November 26, 2018
آپ کے جسم کا مدافعتی نظام کس طرح کام کرتا ہے؟

آپ کے جسم کا مدافعتی نظام کس طرح کام کرتا ہے؟

شاید آپ یقین نہ کریں کہ آپ کا جسم مسلسل ایک لمحے کے وقفے کے بغیر ایک چپکنے والی فوج کے خلاف حالت جنگ میں رہتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ صرف بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے ہوں، اس وقت بھی کھرب ہا کھرب خارجی حملہ آور ان کھربوں خلیات پر زورشور سے حملے کر رہے ہوتے ہیں جن سے مل کر ’’آپ‘‘ بنے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کو ’’مرض پیدا کرنے والے ذرائع‘‘ (Pathogens)کہا جاتا ہے۔ ان میں جراثیم، وائرس اور پھپھوند شامل ہیں۔ جراثیم ایک خلیے والی مخلوق ہیں جو زندہ رہنے کیلئے کھاتے ہیں اور یوں اپنی تعداد بڑھاتے ہیں۔ جراثیم سے بڑے ایک ہی خلیے والے جسیموں کو Protistsکہتے ہیں۔ وائرسیز جینیاتی معلومات رکھنے والے وہ پیکٹ ہیں جو میزبان خلیات پر قبضہ جما کر ان کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور پھپھوند(Fungi) نباتیاتی زندگی کی ایک قسم ہے۔ ان میں جراثیم اور وائرسیز بدترین حملہ آور سمجھے جاتے ہیں۔ خطرناک قسم کے جراثیم جسم میں زہر چھوڑتے ہیں جن سے ای کولائی، انتھریکس اور کالا طاعون جیسی بیماریاں ہوتی ہیں۔ وائرسیز خلیات کو نقصان پہنچا کر متاثرہ شخص کو خسرہ، فلو اور عام نزلہ زکام کے علاوہ بے شمار دیگر امراض میں مبتلا کرتے ہیں۔ ہمارے آس پاس کے ماحول میں کوئی بھی چیز جن میں ہم اور آپ بھی شامل ہیں، ان خوردبینی دراندازوں سے خالی نہیں ہے۔ صرف آپ کے پیٹ میں اتنے جراثیم ہیں کہ آپ کے جسم کے تمام خلیات بھی ان کی تعداد کے مقابلے میں دس گنا کم ہیں۔ اس کے باوجود آپ کے خوردبینی فوجی عام طور پر بیماریوں کا سبب بننے والے ’’پیتھوجنز‘‘ کے خلاف جنگ جیت جاتے ہیں۔ ان بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کیلئے وہ مضبوط قسم کے دفاعی حصار قائم کرتے ہیں، بے رحمانہ طاقت اور اعلیٰ جنگی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور ان تمام حربی صلاحیتوں کو مجموعی طور پر جسم کا مدافعتی نظام (Immune System)کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جسم میں خود کار قسم کی دفاعی لائنیں پہلے سے ودیعت کر رکھی ہیں جن کو Physical Defences کا نام دیا گیا ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ Good fences make good neighbours یعنی اچھی باڑھیں، اچھا پڑوسی بناتی ہیں۔ ہمارے جسم کی باڑھیں اگر مضبوط ہوں تو باہر سے حملہ کرنے والوں کو اندر داخل ہونے کا موقع نہیں ملے گا۔ جسمانی دفاعی لائنوں میں ہمارے جسم کی ایک باڑھ تو ہماری جلد ہے۔ یہ بہت مضبوطی کے ساتھ ایک دوسرے سے گندھے ہوئے خلیات ہیں جو جراثیم اور وائرسیز کو اندر آنے سے روکتے ہیں۔ مزید براں اللہ تعالیٰ نے ان سے بچائو کا ایک اور انتظام تیل کی صورت میں کر رکھا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ عموماً گرمی کے دنوں میں چہرے اور جلد پر تیل جیسی ایک چیز چپچپانے لگتی ہے۔ یہ قدرتی تیل جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جس کی موجودگی میں جراثیم اور وائرس کو جلد پر قدم جمانے کا موقع نہیں ملتا۔ ہمارے جسم میں جہاں جہاں سوراخ ہیں، قدرت نے انہیں بھی اچھی طرح قلعہ بند کر رکھا ہے۔ اگر آپ ناک کے راستے سانس کے ذریعے پیتھوجنز جسم میں داخل کر لیں تو آپ کی سانس کی نالی کی اندرونی جھلیوں کے ساتھ چپکے ہوئے لیس دار مادے انہیں قید کرلیتے ہیں۔ اگر منہ کے راستے کھانے کے ذریعہ آپ جراثیم بھی نگل لیں تو معدے کے اندر تیزابی مادّے ان کو غسل مرگ دینے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ آنکھوں میں اگر جراثیم دَر آئیں تو آنسو انہیں دھو کر باہر نکال دیتے ہیں اور باہر نکالنے سے پہلے انہیں تیز قسم کے انزائم میں ڈبوتے ہیں۔