December 03, 2018
ریاست کے مسلمان کہہ رہے تھے، آج ہم یتیم ہوگئے! - آخری قسط

ریاست کے مسلمان کہہ رہے تھے، آج ہم یتیم ہوگئے! - آخری قسط

حیدرآباد دکن کے عروج و زوال کی داستان

دونوں میاں بیوی لندن سے حیدرآباد آتے اور اس محل میں قیام کرتے۔ ہندوستانی امراء کی تقریبات میں شرکت کرتے۔ عذرا ان کی بیگمات میں گھل مل جاتیں۔ ان میں سے ایک نے انہیں اُردو سکھانے کی ذمے داری لی ہوئی تھی۔ مکرم جاہ اپنے حلیے اور طور طریقوں سے کوئی شاہی قسم کی شخصیت نظر آنے کی کوشش ہرگز نہیں کرتے تھے۔ ایک بار تو وہ اپنی انجینئرنگ کے سلسلے کا، ٹھوکا پیٹی والا کوئی کام بیچ میں چھوڑ کر ڈانگری میں ہی اپنے ایک شناسا کے ہاں جا پہنچے جو نواب زادے تھے۔ ان کی بیوی نے الیکٹریشن کو بلوایا ہوا تھا۔ مکرم جاہ ڈانگری میں ان کے دروازے پر پہنچے تو خاتون خانہ انہیں الیکٹریشن ہی سمجھیں۔
مکرم جاہ کو نہرو نے اپنا اے۔ ڈی بنا لیا۔ انہیں پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ میں ایک ماہ کی تربیت دی گئی۔ وہ ان خاص افراد میں شامل ہوگئے جو سربراہان مملکت کے استقبال اور ان کے قیام کے انتظامات کرنے میں پیش پیش ہوتے تھے لیکن مکرم جاہ کو یہ کام بھی پسند نہیں آیا۔ ان کے خیال میں یہ بھی ایک مصنوعی دُنیا تھی، جس میں انہیں رہنا پڑ رہا تھا۔ اُدھر عذرا بھی حیدرآباد کے ماحول میں کچھ زیادہ خوش نہیں تھیں، چنانچہ میاں بیوی لندن واپس چلے گئے۔
1964ء میں نظام عثمان علی 77برس کے ہوچکے تھے اوران کی صحت خراب رہنے لگی تھی۔ ایک بار انہیں نمونیہ ہوگیا اور ان کے بچنے کی اُمید نہ رہی۔ ان کے بڑے بیٹے اعظم جاہ ابھی تک آٹھویں نظام بننے کی اُمید دِل میں بسائے بیٹھے تھے۔ باپ کو شدید بیمار دیکھ کر ان کی اُمید کچھ اور بڑھنے لگی لیکن اس وقت یہ اُمید مایوسی میں ڈھل گئی جب نظام عثمان صحت یاب ہوگئے۔
تاہم اب نظام عثمان محل سے کم ہی نکلتے تھے۔ کبھی کبھار وہ والدہ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے چلے جاتے جو محل کےسامنے ہی ایک مسجد کے احاطے میں تھی۔ کبھی کبھی انہیں خود اپنی ہی کوئی فریم شدہ تصویر خریدنے کیلئے بولی دیتے ہوئے بھی دیکھا جاتا۔ جب وہ حیدرآباد کے حکمران تھے تو ہر سرکاری دفتر میں ان کی پورٹریٹ آویزاں تھی۔ اب وہ تصویریں بازاروں میں دُوسرے کاٹھ کباڑ کے ساتھ کوڑیوں کے بھائو نیلام ہو رہی تھیں۔ نظام کو اپنی کوئی تصویر اس طرح بکتی نظر آتی تو وہ خود بھی نیلامی میں بولی لگانے کیلئے کھڑے ہو جاتے۔ ان کا قد پانچ فٹ تین انچ تھا اور وزن اب صرف 90پونڈ رہ گیا تھا۔ وہ اپنے قریبی لوگوں سے یہ کہتے ہوئے پائے جاتے کہ ان کے لئے اب گزر اوقات مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ وہ اون سے اپنی جرابیں خود بُنتے ہوئے نظر آتے۔ بازار میں سوڈا واٹر کی ایک بوتل خریدنے کیلئے بھائو تائو کرتے۔ مقامی طور پر تیار ہونے والے سستے سے سگریٹ ’’چار مینار‘‘ پیتے اور مہمانوں کو چائے کے ساتھ گن کر ایک یا دو بسکٹ دیتے۔
