September 21, 2015
عبدالقادر جونیجو - صحرا کا بیٹا

عبدالقادر جونیجو - صحرا کا بیٹا

عبدالقادر جونیجو کا شمار سندھ کے ان ادیبوں اور دانش وروں میں ہوتا ہے، جن کے قلم کی بدولت ان لوگوں کو بھی وادیٔ مہران کی تہذیب وثقافت اور تمدن ومعاشرت سے شناسائی نصیب ہوئی، جو سندھی زبان سے آشنا نہیں۔ ٹیلی ویژن کو موجودہ دور میں ابلاغ کا طاقت ور ترین میڈیم سمجھا جاتا ہے اور عبدالقادر جونیجو نے اپنی ’’دھرتی ماں‘‘ کے دکھ درد، بھوک پیاس، رہن سہن، ریت رواج اور خوشی غمی کو باقی دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے اسی میڈیم کا سہارا لیا اور خوب لیا۔ یوں تو انہوں نے سندھی زبان میں بہت کچھ لکھا ہے لیکن ملک گیر شہرت اپنے ٹی وی ڈراموں سے پائی۔ پی ٹی وی سے نشر ہونے والی اردو ڈراما سیریل ’’دیواریں‘‘ نے تو انہیں عوامی مقبولیت کے بام عروج تک پہنچا دیا۔
دو بار صدارتی تمغۂ برائے حسن کارکردگی (1989ء اور 2008ء میں) اور تین بار بہترین لکھاری کا ’’پی ٹی وی‘‘ ایوارڈ (دیواریں 1983ء، کارواں 1985ء، پانی کی دیوار 2010ء) حاصل کرنے والے ڈراما نویس اور افسانہ نگار عبدالقادر جونیجو نے13؍ستمبر 1945ء کو صحرائے تھر کے ایک چھوٹے سے گائوں جانہان (Janhan) میں جنم لیا۔ وہ خود بتاتے ہیں کہ ان کے آباء واجداد اونٹنیاں پالنے کا کام کیا کرتے تھے، جبکہ والد مرید حسین جونیجو پولیس افسر ہوا کرتے تھے۔
عبدالقادر جونیجو نے1961ء میں ڈیپلو نامی قصبے سے میٹرک کیا اور پھر اس سلسلے کو آگے بڑھاتے گئے۔ زمانہ طالب علمی میں ہی انہوں نے ایم اسلم، نسیم حجازی اور کرشن چندر کے ناول پڑھ ڈالے اور قرۃ العین حیدر کے ناول تو کئی کئی بار پڑھے۔ ابتدائی تعلیم کے مراحل طے کرنے کے بعد انہوں نے سماجیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، شاید یہی وجہ ہے کہ سماج اور اس کے مسائل ان کی کہانیوں کا بنیادی موضوع ہوتے ہیں۔ انہوں نے1962ء میں اپنی عملی زندگی کا آغاز تھرپارکر میں پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر کیا۔ 1976ء میں وہ جامعہ سندھ کے وائس چانسلر شیخ ایاز کے ایماء پر اسی یونیورسٹی کے ذیلی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی میں ڈپٹی ڈائریکٹر پبلیکیشنز مقرر ہوئے، 1988ء میں انہوں نے اسی ادارے کے ڈائریکٹر کے طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھالا، جبکہ 2005ء میں انہیں سندھی لینگویج اتھارٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا، جہاں انہوں نے2008ء تک خدمات انجام دیں۔
