November 26, 2018
بچوں کے کان اور ناک میں پھنسنے والی چیزیں

بچوں کے کان اور ناک میں پھنسنے والی چیزیں

برطانیہ کے سرکاری نیشنل ہیلتھ سروسز(NHS) کے اسپتالوں میں کان اور ناک میں پھنسی ہوئی خارجی اشیاء (Foreign Objects) کو باہر نکالنے کی جو کوششیں کی جاتی ہیں، ان پر حکومت کو سالانہ تقریباً 30لاکھ پائونڈز خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اس قسم کے زیادہ تر کیسز بچوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ 95؍فیصد چیزیں ناک سے جبکہ 85فیصد اشیاء کان سے نکالی جاتی ہیں۔ 2010ء اور 2016ء کے درمیان ہر سال اوسطاً 1218خارجی اشیاء ناک سے اور 2479فارن آبجیکٹس کان سے نکالی گئی تھیں۔ بچوں کے کان اور ناک سے نکالی جانے والی سب سے عام خارجی چیز زیورات تھے جبکہ بالغ افراد میں روئی کے پھائے یا کاٹن بڈز کان کے اندر رہ جانے کی شکایتیں سب سے زیادہ سامنے آئی تھیں۔ ’’اینلز آف دی رائل کالج آف سرجنز‘‘ میں شائع ہونے والے تحقیقاتی مقالے بعنوان ’’کیا بچے کبھی سیکھ پائیں گے؟‘‘ میں یہ انکشافات کئے گئے ہیں۔ انگلستان کے ’’ہاسپٹل ایپی سوڈ اسٹیٹکس‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سے چار سال کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ طبی امداد کی ضرورت اس وقت محسوس کی گئی جب انہوں نے اپنی ناک میں کوئی چیز پھنسا لی۔ پانچ سے نو سال کی عمر کے بچوں کو اسپتالوں کے ایمرجنسی کے شعبے میں سب سےزیادہ اس وقت لایا گیا جب انہوں نے اپنے کان میں کوئی خارجی چیز گھسا لی۔ بچوں کے کان اور ناک میں سب سے زیادہ یعنی 40؍فیصد تک پھنسنے والی چیزیں جیولریز تھیں۔ ان کی ناک سے کاغذ اور پلاسٹک کے کھلونوں کے حصے بھی برآمد کئے گئے جبکہ کان سے کاٹن بڈز اور پھنسی ہوئی پنسلیں بھی نکالی گئیں۔ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی ناک یا کان میں خارجی اشیاء پھنسنے کے واقعات عام طور پر تجسس کی بنا پر یا سوراخ کے اندر کیا ہے، یہ جاننے کی کوشش میں یا حادثاتی طور پر داخلے کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ اس مقالے کے مصنف سوان سی میں موریسٹن ہاسپٹل کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر سائمن مورس کہتے ہیں کہ آپ کسی بھی کان، ناک اور حلق کے سرجن سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے، انہوں نے کیا کیا عجیب و غریب اور حیران کن چیزیں بچوں اور بالغ افراد کے کان اور ناک سے نکالی ہیں یعنی کوئی بھی ایسی چیز جو ان سوراخوں میں سما سکتی ہو۔ خود میں نے ذاتی طور پر سبز مٹر کے دانے، مصنوعی آنکھ کے ڈیلے، تسبیح کے دانے اور پولسٹرین کے دانے نکالے ہیں۔ چھوٹی چپٹی گول بیٹریاں بھی بچوں کی زندگی کیلئے خاص طور پر خطرناک ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ احتیاط علاج سے بہتر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے کھلونوں کے ڈبوں پر یہ ہدایت لکھی ہوتی ہے کہ اس میں چھوٹے حصے شامل ہیں، اس لئے بچوں کو یہ کھلونے دیتے ہوئے ان پر نظر رکھیں اور اگر کوئی خطرناک علامت نظر آئے تو طبی توجہ حاصل کرنے میں تاخیر نہ کریں۔