November 19, 2018
مولانا سمیع الحق شہید کا ایک یادگار انٹرویو

مولانا سمیع الحق شہید کا ایک یادگار انٹرویو

جس سے ان کی شخصیت، سیاست اور اندازِفکر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے

کچھ عرصہ قبل ایک نجی ٹی وی چینل ’’نیوز7‘‘ پر جیّد عالم دین اور ممتاز سیاسی رہنما مولانا سمیع الحق کا انٹرویو نشر کیا گیا تھا۔ 16؍ستمبر 2018ء کو ’’چینل 5‘‘ نے اسے  دوبارہ ٹیلی کاسٹ کیا۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے یہ انٹرویو قدرے اختصار سے تحریری صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔ اس سے  قارئین کو مولانا شہید سمیع الحق کی شخصیت، خیالات و نظریات اور فلسفہ ٔحیات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
اینکرکے تعافی جملے کچھ یوں تھے’’ ناظرین، السلام علیکم۔ میں آج اس وقت ایک ایسی شخصیت کے ساتھ موجود ہوں جن کے نام کے ساتھ پاکستان کی سیاست جڑی ہے، جنہیں یاد کیا جاتا ہے ’’فادرآف طالبان ‘‘کے نام سے، مولانا سمیع الحق صاحب۔ مولانا صاحب! خوش آمدید کہوں گا آپ کو میں آج کے شو میں۔‘‘
مولانا سمیع الحق:وعلیکم السلام۔ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، دارالعلوم آئے ہوئے ہیں آپ۔
’’ بہت شکریہ۔ یہ بڑا مختلف ٹائٹل ہے آپ کا، جو آپ کو دیا گیا’’ فادرآف طالبان ‘‘ اس کا کیا پس منظر ہے؟‘‘
مولانا سمیع الحق: یہ صرف پریس کاپروپیگنڈا ہے۔ ہمارا تعلق تو استادی،شاگردی کا ہوتا ہے ناں۔ ہمارے یہاں استاد کا بڑا احترام ہوتا ہے۔ باپ سے زیادہ مقام استاد کو دیتے ہیں۔
’’ کیا فرق ہے طالبان میں اور ایک دہشت گرد میں؟‘‘
مولانا سمیع الحق:دونوں متضاد چیزیں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف طالبان اُٹھے ہیں۔ بڑی طاقتوںکی دہشت گردی اور ان کا غرور خاک میں ملارہے ہیں۔ یہ دہشت گردی نہیں ہے، یہ تو انسانیت کے لئے کام ہے۔ انسانیت کے دو بڑے دشمن ہیں، دو بڑی سپرپاورز نے دُنیا بھر کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ۔ اس وقت آپ عراق، شام، یمن اور افغانستان کودیکھیں۔یہ سب سپر پاورز کی دہشت گردی ہے اور اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ ان کو سبق سکھائیں۔ جہاد کے معنی یہ ہیں کہ ظلم اور دہشت گردی کا خاتمہ کرو۔ ظالم کو ظلم نہ کرنے دو۔ ظالم کا ہاتھ پکڑنا جہاد ہے۔ ظالم کے خلاف کوئی جدوجہد نہ ہوتی تو دُنیا میں شر اور فساد ہوتا۔
’’ ایک مجاہد اور دہشت گرد میں فرق تو ہونا چاہئے ناں، وہ کیا فرق ہے پھر؟‘‘
مولانا سمیع الحق: ظاہری بات ہے دہشت گرد وہ ہے کہ سڑک کے کنارے کہیں آڑ میں بیٹھا ہوا ہے چھپ کر، اور بس یا گاڑی بچوں اور دوسرےبے گناہوں سے بھری آجاتی ہے، وہ بس کو روک لیتے ہیں، اندر جاکر انہیں لوٹتے ہیں اور قتل کرتے ہیں، تو یہ دہشت گردی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں باعزت آرام سے بیٹھا ہوا ہے، وہ کسی کے گھر پر حملہ نہیں کرتا ، لیکن ظالم آتا ہے، اس کے گھر میں گھستا ہے، اس کا گھر توڑتا ہے، گھر پر قبضہ کرتا ہے، اس کے بچوں کو، اس کی بیوی کو مارتا پیٹتا ہے تو اس گھر کی حفاظت کے لئے اُٹھنا ضروری ہے، یہ جہاد ہے۔