22 فروری 1967ء کو لندن میں مکرم جاہ کو فون پر اطلاع ملی کہ ان کے دادا کی طبیعت بہت خراب ہے۔ دو دن اور دو راتوں سے ان کی بڑی بہو دُرِّ شہوار ان کے سرہانے بیٹھی تھیں۔ نظام ڈاکٹروں سے معائنہ تو کروا لیتے لیکن دوا نہ کھاتے۔ جب وہ بے ہوش ہوتے تب انہیں انجکشن لگائے جاتے۔ آخر کار 24فروری کو جب مؤذّن ظہر کی اذان دے رہا تھا، نظام عثمان کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہوگئیں۔ وہ اس وقت 80 سال کے تھے۔
ان کی عظیم الشان سلطنت سکڑ کر اب صرف پانچ بوسیدہ محلوں تک محدود رہ گئی تھی لیکن ان کا جنازہ اُٹھا تو پورے حیدرآباد میں ایک کہرام برپا ہوگیا۔ جنازے میں شرکت کیلئے خلقت کا سیلاب اُمنڈ آیا۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے جنازے میں کم از کم پانچ لاکھ افراد شریک تھے جن میں سے بہت سے آہ و زاری کر رہے تھے، کچھ ماتم کر رہے تھے اور کچھ لوگ زار و قطار روتے ہوئے بین کر رہے تھے کہ آج مسلمان یتیم ہوگئے۔
ان کا جنازہ ایک توپ گاڑی پر رکھا گیا تھا لیکن لوگوں نے اسے سروں پر اُٹھا لیا۔ ہر طرف انسانی سر ہی سر نظر آ رہے تھے اور میت گویا انسانوں کے اس سیلاب پر ہچکولے کھاتی جا رہی تھی۔ ان لوگوں میں ہندو بھی شامل تھے۔ راستے میں جہاں جہاں عورتوں نے ان کا جنازہ جاتے دیکھا، انہوں نے اپنی چوڑیاں توڑ ڈالیں۔ جنازے کا منظر دیکھنے والے اندازہ کر سکتے تھے کہ نظام عثمان اپنی معزولی کے بیس سال بعد بھی اپنے عوام کے دلوں میں بس رہے تھے۔ انہیں ان کی والدہ کی قبر کے پاس ہی دفن کیا گیا۔
ایک روایت مشہور تھی کہ آصف جاہ کو کسی بزرگ درویش نے دُعا دی تھی کہ اس کا خاندان سات پشتوں تک حکمرانی کرے گا، شاید وہ روایت دُرست ہی تھی۔ نظام عثمان ساتویں نظام تھے، کہنے کو بڑی شان و شوکت سے مکرم جاہ کی بھی تاج پوشی ہوئی اور وہ آٹھویں نظام یا حکمران تھےلیکن ان کے پاس اب کوئی حکومت نہیں تھی۔
درحقیقت ان کیلئے تو اب محلوں کو سنبھالنا ہی مشکل تھا۔ صرف کنگ کوٹھی محل میں ہی دو ہزار ملازم تھے۔ سب محلات میں مجموعی طور پر چھ ہزار ملازم تھے۔ مکرم جاہ تو اتنے لوگوں کو تنخواہیں دینے اور تمام انتظامات کو جاری رکھنے کے تصور سے ہی چکرا رہے تھے۔ انہیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ انہیں وراثت میں کیا کچھ مل رہا ہے، ان کے وسائل کیا ہیں۔
تعزیت کیلئے ہزاروں افراد محلوں میں آ رہے تھے۔ کچھ لوگوں کے مشورے سے مکرم جاہ نے حکم دیا کہ جاتے وقت ان سب کی تلاشی لی جائے۔ اندیشہ یہ تھا کہ لوگ محلوں میں ادھر ادھر پڑے ہوئے نوادر یا زیورات اور جواہر چھپا کر نہ لے جائیں۔ یہ اندیشہ دُرست ثابت ہوا۔ کچھ لوگوں کے رُخصت ہوتے وقت واقعی ان کے قبضے سے جواہر اور زیورات وغیرہ برآمد ہوئے۔
محلات پر انحصار کرنے والے افراد کی کل تعداد پندرہ ہزار کے قریب تھی جن میں خانہ زاد، کنیزیں، ان کے 100 بچّے، 3000 باڈی گارڈز شامل تھے۔ 28آدمی تو صرف ایک خاص کنویں سے نظام اور ان کے اہل خانہ کیلئے پانی لانے کی غرض سے ملازم تھے۔ باورچی خانوں کا اسٹاف 340افراد پر مشتمل تھا۔ 4000افراد کا اندراج رجسٹروں میں ملازم کے طور پر تو تھا اور انہیں تنخواہیں وغیرہ بھی دی جا رہی تھیں لیکن جب انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تو پتا نہیں چلا کہ وہ کہاں تھے…؟
