November 26, 2018
دنیا کا پہلا ’’ٹرین ہاسپٹل‘‘

دنیا کا پہلا ’’ٹرین ہاسپٹل‘‘

دُنیا بھر کی حکومتیں اپنے عوام کو زندگی کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کیلئے کوشاں رہتی ہیں۔ کم از کم صاف پانی، علاج معالجہ، تعلیم، رہائش اور روزگار کی فراہمی ان کی ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں لیکن افسوس ہم اپنے ملک میں اگر طب و صحت کی سہولتوں کا جائزہ لیں تو سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ سرکاری اسپتالوں کا جو حال ہے وہ اس حقیقت سے واضح ہو جاتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت اِدھر کا رُخ کرنے سے گریزاں ہوتی ہے کیونکہ وہاں نہ دوائیں ملتی ہیں نہ ہی ڈاکٹرز دستیاب ہوتے ہیں۔ اگر وہ موجود بھی ہوں تو مریضوں کی طویل قطاروں کے باعث ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ تسلّی سے مریضوں کی پوری بات سُن سکیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو دشنام طرازی اور ایک دُوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے فرصت ملے تو وہ عوام کے چیختے چنگھاڑتے مسائل کی جانب توجہ دیں۔ پڑوسی ملک بھارت کے عوام بھی اپنے سیاستدانوں سے مطمئن ہرگز نہیں ہیں لیکن وہاں کی حکومتیں بڑی حد تک عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کیلئے کوشاں رہتی ہیں جس کی ایک مثال ’’لائف لائن ایکسپریس‘‘ ہے۔ ریل کے ڈبّوں میں قائم اور ریل کی پٹریوں پر رواں دواں رہنے والا یہ دُنیا کا پہلا اسپتال ہے جس کی تقلید میں دُنیا کے دیگر ملکوں میں بھی عوام کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ایسے گشتی اسپتال قائم کئے جا رہے ہیں۔
16 ؍جولائی 1991ء کو ٹرین میں قائم دُنیا کا پہلا اسپتال، ممبئی کے چھترپتی شیواجی ٹرمینس سے چھک چھک کرتا اپنے پہلے سفر پر روانہ ہوا تھا۔ اب 27 سال بعد بھی ’’لائف لائن ایکسپریس‘‘ جسے ’’جیون ریکھا ایکسپریس‘‘ بھی کہتے ہیں، بھارت کے محروم طبقات کو مختلف اقسام کی طبّی خدمات فراہم کر رہی ہے جن میں پیچیدہ قسم کی سرجریز سے لے کر کینسر کا مہنگا علاج بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کا آغاز ایک بہت ہی آسان تخیل کے ساتھ ہوا تھا کہ شہر کے بڑے اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی خدمات اور طبّی امداد عام لوگوں تک پہنچائی جائیں، خاص طور پر ان لوگوں تک جو بھارت کے دُور دراز دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، جنہیں جدید طبّی سہولتوں نے چھوا تک نہیں تھا اور جو ناکافی طبّی رسائی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے تھے یا زندگی بھر کیلئے معذور ہو جاتے تھے۔ اس خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے ممبئی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’’امپیکٹ انڈیا فائونڈیشن‘‘ نے وزارت ریلوے کو اپنی تجویز پیش کی۔ کچھ ہی دِنوں بعد انڈین ریلویز اور IIF نے افہام و تفہیم کی ایک یادداشت پر دستخط کئے جس کے تحت بھارتی ریلوے نے تین کوچز پر مشتمل ٹرین، پانی و بجلی کی فراہمی اور اس کی دیکھ بھال کی ذمے داری سنبھالنے سے اتفاق کیا جبکہ غیر سرکاری تنظیم سے کہا گیا کہ وہ اس گشتی ٹرین کے ذریعے دُور افتادہ عوام کو طبّی سہولتیں فراہم کرے۔ 2007ء میں اس ٹرین میں مزید پانچ نئے کوچز کا اضافہ کیا گیا۔
