November 26, 2018
جڑی بوٹیوں سے کشیدہ تیل سے سانس کے عوارض کا علاج

جڑی بوٹیوں سے کشیدہ تیل سے سانس کے عوارض کا علاج

برونکائٹس (Bronchitis) ،پھیپھڑوں تک ہوا لے جانے والی چھوٹی اور بڑی نالیوں، جن کو Bronchi کہتے ہیں، کی سوزش کا نام ہے جس کے ساتھ کھانسی بھی ہوتی ہے اور بلغم خارج ہوتا ہے۔ بڑوں سے زیادہ بچے اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ برونکائٹس کی دیگر علامتوں میں سینے میں بے چینی، سانس لینے میں دشواری یا تیز سانس لینا، بخار اور مسلسل کھانسی شامل ہیں۔ سانس کے ان عوارض کے علاج میں جڑی بوٹیوں سے کشید کیا ہوا تیل (Essential Oil) بھی مفید پایا گیا ہے۔ یہ تیل مختلف درختوں، پودوں کی جڑوں، پتوں، پھولوں، بیجوں، چھالوں اور تنوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس تیل کو سونگھنے سے اس کے سالمے ہوا کے ساتھ ناک کے راستے سانس کی نالیوں میں داخل ہوتے ہیں اور پھر دوران خون میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس تیل میں جراثیم کش، درد دور کرنے، اینٹھن ختم کرنے اور بلغم خارج کرنے کی خوبیاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے برونکائٹس کے مریضوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ دمہ اور برونکائٹس کے مریضوں کی سانس کی نالیوں میں سوزش کی ایک وجہ نائٹرک آکسائیڈ ہوتی ہے۔ پودینہ اور یوکلپٹس سے جو تیل کشید کیا جاتا ہے، اس سے یہ سوزش کم ہوجاتی ہے اور مرض کی شدت میں کمی آتی ہے۔ خوشبودار لیونڈر کے پھولوں سے جو تیل حاصل کیا جاتا ہے، اس کا ایک اہم جزو Linalool ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے مسلسل کھانسی کی شکایت میں’’ لینا لول‘‘ سے افاقہ ہوتا ہے۔ کالی مرچ کا تیل برونکائٹس کا سبب بننے والے جرثومے Staphylococcus Aureus کی افزائش روک دیتا ہے۔ لہسن کے عرق سے بنایا جانا والا تیل پھپھوند اور جراثیم کش خوبیوں سے لبریز ہوتا ہے۔ یہ ان خوردبینی اجسام (Pathogens) کو ہلاک کرتا ہے جو سانس کی نالیوں کو انفیکشن میں مبتلا کرتے ہیں۔ دارچینی، پودینہ اور لیمن گراس سے کشیدہ تیل بھی جراثیم کش ہوتا ہے اور اگر یہ تینوں ملا کر مریض کو دیا جائے تو برونکائٹس اور نمونیہ میں مبتلا کرنے والے ایک اور جرثومے Staphylococcus Pneumoniae کے خاتمے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ ادرک کو کشید کر کے حاصل کیا جانے والا تیل بھی جراثیم کش خوبیوں کا حامل ہوتا ہے۔ مختلف درختوں اور پودوں کے اجزا سے جو تیل بنائے جاتے ہیں، وہ مارکیٹ میں تیار صورتوں میں بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ سانس کے امراض میں اس قسم کے تیل کو مختلف طریقوںسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ چار کپ پانی ایک برتن میں خوب اچھی طرح ابالیں یہاں تک کہ بھاپ نکلنے لگے۔ اس کے بعد اسے چولہے سے اتار کر میز پر رکھ دیں اور اس میں مذکورہ بالا تیلوں میں سے کسی بھی تیل مثلاً یوکلپٹس آئل کے دو قطرے اس گرم پانی میں شامل کردیں، اس کے بعد مریض تولیے سے سر کو ڈھانپے اس برتن کے آگے اس طرح بیٹھ جائے کہ خوشبودار تیل کے ساتھ اٹھنے والی بھاپ نتھنوں کے راستے اندر داخل ہو اور وہ خود بھی سانس لے کر بھاپ کو اندر جذب کرنے کی کوشش کرے۔ تیل ملے اس بھاپ کو سانس میں شامل کرنے سے سانس کی نالیوں میں جمے ہوئے بلغم کو خارج ہونے کا موقع ملے گا جس کے نتیجے میں درد دور ہوگا، کھانسی کم ہوگی اور سانس لینے میں آسانی پیدا ہوگی۔ تیل کو رومال یا ٹشو پیپر پر دوچار قطرے ٹپکا کر سونگھنے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے سینے پر تیل کی مالش کے علاوہ رات کو سونے سے پہلے گرم پانی سے بھرے باتھ ٹب میں لیونڈر اسپائک آئل کے 25قطرے اور سیندھا نمک کی کچھ مقدار گھول لیں، پھر اس پانی کو اپنے پورے جسم پر ملیں اور دیر تک جسم کو ڈبوئے رکھیں۔ اس سے بھی برونکائٹس کی شدت کم ہوگی اور جسم کے درد میں کمی آئے گی۔