شاہی محلوں کے گیراجوں میں 60کاریں موجود تھیں جن کے پٹرول پر اُس زمانے میں سالانہ 90000امریکی ڈالر کے مساوی خرچ ہو رہےتھے لیکن جب جائزہ لیا گیا تو ان میں سے صرف چار ہی کاریں چلنے کے قابل تھیں۔ ایک فوٹو گرافر کا 25000امریکی ڈالر کے مساوی بل ادائیگی کیلئے پڑا ہوا تھا۔ ایسا ہی ایک بل ٹیکسی کے کرایوں کا پڑا ہوا تھا جو 6000 امریکی ڈالر کے مساوی تھا۔ یہ ٹیکسیاں صرف خانہ زادوں کو نظام کے ہمراہ ایک مذہبی اجتماع میں لے جانے کے لئے استعمال ہوئی تھیں۔ یہ سب باتیں اس لئے سامنے آ سکیں کہ مکرم جاہ نے معاملات کو سنبھالنے کیلئے ایک بورڈ تشکیل دے دیا تھا۔
چہلم کے بعد مکرم جاہ نے اپنی تاج پوشی کی تقریب کے انتظامات کیلئے حبیب جنگ کو نگراں مقرر کیا اور اخراجات کیلئے انہیں چالیس ہزار روپے دیئے۔ تین ہزار ملازموں نے ان تیاریوں میں حصہ لیا۔ محلوں میں جو نوادر اور قیمتی اشیاء موجود تھیں ان میں کھانے کی ایک میز بھی تھی، جس پر سو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی اور اس میز کا ٹاپ سونے کا تھا۔ اسے دُنیا کا سب سے بڑا طلائی سکہ بھی کہا جا سکتا تھا۔ جہانگیر کے زمانے کی ایک سونے کی مہر بھی تھی جس کا وزن بارہ کلو تھا۔ نوادر کا کوئی شمار نہیں تھا۔ ان میں ہر طرح کی چیزیں شامل تھیں۔
مکرم جاہ 30ٹرسٹوں کے چیئرمین اور 500 مسجدوں، مندروں اور مقبروں کے نگران تھے۔ لوک سبھا میں وزیر داخلہ چاون کے، اپوزیشن نے اس بات پر خوب لتے لئے کہ ایک جمہوری اور سوشلسٹ ملک میں مکرم جاہ کی تاج پوشی کی اجازت کیوں دی گئی؟ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں قراردادیں پیش ہو رہی تھیں کہ مکرم جاہ اور ان کے خاندان کے لاکھوں کے وظیفے بند کئے جائیں، ان کی دولت و جائیداد پر بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں۔ اور ان الزامات کی تحقیقات کرائی جائے کہ وہ اپنے جواہر ترکوں اور عربوں کی مدد سے ملک سے باہر بھیج رہے ہیں۔
مکرم جاہ نے ہاشم علی جویری کو اُس زمانے میں چالیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر اپنے جواہر کو یکجا کرنے اور ان کی قدر و قیمت کا تعین کرنے کیلئے نگراں مقرر کیا۔ ہاشم علی جویری وہ صاحب تھے جنہوں نے سب سے پہلے انڈیا میں ہیروں کو تراشنے کا کارخانہ لگایا اور انڈیا کو دُنیا بھر میں ہیرے تراشنے کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا۔ یہ صاحب نظام عثمان اور آغا خان کیلئے بھی ہیرا شناسی اور ان کے جواہر کے معاملات سنبھالنے کے فرائض انجام دیتے تھے۔ آج بھی جویری خاندان کی پیرس، سوئٹزرلینڈ، سائوتھ افریقہ اور دیگر کئی ممالک میں ہیروں کی بہت بڑی اور مشہور دُکانیں ہیں۔ ہاشم جویری ہی کے بیٹے صدرالدین جویری کو مکرم جاہ نے اپنا مالیاتی مشیر مقرر کیا۔
مکرم جاہ کے اخراجات تقریباً ایک لاکھ روپے روزانہ کے تھے اور انہیں ان کی دولت و جائیداد سے محروم کرنے کیلئے انڈین حکومت کا گھیرا ان کے گرد تیزی سے تنگ ہو رہا تھا۔ انہیں عجلت میں اپنے اثاثے سستے داموں بیچنے پڑ رہے تھے۔ ہندوستانی حکومت سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے انہیں ہر چیز سے محروم کر دیتی۔ ان کے اردگرد موجود لوگ بھی انہیں مختلف طریقوں سے لوٹ رہے تھے۔
