December 03, 2018
پہلا ٹیسٹ غیر متوقع شکست کیوں ہوئی؟

پہلا ٹیسٹ غیر متوقع شکست کیوں ہوئی؟

نیوزی لینڈ نے اعجاز پٹیل کی شاندار بولنگ کی بدولت پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو 4 رنز سے شکست دے دی۔ شیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو جیت کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا تھا۔ پاکستان کی بیٹنگ لائن کے ایک لیے ٹیسٹ کرکٹ میں ایک چھوٹا سا ہدف بھی پہاڑ بن گیا۔ دن کے آغاز پر پاکستان نے 37رنز بغیر کسی نقصان کے اپنی نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو 40 کے مجموعی اسکور پر امام الحق 27رنز بنانے کے بعد اعجاز پٹیل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ پہلی وکٹ گرنے کے بعد محمد حفیظ 10رنز بنا کر 44کے مجموعے جبکہ حارث سہیل 4 رنز بنا کر 48 کے مجموعے پر آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔
پاکستان کو ابو ظبی ٹیسٹ میں جیت کیلئے 176رنز کا ہدف تجربہ کار اظہر علی اور اسد شفیق نے ٹیم کو سنبھالا اور 82 رنز کی اہم پارٹنر شپ قائم کرتے ہوئے ٹیم کو مشکلات سے نکال کر جیت کی راہ پر گامزن کیا۔ تاہم کھانے کے وقفے سے پہلے اسد شفیق 46 رنز بنانے کے بعد وینگر کی گیند پر آؤٹ ہوگئے تھے، جبکہ وقفے کے بعد دوبارہ کھیل کا آغاز ہوا تو 13 رنز بنانے کے بعد بابراعظم 147رنز پر آؤٹ ہوگئے۔ کپتان سرفراز احمد 3 جبکہ بلال آصف، یاسر شاہ اور حسن علی کے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد جیت کے لیے تمام امیدیں اظہر علی سے تھیں۔ ہدف سے 5 رنز قبل اظہر علی اعجاز پٹیل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے تو 171 رنز پر پاکستان کی اننگز کا خاتمہ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کے کھلاڑی اعجاز پٹیل کو دوسری اننگز میں 5 وکٹیں لے کر پاکستان بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرنے پر میں آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ پہلی اننگز میں بلے بازوں کی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ کے بدولت پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں بھاری برتری کا نادر موقع گنوا دیا تھا اور نیوزی لینڈ نے میچ میں شاندار انداز میں واپسی کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تھی۔ پاکستانی بولرز کی شاندار بولنگ کی بدولت پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 153 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئی تھی۔ پاکستانی ٹیم کیویز کی پہلی اننگز کے کم اسکور کے مقابلے میں صرف 227 رنز ہی بنانے میں کامیاب ہوئی تھی اور صرف 74رنز کی برتری ہی حاصل کر پائی تھی۔ دوسری اننگز میں یاسر شاہ اور حسن علی کی شاندار بولنگ کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 249 رنز پر آؤٹ ہوگئی اور 74رنز کے خسارے کے باعث پاکستان کو 176 رنز کا ہدف ملا تھا۔
قومی ٹیم کے میڈیم پیسر حسن علی نے نیوزی لینڈ کے خلاف دوسری اننگز میں بہترین بولنگ کا کریڈٹ بولنگ کوچ اظہر محمود کو دیدیا۔ فاسٹ بولر حسن علی نے ابوظبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 45 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کئے اور پاکستان کو ٹیسٹ میچ میں جیت کے قریب پہنچا دیا۔ حسن علی نے اپنی بولنگ کا کریڈٹ بولنگ کوچ اظہر محمود کو دیتے ہوئے کارکردگی کو انہی کے نام سے منسوب کیا ہے۔ حسن علی اور یاسر شاہ نے پاکستان کی جانب سے ایک ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں لینے کا کارنامہ 14سال بعد انجام دیا۔ 2004ء میں میلبورن میں شعیب اختر اور دانش کنیریا نے ایک ہی اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ حسن علی نے کیرئیر میں پہلی بار پانچ وکٹ حاصل کئے جب کہ یاسر شاہ نے یہ کارنامہ 14ویں بار انجام دیا۔ پاکستان کی طرف سے حسن علی نے 45 رنز دے کر پانچ جب کہ یاسر شاہ نے 110 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ 24 سالہ حسن علی اپنے کیرئیر کا پانچواں ٹیسٹ کھیل رہے ہیں ۔