November 26, 2018
شاہی باورچی خانے سے ہزاروں افراد کو کھانا ملتا تھا - قسط  :  16

شاہی باورچی خانے سے ہزاروں افراد کو کھانا ملتا تھا - قسط : 16

حیدرآباد دکن کے عروج و زوال کی داستان

برطانوی اخبار ’’دی ٹائمز‘‘ نے اپنی 19 جولائی 1957ء کی اشاعت میں اس موضوع پر ایک خصوصی مضمون میں لکھا:
’’ہندوستانی شہزادوں، راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کی حیثیت بالکل ختم ہو جائے گی اور وہ اب عام شہری ہو جائیں گے۔ ان کی دولت و جائداد پر انواع و اقسام کے بھاری ٹیکس عائد کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان قوانین کے نافذ ہونے کے بعد ان کی بیشتر دولت ہندوستانی حکومت کے پاس چلی جائے گی۔ گو کہ کچھ شہزادے اور سابق حکمراں طبقے کے کچھ افراد اب بھی عوام میں مقبول ہیں لیکن یہ مقبولیت اور حمایت بھی ان کا پہلے والا مقام برقرار رکھنے میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔‘‘
نظام عثمان کی حیثیت، ان کی دولت و جائداد کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ سب چیزیں دھیرے دھیرے سکڑ رہی تھیں، ان کے ہاتھ سے نکل رہی تھیں۔ نظام نے شاید اندیشہ محسوس کر لیا تھا کہ وہ ہر چیز سے مکمل طور پر ہی محروم نہ ہو جائیں۔ اسی لئے انہوں نے ڈیڑھ ہزار یتیم لڑکے لڑکیوں کو اپنی کفالت میں لے کر اور انہیں اپنے محلوں میں پناہ دے کر گویا اپنی ایک چھوٹی سی نئی حکومت تخلیق کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس نئی ’’رعایا‘‘ پر ان کے اس قدر احسانات تھے کہ وہ ان کے لئے جان دے سکتی تھی۔ اب نظام عثمان کو ایسے ہی وفاداروں کی ضرورت تھی۔ ان یتیم بچوں کو جمع کرنے کیلئے نظام عثمان کی طرف سے کئی دن تک مقامی اخبارات میں اشتہار شائع ہوتے رہے کہ کوئی بھی یتیم، بے گھر، بے در، بے یار و مددگار لڑکا لڑکی اگر ان کی پناہ میں آنا چاہے تو ان کے متعلقہ اسٹاف سے رابطہ کرے۔ یتیموں کے علاوہ ہزاروں والدین نے بھی ان سے رابطہ کیا کہ وہ ان کے بچوں کو اپنی کفالت میں لے لیں۔ ان میں سے زیادہ تر بچے نظام کے اپنے محلوں وغیرہ کے عرب محافظوں کے تھے۔
راتوں رات تقریباً 1500بچوں کا انتخاب عمل میں آ گیا جنہیں نظام عثمان نے اپنی پناہ اور کفالت میں لے لیا۔ یہ بچّے صرف ان کی وراثت میں دعویدار نہیں ہو سکتے تھے، باقی تمام حقوق انہیں اولاد جیسے ہی حاصل تھے۔ ان کے قیام، طعام، تعلیم، تمام ضروریات اور علاج معالجے کی ذمے داری نظام نے لی تھی۔ انہیں ’’خانہ زاد‘‘ کا نام دیا گیا۔ نظام اب بھی دربار لگاتے۔ خانہ زاد اس میں حاضر ہوتے۔ نظام ان کیلئے مختلف فرمان جاری کرتے۔ بعض اوقات وہ سگریٹ کا خالی پیکٹ پھاڑ کر اس پر فرمان لکھ دیتے۔ ان میں سے جن کی شادی کی نوبت آتی، نظام اس تقریب میں شرکت کرتے۔ انہیں اپنے مشوروں سے نوازتے۔ ان کے جھگڑے ختم کراتے۔ نظام کی موجودگی میں اگر ان میں سے کسی کو چھینک بھی آ جاتی تو نظام اس کیلئے شہر کے بہترین ڈاکٹر بلوا لیتے۔