’’ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دَور سے لے کر، 1400 سال تک جو کچھ تھا، وہ جہاد تھا، اس میں لوگوں کو اسلام دیا، دُنیا میں امن دیا۔ لیکن یہ پچھلے 30سال جو ہیں، اس نے مسلمانوں کے جہاد اور مسلمانوں کو بدنام کیا ہے؟‘‘
مولانا سمیع الحق: نہیں، یہ دشمن نے بدنام کیا ہے۔ پہلے وہ دشمن خوش تھا کہ بڑی سپرپاور روس کو یہ مار رہے ہیں۔ یہی طالبان ،افغانستان کے جہاد میں روس کے خلاف تھے، امریکا اُن پر پھول نچھاور کرتا تھا اور اسی ہمارے مدرسے کے پہلے طالب علم مولانا یونس خالص تھے، وہ امریکا گئے اور صدر ریگن نے ان کا خود استقبال کیا۔ سرخ قالین بچھایا اور ان کی تقریر سنتا رہا۔ ہمارا وفد جب مولانا یونس خالص کی سربراہی میں امریکا گیا تھا تو صدر ریگن نے تقریر کی ۔ اس تقریر کو آپ سنیں تو اس میں انہوں نے بار بار مجاہدین،مجاہدین کا لفظ استعمال کیا اور کہا کہ میں یونس خالص کو سلام کرتا ہوں۔ اس وقت گویا اسامہ بن لادن بھی ہیرو تھا اور مولانا حقانی بھی، حقانی نیٹ ورک کو اُس وقت سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے۔ اب ان کو جہاد کی طاقت معلوم ہوگئی کہ جہاد ایک بہت بڑی سپرپاور کو بھی ملیامیٹ کرسکتا ہے، بغیر وسائل کے، تو یہ ہمیں بھی ختم کردے گا۔
’’ مجاہدین نے جو روس کے خلاف جنگ لڑی امریکا کے کہنے پر، وہ غلط لڑی پھر؟‘‘
مولانا سمیع الحق:امریکا کے کہنے پر نہیں لڑی۔ امریکا تو مذاق کررہا تھا اس جہاد سے۔
’’ مجاہدین پیسے نہیں لیتے تھے امریکا سے؟ اسلحہ نہیں لیتے تھے؟‘‘
مولانا سمیع الحق: کئی سال وہ لڑتے رہے، امریکا مذاق کرتا رہا کہ یہ کیا جنگ لڑیں گے۔ مجاہدین خالی بوتلوں میں پیٹرول اور مٹی کا تیل ڈال کر بم بناکر ٹینک کے اندر پھینک دیتے تھے۔ اس جہاد میں مجاہدین نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔
’’ آپ افغان جہاد کو سپورٹ کرتے رہے، اب بھی کررہے ہیں؟‘‘
مولانا سمیع الحق:اب بھی کررہا ہوں۔ ابھی تک منطقی انجام کو نہیں پہنچا ہے جہاد۔
’’ آپ اس جہاد کو سپورٹ کرتے ہیںجس میں پاکستان کا نقصان ہورہا ہے، پاکستان کا امیج خراب ہورہا ہے؟‘‘
مولانا سمیع الحق: دوسروںکے کہنے پر ہم اپنے بھائی کے خلاف ہوگئے ہیں۔دوسرے نے کہا کہ تم اپنے بھائی کی پیٹھ میں چھرا گھونپو، ان کو مارو میری خاطر۔
’’ کون ذمہ دار ہے پاکستان میں دہشت گردی کا؟‘‘
مولانا سمیع الحق: پاکستان میں دہشت گردی کے ذمہ دار وہ حکمران ہیں جنہوں نے امریکا کو موقع دیا اور انہیں کہا کہ ہم آپ کی جنگ لڑیں گے۔
’’ مشرف صاحب ذمہ دار ہیں؟‘‘
مولانا سمیع الحق:مشرف صاحب سب سے بڑاننگِ ملت، ننگِ دین، ننگِ وطن… تاریخ میں ایسا کوئی اور پیدا نہیں ہوا۔ جب 11ستمبر کوامریکا میں ٹوئن ٹاور والا حملہ ہوا تو اس کے چار، پانچ دن بعد اس نے ہم 22؍افراد کو ایوانِ صدر میں بلایا۔ وہاں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈر موجود تھے۔ یعنی کوئی شیعہ سنی ایسا نہیں تھا جو وہاں موجود نہ ہو۔ میں بھی تھا، نوابزادہ نصراللہ خان، جتوئی اور حتیٰ کہ غنویٰ بھٹو تک وہاں موجود تھیں۔ ان 22؍افراد سے پرویز مشرف نے پوچھا کہ میں کیا کروں؟ نہیں تو ہم پتھروں کے زمانے میں چلے جائیں گے۔ اس میٹنگ کا سارا ریکارڈ نکالنا چاہئے۔ ایوانِ صدر کی میٹنگ تھی۔ ساری بات چیت سامنے آنی چاہئے۔ اُن 21، 22 افراد میں سے تقریباً 17، 18 ؍افراد نے کہا کہ ہاں، بالکل اس جنگ میں شامل ہوجاؤ۔ ہم تین، چار افراد تھے بس، جنہوں نے اس بات کی مخالفت کی۔
