December 03, 2018
موسم نے بڑھائے کام میرے

موسم نے بڑھائے کام میرے

سردی کا موسم سستی بھی ساتھ لاتا ہے۔ ٹھنڈے پانی سے ہاتھ دھونے کا خیال کپکپی طاری کرتا ہے اور کوئی دوسرا کام کرنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔ ایسے میں اگر آپ اور آپ کا گھر اس موسم کو خوش آمدید کہنے اور اس سے بچنے کے لیے تیار نہ ہوں تو مشکل اور بھی بڑھ جائے گی اور سردی کا موسم نہ صرف آپ کو بلکہ آپ کے گھر کو بھی متاثر کر دے گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سردی کا موسم کئی مسائل ساتھ لاتا ہے، کبھی ہیٹر خراب تو کبھی گیزر کام نہیں کرتا، لحاف اور سردی کے ملبوسات تیار نہیں ہوتے تو کبھی ان میں موجود ناگوار بو آپ کو پریشان کر دیتی ہے۔ ان سب مسائل سے بچنے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کیجئے، اس منصوبہ بندی اور تیاری کا فائدہ یہ ہوگا ہے کہ آپ اچانک سامنے آنے والے مشکل صورتحال میں گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوں گی اور ہر کام آسانی سے ہوجائے گا۔ وہ کہتے ہیں نا، کامیابی کے لیے تیاری نہایت اہم ہے۔ اسی طرح سردی کے موسم کو خوشگوار اور ہموار انداز میں گزارنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ پہلے سے تیاری کرلیں۔ یہ تیاری کیا ہے اور وہ کون سے سات کام ہیں جو لازم ہیں، آئیے جانتے ہیں:
نکاسی آب کا بندوبست کیجئے!
گھر کی صفائی کا دارومدار نکاسی آب پر مبنی ہے۔ ممکن ہے آپ کو اس کا خیال بھی نہ آیا ہو لیکن بہتر ہے کہ سردی کی زور دار آمد سے پہلے ایک بار ان کو چیک کروالیا جائے۔ مٹی، پتے اور کچرا وغیرہ ان کو مکمل یا جزوی طور پر بند کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ سردی کے موسم میں برفباری یا بارش کی پریشانی کے ساتھ نکاسی آب کا مسئلہ ہوجائے تو یقین جانئے سردی میں بھی پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ نکاسی آب کا نظام ٹھیک نہ ہو تو گھر کی چھت اور دیواریں بھی اس سے شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔ چونکہ یہ کام آپ خود نہیں کر سکتیں اس لیے پہلے ہی کسی ماہر سے کام کا بندوبست کروانا بہتر ہے، موسم کی شدت جیسے جیسے بڑھتی ہے، لیکج، سیپج، بلاکج کے مسائل بھی بڑھتے ہیں، ان کو کسی ماہر کی مدد سے پہلے ہی ٹھیک کروالینا بہتر ہوگا۔
دوسراکام: گیزر، بوائلر چیک کیجئے
سہیلیو! سردی کی آمد کے ساتھ ہی اپنے شہر کے موسم کے مطابق احتیاطی تدابیر اپنائیے تاکہ کسی بھی وقت مشکل اور پریشانی سے بچنا ممکن ہو سکے۔ سردی کے موسم میں گیزر، ہیٹرز کا استعمال عام ہوتا ہے، لیکن کیا آپ نے گیزر آن کرنے سے پہلے اس کی مناسب مرمت کروائی ہے؟ سال کے چھ ماہ بند رہنے کی وجہ سے ممکن ہے اس میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہو۔ اس خرابی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سردی کی آمد کے ساتھ ہی کسی ماہر سے چیک کروا کے اس کی سروس کروالی جائے۔ گھر کا نظام سنبھالنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ گھر اور اس کی ہر چیز کو مینٹین کیا جائے۔ سامان کی باقاعدگی سے کروائی جانے والی سروس، ان کو پائیدار بنانے کا سبب بنتی ہے۔ موسم کی آمد کے ساتھ ہی بوائلر، ہیٹر اور گیزر کی مرمت سے یہ یقین ہو جائے گا کہ موسم کی شدت میں اضافے کے ساتھ یہ چیزیں درست طریقے پر کام کرتی رہیں گی اور اچانک خراب ہو کر پریشانی کا سبب نہیں بنیں گی۔
