December 03, 2018
بادشاہ اور نمک

بادشاہ اور نمک

پیارے بچو! یہ کہانی ایک بہت ہی خود پسند بادشاہ کی ہے۔ ہم نے یہ کہانی اپنی امی جان سے سنی تھی۔ آج آپ کو بھی سناتے ہیں۔
بہت پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک ملک جس کا نام فاران تھا۔ وہاں ایک بہت ہی خود پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خود پسند اسے کہتے ہیں جو صرف اپنی عادتوں اور سوچ کو ہی پسند کرتا ہو، باقی سب اس کی نظر میں بے وقوف اور کم تر ہوں۔
تو بچو! فاران کے بادشاہ کی تین بیٹیاں تھیں۔ اس کا ملک بہت بڑا اور خوشحال تھا۔ اسی وجہ سے بادشاہ بہت مغرور بھی تھا۔ بادشاہ اپنی بیٹیوں سے پیار تو بہت کرتا تھا لیکن ہر وقت ان سے اپنی تعریفیں کرواتا رہتا۔ ملکہ بھی بادشاہ کو سب سے اچھا کہتی تاکہ وہ خوش رہے اور ناراض نہ ہوجائے۔
ایک دن بادشاہ اپنے باغ میں ملکہ اور شہزادیوں کے ساتھ بیٹھا باتیں کررہا تھا کہ اچانک اس کے دل میں کچھ خیال آیا اور اس نے سب سے بڑی شہزادی رفیعہ کو بلایا اور اس سے پوچھا ’’شہزادی رفیعہ! ذرا یہ تو بتائیں کہ میں کیسا ہوں؟ اور آپ کو کیسا لگتا ہوں۔‘‘
شہزادی نے سوچ سمجھ کر جواب دیا۔ ’’ابا حضور! آپ بہت اچھے ہیں اور مجھے بہت پیارے لگتے ہیں۔‘‘ بادشاہ نے پوچھا، ’’یہ بتائیں کہ کتنا زیادہ اچھا لگتا ہوں؟‘‘ رفیعہ شہزادی بولی، ’’ابا جان، آپ مجھے شہد کی طرح میٹھے لگتے ہیں، بہت میٹھے اور بہت پیارے۔‘‘ بادشاہ یہ جواب سن کر بہت خوش ہوا اور اپنی بڑی بیٹی کو بہت سے ہیرے، جواہرات اور انعام و اکرام سے نوازا۔ بڑی شہزادی بھی بہت خوش ہوئی اور اپنے والد کا شکریہ ادا کیا۔
پھر بادشاہ نے درمیان والی شہزادی جس کا نام بشریٰ تھا۔ اسے اپنے قریب بلایا اور پوچھا، ’’بیٹی بشریٰ! اب آپ بتائیں میں آپ کو کتنا اچھا لگتا ہوں اور یہ بھی کہ کیسا لگتا ہوں۔‘‘
دوسری شہزادی نے بھی خوب سوچ کر جواب دیا، ’’حضور ابا جان! آپ مجھے بہت بہت اچھے لگتے ہیں۔ آپ کی باتیں، آپ کی عادتیں میٹھی ہیں بالکل مٹھائی کی طرح، جیسے رس گلے اور برفی ہوتی ہے۔‘‘ اب تو بادشاہ اور بھی خوش ہوا اور شہزادی بشریٰ کو بھی خوب زیورات، اشرفیاں اور دوسرے انعامات سے نوازا۔ بادشاہ کی سب سے چھوٹی اور ذہین بیٹی شازیہ، یہ سب باتیں غور سے سن رہی تھی۔ چھوٹی شہزادی باقی دونوں بہنوں سے بہت لائق اور عقل مند تھی۔ اب بادشاہ نے شہزادی شازیہ کو اپنے قریب بلایا اور اس سے بھی یہی سوال کیا۔ شہزادی سن کر سوچ میں پڑ گئی۔ سب انتظار کرنے لگے کہ دیکھیں سب سے عقل مند شہزادی کیا جواب دیتی ہے۔ آخر شہزادی نے جواب دیا، ’’ابا جان! آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں بالکل نمک کی طرح۔‘‘
’’کیا کہا؟ نمک کی طرح؟‘‘ بادشاہ حیران رہ گیا باقی سب بھی چونک گئے۔ بادشاہ نے غصے میں حکم دیا۔ ’’چھوٹی شہزادی کو لے جاکر جنگل میں چھوڑ آئو۔ میں اس کو نمک کی طرح لگتا ہوں۔ یہ کیا گستاخی ہے۔ میں ایسی گستاخی معاف نہیں کروں گا۔‘‘ بادشاہ نے سوچے سمجھے بغیر شہزادی کو محل سے نکال دیا۔ ملکہ اور دوسری شہزادیوں نے بادشاہ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش بھی کی لیکن بادشاہ تو ٹس سے مس نہ ہوا۔ یوں بے چاری چھوٹی شہزادی کو جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔
شہزادی شازیہ فطرتاً نیک اور صابر تھی۔ وہ جنگل میں ایک پرانے چھونپڑے میں رہنے لگی۔ ایک دن اس نے جنگل میں کسی کے کراہنے کی آواز سنی۔ جب وہ ڈھونڈتی ہوئی گئی تو کیا دیکھا کہ ایک بوڑھی اماں اپنا پائوں پکڑے ’’ہائے ہائے‘‘ کررہی ہے۔ شہزادی نے پوچھا۔ ’’اماں جی! آپ کون ہیں؟ یہاں جنگل میں کیسے آگئیں اور آپ کے پائوں کو کیا ہوا ہے؟‘‘بوڑھی نے جواب دیا، ’’بیٹا میں یہاں سے گزررہی تھی کہ پائوں مڑ گیا اور اب تو مجھ سے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا جارہا۔ اب میں کیا کروں؟‘‘شہزادی نے کہا، ’’آپ فکر نہ کریں یہاں قریب ہی میرا جھونپڑا ہے۔ میں آپ کی دیکھ بھال کروں گی۔ جب آپ ٹھیک ہوجائیں گی تو پھر اپنے گھر چلی جائیے گا۔‘‘ (جاری ہے)