December 03, 2018
عبیر رضوی …نگاہیں ڈھونڈتی ہیں قربتوں کو

عبیر رضوی …نگاہیں ڈھونڈتی ہیں قربتوں کو

عبیر رضوی پاکستان کی ایک تیزی سے ابھر کر سامنے آنے والی ماڈل اور اداکارہ ہیں، جنہوں نے شہرت کے افق پر اپنی چمک سے دیکھنے والی آنکھوں کو خیرہ کر رکھا ہے۔ وہ 1988ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں، 29 سالہ عبیر کو اگرچہ اداکاری میں ابھی کئی منازل طے کرنا ہیں مگر ماڈلنگ کے ریمپ پر وہ صف اوّل میں شمار ہوتی ہیں۔ کراچی والی ہونے کے باعث انہیں یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ وہ انٹرٹینمنٹ کے دارالحکومت یعنی کراچی کی ہی رہنے والی ہیں، ورنہ ڈراموں، فلموں اور ماڈلنگ میں نام بنانے کے لئے آج کل لاہور، اسلام آباد یا دیگر شہروں سے فنکاروں کو ہجرت کرکے کراچی آنا پڑرہا ہے اور اپنے آبائی گھر سے دور رہنے کا کرب برداشت کرتے ہوئے فن کی دنیا میں نام بنانے کی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔
عبیر نے اپنے سفر کا آغاز بطور ماڈل کیا، انہیں اوائل عمری سے ہی اداکاری اور ماڈلنگ میں نام بنانے کی جستجو تھی، پھر قدرت نے انہیں گوری رنگت، تیکھے نقوش، بھرپور نسوانی حسن، مطلوبہ جسامت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تاثرات سے مرصع خوبصورت چہرہ عطا کردیا۔ ان سب چیزوں کی آمیزش نے ہی انہیں ایک عام سی لڑکی سے پہلے ماڈل بنایا اور پھر جلد ہی وہ سپر ماڈل کی مسند پر بھی متمکن ہوگئیں۔
اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان دنوں پاکستان میں ٹی وی، فلموں اور ماڈلنگ کا شعبہ نوجوانوں کی خصوصی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت دوشیزہ، راتوں رات ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوکر شہرت کی وادیوں کی سیر کو نکلنے کے لیے پوری طرح تیار کھڑی ہے لیکن کامیابی کس کے قدم چوم رہی ہے۔ صرف خوبصورت چہرہ اور دلکش سراپا ہی سرخروئی کی ضمانت نہیں ہے، بڑی ذہانت سے آگے بڑھنے والے ہی اس مشکل سفر کی کٹھن راہوں پر بکھرے کانٹوں کو پھول کی پتیوں میں بدل کر منزلِ مقصود تک پہنچنے کا ہنر جانتے ہیں اور لگتا یہی ہے کہ عبیر نے یہ فن بھی سیکھ لیا ہے۔
عبیر نے 2012ء میں ایک رئیلٹی ٹی وی شو کے ذریعے شرکت کرکے اپنی آمد کا بگل بجایا۔ ویٹ میں سپر ماڈل مقابلے میں انہوں نے ملک بھر سے آئی ہوئی حسینائوں کو اپنے جادو ادا جلووں سے مات دی اور مقابلہ جیت لیا۔ یہیں سے ان کی بلند پروازیوں کا آغاز ہوا۔ وہ اب تک ملک کے بڑے بڑے فیشن ڈیزائنرز کی برانڈ ماڈلنگ کرچکی ہیں، کوئی بڑا فیشن شو اب عبیر کی شمولیت کے بغیر مکمل تصور نہیں ہوتا۔ کون سا فیشن ویک یا برائیڈل ویک ہے، جس میں عبیر نے شرکت کرکے اپنی موجودگی کو ثابت نہ کردیا ہو۔
انہوں نے ٹی وی کمرشلز کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کے لیے ایسے ایسے ہوشربا فیشن شوٹس کروائے کہ دیکھنے والے ان کی سحر انگیزی کے قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ عبیر کے سراپے میں ایک قدرتی بولڈنیس چھپی ہوئی ہے، وہ مشرقی لبادے میں بھی اتنی ہی گلیمرس لگ رہی ہوتی ہیں، جتنی گلیمرس وہ مغربی ملبوسات کو زیب تن کرکے نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اداکاری کی ابتدا ساحر لودھی کی فلم ’’راستہ‘‘ میں اداکاری سے کردی ہے، اگرچہ فلم تو کامیاب نہ ہوسکی مگر فلم میں عبیر کی اداکاری کو ناقدین نے پسندیدگی کی سند سے نواز دیا ہے۔
آنے والے دنوں میں کچھ ڈرامے اور کچھ فلمیں عبیر کی پائپ لائن کا حصہ ہیں، مگر ان کی بنیادی توجہ اس وقت ماڈلنگ پر مرکوز ہے۔
آنے والے اچھے دنوں کی نوید ان کی سماعتوں سے ٹکرا رہی ہے اور نگاہوں میں بلند پرواز کا شوق ان کے مستقبل کی تابناکیوں کا پیغامبر بنا ہوا ہے۔