عبدالقادر جونیجو کا پہلا سندھی ڈراما 1970ء کی دہائی میں ’’تلاش‘‘ کے عنوان سے ریڈیو پاکستان، حیدرآباد اسٹیشن سے نشر ہوا تھا۔ ڈراما نگاری عبدالقادر جونیجو کے لیے جنون یا Passion کا درجہ رکھتی ہے، وہ ریڈیو کے لیے اب تک 22؍سندھی ڈرامے لکھ چکے ہیں، جبکہ ٹی وی کے لیے اردو زبان کی 11؍اور سندھی کی5؍ڈراما سیریلز تحریر کی ہیں۔ انہوں نے دیواریں، چھوٹی سی دنیا، کارواں، سیڑھیاں، پانی کی دیوار، تھوڑی خوشی تھوڑا غم اور رانی جی کہانی سمیت دکھ سکھ بھرے کئی شاہکار ڈرامے تخلیق کیے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھی زبان میں 15؍کتب بھی تحریر کرچکے ہیں۔ انہوں نے جن اصناف سخن کا تجربہ کیا، ان میں افسانہ، شخصی خاکے، علمی مضامین اور تراجم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے قلم نے جہاں اردو اور سندھی کے قارئین کو اپنے سحر میں مبتلا کیا، وہیں انہوں نے انگریزی زبان پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان کا پہلا انگریزی ناول "The Dead River" شائع ہوکر قارئین اور نقادوں سے داد وصول کرچکا ہے اور ان دنوں وہ ایک اور انگریزی ناول لکھنے میں مشغول ہیں۔ عبدالقادر جونیجو کی مشہور ڈراما سیریل ’’چھوٹی سی دنیا‘‘ پر فری یونیورسٹی آف برلن (جرمنی) کی ڈاکٹر ہیلین باسو (Helene Basu) نے ایک تحقیقی مقالہ (Thesis) بھی تحریر کیا ہے۔
عبدالقادر جونیجو کا مزاج لڑکپن سے ہی ’’ادیبانہ‘‘ تھا، انہوں نے عنفوان شباب ہی میں اپنا رشتہ کاغذ اور قلم کے ساتھ جوڑ لیا۔ کتنے ہی ماہ و سال گزر گئے لیکن ’’قلم کی مزدوری‘‘ آج تک جاری ہے۔ قلم ان کی کمزوری بھی ہے اور طاقت بھی۔ کمزوری اس لیے کہ اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتے اور طاقت یوںکہ آج وہ جس مقام پر ہیں، وہاں تک انہیں لانے کا سہرا بھی اسی قلم کے سر ہے۔ کتب بینی اور مطالعہ ان کے پسندیدہ ترین مشاغل ہیں۔
عبدالقادر جونیجو کے بقول انہوں نے کہانی بیان کرنے کا فن تھر کے چرواہوں اور جیل کی سزا بھگتنے والے قیدیوں سے سیکھا ہے۔ ان کے والد چونکہ پولیس افسر تھے، جو مختلف مقامات پر تعینات رہے، چنانچہ قید خانوں، قیدیوں، بے قصور ملزمان اور جرم وگناہ کی داستانوں سے عبدالقادر جونیجو کا قریبی واسطہ رہا اور یہ واقعات لڑکپن سے ہی ان کے ذہن پر نقش ہوگئے تھے، جنہیں بعد میں انہوں نے اپنی کہانیوں میں نہایت مہارت سے پرویا۔ انہوں نے ہمیشہ چرواہوں، کسانوں اور مزدوروں سے دوستی گانٹھے رکھی اور آج تک نبھا رہے ہیں۔
عبدالقادر جونیجو کی کہانیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی باتیں کہہ جاتے ہیں، ان کے مکالموں اور جملوں میں اِک جہان معانی پوشیدہ ہوتا ہے، ناظرین اور قارئین اپنی اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ہی ان معانی تک پہنچ پاتے ہیں۔ ویسے عام لوگوں کے لیے تو سطحی معنی ہی کافی ہوتے ہیں۔ جونیجو صاحب کا اسٹائل یہ ہے کہ وہ صرف اشارہ کرکے باقی معاملہ اپنے قاری کی فہم وفراست پر چھوڑ دیتے ہیں، اس کا ہاتھ پکڑ کر مطلوبہ معانی ومفاہیم تک زبردستی کھینچ کر لے جانے کی کوشش ہرگز نہیںکرتے۔