’’ آپ نے کیا کہا؟‘‘
مولانا سمیع الحق: میں نے ڈٹ کر کہا کہ یہ کیا کررہے ہو؟ اپنی ساری قربانیوں پر پانی پھیررہے ہو۔ اُن لوگوںنے قربانیاں دی ہیں، 20، 22 لاکھ لوگ شہید ہوگئے ہیں۔ 50لاکھ بیرونی دُنیا میں دَربدر پھررہے ہیں۔ افغانستان کھنڈر بن گیا ہے۔ مضبوط بہادر قوم نے اپنی آزادی بچائی ہے اور سپرپاور کو شکست دی ہے تو اس پر تم پانی کیوں پھیر رہے ہو؟ پاکستان نے اس جنگ میں بہت قربانی دی ہے۔ مشرف نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے امریکی بس دو، چار بم پھینکیں گے پھر چلے جائیں گے۔ ابھی تک امریکا وہاں بیٹھا ہوا ہے۔ ابھی تک ہم آزاد نہیں ہیں۔
’’ امریکا سے الگ کرانےکے لیے پاکستان کی مسجدوں پر، پاکستان کے بازاروں میں، پاکستان کے اداروں پر حملے کئے؟‘‘
مولانا سمیع الحق:اس کی کسی نے تائید نہیں کی۔ حتیٰ کہ افغانستان میں جہاد کرنے والے طالبان جواپنے ملک کی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں، ملا محمد عمر اور یہ سب ان سے ناراض ہوتے تھے اور انہیں روکتے تھے، انہیں بار بار وارننگ دیتے تھے کہ خبردار میں پاکستان میں کسی بھی قسم کی تحریب کاری برداشت نہیں کروں گا۔ افغان مجاہدین بھی خوش نہیں تھے جو یہ پاکستان میں کررہے تھے۔
’’ حکیم اللہ محسود اور بیت اللہ محسود کو ہم مجاہد کہیں؟‘‘
مولانا سمیع الحق: نہیں، میرا مطلب ہے کہ میں نے کہا بار بار کہ ان کے ساتھ بیٹھ جاؤ، وہ کیا کہتے ہیں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ پرائی جنگ سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ ناں۔ تمہارا ایمان امریکا پر کیوں ہے؟ لیکن یہ ذہنی غلام تھے بالکل۔
’’اپنی زندگی کے 81سال ماشاء اللہ آپ نے سیاست میں گزارے، مدرسے میں گزارے، تعلیم میں گزارے۔ پاکستان کے کم از کم ایک لاکھ لوگ شہید ہوئے، دو لاکھ سے زائد معذور ہوئے اس دہشت گردی کا نشانہ بنے، 9/11کے بعد سے ان 18 سالوں میں۔ ان کا مجرم کون ہے؟‘‘
مولانا سمیع الحق:ان کا مجرم اُس وقت کے حکمران اور ان کی پالیسیاں ہیں اور امریکا نوازی ہے۔ امریکا کے لئے انہوں نے سب کچھ داؤ پر لگادیا۔ ابھی تک نیٹو کی سپلائی جاری ہے۔ دفاع افغان کونسل میں، میں نے تحریک چلائی، اس کے خلاف مظاہرے کئے، چمن تک گیا، واہگہ، بھارت تک گیا، طورخم تک گیا۔ ساری سڑکیں نیٹو سپلائی کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگئیں۔
’’ علامہ صاحب، ملا عمر اس مدرسے سے پڑھے۔ کیسے طالبعلم تھے وہ؟‘‘
مولانا سمیع الحق:اس وقت تو انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون سا طالب علم کیسا ہے اور مستقبل میں کیسا ہوگا۔ عموماً اس کی نیک شہرت تھی، محنتی طالب علم تھا۔ وہ مکمل تعلیم حاصل نہیں کرسکا، صحیح معنوںمیں طالبان رہ گیا،یعنی ڈگری نہیں لی۔
’’ آخری ملاقات کب ہوئی آپ کی ملا عمر سے؟‘‘
