December 03, 2018
اچھی عادت… گل نے سکھائی

اچھی عادت… گل نے سکھائی

’’ثناء بیٹا کہاں ہو؟ برتن کب سے ایسے ہی پڑے ہیں بیٹا جا کر دھو لو۔‘‘ ثناء ٹی وی دیکھنے بیٹھی ہی تھی کہ امی کی آواز آئی۔ وہ بادل نخواستہ اٹھی اور کچن میں برتن دھونے لگی، جب سارے برتن دُھل گئے تو وہ پھر سے ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئی۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ اُسے یاد آیا کہ اس نے تو ابھی تک ہوم ورک بھی نہیں کیا وہ جلدی سے اٹھی اور ہوم ورک مکمل کرنے لگی، اتنے میں ابو کی آواز آئی۔
’’ثناء آجائو بیٹا کھانا کھانے کیلئے۔ رات کا کھانا سب اکٹھے کھاتے تھے۔ اس لئے وہ بھی جلدی سے کھانے کیلئے آئی۔ کھانا کھاتے ہوئے اسے بار بار ہوم ورک یاد آ رہا تھا کہ ابھی تک اس نے ہوم ورک نہیں کیا، اپنے اور بھائی کے کپڑے بھی استری کرنے تھے اور پھر کچن بھی صاف کرنا تھا، اتنے کام تھے جب کہ ابو نے سختی سے کہا تھا کہ نو بجے تک سب سو جائیں۔ وہ آدھا کھانا کھا کر جلدی سے اٹھی اور اپنے اور بھائی کےکپڑے استری کئے، پھر کچن صاف کیا اتنے میں نو بج گئے۔
’’بیٹا آپ ابھی تک سوئی نہیں ہو؟‘‘ ابو نے اُسے کچن سے نکلتے ہوئے دیکھا تو کہا۔
’’بس بابا وہ کچن صاف کر رہی تھی ابھی جا رہی ہوں۔‘‘ اس نے ابو کو جلدی جلدی جواب دیا اور اپنے کمرے تک جانے لگی۔
’’بیٹا نماز پڑھ کر سو جانا۔‘‘ اس نے ’’جی ابو‘‘ کہا اور کمرے میں آکر نماز پڑھی اور پھر اپنا ہوم ورک مکمل کرنے لگی۔ اتنے میں رات کے دس بج گئے۔ صبح وہ جلدی اٹھ گئی لیکن نیند اسے ابھی تک آرہی تھی، رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے اور ابھی اسکول کیلئے بھی دیر ہو رہی تھی۔ اس نے جلدی سے ناشتہ تیار کیا اور جانے لگی۔ اسکول جا کر اُسے بہت بھوک لگ رہی تھی لیکن جب تک وقفہ نہ ہو جاتا تب تک وہ ناشتہ نہیں کرسکتی تھی اور بھوک سے اس کا برا حال تھا۔ سستی بھی ہو رہی تھی کیونکہ اس کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔ اس نے ہوم ورک اچھی طرح سے یاد کیا تھا، لیکن ٹیچر کو صحیح سے نہیں سنا سکی، ایک تو اس کا بھوک سے برا حال تھا اور دوسرا نیند کی وجہ سے سستی ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ٹیچر سے ڈانٹ پڑی۔ وہ بہت اُداس ہو گئی، یہ صرف آج کے دن نہیں ہوا تھا یہ روز ہوتاتھا، پتہ نہیں ایسا کیوں ہوتاتھا، لیکن وہ بہت پریشان تھی، بریک کے وقت وہ بینچ پر بیٹھ گئی۔ اس کی بھوک بھی مرگئی۔ وہ بہت اُداس ہو گئی۔ سب لڑکیاں کھیل رہی تھیں لیکن اس کا کھیلنے کو بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔ اتنے میں گل آئی، گل اس کی بہت اچھی دوست تھی۔ ہمیشہ خوش رہتی، اپنا سارا ہوم ورک بھی پورا کرتی اور ناشتہ کر کے بھی آتی اور بریک میں کھیلتی بھی تھی۔ وہ حسرت سے گل کو دیکھ رہی تھی۔