عبدالقادر جونیجو اپنے ’’غیر روایتی‘‘ رجحانات کے باعث نہ تو ادبی حلقوں میں زیادہ اٹھتے بیٹھتے ہیں، نہ ہی شوبز کے ستاروں سے زیادہ میل جول رکھتے ہیں۔ انہوں نے قدرت سے ’’درویشانہ‘‘ مزاج پایا ہے، یہی وجہ ہے کہ جاہ ومنصب والوں کی معیت کے بجائے فرش نشینوں کی صحبت میں زیادہ خوش رہتے ہیں۔ وہ ڈکٹیشن لینے کے قائل نہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ اب انہوں نے ٹی وی ڈراما لکھنے سے دوری اختیار کرلی ہے اور آج کل خود کو ’’سابق ڈراما نگار‘‘ قرار دیتے ہیں۔ دراصل دوسروں کے بتائے ہوئے موضوعات پر قلم اٹھانا انہیں پسند نہیں، جب ان سے کہا جاتا ہے کہ فلاں طبقے کے حقوق کے حوالے سے کچھ لکھ دو تو وہ فوراً ہی اپنا ’’حق انکار‘‘ استعمال کرتے ہوئے معذرت کرلیتے ہیں۔ لکھنے لکھانے کے معاملے میں انتہائی ضدی واقع ہوئے ہیں، فرمائش پر لکھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، حالانکہ زندگی کے دیگر معاملات میں خوب لچک دکھاتے ہیں۔ محفل میں دانش وری بگھارنے کے بجائے دوسروں کی باتیں سننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ان کے منہ پر تعریف کردی جائے تو ایسے شرما جاتے ہیں کہ جیسے کوئی نئی نویلی دلہن حیاء کے مارے گلنار ہوئی جاتی ہے۔ موصوف کلاسیکی موسیقی سے بہت شغف رکھتے ہیں، بتاتے ہیں کہ حال ہی میں انہوں نے اسمارٹ فون صرف اس لیے خریدا کہ کلاسیکی موسیقی ڈائون لوڈ کرکے سُنتے پھریں۔ خود کو استاد شجاعت حسین خان، کشوری امونکر، پنڈت بھیم سین جوشی، امرائو خان اور پنڈت تارون بھٹاچاریہ کا عاشق بتاتے ہیں، کوئی ان میں سے کسی کا صرف نام بھی لے لے تو ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔
عبدالقادر جونیجو کا خمیر صحرائے تھر کی ریت سے اٹھا ہے اور ان کی تحریروں میں ریگ زاروں کی پیاس، قحط وافلاس، حدت و شدت، پیار وتہوار کے تمام رنگ جھلکتے ہیں۔ ان کا پہلا سندھی ناول ’’سو دیس مسافر موہنجو رے‘‘ (مسافر یہ دیس ہمارا ہے) تھا، جس میں صحرائے تھر کی زندگی، زیریں سندھ کی ثقافتی بشریات اور معاشرتی تاریخ کی نہایت خوبصورت انداز میں عکاسی کی گئی ہے۔ ان کا انگریزی ناول "The Dead River" بھی صحرائے تھر کے تناظر میں لکھا گیا ہے، جسے بجا طور پر تھر اور سندھ کی ثقافت کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیا جاسکتا ہے۔ صحرا کی رسمیں، زبانیں، موسم، یاریاں اور چوریاں، سانپ اور مست اونٹ، دوشیزائیں اور جوگی…غرض ریگستان کے تمام رنگ اس میں جھلکتے دکھائی دیتے ہیں۔
عبدالقادر جونیجو کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ وہ صحرا کے قابل فخر بیٹے ہیں۔ ایسے صحرا نشیں کہ جن کے لیے شاعر نے کہا تھا ؎
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندئہ صحرائی یا مردِ کوہستانی