تازہ شمارہ
Title Image
January 29, 2018
ڈکاریں کیوں آتی ہیں؟

ڈکاریں کیوں آتی ہیں؟

ڈکار کی آواز نکلی ہی تھی کہ امی نے ڈانٹا۔ ’’بیٹا! منہ پر ہاتھ رکھو۔‘‘ ایسا اکثر ہوتا ہے، آداب محفل کے برخلاف جب بھی ایسی حرکت ہوتی ہے، بڑوں سے ڈانٹ پڑتی ہے لیکن یہ ایک ایسی حرکت ہے جو نومولود بچوں سے بزرگ افراد تک سب سے روزانہ سرزد ہوتی ہے۔محفل میں بیٹھ کر زوردار ڈکار لینا ناپسند کیا جاتا ہے، لیکن کیا اس قدرتی عمل کو روکنے کا کوئی طریقہ ہے؟ آئیے جانتے ہیں: ڈکار کیا ہے؟  جب ہم نوالہ منہ میں ڈال کر نگلتے ہیں تو کھانا، حلق سے ہوتا ہوا ایک نالی سے گزرتا ہے۔ حلق کے دہانے سے معدے تک کا یہ طول، انگریزی زبان میں Oesophagus کہلاتا ہے۔ جب خوراک معدہ میں پہنچتی ہے تو اسے ہضم کرنے کے لیے اس میں ایسڈ، بیکٹیریا اور کیمیائی اجزاء(Enzymes) ملائے جاتے ہیں تاکہ خوراک سے غذائیت حاصل ہو اور اسے جسم میں بطور توانائی استعمال کیا جاسکے۔  اگر آپ کھانے کے ساتھ ایسی چیزیں پی لیں جن میں بلبلے، گیس اور ہوا موجود ہو، مثلاً سوڈا یا کولڈ ڈرنک وغیرہ تو ممکن ہے کہ یہی ہوا کھانے کی نالی کے ذریعے واپس آجائے، اسے ہی ڈکار کہتے ہیں۔کاربونیٹڈ مشروبات اور ہوا ، ڈکار کی سب سے اہم وجوہات ہیں۔ عام طور پر خوراک کے ساتھ حلق میں داخل ہوجانے والی یہ گیس پیٹ تک نہیں پہنچتی بلکہ خوراک کی نالی میں ہی رہ جاتی ہے اور یہیں سے ڈکار کی صورت میں منہ سے خارج ہوجاتی ہے۔ خوراک کی نالی میں ہوا آجانے اور ڈکار کی دیگر عام وجوہات یہ ہوسکتی ہیں: چیونگم چبانا، دھواں، سگریٹ نوشی، جلدی جلدی کھانا یا پینا، ٹافی چوسنا، ایسی خوراک کا استعمال جس میں تیل اور چکنائی کی بڑی مقدار شامل ہو، سینے کی جلن کا باعث ہوتی ہے، یہ جلن بھی ڈکار کا سبب بن سکتی ہے، کیفین اور الکوحل کا استعمال وغیرہ۔ ڈکار کیوں آتی ہے؟ ڈکار، پیٹ میں موجود ہوا کو منہ کے ذریعے باہر نکالنے کا عمل ہے۔ اکثر بچوں اور بڑوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی چھوٹی چھوٹی عادتوں کی وجہ سے ہی پیٹ میں بہت زیادہ ہوا بھر رہی ہے۔ نومولود بچے دودھ پیتے ہوئے اضافی ہوا اپنے پیٹ میں بھر سکتے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ مائیں بچوں کو کندھے پر لیں اور ان کی پیٹھ ٹھونک کر انہیں ڈکار دلوائیں۔ پیٹ میں گیس بھری ہوئی نہ ہو، تب بھی ڈکار لینا ممکن ہے۔ اکثر لوگ ڈکار لینے کی عادت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اس کے ذریعے پیٹ کو آرام پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صرف پیٹ میں بھری ہوا کی تکلیف اور دبائو ختم کرنے کا ذریعہ ہے لیکن پیٹ درد میں بھی اس سے آرام حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ڈکار کو کیسے روکا جائے؟ اگر اس فکر میں مبتلا ہیں کہ آپ کو اتنی زیادہ ڈکار کیوں آتی ہے تو بہتر ہے معالج سے مشورہ کیجئے۔ وہ آپ کو اس کی وجہ اور اس پر قابو پانے کے چند طریقے بتائیں گے۔ ممکن ہے کہ علامات کے مطابق ڈاکٹر چند ٹیسٹ بھی کروائیں۔ لیکن اگر ڈکار کسی طبی مسئلے کی وجہ سے نہیں تو ذیل میں دی گئی ہدایات پر عمل کر کے آپ اس پر قابو پاسکتے ہیں:  ٭کھانا سکون سے بیٹھ کر اور آہستہ آہستہ کھائیں اور پانی پینے کا عمل بھی دھیما ہو، جب رفتار کم ہوگی تو کھاتے پیتے ہوئے پیٹ میں ہوا داخل ہونے کا سلسلہ بھی تھم جائے گا۔ ٭گوبھی، بند گوبھی، پھلی، دودھ یا دودھ سے بنی اشیاء کا استعمال ترک کردیں، یہ چیزیں پیٹ میں ہوا بھرنے کا سبب بنتی ہیں اور پھر یہ ڈکار کی صورت میں منہ سے خارج ہونے لگتی ہے۔ ٭سگریٹ نوشی ترک کردیں۔ یوں تو سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لاتعداد فوائد ہیں لیکن ایک اچھا فائدہ یہ ہوگا کہ ڈکار سے نجات مل جائے گی۔ چیونگم نہ کھائیں۔ ٭ورزش کیجئے، کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی کیجئے، اس کے ذریعے آپ کے نظام انہضام کو تقویت ملے گی اور کھانا ہضم کرنا آسان ہوگا یا پھر اینٹ ایسڈ (Antacids) استعمال کیجئے۔ ڈکار خطرے کی گھنٹی کب بنتی ہے؟ کھانا کھانے کے بعد چار بار ڈکار آنا عام بات ہے لیکن کسی بیماری کے سبب بھی زیادہ ڈکار آسکتی ہے۔ ذیل میں پیٹ کی ایسی ہی کچھ بیماریوں کا ذکر کیا جارہا ہے، جو ڈکار کی زیادتی کے ذریعے ظاہر ہوسکتی ہیں: ٭جب پیٹ میں قدرتی تیزابیت کی مقدار بڑھ جائے اور یہ خوراک کی نالی کی جانب بخارات بن کر اٹھنے لگے تو سینے پہ جلن ہونے لگتی ہے۔ اس کو گیسٹرو ایسوفیگل ری فلیکس ڈیزیز (GERD) اور عام زبان میں ایسڈ ری فلیکس بھی کہتے ہیں۔ یہ مسئلہ کبھی کبھار سامنے آئے تو علاج کے لیے عام دوائیں استعمال کرلی جاتی ہیں لیکن اگر آپ اکثر سینے کی جلن کا شکار ہوتے ہیں تو بہتر ہے کہ کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرلیں، غذا میں تبدیلی اور دوا کے خصوصی کورس کے ذریعے علاج ممکن ہے۔ ٭بد ہضمی (Dyspepsia) کی وجہ سے پیٹ کے اوپری حصہ کی جانب درد ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی دیگر علامات میں سینے کی جلن، متلی، قے، ڈکار، گیس سے پیٹ کا پھول جانا شامل ہے۔  ٭ گیسٹرائٹس (Gastritis)میں پیٹ کی اندرونی سطح سوزش زدہ ہوجاتی ہے۔ ٭ہیلی کو بیکٹر پائیلوری (Helicobacter Pylori) ایک مخصوص بیکٹیریا سے ہونے والا مرض ہے جو پیٹ کے انفیکشن کا باعث بنتا ہے، مناسب علاج اور پرہیز نہ کیا جائے تو یہی انفیکشن السر میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ ٭آئی بی ایس (Irritable Bowel Syndrome) بھی پیٹ کا ایک عام مرض ہے، اس میں مبتلا مریض پیٹ کے شدید درد، گیس، دست اور قبض کی شکایت کرتے ہیں۔عام طور پر صرف ڈکار کسی پریشانی کا باعث نہیں البتہ اگر بہت زیادہ ڈکار آنے لگے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ اگر پیٹ کا درد کم نہ ہو اور ڈکار کے باوجود تنائو کم ہو کر آرام نہ ملے یا پیٹ کا درد شدید نوعیت اختیار کر لے تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کیجئے۔  ڈکار کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟ کھانا کھانے کے بعد تین چار بار ڈکار لینا عام بات ہے، اس کے لیے کسی علاج کی ضرورت نہیں، البتہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔ بہت زیادہ ڈکار آنے کی صورت میں معالج سے رابطہ کیجئے، وہ اس کا بنیادی سبب معلوم کرنے کے بعد مناسب علاج تجویز کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں ایبڈومینل ایکس رے سمیت دیگر ٹیسٹ مثلاً ایم آر آئی اسکین، سی ٹی اسکین، الٹرا سائونڈ اسکین، بد ہضمی سے متعلق ٹیسٹ اور ہائیڈروجن، متھین ٹیسٹ اہم معلومات فراہم کرنے کا سبب ہوں گے۔ خود علاجی: بہت زیادہ ڈکار آرہی ہو یا پیٹ میں اندرونی دبائو محسوس ہونے کے باوجود ڈکار نہ آرہی ہو تو پہلو کے بَل لیٹ جائیں، اس دوران ہلکی ورزش بھی سکون کا سبب بن سکتی ہے۔ علاج نہ کروانا: ڈکار لینا عام بات ہے، اس سلسلے میں کسی علاج کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر اس کی تعداد بڑھ رہی ہے تو ممکن ہے یہ زیادتی ہاضمے کی کسی بیماری کی علامت ہو، ایسی صورت میں علاج کو نظرانداز کرنا مسئلے کو شدید نوعیت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ علاج میں تاخیر دوسرے مسائل کو جنم دینے کا سبب بھی ہوگی، اس لیے جلد از جلد اپنے معالج سے رابطہ کرنا بہتر ہے۔