July 17, 2017
وزیراعظم نوازشریف کا دورئہ تاجکستان

وزیراعظم نوازشریف کا دورئہ تاجکستان

’’کاسا1000- پروجیکٹ‘‘ سے پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی ملے گی

وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف تاجک صدر امام علی رحمان کی دعوت پر گزشتہ ہفتے بدھ 5؍ جولائی کو دو روزہ دورے پر تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے پہنچے تو ایئرپورٹ پر تاجکستان کے وزیراعظم کوہیر رسول زادہ نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ وفد میں بجلی اور پانی کے وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف، خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز، وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین بھی شامل تھے۔ بعدازاں صدارتی محل میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ساتھ ایک خصوصی ون ٹو ون ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ کشمیر کے تنازع کا کوئی پُرامن حل نکل آئے۔ اس موقع پر انہوں نے تاجک صدر کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی جانب سے مسلسل کی جانے والی خلاف ورزیوں اور معصوم شہریوں کو فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے ہلاک کرنے کے واقعات سے بھی تفصیلی آگاہ کیا اور یہ بتایا کہ بھارت کے معاندانہ رویے کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ وفود کی سطح پر تاجک صدر امام علی رحمان کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان نے باہمی تجارت کو 50 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جو پہلے 4 سے 9 کروڑ ڈالر تک محدود تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنمائوں نے سڑک، ریل اور فضائی رابطے بڑھانے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ علاقائی سلامتی، ترقی، باہمی تجارت، سیاحت اور عوامی رابطوں کیلئے اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے بین الاقوامی فورمز مثلاً اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، اسلامی کانفرنس تنظیم (OIC) اور اقتصادی رابطے کی تنظیم (ECO) کی سطح پر بھی تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر زور دیتے ہوئے دونوں ملکوں نے بین الاقوامی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان تاجکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس بلانے پر بھی اتفاق کیا۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ جون 2014ء کے بعد سے یہ ان کا تاجکستان کا چوتھا دورہ ہے جبکہ صدر امام علی رحمان اس عرصے میں پاکستان کا دو مرتبہ دورہ کرچکے ہیں۔ ان اعلیٰ سطحی دوروں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے اقتصادی شعبے میں خاص طور پر ’’کاسا۔ 1000‘‘ پروجیکٹ کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا جس پر بہت جلد تعمیرات کا آغاز کردیا جائے گا۔ نوازشریف نے یاد دلایا کہ گزشتہ ماہ دوشنبے میں ایک بزنس فورم بھی منعقد ہوا تھا جہاں پاکستان اور تاجکستان نے ادویہ سازی، ٹیکسٹائلز اور تعمیراتی شعبے میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی تھی۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) گوادر سے کاشغر تک رابطے اور یگانگت بڑھانے کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔ اس کے ذریعے تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ سڑک کے راستے رسائی کے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، تاجکستان کے ساتھ سیکورٹی کے معاملات میں تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ممالک انسداد دہشت گردی، منشیات اور انسانوں کی اسمگلنگ روکنے اور سرحدوں کی حفاظت کے سلسلے میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ چین، قازقستان، کرغیزستان اور پاکستان کے ساتھ ’’کواڈری لیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ‘‘ (QTTA) میں تاجکستان کی باقاعدہ شمولیت سے علاقائی استحکام اور اقتصادی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے تاجک مسلح افواج کی صلاحیتوں کو بڑھانے سے متعلق تربیت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے اور ان کا ملک افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں تعمیری انداز میں شریک ہوتا رہے گا۔ تاجک صدر امام علی رحمان نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ پاکستانی سرمایہ کار تاجکستان کے ٹریڈ فری زونز میں سرمایہ کاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تاجکستان چاروں طرف خشکی سے گھرا ملک ہے اور اس کی یہ خواہش ہے کہ تاجک مصنوعات پوری دنیا میں برآمد کرنے کیلئے پاکستان کی بندرگاہیں استعمال کرے۔ جس وقت دونوں ملکوں کے وزراء تجارت کے فروغ کے سلسلے میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کررہے تھے، اس وقت وزیراعظم نوازشریف اور صدر امام علی رحمان بھی موجود تھے۔ بعد ازاں نوازشریف نے دوستی چوک کا دورہ کیا اور وہاں تاجکستان کے بانی اسماعیل سمنی کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس کے بعد تاجک صدر امام علی رحمان نے وزیراعظم پاکستان اور ان کے وفد کے اعزاز میں کوہ نو روز ہال میں پُرتکلف عشائیہ دیا۔ وطن روانگی سے پہلے وزیراعظم نوازشریف نے دوشنبے میں CASA-1000 کانفرنس کے چار ملکی سربراہ اجلاس میں بھی شرکت کی جہاں افغانستان کے صدر اشرف غنی اور کرغیزستان کے وزیراعظم سورون بے جین بیکوف بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کاسا۔ 1000 پروجیکٹ سے پاکستان اور افغانستان میں بجلی کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سماجی اقتصادی ترقی اور صنعتی شعبے کو پوری استعداد کے مطابق پیداوار دینے کیلئے توانائی کی ضرورت ہے اور کاسا۔ 1000 منصوبے سے موسم گرما میں پاکستان کو 1000 میگاواٹ اور افغانستان کو 300 میگاواٹ بجلی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بجلی کے گرڈ کے ذریعہ وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان اور کرغیزستان کو جنوبی ایشیائی ملکوں افغانستان اور پاکستان سے جوڑے گا۔