مولانا سمیع الحق: ہماری ملاقات بار بار تو نہیں، ایک دو دفعہ ضرور ہوئی۔
’’ 9/11 کے بعد؟‘‘
مولانا سمیع الحق: جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو میں یہاں سے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد لے کر افغانستان گیا تھا کوئٹہ کے راستے سے۔ سلطان سکندر، عرفان صدیقی اور ایسے بہت سے صحافی تھے، میں انہیں لے کر گیا تھا کہ یہاںکا نقشہ دیکھ لیں۔ انہوں نے وہاں جاکر دیکھا تو وہاں تو کایا ہی پلٹ دی تھی۔ عرفان صدیقی پہلے مستقل مخالفت کرتا تھا، اس کے بعد اس نے ملا عمر کے ایسے قصیدے لکھے کئی سال تک، کہ ایسی مخلوق ہم نے دُنیا میں نہیں دیکھی۔
’’ علامہ صاحب،آپ افغان جہاد کے سپورٹر رہے، ابھی بھی ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان تباہ ہوا، پاکستان کی اکانومی تباہ ہوئی، پاکستان کے ایک لاکھ لوگ شہید ہوئے۔‘‘
مولانا سمیع الحق: ان کی وجہ سے نہیں ہوا۔ ہم اس جنگ میں کود پڑے۔ ہم نے خود اپنے آپ کو خراب کیا۔ وہ جانتے، افغانستان جانتا اور امریکا جانتا۔ ہمیں اس آگ میں کودنے کی کیا ضرورت تھی؟ خود افغانستان کی وجہ سے ہم بچ گئے۔
’’ کودنا آپ کس کو کہتے ہیں؟ آپ جنرل حمید گل کے ساتھ خود جہادکی ترغیب دیا کرتے تھے۔‘‘
مولانا سمیع الحق: وہ تو ایک قوم کی آزادی کے لئے ہم لڑرہے تھے۔
’’ ہم کیوںلڑرہے تھے؟‘‘
مولانا سمیع الحق: مسلمان ساری اُمت واحدہ ہے۔ ہمیں کشمیر کے لئے بھی لڑنا ہے۔
’’ مسجد اقصیٰ سے زیادہ اہم تو نہیں ہے؟‘‘
مولانا سمیع الحق: مسجد اقصیٰ کے لئے بھی ہم لڑرہے ہیں۔ پاکستان اور پاکستانی عوام کی سب سے زیادہ مؤثر آواز ہے۔
’’ صرف آواز ہے… لیکن جب افغانی ہمارے اسکولوں پر حملہ کریں گے، پارکوں پر حملہ کریں گے تو…؟‘‘
مولانا سمیع الحق:آپ وہی بات کررہے ہیں، جہاد کرنے والے یہ حملے نہیںکرتے۔ افغان طالبان افغانستان میں ایک جہاد لڑرہے ہیں۔
’’ حملے تو اب بھی ہوتے ہیں۔‘‘
مولانا سمیع الحق: اب حملے کہاں ہوتے ہیں؟ ان سے جب ساری بات ہوئی تو اُنہوں نے کہا کہ کم از کم ان پالیسیوں کو تبدیل کرو، کم از کم اعلان کرو کہ ہم اس جنگ میں امریکا کا ساتھ نہیںدیں گے۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی،ہم آگئے پھر یہاں والوں کو کہا کہ ان کے تو معمولی مطالبے ہیں، آپ کم از کم اعلان کردو کہ ہم اس جنگ میں امریکا کے ساتھ نہیں ہیں۔
’’ آج، 2018ء میں کیا پاکستان طالبان پر اُتنا اثرورسوخ رکھتا ہے،جتنا پہلے رکھتا تھا؟‘‘
مولانا سمیع الحق:پاکستان نہیں رکھتا اہلیت۔ ساری حکومت گویا اپنے سارے احسانات اور قربانیوں پر پانی پھیر چکی ہے۔ ہماری قوم نے ایثار کیا، بھوکے رہے،جانیں قربان کیں، اپنے بچوںکو بھیجا۔ یہ اشرف غنی کے ساتھ اور کرزئی کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ اصل مسئلہ اور اصل فریق تو دو ہیں، امریکا اور طالبان۔ انہوںنے اصل فریق، جو جہاد لڑرہے تھے، قربانیاں دے رہے تھے، افغانستان کا دفاع کررہے تھے،ان کو کھڑا رہنا چاہئے تھا ڈٹ کر ان کے ساتھ۔
’’امریکا، افغانستان کے معاملات میں ہندوستان کو لے آیا ہے، کیا یہ امریکا کے حق میں بہتر ہوگا؟‘‘