انہوں نے میچ میں مجموعی طور پر سات وکٹ حاصل کئے۔ حسن علی کا کہنا ہے کہ 2016ء میں اظہر محمود پہلی بار بولنگ کوچ بنے اور میں بھی انگلینڈ کے دورے میں پہلی بار پاکستانی ٹیم میں آیا تھا، میرے کیرئیر میں ان کا بڑا ہاتھ ہے، میں اپنی یادگار کارکردگی کو اپنے بولنگ کوچ اظہر محمود کے نام سے منسوب کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں جب پاکستانی ٹیم میں آیا تو آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں شاداب خان اور فہیم اشرف صبح پانچ بجے اٹھ کر آتے تھے، میں نے فہیم اور شاداب نے اظہر محمود کے ساتھ بہت محنت کی ہے، اس لیے میری کارکردگی کا سہرا اظہر محمود کو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بولنگ کوچ اظہر محمود نے مجھے جو پلان دیا تھا، اسی کے مطابق بولنگ کی اور محنت کا صلہ ملا، لائن پر بولنگ کی کوئی خاص چیز نہیں کی۔ حسن علی نے کہا کہ جب بھی آپ کسی فارمیٹ میں پانچ وکٹیں لیتے ہیں تو آپ کو اطمینان ملتا ہے۔ اس سے قبل میں لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف چار وکٹیں حاصل کر چکا تھا، اب پہلی بار ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹیں لینے پر خوش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں جب نہیں بھی کھیل رہا تھا تو اس وقت بھی محنت کر رہا تھا، میری مسلسل محنت کا مجھے صلہ ملا۔ حسن علی نے کہا کہ اس پچ پر جو وقت لے گا اسے رنز ملیں گے۔ ہمیں یقین تھا کہ جیسے ہی پانچویں وکٹ کی شراکت ختم ہو گی ،ہم نیوزی لینڈ کو جلد آؤٹ کر لیں گے، اور پھر ایسا ہی ہوا۔ شراکت ختم ہوتے ہی دو اوورز میں تین وکٹیں لے لیں اور میچ میں واپس آگئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اوپنرز کے پلان کا علم نہیں ہے لیکن یہی پلان لگتا ہے کہ وقت لیں اور جلدبازی نہ کریں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے دو طرفہ سیریز نہ کھیلنے پر بھارت پر ہرجانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست مسترد کردی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی نے پاکستان کی اپیل پر تین روز سماعت کی، جس پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کی اپیل کو مسترد کردیا گیا۔ آئی سی سی کی جانب سے کمیٹی کا تفصیلی فیصلہ فوری طور پر جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئی سی سی کی ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترجمان پی سی بی کا کہنا ہے کہ ریزولوشن کمیٹی کے تفصیلی فیصلے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سابق چیئرمین کے دور میں پی سی بی نے 2014ء میں متنازع بگ تھری کی غیرمشروط حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان 2015ء سے 2023ء تک 6سیریز ہونا تھی جن میں 14 ٹیسٹ 30 ون ڈے انٹرنیشنل اور 12 ٹی ٹوئنٹی شامل تھے لیکن بھارتی بورڈ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ پی سی بی نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر گزشتہ سال آئی سی سی میں اپیل دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 2014ء میں ہونے والے معاہدے کے بعد اگر پاکستان، بھارت کے ساتھ دو طرفہ سیریز نہیں کھیلا تو پاکستان کو سیریز نہ ہونے سے بھاری نقصان برداشت کرنا پڑے گا ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی اپیل میں بھارت پر 70 ملین ڈالرز جرمانہ عائد کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہونے والے نقصان کا ازالہ ہوسکے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئندہ برس مارچ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی جانے والی ون ڈے سیریز کے کچھ میچز ہوم گراؤنڈز میں کرانے کی کوششیں شروع کردیں۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 5 ایک روزہ میچز پر مشتمل سیریز کا شیڈول تبدیل نہیں کیا جا رہا، ون ڈے سیریز آئندہ برس 19؍ مارچ سے 31؍ مارچ کو ہی شیڈول ہے۔ پی سی بی کے مطابق سیریز کی شیڈول کے مطابق میزبانی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک آسٹریلیا سیریز کے ایک سے 2 میچز پاکستان میں کرانے کی کوششیں جاری ہیں جس کے لیے پی سی بی نے کراچی یا لاہور میں میزبانی کا آپشن کھلا رکھا ہے۔ فیوچر ٹور پروگرام کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان آئندہ برس دو طرفہ سیریز کھیلی جائے گی۔ مارچ میں پاکستان، آسٹریلیا کی اور دسمبر میں آسٹریلیا، پاکستان کی میزبانی کرے گا۔ مارچ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 5 ون ڈے میچز کھیلے جائیں گے اور آسٹریلیا کی میزبانی میں ہونے والی سیریز 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل ہوگی۔
پاکستان نے ابوظبی میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کو 153رنز پر آؤٹ کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن پوری ٹیم پہلی اننگز میں صرف 153رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ یہ ابوظبی میں اب تک کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں کسی بھی ٹیم کا پہلی اننگز میں سب سے کم اسکور ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ سری لنکا کے پاس تھا جو پاکستان کے خلاف 197رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔ پاکستانی فاسٹ بولر عباس نے اس اننگز میں بھی عمدہ بولنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک نیا منفرد ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ عباس نے جیت راول کو آؤٹ کر کے پاکستان کو میچ میں کامیابی دلانے کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کے لیے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کردیا اور وہ ڈیبیو کے بعد لگاتار 20 اننگز میں وکٹ لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے۔ اپنے کیریئر کا 11واں ٹیسٹ میچ کھیلنے والے عباس نے گزشتہ سال ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور اس کے بعد سے اب تک مسلسل 20 اننگز میں وکٹیں لے چکے ہیں جو پاکستان کی جانب سے ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل ڈیبیو کے بعد لگاتار 19اننگز تک وکٹیں لینے کا ریکارڈ اسپنر عبدالرحمٰن کے پاس تھا جبکہ کیریئر کی ابتدائی 32اننگز میں لگاتار وکٹیں لینے کا ریکارڈ نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر شین بونڈ کے پاس ہے۔
پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں فتح کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کی ٹیم نے نیا منفرد ریکارڈ اپنے نام کر لیا بلکہ پاکستان کی ٹیم بھی ایک ریکارڈ کا حصہ بن گئی۔ نیوزی لینڈ نے میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد کم بیک کرتے ہوئے پاکستان کو 4رنز سے شکست دے کر فتح حاصل کی جو اس کی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے کم مارجن سے فتح ہے۔ اس سے قبل نیوزی لینڈ نے سب سے کم تر مارجن سے فتح آسٹریلیا کے خلاف 2011ء میں حاصل کی تھی جب انہوں نے اپنے پڑوسی ملک کو انہی کے دیس میں 7رنز سے مات دی تھی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں کمتر مارجن سے فتح کی بات کی جائے تو یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے پاس ہے جس نے 1993ء میں آسٹریلیا کو ایک رن سے شکست دے کر اعصاب شکن معرکہ اپنے نام کیا تھا۔ نیوزی لینڈ کی پاکستان کے خلاف مجموعی طور پر کسی بھی ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھے کمتر مارجن سے فتح ہے اور یہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے 4رنز سے فتح اپنے نام کی۔ یہ پاکستان کی بھی ٹیسٹ کرکٹ میں بھی سب سے کمتر مارجن سے شکست ہے اور اسے آج تک اتنے کم رنز سے کسی میچ میں ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔
دلچسپ امر یہ کہ پاکستان کو اس سے قبل بھی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے کم مارجن سے شکست کا سامنا ابوظبی میں ہی کرنا پڑا تھا جب گزشتہ سال 136رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو بیٹنگ لائن کی ناکامی کے نتیجے میں 21رنز سے شکست ہوئی تھی۔
اعجاز پٹیل نیوزی لینڈ کے پہلے مسلمان ٹیسٹ کرکٹر ہیں۔ لیفٹ آرم اسپنر نے ابوظبی میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ پہلے ٹیسٹ میں سات وکٹیں لے کر مین آف دی میچ قرار پائے۔ تیس سالہ اعجاز پٹیل نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں نیوزی لینڈ کی جانب سے ڈیبیو کیا تھا۔ وہ بلیک کیپس ٹیم کے پہلے مسلمان کرکٹر بن گئے۔ لیفٹ آرم اسپنر نے ابوظبی میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ وہ 1988ء میں ممبئی میں پیدا ہوئے اور نیوزی لینڈ کے پانچویں بھارتی نژاد اور پہلے مسلمان ٹیسٹ کرکٹر کا اعزاز حاصل کرلیا۔ اعجاز پٹیل کی فیملی 1996ء میں نیوزی لینڈ منتقل ہوگئی جب وہ صرف چھ سال کے تھے۔ 2012ء میں انہوں نے کیویز کے دیس میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ 2018ء میں وہ ڈومیسٹک بیسٹ پلیئر ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اسپنر سینٹنر اور ٹوڈ ایسٹل کے زخمی ہونے کی وجہ سے انہیں نیوزی لینڈ ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا۔ ٹیسٹ ڈیبیو پر دونوں اننگز میں انہوں نے چھ، چھ رنز بنائے۔ پاکستان کے کپتان سرفراز احمد کو ویگنر سے کیچ کرا کے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی وکٹ حاصل کی۔ پہلی اننگ میں اعجاز نے دو اور دوسری اننگ میں پانچ وکٹیں لے کر کیویز کو فتح دلائی اور مین آف دی میچ قرار پائے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کین ولیم سن نے ڈرامائی فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس میچ کو ’ٹیسٹ کرکٹ کی اچھی تشہیر‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ تھا کہ جیتنا آسان نہیں ہوگا تاہم ہمارے کھلاڑیوں نے اچھا پرفارم کیا اور ٹیم کو ناقابل یقین فتح سے ہمکنار کرایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ڈرامائی میچ تھا۔ میچ کے چاروں دن دونوں ٹیمیں دباؤ کا شکار رہیں لیکن اختتام پر یہ میچ ٹیسٹ کرکٹ کی شاندار تشہیر ثابت ہوا۔ اس میچ میں فتح کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ نے سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی تھی۔ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے نتائج ان سطور کی اشاعت تک سامنے آ چکے ہوں گے۔
قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کا ذمے دار بیٹنگ لائن کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میچ میں کوئی بھی بلے باز لمبی اننگز نہ کھیل سکا اور کھلاڑی مشکل صورت حال میں دباؤ برداشت نہ کر سکے۔ ابوظبی میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 176رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4 رنز سے شکست ہوئی۔ میچ میں شکست کے بعد کپتان سرفراز احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیٹسمینوں کو وکٹ پر ٹھہرنا چاہیے تھا، تمام پلیئرز کو مثبت کرکٹ کھیلنے کا کہا تھا اور امید تھی کہ ہم جیت جائیں گے لیکن کھلاڑی مشکل صورت حال میں دباؤ برداشت نہیں کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جس طرح اننگز کا آغاز کیا تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بہ آسانی ہدف حاصل کر لیں گے لیکن پھر یکے بعد دیگرے تین وکٹیں گر گئیں، جس کے بعد اسد شفیق اور اظہر علی نے اچھی ساجھے داری قائم کی۔ سرفراز نے وکٹ کا رویہ تبدیل ہونے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وکٹ میچ کے چاروں دن ایک جیسی تھی، وکٹ پر سیٹ ہونے والے کھلاڑیوں کو موقع سے فائدہ اٹھا کر لمبی اننگز کھیلنی چاہیے تھی لیکن ہم نے پورے میچ میں دیکھا کہ جیسے ہی دونوں ٹیموں کی اہم پارٹنرشپ ٹوٹی، تو اس کے ساتھ ہی بیٹنگ لائن ڈھیر ہو گئی۔