدائی اور دینی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1903ء میں والد کے انتقال کے بعد انہیں ’’نواب بہادر‘‘ کا خطاب ملا۔ انہوں نے رفاہی کاموں میں حصہ لینے کی خاندانی رسم کو جاری رکھا، ڈھاکا میں ان کی رہائش گاہ ’’احسن منزل‘‘ بنگال کے مسلمانوں کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ نواب سلیم اللہ کو مسلمانوں کی تعلیمی اور سیاسی ترقی سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ انہوں نے کلکتہ، علی گڑھ، رانچی اور ڈھاکا کے تعلیمی اداروں کی دل کھول کر مالی اعانت کی۔ جب تقسیم بنگال کا منصوبہ سامنے آیا تو آپ نے مسلمانوں کو اس منصوبے کی خوبیوں سے آگاہ کیا اور اس کا حامی بنانے کے لئے ’’دی محمڈن پراونشل یونین‘‘ کے نام سے ایک جماعت قائم کی، جس کا پہلا اجلاس 16؍ اکتوبر 1905 کو یعنی تقسیم بنگال کے دن منعقد ہوا۔ نواب صاحب اس جماعت کے صدر منتخب ہوئے۔ ہندوئوں کی فرقہ وارانہ ذہنیت اور ان کی جانب سے تقسیم بنگال کی شدید مخالفت کی وجہ سے نواب سلیم اللہ جلد ہی اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی ایک ملک گیر تنظیم ہونی چاہئے، چنانچہ انہوں نے اسی تنظیم کا ایک خاکہ تیار کیا اور اس کا نام ’’آل انڈیا مسلم کنفیڈریسی‘‘ تجویز کیا۔ دسمبر 1906ء میں آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ڈھاکا میں منعقد ہوا تو نواب سلیم اللہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی یہ تجویز کانفرنس کے تمام شرکاء میں تقسیم کی۔ چنانچہ کانفرنس کے اختتام پر، اس میں شریک ہونے والے رہنمائوں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اس تجویز کا خیرمقدم کیا گیا اور اتفاق رائے سے مسلمانوں کی ایک کل ہند سیاسی جماعت کا قیام منظور کیا گیا، جس کا نام ’’آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ رکھا گیا۔ مسلم لیگ کے قیام کی تجویز بیس سالہ نوجوان نواب سلیم اللہ خان نے پیش کی اور اس کی تائید حکیم اجمل خان مرحوم نے کی۔ نواب صاحب اس اہم اور تاریخی وفد میں بھی شامل تھے، جس نے سر آغا خان کی رہنمائی میں یکم اکتوبر 1906ء کو شملہ میں وائسرائے سے ملاقات کی تھی اور مسلمانوں کے مطالبات اور مسائل پیش کئے تھے۔ 1911ء میں جب تقسیم بنگال کی تنسیخ کا اعلان ہوا تو اس واقعے نے نواب سلیم اللہ کو سخت دل گرفتہ کردیا۔ انہوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار، آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ مارچ 1912ء کلکتہ میں کیا، جو انہی کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ 16؍جنوری 1915ء کو مسلمانوں کے اس عظیم محسن کا انتقال ہوا۔