تازہ شمارہ
Title Image
September 26, 2016
نمونیہ : وہ سب کچھ جو آپ کو معلوم ہونا چاہیے

نمونیہ : وہ سب کچھ جو آپ کو معلوم ہونا چاہیے

گزشتہ ہفتے امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون صدارتی اُمیدوار ہلیری کلنٹن 9/11 کی برسی تقریبات میں شرکت کے بعد واپسی پر گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے غش کھا کر گرنے والی تھیں کہ محافظوں نے انہیں سہارا دے کر گاڑی پر سوار ہونے میں مدد کی۔ اس واقعے کی ویڈیو دُنیا بھر کے ناظرین نے اپنے ٹی وی اسکرین پر بھی دیکھی ہوگی۔ ہلیری کے معالج نے بعد میں بتایا کہ تین روز پہلے ان میں نمونیہ کی تشخیص ہوئی تھی اور اینٹی بایوٹک دوائوں سے ان کا علاج کیا جا رہا تھا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے وابستہ چیف میڈیکل وقائع نگار ڈاکٹر سنجے گپتا کا کہنا ہے کہ اگرچہ نمونیہ قابل علاج مرض ہے لیکن پھر بھی یہ تشخیص سنگین نوعیت کی ہے اور اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس انفیکشن کے بارے میں ضروری معلومات سے آگاہی بہت اہم ہے جس پر ذیل میں روشنی ڈالی جا رہی ہے:۔ نمونیہ کیا ہے؟ نمونیہ سانس کی نالی کا ایک انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں پھیپھڑے کے اندر ہوا جذب کرنے والی بہت چھوٹی چھوٹی تھیلیاں جن کو Alveoli کہتے ہیں اور جن کی مدد سے ہم سانس لیتے ہیں، سوزش کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انفیکشن کے باعث ان تھیلیوں میں سیال مادّہ یا بلغم جمع ہونے لگتا ہے جس سے ان میں آکسیجن کی مقدار محدود ہو جاتی ہے اور سانس لینا دُشوار ہو جاتا ہے۔ نمونیہ کی بہت ساری قسمیں ہیں جو مختلف اقسام کے انفیکشن سے ہوتی ہیں اور جسم پر ان کے اثرات ہلکے اور سنگین ہو سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ بچّے نمونیہ کے خطرے کی زَد میں ہوتے ہیں اور عالمی ادارئہ صحت کے مطابق پوری دُنیا کے بچوں میں انفیکشن سے ہونے والی اموات میں نمونیہ سب سے بڑا سبب ہوتا ہے۔ اس کا سبب کیا ہوتا ہے؟ عام طور پر جراثیم یا وائرسیز نمونیہ کا سبب بنتے ہیں لیکن بعض اوقات پھپھوند (Fungi) سے بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ امریکا میں ’’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن‘‘ کا یہ کہنا ہے کہ وائرس سے ہونے والے نمونیہ کے عمومی اسباب انفلوئنزا اور سانس کی نالیوں میں موجود Respiratory Syncytial Virus یا RSV ہوتے ہیں اور جراثیم سے ہونے والے نمونیہ میں Streptococcus Pneumoniae جسے Pneumococcus بھی کہتے ہیں، ذمہ دار ہوتے ہیں۔ نمونیہ کا سبب بننے والے ایک اور جراثیم کا نام Haemophilus Influenzae Type B ہے جو گردن توڑ بخار (Meningitis) میں بھی مبتلا کرتے ہیں۔ جراثیم سے ہونے والے اس قسم کے انفیکشنز اور انفلوئنزا سے تحفظ کیلئے ویکسین دستیاب ہیں جنہیں اگر پیشگی لگا لیا جائے تو نمونیہ سے بھی حفاظت ہوسکتی ہے۔ علامتیں کیا ہوتی ہیں؟ امریکن لنگ ایسوسی ایشن کے مطابق نمونیہ کی متعدد واضح علامتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً ٭ کھانسی جس کے ساتھ سبز مائل، زرد یا خون ملا بلغم خارج ہو ٭ ہلکا سے تیز بخار ٭ سردی لگنا، کپکپاہٹ ٭ سانس لینے میں دُشواری خاص طور پر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے۔ نمونیہ کی کچھ علامتیں جو بہت عام نہیں ہوتی ہیں ان میں ٭سینے میں تیز، چبھتا ہوا درد محسوس کرنا جو اس وقت شدید ہو سکتا ہے، جب مریض گہری سانس لینے کی کوشش کرے یا کھانسے ٭ سردرد ٭بہت زیادہ پسینہ آنا اور جلد کا چپچپا ہونا ٭بھوک اُڑ جانا، کم توانائی محسوس کرنا اور نڈھال رہنا ٭ کنفیوژن کا شکار ہونا خصوصاً بزرگ افراد میں۔ کچھ اور کم دیکھی جانے والی علامتوں میں متلی، اُلٹی، سیٹی جیسی آواز کا سینے سے خارج ہونا، جوڑوں اور پٹھوں میں درد شامل ہیں۔  ایک سے دُوسرے کو لگ سکتی ہے؟ نمونیہ کا مرض متعدد طریقوں سے پھیل سکتا ہے۔ اس کے جراثیم اور وائرسیز عام طور پر اس وقت منتقل ہوتے ہیں جب لوگ سانس لینے کے دوران انہیں اپنے پھیپھڑوں میں اُتار لیتے ہیں اور پھر جب بیمار افراد چھینکتے یا کھانستے ہیں تو ہوا میں تیرتے ننھے قطروں میں موجود جراثیم اور وائرسیز صحتمند افراد تک پہنچ کر انہیں بھی بیمار کر دیتے ہیں۔ عالمی ادارئہ صحت کے مطابق نمونیہ کی بیماری خون کے ذریعہ بھی پھیل سکتی ہے۔ کچھ خاص قسم کے نمونیہ کا مرض (Atypical Pneumonia) مختلف جرثوموں مثلاً Legionella Pneumophila، Mycoplasma Pneumoniae اور Chlamydophila Pneumoniae سے ہو سکتا ہے اور ایک سے دُوسرے کو لگ سکتا ہے۔ تنفسی نمونیہ (Aspiration) کا انفیکشن اس وقت لاحق ہو سکتا ہے جب آپ غذا، مشروب، قے یا دیگر نقصان دہ چیزیں مثلاً دُھواں یا کیمیکلز سانس کے راستے اندر کھینچ کر پھیپھڑوں میں پہنچائیں۔  زیادہ خطرے میں کون ہوتا ہے؟ بزرگ افراد، بچّے اور مزمن بیماریوں میں مبتلا افراد نمونیہ کی زَد میں سب سے زیادہ آ سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے خاص طور پر بچوں کا جس کا سبب غذائیت بخش خوراک سے محرومی یا ناقص غذائیں ہوتی ہیں، اس انفیکشن کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔ کیا یہ مہلک ہو سکتی ہے؟ CDC کے مطابق امریکا میں ہر سال تقریباً 50 ہزار افراد نمونیہ کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس قسم کی بہت سی اموات کو ویکسی نیشن یا علاج کے ذریعہ روکنا ممکن ہے۔ عالمی ادارئہ صحت کے مطابق پوری دُنیا میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموت میں سے 15 فیصد کی ذمے دار نمونیہ کی بیماری ہوتی ہے۔ 2015ء میں دُنیا بھر میں 9 لاکھ 20 ہزار بچّے نمونیہ کی بھینٹ چڑھ گئے تھے، لیکن نمونیہ کی وجہ سے بالغ افراد اور بچوں کی اموات کی شرحیں مختلف ممالک میں مختلف ہوسکتی ہیں۔ امریکا میں 2001ء سے 2010ء کے درمیان ہر 10 لاکھ اموات میں سے 101 اموات کی ذمے دار نمونیہ کی بیماری تھی جبکہ برطانیہ میں ہر 10 لاکھ میں سے 214 اموات نمونیہ کے باعث ہوئی تھیں۔ اس عرصہ کے دوران جنوبی افریقہ میں ہر دس لاکھ میں سے 1168 افراد نمونیہ کی وجہ سے لقمۂ اَجل بن گئے تھے۔ اس کا علاج کس طرح کیا جاتا ہے؟ علاج کا انحصار انفیکشن کی قسم اور اس کی شدت پر ہوتا ہے۔ امریکن لنگ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر ہلکا انفیکشن ہے تو مریض کو گھر پر بہت زیادہ سیال مشروب پلا کر اور آرام کی تاکید کر کے اور دوائوں سے بخار پر قابو پا کر اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ جراثیمی انفیکشن کا علاج ڈاکٹر کی نگرانی میں مختلف اینٹی بایوٹک ادویات مثلاً ’’ایزی تھرومائیسین‘‘ ’’ایمیکسوسیلین‘‘ اور ’’ایری تھرو مائیسین‘‘ سے کیا جا سکتا ہے۔ اگر انفیکشن کا سبب وائرسیز ہیں تو بعض اوقات اینٹی وائرل دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔ کیا اس سے بچائو ممکن ہے؟ ایسے بہت سے ٹیکے یا ویکسین موجود ہیں جو مختلف بیماریوں سے بچائو میں مدد کرتے ہیں۔ ان بیماریوں میں نمونیہ کے علاوہ کالی کھانسی، انفلوئنزا، خسرہ اور Pneumococcal جراثیم سے ہونے والی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ سگریٹ نوشی ترک کر کے بھی سانس کی نالیوں کی صحت بہتر کی جا سکتی ہے جس سے پھیپھڑے انفیکشن سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس بیماری سے بچنے کے جو دیگر طریقے ہیں ان میں باتھ روم استعمال کرنے کے بعد ہاتھوں کو دھونا، بچّے کا ڈائپر تبدیل کرنے یا ناک پونچھنے کے بعد، کھانا تیار کرنے سے پہلے اور اسے نکالنے کے بعد ہاتھوں کو دھونا اہمیت رکھتا ہے۔ کیا نمونیہ سے غشی بھی طاری ہو سکتی ہے؟ نمونیہ کے مریضوں کے جسم میں عموماً پانی کی کمی ہو جاتی ہے کیونکہ بخار میں پسینے کی صورت میں پانی جسم سے نکل جاتا ہے۔ پھیپھڑوں کی سوزش سے بھی جسمانی رطوبتیں کم ہو جاتی ہیں۔ جارج ٹائون یونیورسٹی ہاسپٹل میں میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ایرک ڈی جونگ کا کہنا ہے کہ ہلکے نمونیہ میں بھی لوگ کافی کمزور ہو جاتے ہیں۔ اگر ان کا جسم زیادہ گرم ہو جائے تو وہ لڑکھڑا سکتے ہیں اور پانی کی کمی سے ان پر غشی بھی طاری ہو سکتی ہے، اس لئے میں ایسے مریضوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ گھر پر آرام کریں اور کوئی مشقت والا کام نہ کریں، اس لئے کہ جسم کا پانی بڑی آسانی سے مزید کم ہو سکتا ہے۔ ان سے یہ بھی کہتا ہوں کہ وہ معمول سے زیادہ پانی اور دیگر مشروبات پیئں۔ جو لوگ اس حالت میں بھی اپنے جسم کو سخت محنت برداشت کرنے پر مجبور کرتے ہیں، مثلاً انتخابی مہم میں مصروف رہتے ہیں انہیں شاید یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ نمونیہ کی وجہ سے ان کا جسم پانی سے کس حد تک محروم ہو چکا ہے۔