December 03, 2018
پیار ٹھنڈا پڑ جانے پرگیتادت کو حیرت یا شکوہ نہیں تھا - قسط  :    26

پیار ٹھنڈا پڑ جانے پرگیتادت کو حیرت یا شکوہ نہیں تھا - قسط : 26

اپنے وقت کی بے مثال اداکارہ وحیدہ رحمان کی آپ بیتی

گرودت اور گیتا کے درمیان لڑائی جھگڑوں میں وقفہ آیا تو یوں لگا جیسے گرج چمک اور طوفان باد و باراں کے بعد سکوت چھا گیا ہو۔ مطلع صاف ہوگیا مگر گرودت پر ایک بار پھر گھٹن اور اکیلے پن کے احساس نے حملہ کر دیا۔ وہ ڈپریشن کا شکار تھا۔ اس پر وہی کیفیت طاری رہنے لگی۔ دماغ جیسے ٹُھس ہوگیا تھا۔ وہ خاموش بیٹھا پیتا رہتا۔ گیتا اس کا بھرپور ساتھ دیتی۔ شادی کو اتنے دن گزر جائیں تو وہ شروع کے زمانے والے چونچلے تو رہتے نہیں۔ پیار ٹھنڈا پڑ جانے پر گیتا کو حیرت یا شکوہ نہیں تھا۔ اپنی بے چینی کو دبانے کے لئے وہ بھی شراب کا سہارا لیتی لیکن پھر بھی نیند نہ آتی۔ آخر کار وہ نیٹ وہسکی کا ایک گلاس چڑھاتی، تب ذہن غنودگی کے خوشگوار احساس سے گزرتا ہوا دھیرے دھیرے نیند کی وادی میں اُترتا ورنہ وہ گرودت کے قریب لیٹی بے چینی سے کروٹیں بدلتی رہتی۔ کبھی کبھی تو اسے شراب کے ساتھ نیند کی گولیوں کا بھی سہارا لینا پڑتا لیکن وہ اس پر بھی خوش تھی۔ کم از کم گرودت اب راتوں کو کہیں اور نہیں، اس کے پہلو میں ہوتا تھا۔ اس کے لیے یہی اطمینان کافی تھا۔
…٭…
وحیدہ رحمان کی شوٹنگ دُوسرے اسٹوڈیو میں چل رہی تھی۔ وہ اب دُوسری کمپنیوں کی فلموں میں بھی کام کر رہی تھی۔ معاہدے کے مطابق اسے دُوسرے کمپنی کی فلموں میں سے پچاس فیصد معاوضہ گرودت فلمز کو دینا تھا۔ ان چیزوں کا حساب کتاب گرودت کا آدمی کیشو ہی رکھ رہا تھا کیونکہ وحیدہ ابھی گرودت ہی کی کمپنی کی ملازم تھی لیکن وہ دُوسری کمپنیوں کی جن فلموں میں کام کر رہی تھی، ان کے معاوضوں میں سے پچاس فیصد ابھی گرودت فلمز میں جمع کرانے کی نوبت نہیں آئی تھی کیونکہ اس نے کچھ عرصہ قبل اپنا فلیٹ اور پھر گاڑی خریدی تھی۔ ان کی قسطیں جاری تھیں۔
اس روز گرودت نہ جانے کس کام سے دُوسرے اسٹوڈیو کی طرف جا نکلا جہاں وحیدہ کی اس فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی جس سے گرودت کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ بڑا لمبا چوڑا سیٹ لگا ہوا تھا۔ وحیدہ نہایت زرق برق کپڑے پہنے ایک بھوندو قسم کے ہیرو کے ساتھ نہایت سستے انداز میں رومانس لڑا رہی تھی۔ اسے عجیب انداز میں تھرکتے اور آنکھیں مٹکاتے دیکھ کر گرودت کا خون کھول گیا۔
شوٹنگ میں وقفہ آیا تو گرودت کو تنہائی میں وحیدہ سے بات کرنے کا موقع ملا۔
’’یہ ایکٹنگ ہے؟‘‘ اس نے وحیدہ کو ڈانٹا۔ ’’بندریا کی طرح اُچھل کود رہی ہو۔ فاحشہ عورتوں کی طرح ناز نخرے دِکھا رہی ہو اور ساتھ ساتھ ٹھمکے بھی لگا رہی ہو۔‘‘ اس کے لہجے میں بے پناہ غصہ تھا۔
’’کیا کروں… رول ہی ایسا ہے۔‘‘ وحیدہ نے گویا مجبوری بیان کی۔
’’رول چاہے جیسا بھی ہو، اسے اوور ایکٹنگ سے مزید خراب کیوں کر رہی ہوں؟ اتنا لٹکنا مٹکنا اور گلا پھاڑ کر بولنا ضروری ہے؟ آہستہ نہیں بولا جاتا تم سے؟‘‘ گرودت کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔
’’بھئی جیسے ڈائریکٹر کہے، ویسے کرنا پڑتا ہے۔‘‘ وحیدہ نے گویا ایک بار پھر مجبوری کا اظہار کیا۔