لائف لائن ایکسپریس گذشتہ 27سال سے باقاعدگی سے بھارت کے مختلف علاقوں میں عارضی طور پر قیام کر کے طبّی منصوبے نمٹاتی رہی ہے جن میں طبّی ماہرین سے مفت مشورے، علاج اور مختلف امراض کی سرجریز شامل ہیں۔ ٹرین کے کسی مقام پر پہنچنے سے پہلے ایک میڈیکل ٹیم اس علاقے کا دورہ کرتی ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہاں کے مقامی افراد میں طب و صحت سے متعلق کیا کیا مسائل اور کیا ضروریات ہیں؟ اگر لوگ معذور ہیں تو کس قسم کی معذوری ہے؟ مقامی لوگوں کی مجموعی صحت کیسی ہے اور کیا سہولتیں دستیاب ہیں؟ اس ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد یہ ٹیم مقامی طبّی مراکز یا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے ساتھ مل کر ان لوگوں کی فہرست تیار کرتی ہے جنہیں سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ اس ہاسپٹل ٹرین نے ابتدا میں موتیا، کٹے پھٹے ہونٹ اور تالو اور پولیو کے علاج کی فراہمی شروع کی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے پلاسٹک سرجریز، ڈینٹل سرجریز، مرگی میں مبتلا، آگ سے جھلسے افراد اور کینسر کے مریضوں کا علاج بھی شروع کر دیا۔ علاوہ ازیں مختلف معذوریوں بالخصوص آنکھ، کان، ناک، گلے اور ہاتھ پائوں کی معذوری میں مبتلا افراد کی زندگی بہتر کرنے کی خدمات کی فراہمی بھی اس کے مشن کا ایک حصہ بن گئی۔
اس وقت لائف لائن ایکسپریس کا ہر پروجیکٹ تین سے پانچ ہفتے پر محیط ہوتا ہے اور اس سے تقریباً5 ہزار افراد کو مستفید کیا جاتا ہے اور اس کے لئے کمیونٹی کے افراد تعاون کرتے ہیں۔ ہر اس مقام پر جہاں ٹرین کھڑی ہوتی ہے، مقامی دیہی آبادی اور غیر سرکاری تنظیمیں مختلف اقسام کی امداد پیش کرتی ہیں جس میں کھانے کی فراہمی سے لے کر کپڑے دھونے اور لانڈری کی خدمات، یہاں تک کہ مجمع کو کنٹرول کرنے کی ذمے داری بھی وہ نبھاتے ہیں۔ قطار میں کھڑے صبر کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کرنے والے اور بھیڑ بھاڑ میں دھکم پیل کرنے والے، دونوں قسم کے ہجوم دیکھنے میں آتے ہیں۔ جن مریضوں کے آپریشن کئے جاتے ہیں انہیں اور ان کے ساتھ آنے والے تیماردار رشتے داروں کو بھی مقامی افراد اور تنظیمیں آپریشن کے بعد عارضی رہائش فراہم کرتی ہیں۔
’’لائف لائن ایکسپریس‘‘ جب کسی اسٹیشن پر پڑائو ڈالتی ہے اور وہاں میڈیکل کیمپس قائم کئے جاتے ہیں تو اس میں غریب دیہی آبادی، مقامی ڈاکٹرز اور اسکولوں کے طلبہ کو آگاہی کے پروگراموں سے بھی فیضیاب کیا جاتا ہے۔ دیہی علاقوں کے دور دراز مقامات تک سفر کرنے کے علاوہ یہ ٹرین ملک کے طول و عرض میں قدرتی یا انسانی ساختہ آفات سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کرتی ہے۔ سرکاری اور نجی تنظیموں کے تعاون سے لائف لائن ایکسپریس کے منصوبوں سے بھارت کے دیہی علاقوں کے تقریباً 10لاکھ سے زیادہ غریب افراد کا علاج کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں دنیا بھر سے تقریباً دو لاکھ پروفیشنل طبّی ماہرین نے بھی پسماندہ آبادی کو طبّی سہولتوں کی فراہمی میں اپنی خدمات پیش کی ہیں۔
