December 03, 2018

سندھ میں حکومت کی تبدیلی کے اشارے … ؟

سندھ کی سیاست تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ جولائی 2018ء کے عام انتخابات نے سندھ اسمبلی میں روایتی دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کو بھی داخلے کا موقع دیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ صرف پی ٹی آئی بول رہی ہے اور روایتی دونوں بڑی جماعتیں اپنے اپنے بحرانوں کو سلجھانے میں مصروف ہیں۔ ایم کیو ایم کی دھڑے بندیوں اور کئی گروپوں میں تقسیم نے اس کی طاقت بہت کم کردی ہے اور پیپلز پارٹی کی قیادت کرپشن کے مقدمات میں عدالتی پیشیاں نمٹا رہی ہے۔ پی پی پی کے رہنمائوں فریال تالپور، منظور وسان اور سابق وزیر داخلہ سہیل انور سیال سمیت کئی افراد کے خلاف دبئی کا اقامہ رکھنے پر مقدمات زیرسماعت ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو منی لانڈرنگ کے حوالے سے مقدمات کا سامنا ہے۔ انہیں گرفتاری کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید، ان کے صاحبزادے نمر اور دیگر افراد اسیری کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری نے اسی لئے اپنے تینوں بچوں بلاول، آصفہ اور بختاور کو آگے بڑھایا ہے کہ یہ نوجوان کرپشن کے مقدمات سے مبرا ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری پیپلزپارٹی کے قدیم اور مضبوط ترین حلقے لیاری سے قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے تھے لیکن لاڑکانہ نے ان کی لاج رکھ لی۔ لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے۔204 بلاول کی نانی بیگم نصرت بھٹو کی نشانی ہے، جن کی اپنی ایک کہانی ہے۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ان کی شادی نصرت بیگم سے نہ ہوتی تو وہ لاڑکانہ کے محض ایک وڈیرے ہی ہوتے۔ 1950ء کی دہائی کے آغاز میں اقتدار کیلئے رسہ کشی عروج پر تھی۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں سازشوں کا زور تھا۔ نوجوان ذوالفقار علی بھٹو انگلینڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کرکے تازہ تازہ کراچی میں وارد ہوئے تھے اور ایک ہندو وکیل کے جونیئر کی حیثیت سے وکالت شروع کی تھی۔ اس وقت کراچی میں اکلوتا بڑا ہوٹل ’’میٹرو پول‘‘ تھا، جس کی اب صرف باقیات ہی رہ گئی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی اقتدار تک رسائی میں اس ہوٹل اور بیگم نصرت بھٹو کا بڑا دخل رہا۔ اس وقت کے صدر پاکستان اسکندر مرزا (مرحوم) کی اہلیہ ناہید اسکندر مرزا کی نصرت بیگم سے دوستی تھی اور دونوں کی میٹروپول ہوٹل میں اعلیٰ طبقے کی بیگمات کے گروپ میں ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے نصرت بیگم سے شادی کرلی اور بیگم ناہید اسکندر مرزا کی سفارش پر وزیر بن گئے۔ اکتوبر 1958ء میں جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کا تختہ الٹ دیا تو بیگم نصرت بھٹو، بیگم ایوب خان کی دوست بن گئیں۔ نصیب مزید جاگ گئے اور بھٹو صاحب نے ایوب خان کے مقرب اور معتمد خاص کا درجہ حاصل کرلیا اور وزیرخارجہ بن گئے۔ 1964ء کے صدارتی انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے، مقرر اچھے تھے، شعلہ بیاں تھے، اس لئے جلسوں میں سماں باندھ دیا کرتے تھے۔ ایوب خان صدارتی الیکشن دھاندلی سے جیت گئے لیکن آگے جاکر ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات پیدا ہوگئے۔ اقتدار کے ایوانوں سے باہر آکر بھٹو صاحب نے اپنی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی بنائی اور پھر سیاست کی راہ انہیں پہلے وزارت عظمیٰ اور بعدازاں پھانسی کے پھندے تک لے گئی۔ اس تمام عرصے میں بیگم نصرت بھٹو ان کے شانہ بشانہ جدوجہد میں شریک رہیں۔ 1983ء میں ’’ایم آر ڈی‘‘ کی تحریک کی روحِ رواں بھی بیگم نصرت بھٹو ہی تھیں، جن کے حلقہ سے اب ان کے نواسے بلاول بھٹو زرداری ایم این اے منتخب ہوئے ہیں۔ بلاول کے والد آصف علی زرداری نواب شاہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں، یہ سیٹ ان کی ہمشیرہ عذرا پیچوہو نے ان کے لئے خالی کی تھی، اس طرح یہ دونوں باپ بیٹا قومی اسمبلی میں موجود ہیں، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مثال ہے۔