’’کیوں کرنا پڑتا ہے؟ ساری ایکٹنگ بھول گئیں کیا؟ یہ بھی بھول گئیں کہ ہم تمہیں لے کر ’’چودہویں کا چاند‘‘ جیسی فلم بنا رہے ہیں۔ تم دوسری فلموں میں ایسی تھرڈ کلاس ایکسٹرا گرلز جیسی ایکٹنگ کرو گی تو ’’چودہویں کا چاند‘‘ کا امیج بھی خراب ہوگا۔ اس میں بھی تمہارے رول کا بیڑا غرق ہو جائے گا۔‘‘ گرودت نے ذرا نرم پڑتے ہوئے گویا سمجھانے کی کوشش کی۔
’’کیوں بیڑا غرق ہوگا؟ وہاں تو آپ ڈنڈا لئے میرے سر پر سوار ہوں گے نا…‘‘ وحیدہ نے ہلکی سی شریر مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’اس کے لیے میں نے دوسرے ڈائریکٹر کی خدمات حاصل کی ہیں۔‘‘ گرودت ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔
’’مگر پھر بھی… آپ موجود تو ہوں گے نا…!‘‘
’’میں اپنی شوٹنگ کے سلسلے میں زیادہ تر مدراس میں ہوں گا۔‘‘
’’ہائے اللہ… تو کیا اس فلم میں آپ میرے ساتھ نہیں ہوں گے؟‘‘
’’ابھی میں فیصلہ نہیں کر سکا… ہو سکتا ہے میں لیڈنگ رول نہ کروں۔‘‘ گرودت نے امکان ظاہر کیا۔
’’پھر مجھے بھی کیا ضرورت ہے اس فلم میں کاسٹ کرنے کی؟‘‘ وحیدہ گویا یکایک ہی مایوس ہوگئی۔ ’’آپ میری جگہ نندا کو ہیروئن لے لیں۔‘‘
’’نہیں لے سکتا میں اسے…‘‘ گرودت نے فیصلہ سنایا۔ ’’ابرار کہتا ہے کہ اس نے یہ رول تمہیں ذہن میں رکھ کر لکھا ہے۔‘‘
’’کیا فائدہ مجھے ذہن میں رکھ کر رول لکھنے کا…!‘‘ وحیدہ کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔ ’’جب آپ ہی سامنے نہیں ہوں گے تو میں رول کر کے کیا کروں گی؟‘‘
’’بہت اچھا رول ہے۔ تم ہی کرو گی۔‘‘ گرودت نے فیصلہ سنا دیا۔ ’’تمہارے سامنے کون ہوگا، اس کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔ مجھے اپنا شیڈول دیکھنا ہوگا۔‘‘
’’اچھا جی… جو حکم سرکار کا…‘‘ وحیدہ نے ہاتھ جوڑ کر سر جھکا دیا۔ ’’لیکن میں یہ ضرور کہوں گی کہ جو صرف مجھے ذہن میں رکھ کر آپ کی فلموں کے اسکرپٹ لکھے گا اور میرے ساتھ آپ کو ذہن میں نہیں رکھے گا، اسے میں بددعا دوں گی۔ اللہ کرے اس کا قلم ٹوٹ جائے۔‘‘
اس کے انداز پر گرودت کو ہنسی آ گئی۔ وہ گویا اپنا غصہ بالکل ہی بھول گیا۔ مگر دوسرے ہی لمحے بالکل سنجیدہ صورت بنا کر بولا۔ ’’اب تو میں اپنی ہر فلم میں تمہارے ساتھ کسی اور کو ہی ہیرو کاسٹ کیا کروں گا۔‘‘
’’میں شام پانچ بجے کی گاڑی سے جا رہی ہوں۔‘‘ وحیدہ نے اچانک نہایت سنجیدگی سے اعلان کیا۔
’’کہاں؟‘‘ گرودت نے چونک کر پوچھا۔
’’بنگلور…‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘ گرودت حیران ہو کر بولا۔
’’جب مجھے آپ کی فلموں میں بھی آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا ہے، تو میں یہاں رہ کر کیا بھاڑ جھونکوں گی؟‘‘ وحیدہ نے رنجیدہ سی شکل بنا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
گرودت کو تب سمجھ آئی کہ وہ مذاق بھی کر رہی تھی اور دل کی بات بھی۔ اس نے بھی بظاہر اپنی سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے یاد دلایا۔ ’’پانچ سال کا کنٹریکٹ ہے۔‘‘
’’بھاڑ میں گیا کنٹریکٹ… جب کنٹریکٹ والا ہی ہمارے ساتھ نہیں تو ہمیں کیا مطلب کنٹریکٹ سے…!‘‘
’’جانتی ہو، کنٹریکٹ توڑو گی تو کیا ہوگا؟‘‘