شاہی گیراج میں سے بہت سی فورڈ، فیٹ، ہمبر اور ایمبسیڈر کاریں خانہ زادوں کیلئے مخصوص تھیں۔ شاہی باورچی خانوں سے روزانہ ہزاروں افراد کے لئے انواع و اقسام کے پچاسوں کھانے جاتے تھے۔ ان میں خانہ زادوں کے کنبے، کنیزیں، درباریوں اور نہ جانے کن کن لوگوں کے گھرانے شامل تھے۔ کھانے کی مقدار اور معیار کا تعین، افراد کی تعداد اور ان کے مقام و مرتبے کے اعتبار سے ہوتا تھا۔ بعض لوگوں کو تو ان کی خواہش پر شاہی مطب سے طاقت بخش گولیاں بھی بھجوائی جاتیں جو پسے ہوئے باداموں، دیگر مغزیات اور افیم سے بنائی جاتی تھیں۔ بعض لوگوں کو ان کی فرمائش پر وہسکی اور برانڈی کے پیگ بھی بھجوائے جاتے۔ نظام کے زیرکفالت افراد میں سے بعض آوارہ گرد، خانہ بدوش اور بھکاری ہوا کرتے تھے مگر اب وہ آراستہ پیراستہ کمروں میں رہ رہے تھے، اچھا کھا رہے تھے، اچھا پہن رہے تھے اور نظام نے ان میں سے بعض کی شادیاں بھی کرا دی تھیں۔
بعض اوقات محل میں کوئی چیز ایک جگہ سے اُٹھا کر دُوسری جگہ رکھنے کے لئے بھی نظام فرمان جاری کرتے۔ بعض اوقات وہ کسی کی شادی کا فرمان جاری کرتے۔ کبھی وہ برآمدے میں بیٹھے ہوتے تو برآمدے کے ستون پر ہی اپنا فرمان لکھ دیتے۔ ایسے موقعوں پر ایک بکری بھی ان کے قریب بیٹھی ہوتی۔ ایک بار جمعہ کی نماز سے واپس آتے ہوئے یہ بکری نظام کی گاڑی سے ٹکرا کر زخمی ہوگئی تھی۔ نظام اسے اُٹھوا کر محل میں لے آئے تھے۔ شہر کے بہترین حکیم اور ڈاکٹر ایک عرصے تک اس کا علاج کرتے رہے۔ اکثر شام کو کنگ کوٹھی کے دربار میں خانہ زادوں کو جمع کر کے نظام عثمان ان کے سامنے تقریر کرتے۔ اپنی تقریروں میں وہ انہیں سخت محنت کرنے، چالاک ہوشیار اور شاطر بننے کے علاوہ متحد رہنے کی بار بار تلقین کرتے۔
منصور علی نامی ایک عمر رسیدہ شخص تین چار سال پہلے تک بھی کنگ کوٹھی کے سامنے، سڑک کے دُوسری طرف، سائیکلیں کرائے پر دینے کی ایک دُکان چلا رہا تھا۔ وہ 18 سال کی عمر میں ’’خانہ زاد‘‘ بنا تھا۔ اس کے باپ کو پہلی نوکری محل میں ہی باڈی گارڈ کے طور پر ملی تھی مگر پھر وہ بہت بوڑھا ہوگیا اور باڈی گارڈ کے طور پر فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہا تو اس کی پنشن مقرر کر کے اس کے بیٹے کو خانہ زاد بنا لیا گیا۔ خانہ زاد کے طور پر منصور علی کے ذمے صرف یہ کام تھا کہ وہ روزانہ رات کو دو گھنٹے تک نظام کے پائوں سہلاتا، حتیٰ کہ وہ سو جاتے۔
منصور علی بتاتا ہے کہ نظام کی خواب گاہ معمولی اور عام سی تھی۔ ان کی چارپائی میں کھٹمل تھے۔ منصور بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ نظام کو اپنے حلیے، اپنے عیش و آرام اور رہن سہن کی قطعی کوئی فکر نہیں تھی لیکن ان کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی رعایا خوش و خرم رہے اور آرام کی زندگی گزارے۔ وہ رعایا جو اب ان کی رعایا نہیں رہی تھی۔ منصور علی آج بھی نہایت عقیدت سے نظام عثمان کا ذکر کرتا تھا اور کہتا تھا کہ، خدا کے بعد وہی ہمارے سب کچھ تھے۔