جولائی 2018ء کے عام انتخابات نے ایک جانب جہاں پی پی پی کو سندھ تک محدود کردیا، وہاں ایم کیو ایم کی تقسیم نے صورت حال کو پی ٹی آئی کے لیے سازگار بنا دیا۔ پتھر ہر ایک کے لیے سخت ہوتا ہے لیکن وہ اس کے لیے نرم ہوجاتا ہے، جس کے پاس اسے توڑنے کے اوزار ہوں۔ ایم کیو ایم جیسی نظم و ضبط کی سخت پابند جماعت کو توڑنے کے لیے بھی وہی اوزار اور ہتھیار استعمال کئے گئے، جو انگریز حکمرانوں نے ہندوستان میں استعمال کرکے ڈیڑھ سو برس تک حکومت کی تھی۔ آصف زرداری 1987ء سے پہلے سندھ کے ایک عام زمیندار اور کاروباری شخصیت تھے لیکن بےنظیر بھٹو سے شادی نے انہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔ سندھ کی ’’وڈیرہ سیاست‘‘ میں پولیس اور پٹواری کا بہت اہم کردار ہے۔ علاقے کو کنٹرول میں رکھنے سے لے کر الیکشن جیتنے تک ان دو اداروں کی اہمیت مسلمہ ہے، جو عام طور پر علاقے کے جاگیرداروں اور بااثر شخصیات کے تابع ہوتے ہیں۔ سندھ کی سیاست میں تحریک انصاف کی طاقتور انٹری نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کے لیے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ پیر صاحب پگاڑا کی فنکشنل مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والی نصرت سحر عباسی جیسی رکن سندھ اسمبلی کی پاور فل آواز تو پی پی پی کے ارکان اسمبلی پر بھاری پڑتی ہی ہے لیکن پی ٹی آئی کی نشستوں کی کثرت اور وفاق کی چھتری نے اس کے اراکین کو خاصی قوت بخشی ہے۔ بالخصوص گورنر سندھ عمران اسماعیل کی متحرک اور فعال شخصیت نے پی ٹی آئی کے لیے بہت بڑا میدان ہموار کردیا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا تعلق بھی  کراچی سے ہے، جو سونے پر سہاگہ کے مترادف ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گورنر کی سربراہی میں سرکاری نوٹیفیکیشن کے ساتھ 20 رکنی ’’کراچی تبدیلی کمیٹی‘‘ قائم کی ہے جو کراچی میں وفاقی امداد سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور معاونت کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس کمیٹی کو غیرآئینی قرار دے کر اس کی مخالفت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی تبدیلی کمیٹی پی پی پی حکومت کی بے عملی کا نتیجہ ہے، جس نے روشنیوں کے شہر کو تاریک اور گندگی کا ڈھیر بنادیا ہے اور جو شہر میں ٹریفک نظام تک درست کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے اور ٹریفک جام روزمرہ کا معمول بن گیا ہے۔ پی ٹی آئی اس خلا کو پُر کرنے کیلئے آگے بڑھ رہی ہے۔ بےشک انسان خسارے میں ہے اور خسارے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ وقت اور اس کے مصرف دونوں کی قیمت کا موازنہ نہیں کرتا۔ وہ اشرفیاں لٹاتا ہے اور کوئلوں پر مہر لگاتا ہے۔ جواہرات دے کر سنگریزے خریدتا ہے۔ کانٹوں کو چُنتا ہے اور پھولوں کو پھینک دیتا ہے۔ بھلا ذوالفقار علی بھٹو کو کہاں معلوم تھا کہ حاکم علی زرداری کا بیٹا ان کا داماد اور پیپلز پارٹی کا وارث بنے گا۔ گو کہ موجودہ پیپلز پارٹی اب وہ جماعت نہیں رہی ہے، جو 51سال قبل 30؍نومبر 1967ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے قائم کی تھی۔
مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے اس پنجاب پر سیاسی قبضہ کرلیا ہے، جس نے1970ء کے عام انتخابات میں پی پی پی کو فتحیاب کرا کے اقتدار تک پہنچایا تھا۔ اسی پنجاب میں اپنے قدم جمانے اور اسٹیبلشمنٹ کو منانے کیلئے آصف علی زرداری بھی کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت کو پنجاب میں راستہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ بھٹو مرحوم نے بھی بھارت سے ہزار سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کیا تھا لیکن برسراقتدار آنے کے بعد بھارت سے جنگ کرنے کی بجائے انہوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا تھا۔
وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے اور نئی تبدیلیوں کو چوم رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی پورے ملک میں تبدیلی کا ایجنڈا لے کر برسراقتدار آئی ہے۔ ان کی حکومت نے 100 دن میں اپنی کارکردگی دکھانے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔ سعودی عرب سے پیکیج حاصل کرکے پاکستان کے معاشی نظام کو مجموعی طور پر 6 ارب ڈالر کا سہارا دیا ہے۔ چین، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا سے بھی اسی نوعیت کی امداد ملنے کے امکانات روشن ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے تین ماہ کی مختصر مدت میں ان ملکوں کے دورے کرکے ان کی قیادت کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے۔ پاکستان اور بالخصوص سندھ کی حالت بہتر بنانے کے لیے انہیں اداروں کا مکمل تعاون بھی حاصل ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی سے تجاوزات کا خاتمہ ممکن نظر آرہا ہے۔ نیب اور ایف آئی اے بدعنوان عناصر کو پکڑنے اور ان سے لوٹ کا مال برآمد کرنے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران سندھ میں حکومت کی رِٹ یکسر ختم ہوگئی تھی، بدانتظامی اور رشوت عروج پر تھی لیکن اب اس میں قدرے ٹھہراؤ نظر آرہا ہے۔ بلوچستان ماڈل کی طرز پر سندھ حکومت کی تبدیلی کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ سب نے دیکھا کہ بلوچستان میں کس طرح سردار ثناء اﷲ زہری کی حکومت یکلخت ختم ہوتے ہی عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بن گئے تھے۔ گو کہ اب ایک جانب ذہین اور زیرک سیاستدان آصف علی زرداری ہیں لیکن دوسری طرف بھی وفاقی اداروں کی ضرب کاری ہے۔ دسمبر اور جنوری کے مہینے کسی بڑے ’’شو ڈاؤن‘‘ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے حالیہ اور گزشتہ اجلاسوں میں پی پی پی اراکین اور وزراء کی مسلسل غیرحاضری وفاق کی کارروائی کو دعوت دے سکتی ہے۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ عروس البلاد کراچی کے شہری اور تاجر اس وقت انتہائی تکلیف دہ صورت حال سے دوچار ہیں۔ ایک جانب رینجرز اور پولیس کی اچھی کارکردگی سے سیکورٹی کا نظام بہت بہتر ہوا ہے، جس کی تازہ مثال حال ہی میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانے پر دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنانا ہے۔ اس سانحے میں سیکورٹی پر مامور دو اہلکار اور کوئٹہ سے کراچی چینی ویزے کے لیے آنے والے باپ اور بیٹے شہید ہوئے جبکہ تینوں حملہ آور دہشت گرد مقابلے میں مارے گئے۔ رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے بروقت موقع پر پہنچ کر صورت حال کو کنٹرول کیا۔ پی ٹی آئی کے ایم این اے فیصل واوڈا بھی بلٹ پروف جیکٹ پہن کر کمانڈو اسٹائل میں موقع پر پہنچ گئے تھے، جن کا بچہ قریبی اسکول میں زیرتعلیم ہے۔ ایس ایس پی پیر محمد شاہ، خاتون اے ایس پی سہائے عزیز تالپور اور زخمی گارڈ جمن شاہ کلہوڑو نے جان پر کھیل کر چینی قونصل خانے اور اس میں موجود 26 افراد پر مشتمل عملے کو بچایا۔
پاک فوج کی تربیت نے کراچی پولیس میں اعتماد کی نئی روح پھونک دی ہے، جس کی تعریف خود ’’آئی ایس پی آر‘‘ کے ترجمان نے بھی کی ہے۔ مذکورہ واقعے سے کراچی میں سیکورٹی کی بہتر صورت حال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی میں حائل 10 ہزار گھروں کے مکینوں کی بے گھری، 500 سے زائد بازاروں کے تاجروں کی اپنے کاروبار سے محرومی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایجنڈے میں 50 لاکھ سستے گھروں کی فراہمی کا منصوبہ بھی شامل کیا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے بھی انسداد تجاوزات مہم کے باعث بے گھر یا بےروزگار ہوجانے والے چھوٹے تاجروں اور عام افراد کو رہائش اور روزگار کے لئے متبادل جگہیں فراہم کرکے یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں تجاوزات کے خاتمے کا جو کام گزشتہ 50 سال سے نہیں ہوسکا تھا، وہ سپریم کورٹ کے حکم سے اب ہو رہا ہے لیکن جن مقامات پر بنی گالا کی طرح ریگولرائزیشن کی گنجائش ہے، وہاں اس معاملے کا ازسرنو جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ گھر اور کاروبار کے لیے متبادل جگہیں فراہم کرکے متاثرین کی مدد کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی اکانومی اور بودوباش میں بےقاعدگیاں 70 سال پرانی ہیں جس کی ذمہ دار سابق حکومتیں، انتظامی افسران اور متعلقہ ادارے ہیں۔ کراچی میں مارٹن کوارٹرز، پاکستان کوارٹرز اور کلیٹن کوارٹرز کے مکینوں کے آباؤاجداد نے پاکستان کی تشکیل اور تعمیر میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن ان آبادیوں کو لیز نہیں کیا گیا۔ کراچی کو کچی آبادیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، جن کے اپنے گمبھیر مسائل ہیں۔ ان تمام معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک ایسے کمیشن کی ضرورت ہے جو ان مسائل کا تدارک کرسکے۔