وہ نااہل اور بد دیانت مشیروں اور ملازموں میں گھرے ہوئے تھے۔ ضرورت کے وقت نہایت قیمتی چیزیں کوڑیوں کے داموں بک رہی تھیں اور تیزی سے کم ہو رہی تھیں۔ مکرم جاہ عیاش نہیں تھے، وہ شراب نہیں پیتے تھے، تاہم وہ زندگی کے بڑے معاملات کو سنبھالنے کے اہل نہیں تھے۔ ان کی ایسی تربیت بھی نہیں ہوئی تھی۔ اُنہوں نے چار شادیاں کیں، وہ بھی ناکام رہیں۔
حیدرآباد میں وہ اپنے تحفظ کے بارے میں بھی فکرمند رہنے لگے۔ 1958ء میں وہ بغداد گئے تھے جہاں اُن کے سابق کلاس فیلو اور دوست فیصل بادشاہ بن چکے تھے مگر بعد میں فیصل کو ایک فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا تھا اور صدام حسین کے برسراقتدار آنے کا راستہ ہموار ہوگیا تھا۔ مکرم جاہ کو بھی خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ اُن کے عزیز رشتے دار اُن کی دولت اور جائیداد پر قبضہ کرنے کیلئے انہیں قتل کرنے کی سازش کر رہے تھے۔ عزیزوں اور رشتہ داروں نے اُن کے خلاف لاتعداد مقدمات بھی قائم کر رکھے تھے۔ وہ چاہتے تو اندراگاندھی سے مل کر کوئی بڑا عہدہ حاصل کر سکتے تھے۔ سیاست میں بھی آ سکتے تھے اور کوشش کرتے تو حالات پر قابو بھی پا سکتے تھے لیکن اُنہوں نے ہمت ہار دی۔ عذرا بھی اُن کی عجیب و غریب مصروفیات اور چڑچڑے پن سے بے زار ہوگئی تھیں۔ آخر کار حالات سے گھبرا کر مکرم جاہ آسٹریلیا چلے گئے جہاں اُنہوں نے پانچ لاکھ ایکڑ زمین خریدی۔
زمین کیا، یہ ایک پوری وادی تھی جو ’’مرچیسن ہائوس اسٹیشن‘‘ کہلاتی تھی۔ اس کا زیادہ تر حصہ غیرآباد تھا۔ یہ طرح طرح کے خوبصورت نظاروں سے آراستہ ویرانہ تھا۔ مکرم جاہ نے اس زمین پر فارمنگ کے نہ جانے کتنے ’’عظیم الشان‘‘ منصوبے بنائے۔ برسوں اس ویرانے کو ’’گل و گلزار‘‘ بنانے کیلئے محنت کی لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔
گزرتے ہوئے برسوں کے ساتھ اُن کے بڑے بڑے منصوبے اُنہیں قرضوں کی دلدل میں دھنساتے گئے۔ یہ طویل و عریض زمینیں اُن کیلئے کبھی منافع بخش ثابت نہ ہو سکیں۔ اُنہوں نے ان زمینوں پر اتنی دولت خرچ کی کہ اس سے شاید ایک نیا شہر تعمیر ہو جاتا۔ عذرا ان سے بیزار ہو کر اس دوران لندن ہی میں رہیں اور آخرکار اُن کے درمیان طلاق ہوگئی۔ تاہم عذرا طلاق کے برسوں بعد بھی اُن کی دی ہوئی پاور آف اٹارنی لے کر انڈیا واپس آئیں۔ اُنہوں نے بہت بڑی رقم خرچ کرکے ایک برطانوی فرم کی خدمات حاصل کیں اور نظام عثمان کے چو محلہ پیلس کی مرمت اور تزئین کر کے اُسے اس کی اصل حالت میں لانے کی کوشش کی۔ اُنہوں نے پیلس میں ایک میوزیم بھی قائم کیا، جس میں نظام دور کے بچے کھچے نوادر اور معلومات فراہم کرنے والی چیزیں رکھی گئیں۔