’’پھانسی سے زیادہ تو کچھ نہیں ہوسکتا نا؟ دلوا دیجیے گا پھانسی…‘‘ وحیدہ نے گویا گلے میں پھندا ڈلوانے کے لیے سر آگے کر دیا۔ وحیدہ کی ایسی ہی باتیں گرودت کو اپنا اسیر بنائے ہوئے تھیں۔
…٭…
ادھر وحیدہ سے گرودت کا تعلق گہرا ہو رہا تھا، ادھر گھر میں گیتا سے جھگڑے ایک بار پھر بڑھتے جا رہے تھے۔ آخرکار وہ لڑ جھگڑ کر میکے والے گھر جا بیٹھی۔ وقت بہت نازک تھا۔ گرودت کی نئی فلم کے سارے گانے گیتا کو گانے تھے مگر اس نے گانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ ابرار علوی اور کیشو نے گرودت کو آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی کہ وہ گیتا کو منانے چلا جائے۔
’’میں اس کے دروازے پر ناک رگڑنے نہیں جائوں گا۔ کسی اور سے گانے گوا لوں گا۔ اگر فلم نہ بھی بنے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بھلے ہی فلم نہ بنے۔‘‘ گرودت نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ وہ بھی اس بار بہت غصے میں تھا۔ گیتا کی شرط تھی کہ وہ گرودت کی صرف ان فلموں کے لئے گائے گی جن میں وحیدہ نہیں ہوگی۔ وہ ایک بار پھر اپنے اس مطالبے پر اَڑ گئی تھی کہ وحیدہ سے ہر قسم کے معاہدے منسوخ کئے جائیں، آئندہ اس سے کوئی معاہدہ نہ کیا جائے اور گرودت آئندہ اسے اپنی کسی فلم میں کاسٹ نہ کرے۔ بیوی کی جانب سے یوں شرائط عائد کئے جانے پر گرودت کی اَنا مجروح ہوئی تھی۔ اسے بھی گویا ضد سی ہوگئی تھی کہ وہ اس طرح حکم دیئے جانے پر، حکم کی تعمیل ہرگز نہیں کرے گا۔
ابرار اور کیشو ایک روز گرودت کے علم میں لائے بغیر، اپنے طور پر گیتا کو منانے اس کے گھر پہنچ گئے۔ انہیں کافی اُمید تھی کہ گیتا ان کے آنے کو کافی سمجھے گی اور ان کی بات مان لے گی۔ ملازمہ نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا مگر پھر اندر سے جواب آیا کہ میڈم گیتا ان سے ملنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ واپس چلے جائیں۔
بڑی مشکل سے گیتا ان سے ملنے ڈرائنگ روم میں آئی لیکن آتے ہی ان پر بری طرح برسنے لگی ’’بڑے شریف بنے پھرتے ہوتم دونوں… لیکن حقیقت میں تم اپنے صاحب کی دلالی کرتے ہو۔‘‘
توہین کے احساس سے ابرار علوی کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ اس نے گویا خود پر ضبط کرتے ہوئے ہلکی سی تنبیہ کے انداز میں کہا ’’بھابی…!‘‘ اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکا۔
’’مجھے بھابی نہ کہو…‘‘ گیتا نرم پڑنے کے بجائے مزید بھڑک کر بولی’’پتا نہیں کس کس کوتم لوگ گھیر گھار کر لاتے ہو اور اپنے صاحب کا بستر گرماتے ہو۔ اس کلموہی کوبھی تم لوگ ہی لائے تھے (اشارہ وحیدہ رحمان کی طرف تھا) اور وہ تو اچھی بھلی دوسری کمپنی میں جارہی تھی … یا شاید اپنے پرانے گھر واپس جارہی تھی۔ تم ہی لوگوں نے سمجھا بجھا کر اسے روکا۔ اب جاؤ… گانے بھی اسی سے گواؤ… میں نہیں گاؤں گی کوئی گانا…‘‘
گیتا اپنے آپے میں نہیں تھی۔ اس کے منہ سے وہسکی کے بھپکے چھوٹ رہے تھے۔ اس کی بہن اسے کھینچ کر اندر لے جانے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آرہی تھی۔ وہ مزید برسے جارہی تھی ’’مجھے بہت اچھی طرح پتا چل گیا ہے، وہ کس قماش کی عورت ہے۔ مجھے اس جیسی سمجھنے کی غلطی نہ کرنا۔ اس کا گھر تو اس کی ذات برادری والوں کے لئے عیاشی کا اڈا بن گیا ہے۔ مجھے سب رپورٹیں ملتی رہتی ہیں۔‘‘
