تازہ شمارہ
Title Image
March 12, 2018
کیمیکلز کی بو سے الرجی کی شکایت

کیمیکلز کی بو سے الرجی کی شکایت

شاید آپ نے بھی کبھی غور کیا ہو کہ کچھ لوگ پرفیوم، عطر یا خوشبو کا احساس کرتے ہی بہت تیزی سے اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں یا جیسے ہی انہیں کپڑے دھونے والے ڈیٹرجنٹ، فرش کی صفائی والے کیمیکل یا کسی بھی کیمیکل کی تیز بو محسوس ہوتی ہے، وہ اپنی ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں یا کم از کم پریشانی کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں مختلف کیمیائی مادوں سے حساسیت یا Multiple Chemical Sensitivity کا عارضہ لاحق ہوتا ہے اور متاثرین میں 80 فیصد خواتین ہوتی ہیں۔ میڈیکل کمیونٹی میں ایک طویل عرصے تک اس مسئلے کے بارے میں کوئی لب کشائی نہیں کی گئی لیکن اب ماہرین یہ کہتے ہیں کہ MCS کے متاثرین کی زندگی ان کیمیکلز کی وجہ سے اجیرن ہوچکی ہے اور ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ اس بیماری پر، جس پر بہت کم ریسرچ کی گئی ہے، سنجیدگی سے غور کریں تاکہ اس کے مریضوں کے علاج میں کچھ مدد مل سکے۔ MCS کے مریض مختلف اشیاء کی بو یا مہک پر منفی انداز میں ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارے گھروں اور دفاتر میں روزمرہ استعمال ہونے والے بہت سے کیمیکلز ایسے ہیں جن سے گریز کرنا اب تقریباً ناممکن ہوچکا ہے، جب ان کی بو فضا میں بکھرتی ہے تو کچھ لوگ شدید علامتیں ظاہر کرتے ہیں۔ جن کیمیکلز پر وہ منفی ردعمل ظاہر کرتے ہیں، ان میں پرفیومز، تمباکو، کیڑے مار دوائیں، قالین، پینٹ، تعمیراتی سامان، ایئرفریشنر، لانڈری اور کلیننگ مصنوعات شامل ہیں۔ یہ لوگ ان اشیاء کی بو سے اتنے حساس ہوتے ہیں کہ کسی کپڑے میں بسی ہوئی ڈیٹرجنٹ کی خوشبو بھی ان کو بے حال کرسکتی ہے۔ ان کیمیکلز کی زیادہ مقدار سے یقینا ہر شخص متاثر ہوسکتا ہے لیکن MCS کے مریضوں کیلئے ان کی معمولی مقدار بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے مریض دواؤں، غذاؤں، زردانوں اور پھپوند کا سامنا کرتے ہوئے بھی منفی ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ردعمل ظاہر کرنے کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مزاج میں چڑچڑاپن بڑھ گیا ہے، نیند پوری نہیں ہورہی ہے، کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنا دُشوار ہوگیا ہے، پریشانی لاحق ہے اور افسردگی طاری رہتی ہے۔ MCS کے عارضے کی جسمانی علامتوں میں جوڑوں میں درد، پٹھوں میں تکلیف، سردرد، متلی، تھکاوٹ، اسہال، سانس لینے میں دُشواری، چکر آنا، دورے پڑنا اور بے قاعدہ دھڑکنیں شامل ہیں۔ بچوں میں اس عارضے کی جو علامتیں دیکھی جاتی ہیں، ان میں گال اور کان سرخ ہوجانا، بے چین ہوکر اُلٹی سیدھی حرکتیں کرنا، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے پڑنا، سیکھنے، سمجھنے میں دشواری اور مزاج میں غصے کا بڑھ جانا شامل ہیں۔ ضرررساں کیمیکلز کے ایکسپوژر کے بعد علامتوں کے ظہور میں کئی دن لگ سکتے ہیں اور پھر یہ علامتیں ہفتوں اور بعض اوقات مہینوں برقرار رہ سکتی ہیں۔ اس بیماری میں کسی بھی نسلی پس منظر اور کسی بھی عمر کے افراد مبتلا ہوسکتے ہیں۔ MCS کے ایک ماہر ڈاکٹر مارٹن پال کا یہ کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اس بیماری کا تعلق ہارمون کی بے قاعدگی سے ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ اُنہوں نے مزید وضاحت کی کہ خواتین جب اُمید سے ہوتی ہیں اور ماں بن جاتی ہیں تو اس بیماری کی علامتیں تبدیل ہوجاتی ہیں جس سے میرے نظریئے کی تائید ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ چونکہ MCS میں زیادہ تر خواتین مبتلا دیکھی جاتی ہیں اس لیے اسے اب تک ایک باقاعدہ مرض تسلیم نہیں کیا گیا ہے لیکن یہ ایک تباہ کن رویہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی بے انتہا تکلیف دہ ہوجاتی ہے۔