تیسرا کام:انگیٹھی کی صفائی
سرد علاقوں میں رہنے والے افراد کے گھر میں انگیٹھی یا چمنی نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے، لیکن اس کی صفائی بھی نہایت اہم ہے۔ ان کی مناسب طریقے پر صفائی نہ کی جائے یا دھیان نہ رکھا جائے تو یہ گھر میں آگ لگانے یا دیگر مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ کسی پروفیشنل کلینر کی مدد لیجئے، وہ آپ کے گھر کے یہ حصے بہترین طریقے سے صاف کر سکتے ہیں۔
چوتھا کام:سردی کے ملبوسات
جیسے ہی موسم بدلے، آپ اپنی الماری کا سامان بھی بدل دیجئے۔ اب لان اور شیفون کے کپڑے پہننے کا موسم نہیں تو آپ کی الماری میں یہ سامان کیوں رکھا ہے؟ اگر ابھی تک وارڈ روب کا انداز نہیں بدلا تو اب اسے بدل لیجئے۔ سوئیٹرز، شالیں اور جیکٹ نکال لائیے۔ ان کو دھوپ لگائیے اور الماری کا حصہ بنا دیجئے۔ کھلے جوتوں کی جگہ بوٹس اور جوگرز یا اسنیکرز استعمال کیجئے۔ اونی جرابیں اور دستانے بھی اس موسم کا لازمی حصہ ہیں۔ ان کو اپنی ضرورت کے مطابق بہترین انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پانچواں کام: لحاف، چادر، پردے اور دھیمے رنگ تبدیل کرلیجئے
کپڑوں کے ساتھ گھر کو سجانے، سنوارنے کا سامان بھی موسم کے ساتھ تبدیل کرنا ضروری ہے۔ لحاف ہوں یا پردے، سردی کے موسم میں دونوں کا انداز مکمل طور پر تبدیل ہوجاتا ہے۔ اب موسم بہار کے کھلتے رنگوں پر بنائے گئے پردے نہیں چلیں گے، دبیز پردوں اور اونی لحاف کا زمانہ ہے۔ موسم کی شدت سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ گھر کی کھڑکی اور دروازے، دبیز پردوں سے چھپے ہوں تاکہ خنک ہوا کا جھونکا ہمیں اور ہمارے گھر کو متاثر نہ کر سکے اور ہم خنک موسم میں بھی پرسکون رہ سکیں۔
چھٹا کام:گھر کے باہر کا سامان اور اس کی ضرورت
جیسے گرمی کی آمد پر کچھ سامان گھر میں رکھنا ضروری ہوجاتا ہے، ویسے ہی سردی کی آمد، کچھ ضرورتیں ساتھ لاتی ہے۔ اس موسم میں برفانی طوفان، برفانی بارشیں، تیز ہوا، آندھی اور برفباری کی وجہ سے راستے بند ہوجانے کا خطرہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر یہ ضروری ہوگا کہ آپ کے پاس ایسا سامان موجود ہو جو برف صاف کرنے، گھر کی حفاظت کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ سوچئے، آپ کے گھر کی چھت پر اور گھر کے سامنے برف کا ڈھیر جمع ہوجائے اور آپ کے پاس اسے صاف کرنے کے لیے کوئی سامان (snow removal gear) بھی موجود نہ ہو تو کام کیسے ہوگا؟ سردی کا موسم سہولت سے گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی سارا سامان اکٹھا کرلیا جائے۔
ساتواں کام:گھر کی کھڑکیاں
سردیوں میں خنک ہوا گھر میں داخل ہوتی رہے تو کیا ہیٹر کا فائدہ ہوگا؟ بالکل بھی نہیں!
اس لیے ہوم ایکسپرٹس کا مشورہ ہے کہ سردی کی آمد سے پہلے اپنی ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کی مرمت ضرور کروالیں۔ یوں آپ کی بند کھڑکیوں پر پڑے دبیز پردے، خنکی کو گھر سے باہر رکھیں گے اور آپ سردی سے متاثر ہونے کے بجائے، اس کی دلفریب خنکی سے انگیٹھی کے پاس، چائے کی پیالی کے ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوسکیں گی۔ آخر میں بس اتنا ہی کہ سردی میں خوش، پرسکون اور محفوظ رہئے!