مولانا سمیع الحق: امریکا کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔ اگر اس کے حق میں بہتر بھی ہوگا تو پاکستان کے حق میں موت ہے کہ کافر وہاںپر آکر بیٹھ گیا ہے اور جگہ جگہ قونصلیٹ کے نام پر دفاتر ہیں اور مراعات ہیں، سو، ڈیڑھ سو روپے میں وہ مریضوں کو جہاز میں لے کر جارہا ہے۔ ٹکٹ بھی ان کو آدھی قیمت پر دیتا ہے، ویزا بھی ان کو ہوائی اڈوں پر لگاتا ہے۔ رہائش فری، سب مراعات دے رہا ہے انڈیا وہاں کے لوگوں کو۔ یہاں پاکستان میں وہ اپنے زخمیوں کو نہیں لاسکتے۔ آپ انہیں اتنا موقع تو دو کہ وہ اپنے مرنے والے مریضوں کو، زخمیوں کو اُٹھا کر لے جاسکیں۔ وہ یہاں نہیں لاسکتے ہیں۔ ہم نے انہیں کہا بھی کہ امریکا تمہارا اصل ساتھی نہیں ہے۔ تمہارا اصل دفاع یہ لوگ کریں گے، جنہوں نے تمہارے لئے قربانیاں دیں۔
’’ پاکستان پر ہونے والے کئی حملے ایسے ہیں جن کے سہولت کار افغان مہاجرین تھے۔ بے نظیر حملے میں حقانیہ مدرسہ ملوث نہیں تھا۔ صرف وہ لوگ یہاں رُکے تھے۔ آپ کے جتنے انٹرویوز ہوئے بے نظیر کے قتل کے بعد، ان میں آپ سے سوال پوچھا گیا اس حوالے سے، حقانیہ مدرسہ کے حوالے سے تفتیش کی گئی، آپ کا کوئی تعلق نہیں تھا، صرف وہ رُکے تھے یہاں پر آکر۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب ایک بندہ باہر سے آئے گا افغان مہاجرین کے پاس رہے گا اور پھر جاکر مارکیٹ میں بلاسٹ کرے گا تو افغان مہاجرین سے تفتیش تو کی جائے گی ناں سر؟‘‘
مولانا سمیع الحق: اس کی وجہ سے اُن کے لئے مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں۔ اگر ہم افغان مہاجرین کے ساتھ بھی یہ سلوک کریں گے، غازی پکڑا گیا،تو پھر تو وہ مزید دشمن بن جائیں گے۔ وہ ساری محنت جو ہم نے کی اور تیس، چالیس سال مشکلات برداشت کی ہیں، ان پر پانی پھر جائے گا۔ جو سہولت کار ہے، اس کو پکڑنا چاہئے، دُنیا کے سامنے لانا چاہئے۔ اس سہولت کار کو ہمارے سامنے لے آئیں، عدالت نہ لے کر جائیں، میرے سامنے لے آئیں،میںان سب کے سامنے اُن سے بات کروادوں گاکہ تم کیوں مسائل پیدا کررہے تھے۔
’’ کس طرح مسلمان اپنا امیج بہتر کرسکتا ہے؟ کیونکہ جب ہم یورپ جاتے ہیں، امریکا جاتے ہیں، آسٹریلیا، کینیڈا جاتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ ایئرپورٹ پر ہمیں روکا جاتا ہے، وہاں جب ہم پڑھنے جاتے ہیں تو ہمیں کرائے پر رہنے کے لئے گھر نہیں ملتا، فلیٹ نہیں ملتے، داخلے نہیں ملتے۔ ہم آسانی سے گھوم نہیں سکتے، کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ مسلمان اپنا امیج کیسے بہتر کرسکتا ہے؟ کیونکہ ہم مسلمان اُس مذہب کے پیروکار ہیںجو انسانیت کا مذہب ہے۔‘‘

مولانا سمیع الحق: جتنے نام آپ نے لئے، یہ مغربی ممالک ہیں، وہاںیہودونصاریٰ کی حکومتیںہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہوکر وہاںجائیں اور وہ پھولوں کا ہار لاکر ڈالیں گے کہ پاکستانی آگیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی تو ہمارے لئے موت ہے،ا س لئے کہ روس کا قلع قمع کیا، اب امریکا کو بھگانے پر مجبور کیا۔ وہ مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ میرے عزائم اور میرے نیو ورلڈ آرڈر کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔
’’ یہ امیج بہتر نہیں ہوسکتا؟‘‘
مولانا سمیع الحق: ہمارا یہ امیج بہتر ہے۔ کافر سمجھتا ہے کہ یہ ہمارے قابو میں نہیں آئے گا۔
’’ آپ کے ساتھ سیاست میں ہمیشہ دھوکا ہوا۔ اس مرتبہ سینیٹر نہیں بن سکے آپ، کس نے دھوکا کیا آپ کے ساتھ؟‘‘
مولانا سمیع الحق: کسی نے نہیں۔ میں نے تو اُمید ہی نہیں رکھی کہ مجھے کوئی سینیٹر بنادے۔ خود انہوںنے ہی شور مچانا شروع کردیا کہ مولانا کو بھی سینیٹ میں جانا ہے۔
’’ کیا عمران خان صاحب چاہتے تھے کہ آپ سینیٹر بنیں؟‘‘
مولانا سمیع الحق:بالکل چاہتے تھے۔ اس نے اصولوں پر کہا ہے، بار بار ٹی وی پر آکر اس نے کہا ہے۔
’’ آپ عالم ہیں۔میں آپ سے ایک صلاح لینا چاہتا ہوں۔ میرا سوال ایک صلاح کے طور پر ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے ذمہ ایک ڈیوٹی تھی کہ وہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے کشمیر کا مؤقف عالمی دُنیا میں پہنچاناتھا۔ اس کے لئے انہیں ایک بلیک کلر کی لینڈکروزر، چار سیکورٹی گارڈ، دو گاڑیاں آگے، ایک پیچھے اور منسٹر انکلیو میں ایک بنگلہ دیا ہوا تھا۔ اور چیئرمین کمیٹی کی تنخواہ انہیں کوئی ڈھائی لاکھ روپے علیحدہ ملتی تھی۔ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ بطور مسلمان میں آپ سے فتویٰ لینا چاہتا ہوں یا آپ سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جواب لینا چاہتا ہوں کہ ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ ‘‘
مولانا سمیع الحق: یہ تو آپ خود جائزہ لیں اور یہ سوال تو ان سے ہی پوچھنا چاہئے ۔ دوسری بات یہ کہ یہ خدمت ہم کرنا چاہتے ہیں بغیر بنگلوں اور بغیر تنخواہ کے، ہم یہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن امریکا کہتا ہے کہ تم دہشت گرد ہو، ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ ہم کو بدنام کرتا ہے کہ ان کو اندر کرو،یہ جہادی ہے۔ مجھے اجازت دیں،میں پورے ملک کے جہادیوںکو جمع کرتا ہوں۔ پورے ملک کے سارے انڈرگراؤنڈ نکل آئیں گے ان شاء اللہ اور نعرۂ تکبیر کرکے ہم کشمیرپر ہلہ بولتے ہیں۔
’’ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے کبھی مخالفت یا سپورٹ کی افغان جہاد کی؟‘‘
مولانا سمیع الحق: آپ لوگ اینکر ہیں،آپ کی دُنیا پر نظر ہے۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں،میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ ہر شخص کو اپنی قبر میں سونا ہے اور اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔
’’ علامہ صاحب، آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا، جس میں ہمارے بہت سارے بچے شہید ہوئے تھے۔ اسی طرح ملالہ یوسف زئی پر بھی حملہ ہوا، اس کو نوبل انعام بھی دیا گیا اور اسے دُنیا کے بڑے ایوارڈز اور انعامات سے نوازا گیا۔ آرمی پبلک اسکول کی طرح کئی پارکوںاور اسکولوں میں سیکڑوں بچے شہید اور زخمی ہوئے، ان کے لئے کوئی انعام نہیں ہے، لیکن ملالہ یوسف زئی کو خاص طور پر دُنیا میں عالمی شہرت حاصل ہوئی اس حملے کی وجہ سے۔‘‘
