November 26, 2018
مطلب کی نوکری کیسے ملے گی مجھ کو

مطلب کی نوکری کیسے ملے گی مجھ کو

تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہترین ملازمت حاصل کرنا، کس کا خواب نہیں ہوتا، لیکن یہ من پسند ملازمت کیسے حاصل ہوگی؟ اور کیا آپ میں وہ خوبی ہے جس کی بناء پر کوئی کمپنی ہزاروں افراد میں سے آپ کا انتخاب کر لے؟
اپنی من پسند ملازمت کے بارے میں ممکن ہے آپ سب کچھ جانتی ہوں، لیکن کیا آپ کو اپنی صلاحیت کا علم ہے؟ خود کو جاننے کی کوشش کیجئے۔ سوچئے، آپ اصل میں کیا کام کرنا چاہتی ہیں۔ یہ کام زندگی کے کسی بھی حصے میں کیا جاسکتا ہے۔ چاہے طالب علمی کا زمانہ ہو، پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہو یا مڈ کیرئیر کی الجھن میں مبتلا ہوں، کسی بھی وقت آپ اس اہم سوال پر غور کر سکتی ہیں کہ آپ چاہتی کیا ہیں۔ جب آپ یہ سمجھ لیں گی کہ کون سا کام آپ کے لیے ہے اور کون سا کام آپ کی قدرتی صلاحیت اور دلچسپی کا عکاس ہے، تب اپنے لیے اپنی من پسند ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا۔
ہیومن ریسورس کے شعبہ سے وابستہ ایک ماہر نے اس سلسلے میں بتایا، ’’ہر انسان کے ذہن میں ایک من پسند ملازمت کا خواب ہوتا ہے۔ کچھ اس خواب کو کیرئیر کی ابتداء میں پہچان لیتے ہیں اور کچھ کو اس کا ادراک ذرا دیر سے ہوتا ہے۔ کوشش کی جائے تو اپنے پسندیدہ کام کی پہچان ممکن ہے۔ کوئی مخصوص کام آپ کا پسندیدہ ہے یا کسی خاص کمپنی میں ملازمت کرنا آپ کی خواہش ہے، یہ سمجھ کر ہی آپ اپنے لیے ایک بہترین ملازمت حاصل کر سکتی ہیں۔
êشعبہ تبدیل کرنا مشکل ہے، ناممکن نہیں!
اگر آپ کی پسندیدہ ملازمت ایک ایسے شعبے میں ہے، جس کی آپ نے تعلیم حاصل نہیں کی یا جس میں فی الحال آپ کام نہیں کر رہیں، تو کوشش سے گھبرائیے نہیں۔ ایسے کام کا کیا فائدہ جو خوشی بھی نہ دے سکے۔ وہ کہتے ہیں، ’’جو پسند ہے وہ کیجئے، آپ کو ایک دن بھی کام نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘ واقعی جو کام پسند ہو، اس میں تھکن اور بیزاری محسوس نہیں ہوتی، البتہ ناپسندیدہ کام نوجوان افراد پر بھی بڑھاپا طاری کردیتا ہے۔ شعبہ تبدیل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ متعلقہ ملازمت کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کریں۔ اپنے من پسند شعبے میں کام کرنے کے لیے آپ کو یقیناً تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے بہتر ہے کہ اہم سرٹیفکیٹ کورس یا ورکشاپس وغیرہ میں حصہ لیں۔ اس طرح آپ کو من پسند جگہ ملازمت کی درخواست تیار کرنے میں آسانی ہوگی اور آپ بھرپور اعتماد کے ساتھ کوشش کا آغاز کریں گی۔ ممکن ہے شعبہ تبدیل کرنے کی کوشش میں آپ کو وہ عہدہ اور تنخواہ نہ مل سکے، جو فی الحال آپ کے نام ہے۔ جب یہ طے پاجائے کہ شعبہ تبدیل کرنا ہے تب ایک فہرست ترتیب دیجئے اور اس میں ان تمام کورسز، افراد، اداروں کی تفصیلات درج کرلیجئے جو اس کام میں آپ کے لیے سہارا بن سکتے ہیں۔ یہ جاننے کی کوشش کیجئے کہ پسندیدہ شعبے کے جدید ٹرینڈز کیا ہیں۔ آپ کے لیے کون سے کورس اہم ترین ہیں، کون سے ادارے یہ کورسز کروا رہے ہیں، کہاں کی ڈگری اور اور سرٹیفکیٹ اہم ہیں اور وہ کون سے لوگ جن سے ملاقات لازمی ہے۔ ہیومن ریسورس اسپیشلسٹ کے مطابق، ’’کیرئیر کی تبدیلی سے متعلق جہاں دوسری باتیں اہم ہیں، یہ بھی ضروری ہے کہ خواتین ’’جاب پورٹلز‘‘ سے جڑی رہیں، ان کی مدد سے ملازمت کے اشتہار سے باخبر رہا جاسکتا ہے اور آپ مناسب وقت پر ملازمت کی درخواست بھی جمع کرواسکتی ہیں۔ اس قسم کے Job Portals پر آپ اپنی من پسند کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والے اشتہارات پر نہ صرف نظر رکھ سکیں گی بلکہ ان کے اشتہارات سے یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ ان کی بنیادی مطلوبہ خصوصیات کیا ہیں۔ پھر اس کے مطابق تیاری کی جاسکتی ہے۔‘‘
ظاہر ہے نئے کیرئیر کا آغاز اتنا آسان کام نہیں لیکن جب اپنے پسندیدہ شعبے میں، من پسند کام کرنے کا موقع مل جائے گا تو آپ جلد ہی اپنی محنت اور لگن سے اس میں ترقی کر سکتے ہیں۔ کیرئیر کائونسلر کا مشورہ ہے، ’’اپنی طاقت اور صلاحیت پر نظر رکھنا عقلمندی ہے اور اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے تیار رہنا سمجھداری کہلاتی ہے۔‘‘
