November 26, 2018
صدف کنول … تاثرات سے بھرپور، بہت مشہور

صدف کنول … تاثرات سے بھرپور، بہت مشہور

گزشتہ چند سالوں میں صدف کنول نے خود کو ماڈلنگ اور اداکاری کی دُنیا میں ایک مستند اور قابلِ بھروسہ فنکارہ کے طور پر منوالیا ہے۔ کوئی بھی بڑی اشتہاری کمپین ہو یا بہترین ماڈل کے فیشن ایوارڈز، صدف کی جھولی کامیابیوں اور کامرانیوں سے بھری نظر آتی ہے۔ پھر 2017ء سے وہ چھوٹے پردے اور اشتہارات کی راہوں سے گزرتی ہوئی، فلم کے بڑے پردے کی طرف بھی آنکلی ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے عثمان خالد بٹ اور عینی جعفری کے ہمراہ فلم ’’بالوماہی‘‘ میں بطور شرمین، دھواں دھار انٹری دی۔
یہ فلم کامیابیوں کے باکس آفس ریکارڈ تو قائم نہیں کرسکی، مگر صدف کنول کے کام کو اس فلم میں ضرور سراہا گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انہیں اگلی فلم، یعنی ’’نامعلوم افراد 2‘‘ میں کام کا موقع بھی نہ ملتا۔ یہ کردار اگرچہ نسبتاً چھوٹا اور متنازعہ تھا، مگر اس کے باوجود صدف نے ایک ذہین فنکارہ کے طور پر، اس فلم میں بھی اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا۔ یہاں یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ صدف کنول کی نظریں بھلے ہی ماڈلنگ کے انٹرنیشنل اسائنمنٹس پر جمی ہوتی ہوں، مگر اداکاری کو وہ ہمیشہ ترجیح دیتی رہی ہیں اور انہیں اپنا پیشہ ورانہ مستقبل، اسی شعبے میں جگمگاتا نظر آتا ہے۔
اداکاری میں ماڈلنگ کا فن صدف کو ورثے میں ملا ہے۔ ان کی دادی سلمیٰ ممتاز اور آنٹی ندا ممتاز بھی اس شعبے میں خوب نام کماچکی ہیں۔ سلمیٰ ممتاز تو 60ء کی دہائی میں فلموں پر راج کرتی رہیں، جبکہ ندا ممتاز اب بھی فعال ہیں اور ’’مہرالنساء وی لب یو‘‘ نامی فلم میں اپنی اداکاری سے سب کو محظوظ کرچکی ہیں۔
صدف اپنی اب تک کی کامیابیوں کو اپنے بہترین ساتھی فنکاروں اور کہنہ مشق ڈائریکٹرز کی محنت کا مرہونِ منت قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اب بھی ہر نئے کریکٹر کو کرنے سے پہلے سوچتی ہوں کہ شاید یہ مجھ سے نہیں ہوسکے گا، مگر پھر ایسا ہوتا ہے کہ سب میری تعریف کررہے ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پہلی مرتبہ جب ان سے فلم میں ڈانس کرنے کے لئے کہا گیا تو وہ ہمت ہار گئیں اور انہیں لگا کہ شاید یہ مشکل کام ان سے نہیں ہوسکے گا، مگر پھر یہی ہوا کہ انہوں نے ہمت کی اور سب اچھا ہوگیا۔
ان دنوں صدف کے زیرتکمیل یا زیرغور منصوبوں میں ایک فلم اور ایک ڈرامہ سیریل ہے، جن میں سے ایک کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ اس کی شوٹنگ اسی سال شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے ’’نامعلوم افراد 2‘‘ میں کام کیا تو ان پر ہر جانب سے تنقید کے نشتر چلنا شروع ہوگئے۔ اس فلم کے لئے انہوں نے ایک گیت ’’کیف و سرور‘‘ میں پرفارم کیا۔ اس بولڈ پرفارمنس پر انہیں مداحوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر جو کچھ سننا پڑا، وہ تو علیحدہ تھا، مگر ان کے ایک ساتھی فنکار، حمزہ علی عباسی نے بھی اس حوالے سے انہیں آڑھے ہاتھوں لیا اور بولڈ آئٹم نمبرز کو بنیاد بناکر، فلمسازوں اور صدف کنول کی اچھی طرح کلاس لے ڈالی۔