مولانا سمیع الحق: ملالہ کو استعمال کیا گیا ہے، ابتدا میں اسے تربیت دی گئی اس کو اسلام کے خلاف استعمال کریں گے۔ یہ تعلیم کی اجازت نہیںدیتے، پردہ رکھواتے ہیں، یہ ساری باتیں اس کے منہ میں پہلے سے ڈال دی گئی تھیں۔ اس کے والدین نے اس کی تربیت اسی انداز میں کی تھی اور مغرب نے اسے استعمال کرکے نوبل انعام بھی دیا، عبدالسلام کو بھی دیا۔ جو سب سے زیادہ نقصان اسلام کو پہنچائے گا، وہ نوبل انعام یافتہ ہوگا۔ ایک بڑا دلچسپ قصہ ہے، طالبان سے مذاکرات میں آنا جانا لگا ہوا تھا، ایک جگہ ہم سب جمع تھے، ہزاروں صحافی موجود تھے اور رش کی وجہ سے خوب ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ریحام خان بھی باہر کھڑی تھیں، اسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ میرے پیچھے پڑگئی۔
’’ ابھی شادی نہیں ہوئی تھی عمران خان سے؟‘‘
مولانا سمیع الحق: نہیں ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ یہ میرے پیچھے پڑگئی،میں جان بچارہا تھا سارے صحافیوں سے اور گاڑی کی طرف جارہا تھا۔ یہ پیچھے سے مجھے بولنے لگی کہ خدا کے لئے ایک بات تو کرلو ناں، کچھ تو کہہ دو مجھے۔ میں نے کہا کہ خدا کیلئے ملالہ نہ بننا کبھی۔ ملالائیں انہوں نے رکھی ہوتی ہیں ہمارے خلاف استعمال کرنے کے لئے۔
’’ مدرسہ حقانیہ کی تعمیر ہورہی ہے، ہم نے آپ کے بچوں کو بھی پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اچھی تعلیم ہورہی ہے۔ کیا یہ جو ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب چاہتے ہیں، مدرسے کی تعلیم بھی ایک جیسی ہو اور یونیورسٹی،اسکول، کالجز کی تعلیم بھی ایک جیسی ہو۔‘‘
مولانا سمیع الحق:میں کہتا ہوںکہ تمہاری باتیں بڑی اچھی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ کالج، یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی صرف انجینئر اور ڈاکٹر نہ بنیں، وہ بھی مسلمان بن کر نکلیں۔ ہمارا مقصد تو بنیادی طور پر عالم بنانا ہوتا ہے، ہر شعبے کے لئے ایک ہی شخص تو نہیں ہوسکتا ناں۔ ایک شخص آپریشن بھی کرے، بلڈنگ بھی بنائے اور انجینئر بھی ہو۔ ان کی فیلڈ بہت بڑی ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث اور اسلامی علوم پورا کریں۔ مجبوری یہ ہے کہ انگریز نے آکر تعلیم کو تقسیم کیا ہے ورنہ ہم چاہتے ہیں کہ تعلیم کی تقسیم نہ ہو۔ ہماری یونیورسٹیاں دارالعلوم ہوں اور دارالعلوم یونیورسٹیاںہوں۔ اسلامی علوم بھی ہمارے بچوں کے لئے اتنا لازم ہے، جتنا ڈاکٹر اور سائنسدان بننا ضروری ہے۔ میں عمران کو کہتا ہوں کہ اُدھر بھی توجہ دو کہ ادھر سے بھی مسلمان نکلیں۔ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں، ہم نے اسلامی مضامین کے ساتھ انگریزی مضامین، سب شامل کئے ہوئے ہیں۔
’’ یہ جو کروڑوں روپے کے فنڈز دیئے جاتے ہیں،یہ صرف حقانیہ کو ہی کیوں دیئے جاتے ہیں؟‘‘