اس کی جگہ اگر کوئی اور گانے والی ہوتی تو ابرار علوی اس کا منہ توڑ دیتا مگر گیتا کی بات اور تھی۔ وہ گرودت کی بیوی تھی۔ اس نے کان دبا کر وہاں سے نکل لینے میں ہی عافیت سمجھی۔ وہ اور کیشو وہاں سے نکل کر گاڑی میں بیٹھے اور تیزی سے واپس روانہ ہوگئے۔
راستے میں ابرار علوی گھٹی گھٹی اور قدرے غصیلی سی آواز میں بولا۔ ’’ سبھی فلمی ہیرو گھر کی بیوی کے علاوہ کوئی نہ کوئی باہر والی بھی رکھتے ہیں۔ سبھی کی بیویوں کو پتا ہے مگر ایسا ہنگامہ تو کوئی نہیں مچاتی۔‘‘
کیشو بولا ’’اسے دراصل اپنے اوپر بڑا گھمنڈ ہے۔ فلم انڈسٹری میں اس کی اپنی بڑی پوزیشن ہے نا… اور اپنے گرودت بابو سے کافی پہلے سے ان کی پوزیشن اچھی ہی تھی۔ آج کل کی عورت اپنی پوزیشن کو خوب استعمال کرتی ہے بھائی۔ اسی لئے تواب فلمی لوگوں میں ’’باہر والی‘‘ کا رواج ذرا کم ہوتا جارہا ہے۔ جو لوگ باہر تعلقات رکھے ہوئے ہیں، وہ بھی بہت احتیاط سے… بہت چھپ چھپا کررکھے ہوئے ہیں۔ گھر میں بیوی طاقتور ہوتو باہر والی کو مار بھگاتی ہے۔‘‘
’’ ہاں… یہ تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔‘‘ ابرار نے دھیمی آواز میں کہا۔
ادھر دوسری طرف گیتا کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ وہ ابرار اور کیشو کے جانے کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھی۔ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور اسی وقت موسیقاروں اور گلوکاروں کی ایسوسی ایشنز کو فون کرکے ہنگامی میٹنگ طلب کرلی۔ اس میٹنگ کے فوراً بعد لتا منگیشکرنے الٹی میٹم دے دیا کہ آئندہ اگر کسی گلوکار یا گلوکارہ نے گرودت کی فلم کے لئے گایا اور اگر کسی میوزک ڈائریکٹر یا سازندے نے گرودت کی فلم کے لیے موسیقی دینے کےسلسلے میں کوئی کردار ادا کیا تو لتامنگیشکر ان سے کوئی واسطہ نہیں رکھے گی۔ لتا نے گیتا کو خوب تسلی دی کہ کوئی بھی سازندہ یا گلوکار اس کی حق تلفی نہیں ہونے دے گا اور گرودت کو من مانی نہیں کرنے دے گا۔
لتا نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا، اس نے تو باقاعدہ ایک جال سابن ڈالا۔ اس نے اپنے بائیکاٹ کا دائرہ اور بھی وسیع کردیا۔ آرٹسٹ، ٹیکنیشین، لیبارٹری والے، ڈسٹری بیوٹر، غرضیکہ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی فرد گرودت سے تعاون کرے گا تو وہ لتا سے کسی قسم کے تعاون کی امید نہ رکھے۔ لتا اس وقت تقریباً80فیصد فلم انڈسٹری کے لئے ناگریز تھی اور اس جیسی شخصیت کی طرف سے اس قسم کا اعلان بہت ہی سخت تھا۔
گرودت کو الٹی میٹم دے دیا گیا کہ وہ وحیدہ رحمان کو اپنی فلموں سے الگ کردے۔ گرودت کو یہ الٹی میٹم تحریری شکل میں ملا۔ اس پر فلم انڈسٹری کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کئی تنظیموں کے نام موجود تھے۔ گرودت نے وہ الٹی میٹم یا نوٹس پڑھا اور پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ پھر اس نے ٹوکری اٹھاکر، کھڑکی میں سے ہاتھ بڑھا کر باہر خالی کردی۔
’’میں بغیر میوزک کے فلم بناوں گا۔‘‘ اس نے اعلان کیا۔
’’مگر دوسرے اسٹاف کا کیا ہوگا؟ آرٹسٹ ہیں… اسٹوڈیو اسٹاف ہے…‘‘ ابرار علوی نے دبی دبی زبان میں کہا۔ (جاری ہے)