November 26, 2018
خبریں اب روبوٹ پڑھیں گے

خبریں اب روبوٹ پڑھیں گے

آرٹی فیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹس ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب برپا کر رہے ہیں۔ کہیں روبوٹس ویٹر ہیں تو کہیں یہ گاڑیاں بنا رہے ہیں۔ اب روبوٹس خبریں بھی سنائیں گے۔
جی ہاں ! چین نے دنیا کا پہلا نیوز کاسٹر روبوٹ متعارف کروادیا گیا ہے جو ہو بہو ایک حقیقی نیوز اینکر کی نقل کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ایک نظام کے تحت اس روبوٹ میں نیوز پرڈیوسرخبریں بھیج سکتا ہے، جسے یہ روبوٹ فوراً مہارت کے ساتھ پڑھ کر سنا دے گا۔ عام طور نیوز پروڈیوسر کی تیار کردہ خبریں نیوز اینکر کے سامنے رکھے پرومٹر پر نمو دار ہوتی ہیں، جہاں سے خبروں کو دیکھ کر اینکر ہمیں خبریں سناتے ہیں۔ تاہم روبوٹ نیوز کاسٹر خبریں دیکھ کر نہیں پڑھتا بلکہ یہ اپنے تکنیکی دماغ میں بھیجی گئی خبروں کو مختلف زبانوں میں پڑھنے کے قابل ہے۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژِنہوا نے پہلی مرتبہ اسے روبوٹ نیوز اینکر کو متعارف کرایا ہے اور اس کے لیے چینی اینکر کے چہرے کا انتخاب کیا گیا۔ اس نیوز اینکر کی تیاری میں چین کے مشہور سرچ انجن سوگو اور ژن ہوا ایجنسی نے مل کر کام کیا ہے۔ ڈیجیٹل اینکر انسانی آواز اور تاثرات کی ہوبہو نقل بھی کرتا ہے۔ اس طرح یہ کسی خشک اور سرد مزاج روبوٹ کے بجائے ایک جیتا جاگتا انسان معلوم ہوتا ہے۔ اس روبوٹ کے بارے میں کچھ نیوزاینکرز کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹ بہتر تاثرات اور اشارے نہیں کر سکے گا جس طرح انسان کرسکتے ہیں، اس لیے نیوزاینکرز کی نوکری کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم ایسے نیوز اینکرز کے لیے خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ مستقبل میں روبوٹ نیوز اینکر میں مزید تبدیلیاں کرنے کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد بڑے بڑے نشریاتی ادارے مہنگے نیوز اینکرز کی جگہ روبوٹ اینکرز پر ایک بار پیسہ خرچ کرنے کو بھی ترجیح دے سکتے ہیں۔ عام طور پر نیوز اینکرز الفاظ کی ادائیگی میں کبھی غلطی بھی کرجاتے  ہیں لیکن روبوٹ نیوز اینکر اپنے سسٹم میں بھیجی گئی تمام خبریں درست انداز میں پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ البتہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا اس روبوٹ کو بھی ہیک کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اگر اس روبوٹ کو انٹرنیٹ سے  منسلک کیا گیا تو پھر اسے ہیک ہونے سے بچانے کیلئے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