کنگ کوٹھی نامی محل برسوں سے دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کہنہ سال اور خستہ حال دکھائی دیتا ہے لیکن آج بھی اس کی وسعت اور کمروں کی تعداد دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ نظام اپنے انتقال تک ایسے کئی محلات کا نظام کیسے چلاتے رہے۔ یہ کمرے ساز و سامان کے انباروں سے بھرے پڑے ہیں لیکن گرد کی تہوں تلے دبا یہ ساز و سامان آج کاٹھ کباڑ دکھائی دیتا ہے۔ اس میں دُنیا بھر کی چیزیں شامل ہیں۔ ہزاروں گلاس، ہزاروں پلیٹیں، دُوسری کراکری اور کٹلری، پرانی میزیں، محل کے اسکول کی ہزاروں سیاہی کی دواتیں، کتابیں، کاپیاں، کھلونے، تیل کے لیمپ، دوائوں کی بوتلیں، آئینے، ہیٹ اسٹینڈ، وردیاں، ڈانسنگ شوز، سلیپر، چابیوں کے گچھے، ٹینس کے ریکٹ، پچاسوں صندوق جو ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے انہیں کبھی نہیں کھولا گیا۔ رول کئے ہوئے پچاسوں سالخوردہ قالین اور نہ جانے کیا کچھ ان کمروں میں بھرا پڑا ہے۔ بیئر اور شیمپین کی لاتعداد خالی بوتلیں تک موجود ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی چیز باہر نہیں پھینکی جاتی تھی۔
اچھے دنوں میں کبھی اچانک نظام عثمان کا موڈ بن جاتا تھا کہ رامپور کا چکر لگا لیں تو تمام بیویوں اور ملازمین وغیرہ کے لائو لشکر سمیت روانہ ہو جاتے تھے۔ ایسے موقع پر وہ کہا کرتے تھے ’’بیچاری عورتوں کو تو کہیں جانے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ چلو ذرا انہیں گھما لائیں۔‘‘
لیکن 1936ء کے بعد سے نظام کہیں سفر پر نہیں گئے تھے۔ 1952ء میں نہرو نے انہیں گورنروں اور کالعدم ریاستوں کے سابق سربراہوں کی ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ نظام اس کانفرنس میں شرکت سے گریزاں تھے۔ پھر انہوں نے اس شرط پر آنے کی ہامی بھری کہ حکومت انہیں اور ان کے ساتھ آنے والے افراد کو لانے کیلئے تین جہاز بھیجے۔ نہرو نے ان کی یہ فرمائش پوری کر دی۔ ان کے ساتھ جانے والے افراد میں ان کی 15 بیویاں، 10 بچّے اور 56 دیگر افراد تھے جن میں ڈاکٹر، حکیم، نرسیں، نوکر چاکر اور حجام تک شامل تھے۔
اُدھر لندن میں نظام عثمان کے پوتے اور آٹھویں نامزد نظام میر مکرم جاہ تعلیم اور فوجی تربیت مکمل کر چکے تھے۔ انہیں برطانیہ کی رائل آرمی کی انجینئرنگ کور میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر کمیشن مل چکا تھا۔ وہ 24 سال کے ہو چکے تھے اور نظام عثمان کے خیال میں اب ان کی شادی ہو جانی چاہئے تھی۔ مکرم جاہ کی کبھی براہ راست یا رُوبرو نظام عثمان سے اس موضوع پر تو کیا، کسی بھی موضوع پر بات چیت نہیں ہوتی تھی لیکن اب نظام عثمان تواتر سے انہیں لڑکیوں کی تصویریں بھجوانے لگے تھے کہ وہ ان میں سے کسی کو شادی کیلئے پسند کر لیں۔ عموماً یہ لڑکیاں موٹی موٹی اور گول مٹول ہوتی تھیں۔ مکرم جاہ ان تصویروں کو نشانے بازی کیلئے استعمال کرتے اور جب ان میں گولیوں سے سوراخ ہو جاتے تو وہ یہ تصویریں اپنے دادا کو واپس بھجوا دیتے۔
1958ء میں مکرم جاہ استنبول میں چھٹیاں گزار رہے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک 21سالہ خوبصورت ترک لڑکی سے ہوئی جو ایک ریسرچ کیمسٹ کی بیٹی تھی اور لندن میں تعلیم حاصل کر چکی تھی۔ اس کی فیملی خلیج باسفورس کے قریب پرنس آئی لینڈ پر رہتی تھی جو امراء کا علاقہ تھا۔ کچھ عرصہ پہلے وہ انٹیریئر ڈیزائننگ کی تعلیم حاصل کرنے اٹلی کے شہر فلورنس گئی تھی لیکن اطالوی زبان میں تعلیم حاصل کرنا اسے مشکل لگا تھا، اس لئے اب اس نے اپنا تبادلہ لندن اسکول آف آرکی ٹیکچر میں کرا لیا تھا۔ ان دنوں وہ بھی چھٹیاں گزارنے استنبول آئی ہوئی تھی۔ اس کا نام عذرا برجن تھا۔
