November 05, 2018
نٹ کھٹ اور نازک اندام ماڈل ارم اعظم

نٹ کھٹ اور نازک اندام ماڈل ارم اعظم

12؍اگست 1994ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی ارم اعظم ایک ماڈل اور اداکارہ ہیں۔ برج اسد سے تعلق ہونے کے باعث ان میں قائدانہ صلاحیتیں بھی بھرپور ہیں۔ وہ اب تک متعدد ڈراموں اور کمرشلز میں سامنے آچکی ہیں اور ہر جگہ مرکزی حیثیت میں دکھائی دیتی ہیں۔
شوخ و چنچل اور نٹ کھٹ سی، یہ نازک اندام ماڈل، اسٹار کاسٹ سے سجے ڈراموں یا ہیوی بجٹ ٹی وی کمرشلز میں، اپنے دراز قد، بولتی آنکھوں اور خوب صورت ہونٹوں کے باعث، مجمعے میں بھی تنہا دکھائی دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔ گلوکاری ان کا شوق ہے۔ رشین سلاد ان کی مرغوب غذا، سیاہ اور پرپل پسندیدہ رنگ، جبکہ ماڈلنگ اور اداکاری ان کا اوّلین جنون ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انہیں بچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا۔ انہوں نے کراچی میں ہی گریجویشن تک اپنی تعلیم مکمل کی۔ 2014ء میں ’’محرم‘‘ ان کی ابتدائی ڈرامہ سیریل تھی، جس سے ارم نے اپنی شناخت بنانا شروع کی۔ اس سے کچھ ہی عرصہ پہلے وہ ماڈلنگ میں آچکی تھیں، پھر کب سپر ماڈلز میں ان کا شمار ہونے لگا، یہ خود ارم کو بھی اندازہ نہ ہوسکا۔
’’پیامن بھائے‘‘، ’’سسرال میری بہن کا‘‘، ’’بدگمان‘‘، ’’گلہ کس سے کریں‘‘، ’’رسمِ دُنیا‘‘، ’’پھر وہی دل لایا ہوں‘‘ اور ایسے ہی متعدد ڈراموں میں ارم نے کام کیا۔ ہر ڈرامے میں انہیں منفرد رول کرنے کا موقع دیا گیا یا نہیں؟ یہ تو ڈائریکٹرز کی صوابدید پر تھا۔ مگر ارم نے اپنی طرف آنے والی ہر آفر کو، حتی المقدور چھان پھٹک کے بعد قبول کیا اور پھر اپنی ہرممکن صلاحیتوں سے کردار میں حقیقت کے رنگ بھرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ 2016ء میں تاثرات سے بھرپور چہرے کی حامل اس ماڈل اور اداکارہ کو فنی زندگی کا وہ موقع ملا، جس کے لئے ہر فنکار خواہش کرتا ہے، یعنی فلم میں مرکزی کردار کی ادائیگی کا چانس۔ فلم کا نام تھا ’’مالک‘‘۔ شومئی قسمت یہ رہی کہ ’’مالک‘‘ پر ریلیز کے ساتھ ہی پابندی عائد ہوگئی۔ فلم کے ڈائریکٹر عاشر عظیم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ فلم کو پھر ریلیز کی اجازت بھی ملی، مگر تنازعات اور سیاسی موضوع سے ہم آہنگ ہونے کے باعث، عام فلم بینوں نے اس فلم کو وہ رسپانس نہیں دیا، جو ایک کمرشل فلم کو ملنا چاہئے۔ یوں ایک اچھی اداکارہ، یعنی ارم اعظم، متنازع فلم کا شکار ہوکر فلم بینوں کے دلوں تک رسائی کرنے کی پہلی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکیں، مگر ان کے بایوڈیٹا میں یہ چیز ضرور شامل رہے گی کہ انہوں نے ٹی وی اور کمرشلز کے ساتھ فلم کے پردے پر بھی کام ضرور کیا ہے۔
ارم کی خوبی یہ ہے کہ وہ کم اور معیاری کاموں کو ترجیح دیتی ہیں۔ پاکستان میں سیلولر فون انڈسٹری کا فروغ ہوا تو بڑے بجٹ کی حامل ان کمرشل مہمات میں بطور ماڈل ارم کا انتخاب بھی ہونا شروع ہوا۔ انہوں نے بڑے بڑے فیشن ڈیزائنرز کے مقبول ملبوسات کی ماڈلنگ بھی کی اور فیشن شوز میں ریمپ کی زینت بنیں۔ تب بھی کسی سے پیچھے نظر نہ آئیں۔ وہ مشرقی اور مغربی ملبوسات میں یکساں دلکش نظر آنے والی چند خوش نصیب ماڈلز میں سے ایک ہیں، ورنہ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کچھ ماڈلز صرف ایسٹرن ڈریسز کی ماڈلنگ کے لئے موزوں ہوتی ہیں تو کچھ صرف مغربی لبادے میں ہی پسندیدگی کی سند سمیٹنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ ارم نے زیادہ تر برائیڈل فیشن ماڈلنگ میں بھی اپنا نام بنایا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود نمایاں ماڈلنگ بلاگز اور آن لائن فیشن پیجز بھی ارم اعظم کی ہوشربا ماڈلنگ اور دلکش شوٹس سے سجے دکھائی دیتے ہیں۔
اگر بات ہو ٹی وی ڈراموں کی، تو ارم نے اپنے مختصر مگر پُراثر فنی کیریئر میں ایک اچھا کام یہ کیا کہ وہ کسی مخصوص گروپ لابی یا کیمپ کا حصہ کبھی نہیں بنیں۔ انہوں نے ہر چینل پر ہر ڈائریکٹر کے ساتھ اور تمام ہی بڑے فنکاروں کے مقابل کام کیا۔ ارم کے ابتدائی ڈراموں میں سے ایک ’’کوئی نہیں اپنا‘‘ بھی ہے۔ اس ڈرامے کے مرکزی کردار تو فہد مصطفیٰ اور ثروت گیلانی نے ادا کئے تھے مگر ثروت گیلانی کی سہیلی کی روپ میں ارم نے اپنی ابتدائی پرفارمنس سے ہی ثابت کردیا تھا کہ کردار چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، اسے ادا کرنے والے فنکار کی اہلیت میں کمی نہیں ہونی چاہئے۔ اسی طرح بلال اشرف کے ہمراہ وہ ایک ٹیلی فلم ’’ریڈی، اسٹیڈی، بھاگ‘‘ میں بھی منفرد انداز کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں اور ثابت کیا کہ مزاحیہ یا ہلکی پھلکی اداکاری بھی اپنا چہرہ بگاڑے بغیر اور سچویشنل کامیڈی کے روایتی قیدوبند میں جڑے بغیر بہ خوبی کی جاسکتی ہے۔

ان کے متعدد ڈرامے دیکھ کر کوئی بھی ناقد یہ اندازہ بہ آسانی لگاسکتا ہے کہ ارم نے خود کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑا بلکہ حالات کو اپنے اعتبار سے ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا امیج ایک مرکزی اداکارہ کا ضرور ہے، مگر بطور سپورٹنگ ایکٹریس بھی جہاں جہاں انہیں مضبوط کردار ملا، انہوں نے اس میں اپنا سو فیصد ٹیلنٹ استعمال کیا ہے۔ وہ ایک مقامی نجی چینل پر ٹریولنگ سے متعلق ایک شو ’’کاش‘‘ کی میزبانی تو کر ہی چکی ہیں، مگر مختلف ٹی وی چینلز سے چلنے والے مقبول ٹاک شوز میں بطور مہمان بھی وہ ایک سے ایک نئے رنگ میں سامنے آنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔
گھومنے پھرنے کی شوقین، ارم نے ’’کاش‘‘ کی ریکارڈنگز کے دوران نہ صرف دُنیا بھر کی خوب صورت لوکیشنز دیکھ لیں بلکہ بطور میزبان، ناظرین کو بھی اپنے اچھوتے اور بے ساختہ اندازِمیزبانی کے باعث ان جگہوں کی سیر کروائی۔ ’’محرم‘‘ کی سنجیدہ اور بردبار سی ارم اعظم ’’ریڈی، اسٹیڈی‘ بھاگ‘‘ کی نٹ کھٹ اور شریر ارم اعظم سے بہت مختلف ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ارم میں ایک ورسٹائل اداکارہ چھپی ہوئی ہے۔ انہوں نے کچھ میوزک ویڈیوز میں بھی ماڈلنگ کر رکھی ہے، خصوصاً شیراز اور عارف کے میوزک ویڈیو ’’تیری یاد‘‘ میں اپنے مقابل کام کرنے والے نسبتاً کمزور ماڈل کے مقابل بھی انہوں نے کسی طور اپنا کام متاثر نہ ہونے دیا۔
گلیمر سے مالامال، ارم اعظم کا سفر ابتدا سے ہی بلندیوں کی طرف مائل ہے اور آنے والے روشن کل، انہیں تیزی سے ترقی کرتی پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا ایک روشن ستارہ شمار کررہے ہیں۔