November 19, 2018
دولت، طاقت، اختیارات میر عثمان کے ہاتھ سے نکل رہے تھے - قسط 15

دولت، طاقت، اختیارات میر عثمان کے ہاتھ سے نکل رہے تھے - قسط 15

حیدرآباد دکن کے عروج و زوال کی داستان

نظام عثمان ان کے طور طریقوں کی وجہ سے ان سے مزید نالاں ہو چکے تھے۔ 14؍جون 1954ء کو انہوں نے نہرو کو ایک خط لکھ کر باضابطہ طور پر اپنے اس فیصلے سے مطلع کردیا کہ اعظم جاہ اپنی بے ہودہ عادات و اطوار کی وجہ سے ان کے وارث نہیں ہوں گے۔ تاہم اسی بے راہ رو باپ کا بیٹا مکرم جاہ ان کا وارث ہو گا۔ غیر رسمی طور پر تو یہ بات سبھی کو معلوم تھی لیکن اب گویا باضابطہ اور سرکاری طور پر حتمی فیصلہ ہو گیا۔ بجائے اس کے کہ اس خط کی وجہ سے اعظم جاہ کی کچھ اصلاح ہوتی، ان کی بے راہ روی میں کچھ اضافہ ہو گیا۔ جنوری 56ء تک وہ 66لاکھ روپے کے قرض دار ہو چکے تھے۔ انہوں نے اپنے والد سے درخواست کی کہ اگر وہ ان کے قرضے ادا کر دیں تو وہ اپنے تمام مالی معاملات ان کے ہاتھوں میں دے دیں گے۔ قرضے چڑھنے کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ انہیں کچھ کاروباری معاملات میں نقصان ہو گیا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس کی وجہ سے ان پر قرضہ چڑھے۔
نظام نے اس درخواست کے جواب میں ایک کمیٹی قائم کر دی جسے تحقیقات کرنی تھی کہ اعظم جاہ پر یہ قرضے کیسے چڑھے؟ اس کے علاوہ نظام عثمان نے ایک فرمان جاری کیا کہ مشکوک اور معیوب کردار کی جن خواتین نے ’’بیلا وسٹا‘‘ میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ فوراً وہاں سے رخصت ہو جائیں ورنہ ان کے ساتھ بہت بُرا ہو گا۔
نظام نے بادل نخواستہ اعظم جاہ کے قرضے تو ادا کر دیئے لیکن اس سے پہلے انہوں نے اخبار میں اشتہار دیا کہ آئندہ ان کے بیٹے اعظم جاہ کو قرض دینے یا ادھار کی بنیاد پر ان کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے والا اپنے قول و فعل کا خود ذمے دار ہو گا۔ انہوں نے 5؍جولائی 1956ء کو اپنے بیٹے کو بھی ایک خط لکھا جو ان کے ہوش ٹھکانے لانے کیلئے کافی ہو سکتا تھا، لیکن ان کے مسئلہ یہ تھا کہ وہ اصلاح کی منزل سے گزر چکے تھے۔
نظام نے اپنے خط میں لکھا ’’مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ ہندوستان کا صدر چھ ہزار روپے ماہوار میں آسانی سے اپنا گزارا کر سکتا ہے، لیکن تم اس سے دس گنا زیادہ رقم یعنی ساٹھ ہزار روپے ماہوار میں بھی گزارا نہیں کر سکتے اور بار بار اپنے سر پہ قرضے چڑھا لیتے ہو۔‘‘ (اعظم جاہ کو ایک ٹرسٹ کے تحت سات لاکھ روپے سالانہ مل رہے تھے)
اس طرح کا خط اگر نظام نے بیس سال پہلے اپنے اس ناخلف بیٹے کو لکھا ہوتا تو شاید وہ انگریز ریذیڈنٹ کے پاس فریاد کرتا اور جھوٹ سچ لکھ کر اس کے سامنے مظلوم بننے کی کوشش کرتا۔ جواب میں انگریز ریذیڈنٹ یقیناً اس کی حمایت کرتا لیکن تمام ریذیڈنٹ جا چکے تھے۔ چنانچہ اعظم جاہ نے ہندوستان کے وزیر داخلہ پنت جی کو خط لکھا اور اپنی مظلومیت کی داستان تخلیق کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔ اعظم جاہ نے اپنی قدرے ناقص انگریزی میں جو کچھ لکھا، اس کا مفہوم یہ تھا۔