چند ہی دنوں میں ان کے درمیان ایسا دُھواں دھار عشق پروان چڑھا کہ انگلینڈ واپس پہنچتے ہی انہوں نے خفیہ شادی کر لی جو زیادہ دن خفیہ نہ رہ سکی۔ نظام عثمان کو پتا چلا تو غصے سے ان کا برا حال ہوگیا۔ دُرِ شہوار نے بھی عجلت اور رازداری سے ہونے والی اس شادی پر ناک بھوں چڑھائی۔ مکرم جاہ کے ہندوستانی دوستوں کو اس کی بیوی بہت اچھی لگی۔ عذرا نے ساڑھیاں باندھنا، کھڑے دوپٹے لینا اور ہندوستانی طور طریقے بہت جلد سیکھ لئے۔ عذرا کو فلاحی کاموں سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ حیدرآباد کے علاقے ’’چار مینار‘‘ میں ان کا قائم کردہ ایک اسپتال اب بھی موجود ہے۔
1960ء میں عذرا کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے عظمت رکھا۔ 62ء میں وہ ایک بیٹی کی ماں بنیں جس کا نام شیخ یار رکھا گیا۔ اب عذرا جاہ نے حیدرآباد میں اپنا الگ محل بنانے کا فیصلہ کیا۔ حیدرآباد کے نواحی علاقے میں 400 ایکڑ پر ’’شیران پیلس‘‘ کے نام سے یہ محل تیار ہوا۔ اس کا نقشہ اور ڈیزائن عذرا نے خود بنایا تھا۔ (جاری ہے)

 

ایک واقعہ جو کسی فلمی سین سے کم نہیں

مکرم جاہ ویک اینڈ گزارنے اکثر اپنی چچی نیلوفر کے پاس چلے جاتے تھے جو معظم جاہ سے طلاق لے کر پیرس آ کر رہنے لگی تھیں۔ مکرم جاہ کی والدہ دُرِ شہوار کی طرح نیلوفر بھی انہیں ڈسپلن کا عادی بنانے کی کوشش کرتی تھیں۔ اگر مکرم جاہ رات کو بہت دیر سے گھر آتے تھے تو انہیں بیڈروم کے بجائے باتھ روم کے ٹب میں تکیہ لے کر سونا پڑتا تھا۔ تاہم نیلوفر مکرم کو بیٹوں کی طرح سمجھتی تھیں۔ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ نیلوفر نے مکرم کو عملی زندگی کی سختیوں سے روشناس کرانے کیلئے انہیں ایک نائٹ کلب میں معمولی سی نوکری دلا دی تھی۔ مکرم کو وہاں اپنے شاہانہ پس منظر کو بھول کر ایسے گاہکوں سے نمٹنا ہوتا تھا جو شراب کے نشے میں دُھت ہو کر ہنگامہ یا بدتمیزی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
مکرم یہ کام بہ خوشی کرتے تھے۔ وہ کچھ زیادہ دراز قد یا جسیم نہیں تھے لیکن مضبوط اور سخت جان ضرور تھے۔ فوجی تربیت نے انہیں مزید سخت جان بنا دیا تھا۔ ایک بار وہ رات کو دیر سے گھر آ رہے تھے تو ایک گلی میں دو الجزائری غنڈوں نے انہیں لوٹنے کی کوشش کی تو انہوں نے ایک کو اٹھا کر سڑک پر پٹخ دیا اور دوسرے کو ایک دکان کی شیشے کی دیوار کی طرف اُچھال دیا۔ وہ شیشہ توڑتا ہوا اندر جا گرا۔
دوسرے روز مکرم نے مسرت بھرے لہجے میں اپنے آسٹریلوی ڈاکٹر دوست کو بتایا۔ ’’اگر کوئی اس واقعے کی فلمبندی کر لیتا تو اچھا خاصا فلمی سین ہو جاتا۔‘‘
مکرم جاہ کسی جیپ کے نیچے لیٹ کر اُسے پیروں پر اُٹھا سکتے تھے۔ آرمی کی سخت ٹریننگ انہوں نے بڑی آسانی اور خوشی سے مکمل کی۔