October 29, 2018
اداکارہ سائرہ شہروز - جیسے تازہ ہوا کا جھونکا ہو میرا نصیب

اداکارہ سائرہ شہروز - جیسے تازہ ہوا کا جھونکا ہو میرا نصیب

سائرہ شہروز، پاکستان کی ان ماڈلز اور اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہیں شہرت کے حصول کی خاطر بہت زیادہ محنت نہ کرنا پڑی ہو، وہ بہروزسبزواری کی بہو اور شہروزسبزواری کی شریک حیات ہونے کے بعد سے اور بھی زیادہ شہرت پاتی چلی گئیں۔ پھر یہ ہوا کہ سائرہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ فلم، ٹی وی اور فیشن کے ریمپ سے لے کر ٹی وی کمرشلز تک سائرہ نے خود کو ایک منجھی ہوئی ماڈل اور بہترین اداکارہ کے طور پر منوا لیا۔ وہ فن کے باغیچے میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح وارد ہوئیں اور ہر طرف ان کی مہک ہوگئی۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فنکار گھرانے کی بہو ہونا ہی کافی نہیں تھا، سائرہ میں اداؤں کا سمندر، غالباً قدرتی طور پر موجزن تھا جسے سراہنے والا شریک سفر اور ہمت دینے والا سسر بھی ایک اچھے سہارے کے طور پر نصیب ہوگیا۔
20؍اپریل 1988ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی سائرہ، شادی سے پہلے سائرہ یوسف تھیں، شادی سے پہلے ہی وہ ایم ٹی وی کے شوز ’’بھیجا فرائی‘‘ اور ’’موسٹ وانٹڈ‘‘ میں بطور وی جے، اپنی دھواں دھار میزبانی کی دھاک بھی بٹھا چکی تھیں۔ 2012ء میں سائرہ نے ڈرامہ سیریل ’’میرا نصیب‘‘ کے ذریعے اداکاری کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا اور پہلے ہی سیریل میں وہ ٹی وی ناظرین کے دلوں کو بھا گئیں۔ اس کے ساتھ ہی ’’تنہائیاں‘‘ کے ری میک میں اُنہیں بہروزسبزواری، مرینہ خان اور بدرخلیل جیسے سینئرز کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا۔ ناظرین نے اُنہیں ڈرامہ سیریل ’’درمیان‘‘ کے لیے علینہ کے روپ میں بھی خوب سراہا۔ پھر ’’پشیمان‘‘ میں زرتاشا کے کردار میں بھی سائرہ نے اپنی ورسٹائل اداکاری سے ثابت کیا کہ کوئی بھی اداکارہ اگر کم اور منتخب سیریلز میں کام کرے تو وہ اپنے کرداروں کے ساتھ زیادہ بہتر انصاف کرسکتی ہے۔ اس ڈرامے میں ان کے شوہر شہروز نے بھی ان کے مقابل اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔
’’لو یو بے بی لیشیئس‘‘ میں بھی سائرہ اور شہروز کو اکٹھے کام کرتا دیکھ کر ان کے مداحوں کو خوشی ہوئی۔ گزشتہ سال ایک نجی چینل کی ایوارڈ تقریب میں سائرہ اور شہروز نے مشترکہ ڈانس پرفارمنس کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کی چنیدہ ہستیوں سمیت بہروزسبزواری، سفینہ بہروز اور جاوید شیخ بھی ان دونوں کو مہارت سے پرفارم کرتا دیکھ کر، تالیاں بجا رہے تھے۔
اگرچہ 2016ء میں فلم ’’ہومن جہاں‘‘ کے ایک گانے ’’شکرونڈا‘‘ میں سائرہ نے بطور گیسٹ ایکٹریس انٹری تو دے دی تھی، تاہم ان کی پہلی فلم ’’چلے تھے ساتھ‘‘ 2017ء میں ریلیز ہوئی۔ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہوسکی، مگر سائرہ نے اپنے طور پر بہت محنت کی اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد بھی اُنہیں ملنے والے فلمی کرداروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی فلم ’’پروجیکٹ غازی‘‘ طویل عرصے سے مکمل ہے، مگر اس کی ریلیز التوا کا شکار ہے، اسی طرح جواد بشیر نے بھی اُنہیں اپنی زیرتکمیل فلم ’’تیری میری لَو اسٹوری‘‘ میں کاسٹ کر رکھا ہے، اس فلم میں محب مرزا، سلمان شاہد اور محسن عباس بھی سائرہ کے ساتھی اداکاروں میں شامل ہیں۔
2011ء میں ’’میرا نصیب‘‘ سے اداکاری کا سفر شروع کرنے والی سائرہ نے ماڈلنگ بھی کی اور میزبانی سے بھی ناتا جوڑے رکھا، مگر اُنہیں پتہ تھا کہ اس فیلڈ میں قدم جمائے رکھنے کے لئے ڈراموں میں اداکاری جاری رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ یہ سلسلہ بھی اُنہوں نے کبھی ترک نہیں کیا۔ ’’محبت روٹھ جائے تو‘‘، ’’بلقیس کور‘‘، ’’کوک کہانی‘‘، ’’روبرو‘‘ اور ’’رشتہ ہے جیسے خواب سا‘‘ وہ ٹی وی ڈرامے ہیں جن میں سائرہ نے مختلف کردار نبھائے ہیں اور ہر روپ میں اپنی ایک منفرد شناخت ثابت کرنے میں بھی وہ کامیاب رہی ہیں۔
سنجیدہ، مزاحیہ اور المیہ کرداروں کے تناظر میں اگر سائرہ شہروز کا فنی قد ناپا جائے تو وہ اپنی ہمعصر اداکاراؤں میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ اُنہوں نے اپنے اوپر کسی خاص چھاپ کو لگنے نہیں دیا۔ قدرتی طور پر وہ گلیمر سے بھرپور ہیں لیکن گلیمر سے عاری کردار نبھانے کی باری آئے تب بھی سائرہ کسی سے پیچھے نظر نہیں آتیں۔ ڈانس کی اہلیت بھی ان میں اس حد تک موجود ہے کہ روایتی فلمی رقص نہ سہی مگر خوشی میں جھوم اُٹھنے والی نئی نسل جیسا ڈانس، وہ اپنے ساتھ کام کرنے والی کئی اداکاراؤں سے بہتر کرلیتی ہیں۔
سائرہ کی شادی کو چھ سال ہوئے ہیں، ان کی ایک بیٹی نورے ہے۔ اُنہیں اپنے شوہر کی طرف سے شوبزنس میں کام کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔ وہ اپنے گھر اور فنی سرگرمیوں کو ساتھ ساتھ لے کر چل رہی ہیں۔ خوش لباس اور خوش گفتار سائرہ، اپنے دل کی آواز، مختلف ٹی وی شوز میں بطور مہمان شرکت کرکے، اپنے چاہنے والوں تک پہنچاتی رہتی ہیں۔ اُنہیں دوستوں کی محفل میں، جانِ محفل بنے رہنے کا فن تو اچھی طرح آتا ہے مگر سائرہ اور ان کے شوہر شہروز کو، پارٹی کلچر کا حصہ بننے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ کام سے سیدھی اپنے گھر جانے کو ترجیح دیتی ہیں اور گھر میں ایک سگھڑ بیوی، فرمانبردار بہو اور ذمہ دار ماں کے کرداروں میں بھی اتنی ہی کامیاب ہیں جتنی کسی ٹی وی ڈرامہ، فلم، فیشن شو یا کمرشل میں نظر آتی ہیں۔
سائرہ کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ شوبزنس کی دنیا ایک مصنوعی جادونگری ہے، جہاں ہر عروج کو زوال ہے، خصوصاً گلیمر کے دن بہت کم ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ اُنہیں صرف 30سال کی عمر میں ہی ہوگیا ہے۔
وہ اداکاری ضرور کررہی ہیں، ماڈلنگ کا بھی کوئی اچھا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں اور سرحد پار، یعنی بولی وڈ سے بھی آنے والی کسی اچھی آفر کو مسترد کرنے کا اُنہوں نے ابھی تک نہیں سوچا مگر اداکاری ان کی منزل نہیں ہے، یہ صرف ایک سنگ میل ہے، اس کے فوراً بعد وہ اپنی صلاحیتوں کو کیمرے کے پیچھے کھڑے ہوکر، بطور ہدایتکارہ، آزمانے کی لئے بے تاب ہیں، وہ اپنی ڈائریکشن میں بہت جلد، ذاتی پروجیکٹ شروع کرنا چاہتی ہیں۔
اب تک اُنہوں نے شہروز کے ساتھ کسی فلم میں اکٹھے کام نہیں کیا ہے مگر ان کی ایک خواہش یہ بھی ہے کہ وہ دونوں ایک ساتھ کسی فلم میں کام کریں۔ کیونکہ ان کے درمیان، ’’کیمسٹری‘‘ بہت اچھی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ جب تک بہت اچھااسکرپٹ اور مضبوط پروجیکٹ نہیں ہوگا اس وقت تک وہ دونوں فلم میں اکٹھے کام کرنے کا رسک نہیں لیں گے۔
اسکرین پر مختلف کردار نبھاتی اور ٹی وی انٹرویوز میں نسبتاً مصنوعی دکھائی دینے والی سائرہ اندر سے بہت اوریجنل اور سیدھی سادی ہیں۔ پہلے بیوی اور اب ماں بننے کے بعد ان کی شخصیت میں مزید ٹھہراؤ آیا ہے۔ ان کی پہلی ترجیح ان کا گھر ہے۔ وہ اسی لیے زیادہ تر گھر میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ گھر والوں کے ساتھ گھومنا پسند کرتی ہیں اور ان کے لیے مزیدار چکن ونگز یا تلی ہوئی مچھلی پکانا، سائرہ کے چند پسندیدہ مشغلوں میں سے ایک ہے۔