مولانا سمیع الحق: بالکل نہیں دیئے جاتے۔ یہ بھی اچھی بات آپ نے پوچھی ہے۔ حقانیہ کو حکومت نے فنڈ نہیں دیا۔ نہ کے پی کے حکومت نے دیا،نہ عمران خان نے دیا، نہ پرویز خٹک نے دیا، یہ تعمیراتی اور ترقیاتی فنڈ ہوتے ہیں ممبران کے۔ پارلیمنٹ کے ممبران کی فنڈ کی ترقیاتی اسکیمیں ہوتی ہیں۔ میرے والد 70ء سے پارلیمنٹ میں آئے، پھر 85ء میں آئے، پھر 87ء میں آئے۔ میں خود بھی 80ء میں پارلیمنٹ میں آیا۔ 38 سال تک ہم خود ممبر قومی اسمبلی رہے اور ہمارے جو پارلیمانی فنڈ ہوتے تھے، وہ خود ہم اس علاقے میں تقسیم کرتے تھے، اسکول بناتے تھے، سڑکیں بناتے تھے، 38سال میں ہم نے اربوں روپے خرچ کئے ہیں اسی ضلع میں بحیثیت ممبر کے۔ ہمارا جو ایم پی اے ہے اکوڑہ خٹک کا، وہ اتفاق سے پی ٹی آئی کا ہے، اس کے پاس کروڑوں روپے کی اسکیمیں ہیں اور وہ میرا رشتہ دار بھی ہے۔ وہ مجھے ابا جی کہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اسکول کو ترقی دے دیں، کالج کی بلڈنگ بنادیں، میں نے کہا کہ کالج ہم کہاں بناسکتے ہیں تو اس نے کروڑوں روپے کالج کے لئے رکھ دیئے کہ یہ پورا کالج بن جائے گا۔
’’ وہ پیسے آپ کے اکاؤنٹ میں نہیں آئے؟ ‘‘
مولانا سمیع الحق:ایک پیسہ بھی نہیں آیا میرے اکاؤنٹ میں۔ وہ پورا پروجیکٹ گورنمنٹ کررہی ہے۔

 

شوق سب کو ہوتا ہے کہ دوسری شادی کرلوں، مولانا کا دیانتدارانہ اظہارِخیال

مولانا سمیع الحق نے دو شادیاں کی تھیں۔ 2002ء میں ’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام ’’ایک دن جیو کے ساتھ‘‘ میں سہیل وڑائچ نے ان سے اور ان کے صاحبزادے راشد الحق حقانی سے اس موضوع پر سوالات کئے۔ دونوں کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔
سہیل وڑائچ:(مولانا کے صاحبزادے سے) آپ ناراض نہیں ہوئے جب مولانا نے دوسری شادی کی؟
راشد الحق حقانی (بیٹا):نہیں، اس میں ناراض ہونے کی تو کوئی بات ہی نہیں ہے۔ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے۔ ہماری مرضی شامل تھی والدصاحب کے ساتھ۔ الحمدللہ کوئی فرق نہیں پڑا ہماری زندگیوں پر دوسری شادی کی وجہ سے۔ الحمدللہ وہی مساوات ہے اور والد صاحب کی توجہ پہلے کی طرح ہے ہم پر۔
سہیل وڑائچ:(مولاناسمیع الحق سے) پہلی اور دوسری شادی کب کی آپ نے؟
مولانا سمیع الحق: میری پہلی شادی تقریباً 59ء، 60ء میں ہوئی۔ 20،22سال بعد دوسری شادی کی۔ دونوںبیویاں ہیں،الحمدللہ دونوں سے بچے بھی ہیں۔
سہیل وڑائچ: انصاف کرنا مشکل نہیں آج کل دو بیویوں کے درمیان؟
مولانا سمیع الحق: وہ تو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ تم کرنا بھی چاہو تو 100 فیصد انصاف نہیں کرسکتے۔ ایک آیت کا ترجمہ ہے کہ’’ وہ تمہاری استطاعت میں ہیں۔‘‘ پوری کوشش کرنی چاہئے کہ دونوں بیویوں کے ساتھ انصاف ہو۔ لیکن خواتین تو بے چاری محسوس کرتی رہتی ہیں، یہ تو ان کے ساتھ چلتا ہے کہ شاید میرے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔
سہیل وڑائچ: کبھی آپ کی بھی اپنی پہلی یا دوسری بیوی سے دو شادیوں کی وجہ سے لڑائی ہوئی؟
مولانا سمیع الحق: لڑائی تو ہوتی رہتی تھی۔ جب شادی کرلی تو کافی عرصہ چپقلش جاری رہتی تھی۔ کوشش کرتا تھا کہ نارمل ہوجائے۔ بہرحال انسان کوشش کرے تو نارمل ہوجاتا ہے سب۔ پھر اکٹھے رہتے ہیں، پیار محبت سے۔ ہے تو سخت کام۔ دوسری بات یہ کہ شوق سب کو ہوتا ہے کہ دوسری شادی کرلوں۔ بعض آدمی کرنہیں سکتے۔
سہیل وڑائچ: عام تاثر یہ ہے کہ مولانا حضرات یا مذہبی طبقہ اچھا ذوق نہیں رکھتا۔ پسند کے بارے میں ان کا کوئی تصور نہیں ہے؟
مولانا سمیع الحق: