November 26, 2018
وہ ’’سپلی منٹس‘‘ جو خود ڈاکٹرز استعمال کرتے ہیں!

وہ ’’سپلی منٹس‘‘ جو خود ڈاکٹرز استعمال کرتے ہیں!

برطانیہ میں جتنے بالغ افراد ہیں، ان میں سے تقریباً آدھے وٹامنز اور منرلز پر مشتمل سپلی منٹس استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود دوائوں کی افادیت جانچنے کیلئے برطانوی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی ایک کمیٹی کے سابق مشیر ڈاکٹر پائول کلیٹن کا دعویٰ ہے کہ اس قسم کی 90فیصد پروڈکٹس بے اثر ہوتی ہیں اور ان سے کوئی قابل قدر فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ درحقیقت عام فہم نظریہ تو یہ ہے کہ آپ جسم کے لئے مطلوبہ غذایتیں غذائوں سے حاصل کریں نہ کہ فوڈ سپلی منٹس سے اور اس کے لئے آپ کو صحت بخش خوراک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ تاہم جو لوگ کسی بھی وجہ سے اس قسم کی غذائیں استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں، انہیں کس قسم کی سپلی منٹس لینی چاہئیں، یہ معلوم کرنے کے لئے ایک برطانوی روزنامے نے طب کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین سے یہ پوچھا تھا کہ وہ کون سی سپلی منٹس لیتے ہیں اور کیوں؟ ان کے جوابات سے قارئین اخبار جہاں بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔
درد کیلئے ’’کولا جن‘‘
45سالہ پروفیسر ٹونی کو چار لندن برج ہاسپٹل میں کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں دو چار سال سے کولیسٹرول کم کرنے والی اسٹیٹن دوائیں لے رہا تھا جس سے مجھ میں Tendonitisکی شکایت پیدا ہو گئی اور اس کی وجہ سے پائوں کے اردگرد سوزش ہونے لگی اور درد بڑھ گیا۔ میرے جی پی نے مجھے کہا کہ اسٹیٹن چھوڑ دو جس سے مجھے فائدہ ہوا اور اب میں غذا سے اپنی حالت کو کنٹرول کرتا ہوں۔ میں کولاجن کا ایک سپلی منٹ بھی لیتا ہوں۔ یہ قدرتی پروٹین ہے جو نسیج (Tendon) میں پائے جاتے ہیں۔ کولاجن کا سپلی منٹ نسیج کی تشکیل میں معاونت کرتا ہے جس سے درد میں کمی آتی ہے۔ میں 1200ملی گرام کے دو کولاجن سپلی منٹس روزانہ استعمال کرتا ہوں۔ اس سے واقعی فائدہ ہوا ہے اور دو ہفتے کے استعمال سے میرا درد غائب ہو چکا ہے۔‘‘
بریسٹ کینسر
سے بچنے کیلئے وٹامن D
51سالہ ڈاکٹر این رگ لندن برج ہاسپٹل میں کنسلٹنٹ اونکولوجسٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’’صحت مند جسم کو معمول کے مطابق کام کرنے کیلئے وٹامن Dکی ضرورت ہوتی ہے لیکن میں اس وٹامن کا سپلی منٹ اس وجہ سے لیتی ہوں کہ اس کی کم تر سطح بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ اگرچہ اس کا سبب معلوم نہیں ہو سکا ہے لیکن ایک نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وٹامن Dچھاتی کے نارمل خلیات کی افزائش کو کنٹرول کرنے میں نہ صرف مدد دیتا ہے بلکہ چھاتی کے سرطانی خلیات کی افزائش بھی روک دیتا ہے۔ ہمارا جسم سورج کی روشنی سے اس وقت وٹامن Dتخلیق کرتا ہے جب ہم باہر ہوتے ہیں اور دھوپ ہماری جلد پر براہ راست پڑتی ہے۔ لیکن جہاں دھوپ زیادہ نہ ہو اور لوگ سن اسکرین زیادہ استعمال کر رہے ہوں وہاں اس وٹامن کی کمی عین ممکن ہے۔ میں روزانہ اس وٹامن کی یومیہ سفارش کردہ مقدار 10ملی سینٹی گرام استعمال کرتی ہوں۔ (وٹامن D سالمن اور میکریل جیسی تیل چھوڑنے والی مچھلیوں سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن انہیں زیادہ مقدار میں کھانا ہو گا تاکہ وٹامن کی سفارش کردہ مقدار آپ کو مل سکے) وٹامن Dکے استعمال میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ ضرورت سے زیادہ خوراک نہ لی جائے ورنہ گردے میں پتھری بننے کا احتمال ہو سکتا ہے۔ یہ وٹامن خوراک سے کیلشیم جذب کرتا ہے اور یہ کیلشیم پتھری میںتبدیل ہو سکتی ہے۔
پیشاب کے انفیکشن سے بچنے کیلئے وٹامن"C"
57سالہ پروفیسر کرسٹوفر ایڈن، گلڈ فورڈ کے رائل سرے کائونٹی ہاسپٹل میں کنسلٹنٹ یورولوجیکل سرجن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں مبتلا بے شمار مرد اور خواتین مریضوں کو دیکھتا ہوں۔ ان کی بیماری بہت کمزور کر دینے والی اور تکلیف دہ ہوتی ہے اور ان کا علاج صرف اینٹی بایوٹک ادویات سے ہو سکتا ہے۔ ان انفیکشنز کا ایک اہم ترین محرک القلی زدہ پیشاب ہے کیونکہ اس قسم کے ماحول میں جراثیم کو پنپنے کا اچھا موقع مل جاتا ہے۔ اس قسم کے انفیکشنز سے بچنے کیلئے، قطع نظر اس سے کہ اس دن میں کیا کھا رہا ہوں، میں ایک گرام وٹامن Cکی سپلی منٹ روزانہ لیتا ہوں۔ (وٹامن Cکی سفارش کردہ یومیہ خوراک یا RDA، 40ملی گرام ہے جو ایک بڑا سنگترا کھانے سے حاصل ہو سکتا ہے) وٹامن C کی اس مقدار سے پیشاب معتدل حد تک تیزابی خصوصیات والا ہو جاتا ہے اور اس میں ایک جراثیم کش پروٹین Siderocalinکی سطح بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں خراب جراثیم کیلئے ماحول سازگار نہیں رہتا اور انفیکشن کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔‘‘
ہارمون متوازن
کرنے کیلئے پروبایوٹکس
48سالہ لوئیس نیوسن، اسٹراٹ فورڈ اپان ایون میں جنرل پریکٹشنز اور مینوپازاسپیشلسٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’’بہت سے لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے کہ صحت مند آنتوں اور ہارمون کی صحت میں گہرا تعلق ہوتا ہے کیونکہ آنتوں میں جو ہارمون ریسیپٹرز ہوتے ہیں، وہ آنتوں کی کارگزاری بہتر بناتے ہیں۔ وہ خواتین جو سن یاس کے مرحلے سے گزر رہی ہوتی ہیں یا اس سے پہلے کے مرحلے Perimenopause میں ہوتی ہیں، انہیں آنتوں کے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ان کا پیٹ پھول سکتا ہے جس کی وجہ ہارمون کا غیرمتوازن ہونا ہوتا ہے اور اس کے سبب آنتوں میں جراثیم کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اچھے جراثیم پر مشتمل پروبایوٹک سپلی منٹس (مثلاً دہی) توازن میں گڑبڑ کو ٹھیک کر دیتے ہیں اور ان سے دماغ میں کیمیائی مادہ سیروٹونین کی سطح بھی بہتر ہو جاتی ہے جس سے موڈ خوشگوار ہوتا ہے۔ سن یاس کے دور میں یہ ایک اہم ضرورت ہوتی ہے۔ میں اس بات کو یقینی بناتی ہوں کہ روزانہ پروبایوٹک لوں، خاص طور پر وہ سپلی منٹ جس میں Lactobacillusاور Acidophilusاچھے جراثیم زیادہ مقدار میں ہوں۔ میں کوئی ایسی پروڈکٹ ڈھونڈتی ہوں جسے فریج میں رکھنا ضروری ہو کیونکہ ایسی پروڈکٹ معیاری ہوتی ہیں۔
(جاری ہے)