December 03, 2018
بہادر لڑکا آخری قسط

بہادر لڑکا آخری قسط

اس نے تیزی سے جھک کر چمگادڑ کے پنجوں سے خود کو بچایا، اب ذیشان کی دعا بھی مکمل ہوچکی تھی، اس نے زمین سے ایک پتھر اٹھا کر چمگادڑ کا نشانہ باندھا، پتھر مارنے کی دیر تھی کہ چمگادڑ دیوار سے ٹکرا کر تڑپنے لگی اور کچھ دیر بعد غائب ہوگئی۔ اب ذیشان کی مزید ہمت بندھی اور وہ پھر سے کمرے کی جانب چلنے لگا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ذیشان کی نظر ایک تصویر پر پڑی جس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ لگتا تھا تصویر کسی ماہر مصور نے بنائی ہے، کیونکہ آنکھیں اصلی معلوم ہو رہی تھیں، ذیشان نے اس تصویر کو ہاتھ لگانا چاہا لیکن اس نے ہاتھ جیسے ہی قریب کیا تو اس کی ٹانگ میں شدید درد کا احساس ہوا اور اس کے منہ سے زوردار چیخ نکلی جس سے پورا گھر لرز اٹھا۔
ذیشان کے حواس بحال ہوئے تو اس نے دیکھا کہ تصویر پر ایک بڑی سی چیونٹی چل رہی ہے، اس چیونٹی نے جیسے پوری تصویر کو اپنے قبضے میں لے رکھا تھا، ذیشان نے خوف محسوس کیا تو ایک بار پھر دعا پڑھنا شروع کردی، چیونٹی آہستہ آہستہ ذیشان کی طرف بڑھنے لگی تھی۔ قریب آتے ہی ذیشان نے چیونٹی کو بھی پتھر مارا، پتھر بڑی شدت سے لگا تھا، اس لیے وہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی اور تڑپنے لگے۔ اب ذیشان تصویر کی طرف بڑھا اور اسے زور سے زمین پر پٹخ دیا،پھر اس نے دو پتھر رگڑ کر آگ جلائی اور ایک ہی منٹ میں تصویر جل کر راکھ ہوگئی۔
تصویر کے جلتے ہی گھر میں زوردار دھماکہ ہوا اور کئی خوفناک چیخوں کے ساتھ ہی پورا گھر بھی غائب ہو گیا۔ چیخیں ختم ہونے کے بعد جب ذیشان نے آنکھیں کھولیں تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ کمرے کی بجائے خالی میدان میں کھڑا تھا اور گھر کا کوئی نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ میدان ایسے پڑا ہو اور وہاں کبھی گھر تھا ہی نہیں۔ اس وقت دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے اور ذیشان کو بھوک بھی ستا رہی تھی، اس لیے اس نے گھر کا رخ کیا اور گھر آکر کھانا کھا کر آرام سے سو گیا۔ شام کو جب سو کر اٹھا تو اس نے لوگوں سے بات سنی کہ جس مکان میں چند دن پہلے آگ لگی تھی، وہ اب غائب ہوگیا ہے۔ لوگ دور کھڑے ہو کر اس مکان والی جگہ کا جائزہ لے رہے تھے اور مختلف باتیں کر رہے تھے۔ ان لوگوں میں ذیشان بھی شامل ہوگیا اور کسی کو خبر نہ ہوئی کہ یہ ذیشان کا کارنامہ ہے۔ ذیشان باتیں سن کر مسکراتا رہا۔ (ختم شد)