صدف کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار ان کے لئے واقعی کرداروں کا چناؤ اس لئے مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ وہ ایک آزاد خیال اور سپورٹنگ فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر نبیل نے یہ گانا انہیں دیتے ہوئے بتادیا تھا کہ آرٹ اور ولگیریٹی میں ایک بہت باریک لائن کا فرق ہوتا ہے، اسی لئے انہوں نے اس پرفارمنس کو ایک فلمی گیت کے طور پر لیا اور کہیں بھی بطور آئٹم نمبر کا تاثر نہیں آنے دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسی پرفارمنس فلموں میں پہلے بھی دی جاتی رہی ہے اور خود ان کی ساتھی فنکارائیں عائشہ عمر، ژالے سرحدی اور مہوش حیات وغیرہ بھی نئی فلموں میں آئٹم نمبرز کے نام پر یہ سب کچھ کرتی رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں سمجھتی ہوں، میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔
فلم ’’بالوماہی‘‘ میں ایک دغاباز حسینہ (شرمین) کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل کردار تھا اور وہ ڈائریکٹر حیسم حسین کی مشکور ہیں، جنہوں نے یہ کردار دے کر ان پر اپنے اعتماد اور بھروسے کا اظہار کیا۔ صدف کے خیال میں اداکاری وہ کام ہے، جس میں فنکار کو اپنی سوفیصد صلاحیتوں کا اظہار کرنا پڑتا ہے، آپ کو جو کچھ آتا ہے، وہ کرکے دکھانا ہی، ان کے خیال میں ایک پروفیشنل اداکار کا کام ہے۔
اداکاری اور ماڈلنگ کا فرق بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ماڈلنگ اس لئے زیادہ مشکل ہے کیونکہ آپ کو صرف اپنے بھرپور تاثرات سے چند سیکنڈ میں پورا میسج پہنچانا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ہماری فیشن انڈسٹری نوآموز ماڈلز کے لئے بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ البتہ پاکستان میں فیشن انڈسٹریز کی کچھ روایات پر وہ بہت حیران ہیں۔ مثلاً دُنیا بھر میں ماڈل کی عمر پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوتی اور وہ 25 سال کی عمر تک ریٹائرڈ ہوجاتی ہے۔
29؍اگست 1993ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی صدف کنول کی وجہ شہرت تو ماڈلنگ ہے مگر وہ بہت تیزی سے اداکاری میں بھی اپنی ہمعصر اداکاراؤں کو پیچھے چھوڑ رہی ہیں۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر پاکستان میں ماڈل کی عمر کا کوئی تعین نہیں ہے۔ یہاں ماڈلز، ریٹائرڈ ہونے کو تیار ہی نہیں ہوتیں۔ وہ غیرملکی ماڈل کارا ڈیلون کی مثال دیتی ہیں کہ اب وہ اس کام سے کنارہ کش ہوکر صرف فلموں میں اداکاری کرتی ہیں۔ ایسی ہی مثالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، صدف کنول نے بھی سوچ لیا ہے کہ اب انہوں نے بہت ماڈلنگ کرلی، سب ایوارڈز جیت لئے، اس لئے وہ نئی لڑکیوں کے لئے راستہ چھوڑ رہی ہیں اور اپنی زیادہ توجہ صرف اداکاری پر مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ وہ 25 سال کی عمر میں چھ، سات سال تک بھرپور ماڈلنگ کرنے کے بعد، اپنے کام سے مطمئن ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اب بہت ہوگیا، انہیں آگے بڑھنا چاہئے اور کوئی نیا کام کرکے دکھانا چاہئے۔ وہ سینئر ماڈلز کو بھی مشورہ دیتی ہیں کہ نئی روایتیں قائم کریں اور نئے آنے والوں کے لئے راستہ چھوڑیں۔
صدف کہتی ہیں کہ میں کبھی نہیں چاہوں گی کہ لوگ میرے پیٹھ پیچھے بیٹھ کر میری برائیاں کریں اور یہ سوچنا شروع کردیں کہ اب وہ مجھے دیکھ دیکھ کر بور ہوچکے ہیں۔ انسان کو اپنے نقطۂ عروج پر ہی اپنے کام سے کنارہ کشی کرکے، اپنے لئے نئی منزلوں کا تعین کرلینا چاہئے۔ یہ سوچ ہے صدف کنول کی، وہ اس حوالے سے پریانکا چوپڑا کی بھی مداح ہیں، جو اپنے دورِعروج میں بولی وڈ کو چھوڑ کر،ہولی وڈ فلموں کی طرف گامزن ہوچکی ہیں۔ صدف چاہتی ہیں کہ ماڈلنگ سے اپنا رشتہ تین سال بعد مکمل طور پر اس وقت توڑیں، جب انہیں کم از کم بہترین اداکارہ کا ایک ایوارڈ ضرور مل چکا ہو۔