آج بھی ’’لائف لائن ایکسپریس‘‘ جب کسی جگہ کیمپنگ کے لیے پہنچتی ہے تو سینکڑوں کی تعداد میں پرامید مریض جن میں سے کئی کے ہاتھوں میں ڈاکٹرز کیلئے پھول اور چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں پھل اور سبزیاں ہوتی ہیں، وہاں آتے ہیں۔ اس خصوصی ٹرین کے ایئرکنڈیشنڈ کوچز میں جدید ترین آپریشن تھیٹرز، پیتھالوجی لیباریٹری، بریسٹ کینسر کی تشخیص کیلئے میمو گرافی یونٹ، مرگی کے علاج کا یونٹ، امراض نسواں کیلئے گائنا کولوجی ایگزامنیشن روم، ڈینٹل یونٹ، آنکھوں کے معائنے کا کمرہ، ایکسرے یونٹ، فارمیسی، ڈاکٹروں سے مشورے کیلئے کنسلٹیشن کیوبیکلز، مریضوں کے متعدد وارڈز، ٹرین کے اندر بجلی پیدا کرنے والے جنریٹرز اور ضروری آلات اور سامان سے آراستہ طبّی عملے کے کھانے، پینے اور رہنے کی جگہیں بھی بنی ہیں۔ علاوہ ازیں لائف لائن ایکسپریس میں ’’وائی فائی‘‘ کی سہولت بھی ہے جس سے میٹروپولیٹن شہروں میں موجود ڈاکٹرز اور طبّی ماہرین مریضوں کی تشخیصی رپورٹیں اور دیگر تصاویر آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔ ٹرین میں ایک بڑے ایل سی ڈی ڈسپلے کے ساتھ آڈیٹوریم، پبلک ایڈریس سسٹم اور کلوز سرکٹ ٹی وی کی سہولت بھی ہے۔
2016ء میں شوخ رنگوں میں رنگی ہوئی اس ٹرین میں انڈین ریلویز کی جانب سے مزید دو نئے کوچز کا اضافہ کیا گیا جو کینسر کی تشخیص اور فیملی پلاننگ کیلئے مخصوص ہیں۔ دسمبر 2016ء میں مدھیہ پردیش کے ایک گائوں پیپاری کلا سے تعلق رکھنے والا ہیرا لال لودھی لائف لائن ایکسپریس کا وہ پہلا مریض تھا جس کی کینسر کے سلسلے میں سرجری کی گئی تھی۔ بھارت کی لاکھوں، کروڑوں کی دیہی آبادی کی زندگی کیلئے یہ ٹرین کتنی اہمیت کی حامل ہے، اس کی ایک جھلک ہیرالال کی کہانی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ 52سالہ ہیرالال سڑک کے کنارے چائے کا ایک کھوکھا چلاتا تھا جس سے اسے ماہانہ 700روپے کی آمدنی ہوتی تھی۔ اچانک اس کے منہ میں ایک چھوٹا سا زخم بنا، پھر اس نے گومڑے کی شکل اختیار کر لی اور اس کے جبڑے اور گال بدہئیت ہو گئے۔ اسے کوئی چیز نگلنے اور بات کرنے میں بھی بہت دشواری ہونے لگی تھی۔ جب اس نے پہلی بار یہ سنا کہ کوئی ایسی ٹرین بھی ہے جس میں ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کا مفت علاج کرتے ہیں اور دوائیں بھی دیتے ہیں تو اسے یقین نہ آیا۔ اس وقت تک وہ جبل پور میں اپنے علاج پر 20ہزار روپے خرچ کر چکا تھا اور گائوں میں اپنے جاننے والوں سے مزید قرض لے رہا تھا کیونکہ ڈاکٹرز مزید رقم کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لہٰذا جب وہ ستنا کے مقام پر ٹھہری ہوئی لائف لائن ایکسپریس تک پہنچا اور اس میں موجود کینسر کے سرجنز نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن کے ذریعے اس کی رسولی نکال دی اور اس علاج کیلئے اس سے کوئی رقم بھی نہ لی تو اس کے پاس اظہار تشکّر کیلئے الفاظ نہیں تھے۔