گل بھاگتی ہوئی آئی اور اس کے ساتھ بینچ پہ بیٹھ گئی۔’’آئو نا ثناء چلو کھیلتے ہیں، اتنا مزہ آ رہا ہے۔‘‘
’’نہیں گل میرا بالکل دل نہیں کر رہا ہے کھیلنے کا۔‘‘
’’کیوں اتنی اُداس ہو ثناء؟ میں کئی دن سے دیکھ رہی ہوں تم اتنی اداس رہتی ہو اور ہوم ورک بھی صحیح نہیں کرتی ہو، کیا بات ہے؟‘‘ گل نے ثناء کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا۔
’’گل! کئی دنوں سے پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا ہے۔ اپنا سب کام مکمل کرتے کرتے رات ہو جاتی ہے۔ تمہیں تو پتہ ہے کہ میری کوئی بہن نہیں ہے اور امی کے ساتھ کام کرنے میں بھی مجھے مدد کرنی پڑتی ہے، جس کی وجہ سے مجھے دیر ہو جاتی ہے رات کو سونے میں۔ صبح بھی ناشتے میں امی کی مدد کرتی ہوں تو اسکول کے لئے دیر ہو جاتی ہے اور میں ناشتہ بھی نہیں کر پاتی، تم بتائو میں کیا کروں۔ پتہ نہیں کیوں ہو رہا ہے۔ یہ میرے ساتھ؟ ‘‘ ثناء نے افسردہ لہجے میں کہا۔ گل نے گہری سانس لی اور کہا۔
’’اچھا تو یہ بات ہے تمہیں پتہ ہے یہ تمہارے ساتھ کیوں ہو رہا ہے؟ نہیں نا اچھا میں بتاتی ہوں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا، پھر میں نے سوچا ایسا کیوں ہو رہا ہے، پھر مجھے پتہ چلا کہ یہ سب وقت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔‘‘ ثناء نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
’’وقت کی وجہ سے؟‘‘ گل نے کہا، ’’ہاں وقت کی وجہ سے۔ ثناء تم نے کبھی سوچا کہ کیا تم اپنا ہر کام وقت پر کرتی ہو؟ نہیں نا؟ جیسے ہر نماز کا وقت مقرر ہوتا ہے اس طرح ہر کام کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ وقت بہت قیمتی چیز ہے یہ اگر ایک بار ہاتھ سے نکل گیا تو ساری عمر پچھتانا پڑے گا۔ تم اپنے ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر کر لو، پھر دیکھنا کہ تمہارے پاس کتنا اضافی وقت بچتا ہے اور اضافی وقت میں تم سب کچھ کرسکتی ہو۔ اسکول کا کوئی ٹیسٹ تیار کرسکتی ہو۔ ڈرائنگ کر سکتی ہو، ٹی وی دیکھ سکتی ہو۔ اس سے دماغ فریش رہتا ہے۔ آج جب تم گھر چلی جائو تو اپنے ہر کام کا وقت مقرر کر لو زندگی گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ گزارنا سیکھو۔ پھر دیکھنا دعائیں دو گی مجھے۔‘‘ گل نے ہنستے ہوئے کہا۔ اتنے میں بریک بند ہونے کی گھنٹی بج گئی۔
’’چلو کلاس میں چلتے ہیں۔‘‘ دونوں کلاس کی جانب چلی گئیں۔ ثناء سوچ رہی تھی کہ واقعی وقت بڑی قیمتی چیز ہے۔ اسے ایسے نہیں گزارنا چاہئے۔ گھر جا کر سب سے پہلے اس نے ٹائم ٹیبل بنایا کہ کس وقت کون سا کام کرنا ہے۔
پھر اس کے مطابق ہر کام کرنے لگی اور واقعی پابندی سے ہر کام وقت پر مکمل کرنے کی وجہ سے اس کے پاس کافی اضافی وقت بھی بچ جاتا اور امی بھی اس سے خوش رہتیں۔ اب وہ ہمیشہ نماز میں اپنے اور اپنی سہیلی گل کے لیے دعا کرتی، جس نے اپنے پیارے سے مشورہ کی وجہ سے اسے ایک اچھی عادت سکھادی تھی۔ دوستو! کیا آپ کی کوئی ایسی سہیلی ہے جس نے آپ کو اچھی عادت اپنانے میں مدد دی ہو؟ ہمیں امید ہے آپ کی زندگی میں بھی ایسی ہی ایک گُل موجود ہوگی، اس کا شکریہ ادا کرنے میں دیر نہ کیجئے گا!