êسوشل ہونا بہتر ہے
کیرئیر کائونسلرز نئی ملازمت تلاش کرنے والی خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ میٹنگز اور انٹرویوز کی تیاری
کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پروفائل کو نہ بھول جائیں۔ ’’آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور انٹرویو لینے والے یا ہیومن ریسورس منیجرز بھی فرد کی صلاحیت اور قابلیت کا جائزہ لینے کے ساتھ اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرتے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی سوشل میڈیا پروفائل کو اَپ ڈیٹ رکھیں۔‘‘ سوشل میڈیا موج و مستی کا مرکز نہیں بلکہ آپ کی شخصیت کے عکاس ہونا چاہئے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ یہاں موجود معلومات، آپ کی سوچ کی مثبت انداز میں ترجمانی کرے۔ کیرئیر کائونسلر کے مطابق، ’’سوشل میڈیا کو اپنی شخصیت کے اظہار کا ذریعہ بنائیے۔ اس کی مدد سے بہترین افراد سے رابطہ قائم کرنا، کار آمد گروپس کا حصہ بننا ممکن ہے۔‘‘ کیرئیر کائونسلنگ سے متعلق ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک فرد کو
اپنے شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ابتدائی مراحل ہی میں اپنی کمیونی کیشن اسکلز کو چمکا لینا چاہیے۔
êصلاحیت اور شخصیت کا امتزاج
من پسند ملازمت حاصل کرنے کے لیے صرف متعلقہ شعبے کی تعلیم ہی اہم نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری سیکھنے اور کام کرنے کی لگن ہے۔ صرف اس لیے اپنے من پسند شعبے میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش ترک کردینا کہ آپ کے پاس اس شعبے کی ڈگری نہیں، غلط رویہ ہے۔ آپ نئے شعبے میں کام کرنے کے لیے ضروری تربیت حاصل کریں، کام کی لگن پیدا کریں کیونکہ اکثر کمپنیاں ڈگری کے بجائے دیگر خصوصیات پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ڈگری کی وجہ سے اپنی من پسند ملازمت حاصل کرنے میں نہ ہوں گی۔
êانٹرویو اور آپ کا تعارف
سی وی آپ کے تعارف جیسا ہے، اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہونا چاہئیں جو آپ کا تعارف کروانے کے لیے ضروری ہے۔ اس بات پر مکمل توجہ دیجئے کہ کسی بھی ادارے میں سی وی بھیجنے سے پہلے اس کا بہترین طریقے سے جائزہ لے لیا گیا ہو۔ اس میں غلطی نہ ہو، یہ اَپ ٹو ڈیٹ ہو، اس میں آپ کی تعلیم، سرٹیفکیٹ، ورک شاپس، ملازمتی تجربے، دلچسپی، ہنر، سماجی خدمت، ایوارڈز اور دیگر کامیابیوں کا بھرپور ذکر موجود ہو۔ جس کمپنی یا ادارے میں آپ ملازمت کی درخواست بھیج رہی ہیں، اس کے بارے میں آپ کو مکمل معلومات ہونا بھی لازم ہے۔ اکثر خواتین انٹرویو کے لیے کال موصول ہونے پر گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہیں اور کوئی سوال نہیں پوچھتیں، جبکہ یہ موقع ملازمت کی تفصیل پوچھنے کے لیے اہم ہے۔ یہ تفصیل ضرور پوچھئے تاکہ آپ انٹرویو کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اس تفصیل کے مطابق تیاری کر سکیں۔ آپ کو جس ملازمت کے انٹرویو کے لیے بلایا جارہا ہے، اگر آپ اس کے بارے میں جانتی ہی نہیں ہوں گی اور انٹرویو دینے پہنچ جائیں گی تو سوچئے انٹرویو کے دوران یہ کیسے ثابت کرسکیں گی کہ جو توقع کی جارہی ہے، آپ وہ کام کرسکتی ہیں۔ ان تمام اہم باتوں کو مد نظر رکھ کر من پسند ملازمت حاصل کرنا زیادہ مشکل نہ رہے گا۔ بس یاد رکھئے، تیاری ہی کامیابی ہے۔
êپہلا تاثر، آخری ہوگا
جب آپ کو آپ کی من پسند ملازمت مل جائے تو پھر اپنے کام سے اپنی جگہ بنانے کی کوشش آپ کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ دفتر اور اسٹاف پر آپ کا پہلا مثبت تاثر، آپ کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ کیرئیر کائونسلر اس سلسلے میں مشورہ دیتے ہیں، ’’میں سب کو چار اصول اپنانے کے لیے کہتا ہوں۔ پہلا مثبت سوچئے، دوسرا مشورہ ہے کہ کام کے بارے میں صرف سوچئے ہی نہیں بلکہ پہلا قدم بھی اٹھائیے۔ تیسرا مشورہ یہ ہے کہ سب کو متاثر کرنے کی حد سے زیادہ کوشش نہ کیجئے اور چوتھا مشورہ یہ ہے کہ سوال پوچھئے۔