غریب، بیمار، دیہاتی افراد کی زندگی میں انقلابی تبدیلی لانے والی لائف لائن ایکسپریس کی ایک اور کہانی ڈاکٹر ترل نگدا سناتے ہیں۔ وہ ممبئی سے تعلق رکھتے ہیں اور بچّوں کے آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ گزشتہ 18برسوں سے وہ اس ٹرین میں رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دن انہیں شادی کا ایک دعوت نامہ موصول ہوا جو ایک ایسی بچّی کے والد کی طرف سے انہیں بھیجا گیا تھا جس کا بہت پہلے انہوں نے ٹرین پر علاج کیا تھا۔ ’’اس وقت وہ بہت چھوٹی سی بچّی تھی جب پہلی بار میرے پاس آئی تھی۔ اس کے دونوں پائوں میں پیدائشی نقص Bilateral Club Foot)) تھا اور وہ الٹی طرف مڑے ہوئے تھے۔ میں نے ان کے والد کو بتایا کہ علاج کے بعد وہ اسکول جانے کے قابل ہو جائے گی لیکن انہیں اس کی شادی کی زیادہ فکر تھی کہ ایسی حالت میں اس کی شادی کیسے ہو گی۔ میں نے اس کے پائوں کا آپریشن کر کے دونوں پائوں کو سیدھا کر دیا۔ اس وقت وہ کالج میں پڑھ رہی ہے جہاں اس کا جیون ساتھی بھی اسے مل گیا ہے۔ اب اس کی شادی ہونے والی ہے اور اس کے والد نے مجھے خاص طور پر شرکت کی دعوت دی ہے۔ یہ ٹرین غریب دیہاتیوں کو صرف علاج معالجے کی سہولتیں ہی فراہم نہیں کر رہی بلکہ ان کی زندگی بھی تبدیل کر رہی ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ اس ٹرین نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اور دنیا کے دیگر ممالک بھی اس خیال کی پیروی کرتے ہوئے اس قسم کی ٹرین اور بوٹ اسپتال بنا رہے ہیں۔ چین میں اب اس قسم کی چار ٹرینیں طبّی خدمات فراہم کر رہی ہیں جبکہ جنوبی افریقہ میں دو ٹرینیں دور افتادہ علاقوں میں علاج کے منتظر افراد تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں چونکہ دریا زیادہ ہیں اور وہاں بڑی کشتیاں اور اسٹیمرز بھی ٹرانسپورٹ کا اہم ذریعہ سمجھے جاتے ہیں لہٰذا بڑی کشتیوں میں قائم اسپتال بنگلہ دیش اور کمبوڈیا میں طبّی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ بھارت میں مہاراشٹرا کی حکومت اپنی ریاست کیلئے ایک الگ لائف لائن ایکسپریس چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ لائف لائن نے بھارت میں ریل سے متعلق دیگر منصوبوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔ 2007ء میں بھارتی حکومت نے ’’ریڈ ربن ایکسپریس‘‘ کا آغاز کیا تھا تاکہ لوگوں میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے بارے میں شعور بیدار ہو۔ ایک ’’سائنس ایکسپریس‘‘ ٹرین بھی پورے بھارت میں چلائی گئی جس کا مقصد طلبہ میں سائنسی علوم سے دلچسپی اور اس کے رجحان کو فروغ دینا تھا۔ ’’لائف لائن ایکسپریس‘‘حقیقی معنوں میں اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے آج بھی ہزاروں غریب مریضوں کے دروازے پر پہنچ رہی ہے۔ اب یہ خود اپنا بلڈ بینک بنانے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے اور آپریشن کے بعد بھی مریضوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ ٹاٹا میموریل اسپتال کے تعاون سے چھاتی، منہ اور سروائیکل کینسر میں مبتلا دیہاتوں میں رہنے والے غریب بھارتیوں کے علاج کا بیڑا بھی اٹھانے والی ہے۔