’’ہماری بھی کیا زندگی ہے۔ کہنے کو ہم دنیا کے دولت مند ترین آدمی کی اولاد ہیں لیکن ہم کبھی آزادی، خود مختاری اور اپنی مرضی کا ایک دن بھی نہیں گزار سکے۔ ہمارے محل ہمارے لئے قید خانوں سے کم نہیں تھے۔ جوان اور شادی شدہ ہونے کے بعد ہم گو کہ والد صاحب سے الگ محلوں میں رہ رہے ہیں لیکن یہاں بھی ہماری زندگی ہماری اپنی نہیں ہے۔ ہمارے والد کی سی آئی ڈی یہاں بھی ہمارے تمام معمولات کی نگرانی کرتی ہے اور پل پل کی رپورٹ انہیں پہنچاتی ہے۔ آپ مجھ پر رحم کھا کر ان معاملات میں مداخلت فرمائیں تاکہ ہمیں بھی آزاد اور خود مختار انسانوں کی طرح زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔‘‘
وزیر داخلہ نے ان کے خط پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔
اعظم جاہ کو وقتی طور پر گو کہ قرض خواہوں کے تقاضوں سے نجات مل گئی تھی لیکن ان کے والد نظام عثمان علی انہیں ٹرسٹ کی طرف سے ملنے والے وظیفے میں سے اس قرض کی قسطیں کاٹ رہے تھے کیونکہ یہ قرضہ انہوں نے خود ادا کیا تھا۔ وظیفہ کم ہونے پر اعظم جاہ اتنے برہم ہوئے کہ انہوں نے عدالت میں مقدمہ کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں اتنا ہی وظیفہ ملنا چاہئے، جتنا پہلے مل رہا تھا۔ ان کے مقدمہ دائر کرنے پر نظام عثمان کو سخت غصہ آیا۔ اب انہوں نے گویا مجبور ہو کر ہندوستانی وزیراعظم جواہر لال نہرو کو خط لکھ کر اپنے بیٹے کے کرتوت سے آگاہ کر دیا۔ انہو ں نے اس خط میں بیٹے کی بے راہ روی، قمار بازی، بے ہودہ اور فضول کاموں میں اپنے اوپر قرضے چڑھا لینے کی عادات وغیرہ کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کے بینک اکائونٹ میں رقم نہیں ہوتی اور وہ لوگوں کو لاکھوں کے چیک لکھ لکھ کر دیتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے نظام عثمان جیسے آدمی کیلئے یہ شرمناک بات تھی کہ ان کا بیٹا ایسی حرکتیں کرتا پھرے۔ نظام عثمان اگر حد سے زیادہ کفایت شعار تھے تو صرف اپنی ذات کے لئے تھے۔
دنیا میں کنجوس عموماً تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنی ذات کے لئے کنجوس نہیں ہوتے۔ اپنی ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔ اپنی ذات کیلئے تعیشات پر بھی خرچ کر لیتے ہیں، لیکن کسی دوسرے کو وہ پھوٹی کوڑی نہیں دیتے۔ دوسری قسم کے کنجوس وہ ہوتے ہیں جو اپنی ذات پر بھی ایک دھیلا بڑی مشکل سے خرچ کرتے ہیں اور اگر دوسرے کو کچھ دینا پڑ جائے تب تو ان کی حالت ہی غیر ہو جاتی ہے۔ شاید یہ کنجوسوں کی بدترین قسم ہے۔
لیکن نظام عثمان تیسری قسم کے کنجوس تھے جسے عجیب بھی کہا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی ذات کی حد تک کنجوس تھے لیکن کسی کا حق نہیں رکھتے تھے اور دوسروں کو نوازنے کے معاملے میں بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ تیسرے یہ کہ بطور حکمران انہوں نے اپنی رعایا کی فلاح اور بہتری کا ہر ممکن خیال رکھنے کی کوشش کی۔ بطور منتظم شاید وہ زیادہ اچھے نہ رہے ہوں۔ وہ اپنی انتظامیہ میں پھیل جانے والی کرپشن پر نظر نہیں رکھ سکے اور اس پر قابو نہیں پا سکے۔ لیکن انہوں نے عوام کی فلاح کیلئے جتنے بڑے بڑے منصوبوں پر عمل کیا، انہیں آج بھی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ان میں سے چند کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔
اگر ان کی قائم کردہ عثمانیہ یونیورسٹی کو ہی دیکھا جائے اور اس زمانے کو ذہن میں رکھا جائے جب اس کا قیام عمل میں آیا تھا تو اس کی وسعت اور عظمت پر حیرت ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے اس نے جہاں ایک بڑے تعلیمی ادارے کی ضرورت پوری کی، وہیں اُردو کے لئے بھی اس کی خدمات کبھی بھلائی نہیں جا سکیں گی۔ یہ ہندوستان کی پہلی یونیورسٹی تھی جس نے مکمل طور پر اُردو کو ذریعہ تعلیم بنایا۔ 1918ء میں اس یونیورسٹی کا قیام ایک اہم واقعہ تھا۔ دیگر زبانوں کی بڑی بڑی علمی کتابوں کو اردو میں منتقل کرنے کیلئے اس یونیورسٹی میں باقاعدہ ایک ’’دارالترجمہ‘‘ قائم کیا گیا۔ اس شعبے کے لئے بڑے بڑے شاعروں، ادیبوں اور ماہرین لسانیات کی خدمات حاصل کی گئیں جو اس زمانے میں بھی معروف تھے اور آگے چل کر انہوں نے مزید شہرت حاصل کی۔ ان میں عبداللہ عمادی، عبدالماجد دریا آبادی، طباطبائی، عنایت اللہ دہلوی، مرزا ہادی رسوا، عبدالحلیم شرر، ظفر علی خان اور جوش ملیح آبادی جیسے لوگ شامل تھے۔ اُردو زبان کیلئے ان لوگوں کی خدمات کے مکمل تذکرے کے لئے بہت سے صفحات درکار ہیں۔
شبیر حسن خان جنہیں زیادہ تر لوگ صرف جوش ملیح آبادی کے نام سے جانتے ہیں ، 1894ء میں پیدا ہوئے تھے۔ 1925ء سے 1934ء کے دوران وہ حیدرآباد میں رہے۔ اس زمانے سے ہی ان کا مزاج باغیانہ اور انقلابی تھا۔ متنازع باتیں چھیڑ دینا شروع سے ہی ان کا وتیرہ تھا۔ نظام عثمان کے بارے میں بھی انہوں نے کوئی ایسی بات کر دی کہ انہیں ’’دارالترجمہ‘‘ کی ملازمت سے برخاست کر دیا گیا جس پر انہوں نے فارسی میں ایک شعر کہا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ عوام مجھ سے محبت کرتے ہیں مگر بادشاہ اور حکمراں مجھے ناپسند کرتے ہیں۔ اپنی ’’تنازع پسند‘‘ طبیعت کے باعث جوش صاحب کے دُشمن بھی اتنے ہی تھے جتنے دوست…
ذکر ہو رہا تھا نظام عثمان اور ان کے بڑے صاحبزادے کا… نظام نے نہرو کے نام اپنے خط میں بیٹے کے کرتوت بتانے کے بعد خود تجویز کیا ’’شہزادے کی سرگرمیوں کو محدود کرنے، بدقماش عورتوں سے ان کا پیچھا چھڑانے اور ان کے معاملات کی نگرانی کے لئے ایک سمجھدار منیجر کا تقرر ضروری ہے اور میں یہ سب کچھ کرنا چاہتا ہوں لیکن میری درخواست ہے کہ اگر وہ اس ضمن میں آپ تک اپنی فریاد پہنچائے تو آپ اس کی حمایت نہ کریں۔‘‘
نہرو کو یقیناً ایک باپ کے دُکھ اور پریشانی کا احساس ہوا۔ انہوں نے جوابی خط میں نظام عثمان کی تائید اور حمایت کی جس کے بعد اعظم جاہ اپنا مقدمہ واپس لینے پر مجبور ہوگئے لیکن اس کے بعد ان کے دل میں اپنے ہی باپ اور اپنے ہی بیٹے کے بارے میں ناپسندیدگی کے جذبات کچھ اور گہرے ہوگئے۔ چنانچہ جب 6؍اپریل 1967ء کو ان کے بیٹے مکرم جاہ کی آٹھویں نظام کے طور پر تاجپوشی ہوئی تو وہ قطعی خوش نہیں تھے حالانکہ نظام بننے والا ان کا اپنا بیٹا تھا اور اب تو کوئی سلطنت بھی موجود نہیں تھی جس کا وہ عملی طور پر حکمراں بنتا۔ یہ اَمر بھی قابل ذکر ہے کہ خود مکرم جاہ کو آٹھواں نظام بننے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ وہ تو دادا کی خواہش پر نظام بنے تھے۔ تاجپوشی کے بعد آصف جاہ کو رسمی طور پر اپنے بیٹے کو مؤدبانہ انداز میں سلامی دینا تھی جو انہوں نے مؤدبانہ کے بجائے طنزیہ انداز میں دی۔
اعظم جاہ 1970ء میں انتقال کرگئے۔ جاہ و حشمت اور اقتدار کے یہ طلبگار انتقال کے وقت تنہا تھے۔ ان کی بیوی اور بیٹوں میں سے کوئی بھی ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ لوگ لندن میں تھے۔ اعظم جاہ کی قبر مکہ مسجد میں دُوسرے پانچ نظاموں کی قبروں کے برابر میں ہے جبکہ نظام عثمان علی ان سے الگ ایک چھوٹی سی مسجد کے احاطے میں دفن ہیں جو کنگ کوٹھی کے سامنے واقع ہے۔
لندن میں زیرتعلیم مکرم جاہ کو یہ ظاہر کرنے کا قطعی شوق نہیں تھا کہ وہ ایک بہت بڑی وراثت کے مالک ہیں۔ گریجویشن کے بعد وہ سینڈ ہرسٹ کالج میں پندرہ ماہ کی فوجی تربیت بھی حاصل کر رہے تھے۔ انہیں دھماکا خیز مواد استعمال کرنے کا بہت شوق تھا اور وہ اکثر ایسی چیزوں کی تلاش میں رہتے تھے جنہیں وہ ڈائنامائٹ سے اُڑا سکیں۔ دُوسرا شوق انہیں موٹر بوٹس خریدنے کا تھا۔ 1955ء میں انہوں نے 7000 پائونڈ میں ایک بہت بڑی سیکنڈ ہینڈ موٹربوٹ خریدی جو نیوی کے استعمال میں رہی تھی اور بحری جہازوں کو تارپیڈو کرنے کے کام آتی تھی۔ مکرم جاہ نے اس میں کباڑی بازار سے خریدے ہوئے ہوائی جہازوں کے دو انجن فٹ کر لئے۔ وہ اس قسم کے کاموں کے بھی بہت شوقین تھے جو میکینکل انجینئرنگ کے زمرے میں آتے تھے۔ وہ ا پنے بھائی اور ایک آسٹریلوی ڈاکٹر دوست کو ساتھ لے کر اس بوٹ میں جبرالٹر چلے گئے۔ راستے میں انہیں تنزانیہ کے اسمگلر سمجھ لیا گیا۔ ایک ملک کی بحری پولیس ان کے پیچھے لگ گئی۔ اس وقت بوٹ کو آسٹریلوی ڈاکٹر چلا رہا تھا۔ اس کی گھبراہٹ کی وجہ سے بوٹ ایک تیل بردار بحری جہاز سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
ادھر 1956ء تک حیدرآباد دکن کی قدیم اور روایتی حیثیت ختم ہو چکی تھی۔ اسے نئے ہندوستان کا حصہ بنانے کے لئے یکے بعد دیگرے مختلف اقدامات کئے جا رہے تھے۔ اس کے زیادہ تر حصے کو نئے صوبے آندھرا پردیش کا نام دے دیا گیا تھا اور باقی حصے کو مہاراشٹر اور تامل ناڈو میں شامل کر دیا گیا تھا۔ نظام عثمان کیلئے تخلیق کیا گیا ’’راج پرمکھ‘‘ کا عہدہ ختم کر دیا گیا تھا۔ دولت، طاقت، اختیارات میر عثمان کے ہاتھ سے نکل رہے تھے۔
(جاری ہے)