ادھر مرچیسن ہائوس اسٹیشن نے مکرم جاہ کا یہ حال کیا کہ وہ دیوالیہ ہوگئے۔ ان پر بینکوں کے قرضے چڑھ گئے۔ 1990ء میں ایک رات اُنہوں نے اپنے منیجر کو فون کر کے اپنی تازہ ترین مالی حالت معلوم کرنا چاہی تو اُنہیں پتہ چلا کہ اُن کے پاس صرف پندرہ ہزار ہندوستانی روپے ہیں۔ یہ اُن کی آخری پونجی تھی۔ اُن کی دولت و جائیداد اور جواہر کے ٹرسٹ کے چیئرمین ہاشم جویری سے بھی اُن کی مقدمے بازی ہو چکی تھی۔ مکرم جاہ کے خیال میں جویری بھی اُنہیں کافی لوٹ چکے تھے اور عالم یہ تھا کہ اب مکرم جاہ، جویری کے قرضدار تھے۔ مزید عبرت آموز صورتحال اس وقت سامنے آئی جب وہ اپنی روایتی افطار پارٹی دینے کیلئے حیدرآباد گئے اور اپنے چومحلہ پیلس میں داخل نہ ہوسکے۔ قرضوں کی وجہ سے اس جائیداد پر حکم امتناعی لے لیا گیا تھا۔
اسی طرح کے واقعات رُونما ہوتے رہے اور آخر وہ وقت بھی آیا کہ مکرم جاہ کا ’’مرچیسن ہائوس اسٹیشن‘‘ جو شاید رقبے کے لحاظ سے دُنیا میں کسی کی سب سے بڑی ذاتی جاگیر تھی، نیلام ہوگیا۔ مکرم جاہ کو چھپ کر ترکی فرار ہونا پڑا۔ (ختم شد)

مکرم جاہ کی زندگی کا ایک اور المیہ

مکرم جاہ نے دوسری شادی ایک آسٹریلوی لڑکی ہیلن سمنز سے کی تھی۔ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں اتفاقاً جاہ کی ملاقات ایک پارٹی میں اس لڑکی سے ہوئی تھی جو شادی کے بعد ان کے دو بچوں کی ماں بنی۔ ہیلن مسلمان ہو گئی تھی اور اس نے اپنا اسلامی نام عائشہ رکھا تھا لیکن بدقسمتی سے اس خاتون کو نہ جانے کہاں سے ایڈز کا مرض لگ گیا۔ 41 سال کی عمر میں وہ انتقال کرگئی۔ اس کے ایک بچے کا بھی ہیلن کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ ویسے تو اولاد کی موت کا غم کسی بھی ماں کا کلیجہ شق کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے لیکن ہیلن نے اپنے بچے کی موت کا کچھ زیادہ ہی صدمہ دل پر لیا تھا۔ بعض لوگوں کے خیال میں ایڈز نہیں بلکہ یہی صدمہ ان کی موت کا باعث بنا تھا۔

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

دُنیا کا دولت مند ترین آدمی، جس کے پاس ہیروں سے بھرے ٹرک تھے، منوں کے حساب سے سونا تھا، ایکڑوں میں پھیلے ہوئے سات محل تھے، ہزاروں ملازمین اور نوکر چاکر تھے، لاکھوں افراد جس کی رعایا میں شامل تھے، اس کا پوتا آج ترکی کے ساحلی علاقے میں پھیلی ہوئی پچاسوں بے شناخت عمارتوں میں سے ایک عمارت کے چھٹے فلور پر دو بیڈ روم کے ایک اپارٹمنٹ میں رہتا ہے اور میڈیا کے نمائندوں سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ مکرم جاہ اپنا زیادہ وقت استنبول اور دیگر شہروں میں پھیلی ہوئی تاریخی عمارات کے کھنڈرات میں گزارتے ہیں۔ ان کھنڈرات کا مشاہدہ کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ فراز کا شعر ہے:
ڈھونڈ اُجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
’’خرابہ‘‘ کھنڈر کو کہتے ہیں۔ اس شعر میں، اجڑے ہوئے لوگوں کو کھنڈرات سے تشبیہ دی گئی ہے اور اُن کی ذات میں وفا کے موتی تلاش کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے لیکن مکرم جاہ سچ مچ کے کھنڈرات میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ شاید وہ وہاں اپنے ماضی کے دفینے تلاش کرتے ہوں۔ حیدرآباد دکن جیسی عظیم الشان سلطنت کا معدوم ہو جانا مقام عبرت ہے لیکن تاریخ سے عبرت کوئی بھی نہیں پکڑتا۔ ہم تاریخ کے اس طرح کے باب دلچسپی سے پڑھتے ہیں، ایک طویل سانس لیتے ہیں اور پھر کتابوں کو ایک طرف رکھ کر بھول جاتے ہیں۔