December 03, 2018
احمد شہزاد کو ایک اور دھچکا

احمد شہزاد کو ایک اور دھچکا

قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز احمد شہزاد کیریئر کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے سبب پابندی کے شکار بلے باز کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چوتھے ایڈیشن کے ڈرافٹس میں کسی بھی ٹیم نے اہمیت نہ دی جبکہ انہیں سپلیمنٹری کیٹیگری میں منتخب کیا گیا۔ پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اوپننگ بلے باز کا انتخاب پلاٹینم کیٹیگری میں کیا تھا اور پھر لیگ کے اگلے ایڈیشن کے لیے بھی انہیں گلیڈی ایٹرز نے پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا۔
پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں احمد شہزاد ناکامی سے دوچار ہوئے اور کچھ خاص کارکردگی نہ دکھا سکے۔ احمد شہزاد پر قومی ٹیم کے دروازے بند ہوئے تو ان کی مشکلات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی گئیں اور گلیڈی ایٹرز نے تیسرے ایڈیشن کے لیے انہیں اپنے اسکواڈ سے ریلیز کردیا۔ تیسری ایڈیشن کے لیے ہونے والے ڈرافٹ میں بھی احمد شہزاد کو پلاٹینم کیٹیگری میں رکھا گیا تھا لیکن ڈرافٹ کے عمل کے دوران ابتدائی 17 کھلاڑیوں میں ان کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد اوپننگ بلے باز کی کیٹیگری کم کر کے انہیں گولڈ کیٹیگری میں جگہ دی گئی جس میں ملتان سلطانز نے ان کی خدمات حاصل کیں۔
تیسرے ایڈیشن میں بھی احمد شہزاد کچھ خاص کرنے سے قاصر رہے جس سے ان کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات مزید کم ہو گئے۔ اس دوران سابق کوچ وقار یونس نے احمد شہزاد اور ان کے ساتھی کھلاڑی عمر اکمل کے رویے اور ڈسپلن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ سے مبینہ طور پر سفارش کی تھی کہ دونوں کھلاڑیوں پر طویل عرصے کے لیے پابندی لگائی جائے۔ بورڈ نے ان کی سفارشات پر تو عمل نہ کیا لیکن ان دونوں ہی کھلاڑیوں نے اس غلطی سے سبق نہ سیکھا اور ان پر قومی ٹیم کے دروازے بند ہو گئے۔
عمر اکمل پر تو پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن کے لیے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم مہربان ہو گئی لیکن احمد شہزاد زیادہ خوش قسمت ثابت نہ ہو سکے۔ احمد شہزاد پاکستان کی جانب سے 13 ٹیسٹ، 81 ون ڈے انٹرنیشنل اور 57ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیل چکے ہیں۔ وہ پاکستان کی جانب سے تینوں فارمیٹس میں سنچریاں بنانے والے واحد بیٹسمین ہیں۔ لیکن بیٹنگ میں غیر مستقل مزاجی نے ان کے کیریئر کا سوالیہ نشان لگا دیا اور ان کے کیریئر کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب رواں سال اپریل میں پاکستان کپ کے ایک میچ کے دوران لیے گئے ڈوپ ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا۔
مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے سبب احمد شہزاد پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے 4ماہ کی پابندی عائد کی، جس کا خاتمہ 10؍نومبر کو ہونا تھا لیکن بلے باز نے پابندی کے باوجود کلب کرکٹ کھیل کر بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کی، جس کے سبب ان کی پابندی میں اضافہ کردیا گیا تھا اور اب وہ 22؍دسمبر تک کسی قسم کی کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے۔ اس تمام تر صورتحال میں اوپننگ بلے باز کی مشکل اس وقت مزید بڑھ گئی، جب پی سی بی نے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کرتے ہوئے احمد شہزاد کو اس فہرست کا حصہ نہیں بنایا۔
پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کے سلسلے میں اسلام آباد میں ڈرافٹ ہوئے اور احمد شہزاد اور ان کے شائقین کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب کسی بھی ٹیم نے اوپننگ بلے باز کو ترجیح نہ دی اور کسی بھی ٹیم نے انہیں اپنے ابتدائی 16رکنی اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا۔ حتمی کھلاڑیوں کے انتخاب کے بعد سپلیمنٹری کھلاڑیوں کی کیٹیگری میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اوپننگ بلے باز کو منتخب کیا اور کسی کھلاڑی کی عدم دستیابی یا مستقل انجری کی صورت ہی اب وہ گلیڈی ایٹرز کے لیے کھیل سکیں گے۔قابل غور بات یہ ہے کہ احمد شہزاد نے اپنی ٹیم اور بورڈ اراکین کے درمیان بھی اپنی کوئی ایسی لابی نہیں بنائی ہے جو ان کے لئے آواز اٹھاسکے۔عام طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مختلف حوالوں سے احمد شہزاد کا رویہ خاصا تلخ رہا ہے، جس کے باعث ان کے ساتھی کھلاڑی اور نہ ہی بورڈ میں شامل اہم شخصیات ان کے ساتھ قریبی تعلق برقرار رکھ سکی ہیں۔آنے والے دن احمد شہزاد کے لئے مزید سخت ہوسکتے ہیں۔ اب دیکھنا ہو گا کہ احمد شہزاد اس برے دور سے نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر پی ایس ایل ڈرافٹ میں ہونے والی یہ خفت ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