May 29, 2017
پہلی عرب، اسلامی، امریکی سربراہ کانفرنس

پہلی عرب، اسلامی، امریکی سربراہ کانفرنس

وزیراعظم نوازشریف کی شرکت

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی پہلی عرب، اسلامی، امریکی سربراہ کانفرنس میں شرکت کیلئے اتوار، 21؍مئی کو تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزیراعظم نواز شریف کو سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی اور یہ دعوت نامہ سعودی وزیر اطلاعات عواد بن صالح العواد نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے دورے کے موقع پر انہیں پیش کیا تھا۔ وزیراعظم جب کنگ سلمان ایئرپورٹ پر اُترے تو ریاض کے گورنر پرنس فیصل بن بندر بن عبدالعزیز آل سعود اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم کے ساتھ ان کے خارجہ اُمور کے مشیر سرتاج عزیز، قومی سلامتی کے اُمور کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ، خاتونِ اوّل بیگم کلثوم نواز، ان کے صاحبزادے حسین نواز اور ایڈووکیٹ اکرم شیخ بھی وفد میں شامل تھے۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ اسلامی دُنیا کے 55سربراہانِ مملکت و حکومت اور ان کے نمائندوں نے اس سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی۔ اجلاس میں شرکت کیلئے نواز شریف جب شاہ عبدالعزیز کانفرنس سینٹر پہنچے تو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بنفسِ نفیس ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ وزیراعظم نواز شریف انتہاپسندی کے خلاف عالمی مرکز کی افتتاحی تقریب میں بھی عالمی رہنماؤں کے ساتھ شریک ہوئے، جسے سعودی عرب کی جانب سے انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔
سربراہ کانفرنس کے ’’مہمانِ خصوصی‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے، جن کیلئے ظاہری طور پر یہ بین الاقوامی انجمن سجائی گئی تھی اور انہوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ اس موقع پر سعودی عرب کو 110 ارب ڈالر مالیت کے امریکی جنگی سازوسامان فروخت کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ یہ نیکی اور بدی کی لڑائی ہے، داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں دُنیا کیلئے خطرہ ہیں، عرب ممالک دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں بلکہ انہیں اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں۔ مشرقِ وسطیٰ کی اقوام کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے امریکا پر انحصار ختم کرنا چاہئے اور عرب ممالک کو انتہاپسندی کے خلاف مل کر جدوجہد کرنی چاہئے۔ قبل ازیں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عرب اور مسلم ممالک کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ ارب مسلمان شدت پسندی کے خلاف امریکا کے ساتھ ہیں۔ دہشت گردی پوری دُنیا کیلئے خطرہ بن چکی ہے جبکہ اسلام میں ایک مسلمان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب دہشت گردی کیلئے مالی معاونت کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ چلانے میں کسی رعایت سے کام نہیں لے گا۔
پہلی عرب، اسلامی، امریکی سربراہ اجلاس کے موقع پر عرب و اسلامی دُنیا سے آئے ہوئے دیگر رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دل کی گہرائیوں سے مسلم دُنیا کے اتحاد کا خواہاں ہے اور بین المذاہب یگانگت اور مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔ دفترخارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان کو سب سے زیادہ دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اس نے سب سے زیادہ قابل قدر قربانیاں دی ہیں۔ عرب، اسلامی، امریکی سربراہ اجلاس کا ایک حصہ بننے پر وزیراعظم نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کیلئے سعودی عرب کا انتخاب ایک مناسب فیصلہ ہے کیونکہ اس سرزمین کا تعلق حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونے کی وجہ سے دُنیا کے تمام مسلمان اسے انتہائی عقیدت و احترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔
سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روایتی انداز میں گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ جس کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ آپ کے پہلے غیرملکی دورے کیلئے سعودی عرب کا انتخاب قابلِ تعریف ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ایک سرسری نوعیت کی ملاقات تھی اور ظاہر ہے کہ سربراہ اجلاس کے طے شدہ شیڈول میں ان کے درمیان باقاعدہ گفت و شنید کا کوئی امکان موجود نہیں تھا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کئے جانے والے اقدامات سے عالمی رہنماؤں کو باخبر کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی وہ سب سے خطرناک چیلنجز ہیں جن کا آج دُنیا سامنا کررہی ہے اور بدقسمتی سے پاکستان کو سب سے زیادہ اس دہشت گردی کی وجہ سے نقصان ہورہا ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہری اور ہزاروں سیکورٹی اہلکار دہشت گرد حملوں میں شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ پاکستان کو اربوں روپے کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود ہم پورے عزم اور حوصلے سے دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں۔ جانوں کی قربانیوں اور مالی خسارے نے ہمارے عزائم کو مزید طاقتور بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سال کے عرصے کے مقابلے میں گزشتہ سال سب سے کم دہشت گرد حملے ہوئے ہیں اور یہ اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ قومی اتفاقِ رائے پر مبنی سیاسی عزم اور مسلح افواج کے منظم آپریشنز کے ذریعے انتہاپسندی اور دہشت گردی سے متاثرہ ممالک مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ متعدد عالمی رہنماؤں سے خیالات کا تبادلہ کیا، جن میں قطر کے امیر، بحرین کے بادشاہ، آذربائیجان کے صدر، ملائیشیا کے وزیراعظم اور تاجکستان کے صدر شامل ہیں۔ بعدازاں وزیراعظم نواز شریف پیر کو ریاض سے مدینہ منورہ روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی اور صلوٰۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