December 03, 2018
سنگاپور کا متنازع نظامِ تعلیم، ملک کو بلندیوں پر لے گیا

سنگاپور کا متنازع نظامِ تعلیم، ملک کو بلندیوں پر لے گیا

سنگاپور کے تعلیمی نظام کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔ اس کے طالبعلم آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ(آو آئی سی ڈی) کے تحت ہونے والے ’’پی آئی ایس اے‘‘ کے امتحانات میں اول پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔ یہ امتحان 75ممالک میں سائنس، ریاضی اور مطالعے کو جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔’’پی آئی ایس اے‘‘ کے امتحانات میں سنگاپور کے طالب علموں کی اچھی کارکردگی کی کئی وجوہات میں سے ایک ملک کی بیوروکریسی ہے جو دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ہے اور ان کا مشن بالکل واضح ہے کہ انہوں نے سنگاپور کو دنیا کا امیرترین، ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ملک بنانا ہے۔ سنگاپور کے اعلیٰ تعلیمی معیار کی وجوہات میں سے ایک اس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ ہیں۔ سنگاپور میں اساتذہ کی تنخواہوں کا موازنہ صنعتی اور معاشی سیکٹر کے ملازمین سے کیا جا سکتا ہے۔ اساتذہ کے لیے عمدہ تنخواہ یونیورسٹی کے ہونہار طالب علموں کو تعلیم کے شعبے کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ سنگاپور میں ایک نئے ٹیچرکی تنخواہ 1800 سے 3300ڈالر ماہانہ سے شروع ہوتی ہے۔ اس تنخواہ کے علاوہ انہیں اورٹائم اور بونس بھی ملتا ہے۔ سنگاپور اپنے سرکاری بجٹ کا 20فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ 60ء کی دہائی میں سنگاپور ایشیا کا غریب ترین ملک تھا اور اس کی آدھی آبادی ناخواندہ تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب سنگاپوربراعظم ایشیا کا سب سے غریب ملک تھا۔1965 ء میں جب سنگاپور نے ملائیشیا سے آزادی حاصل کی تو اس وقت ملک کی اشرافیہ کے علاوہ کسی کو تعلیم تک رسائی حاصل نہیں تھی اور ملکی اعداد و شمار کے مطابق سنگاپور کی آدھی آبادی ناخواندہ تھی۔ سنگاپور کے پاس تیل جیسے قدرتی ذخائر نہیں تھے، لہٰذا اس نے اپنے شہریوں میں سرمایہ کاری کی پالیسی اپنائی۔ سنگاپور میں آمرانہ نظام حکومت ہے اور شہریوں کو کچھ بنیادی آزادیاں بھی حاصل نہیں ہیں۔ سنگاپور میں سماجی تحفظ فرمانبرداری سے جڑا ہوا ہے اور یہ ہی فلسفہ تعلیمی نظام میں بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ سنگاپور میں بچوں کو ابتداء سے ہی مقابلے کے امتحانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سنگاپور میں ایک سوچ ہے جسے مقامی زبان میں کائیسو کہتے ہیں۔ کائیسو کسی چیز سے محرومی کے جذبے کی نشاندہی کرتی ہے اور یہ ہی سوچ ملکی آبادی کی نفسیات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سابق استاد ڈان فنگ کائیسو جذبے کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کائیسو سوچ ان بچوں کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتی ہے جن کے خاندان سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے گریڈ حاصل نہیں کر پائیں گے۔ اچھے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے پرائمری اسکول کے وقت سے ہونے والے مقابلے کے امتحان، پی ایس ایل ای کو پاس کرنے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں، جہاں سے ان کے لیے اچھے سکینڈری اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے راستے کھل جاتے ہیں۔ سنگاپور میں بچوں کا کیریئر دو برس کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے۔ سنگاپور میں بچے مقابلے کے اس امتحان کی تیاری کے لیے پرائیویٹ ٹیوشن بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہاں والدین ایک بچے کی پرائیویٹ ٹیوشن پر ماہانہ 700پاؤنڈز تک خرچ کرتے ہیں۔سنگاپور کے اخبار اسٹریٹ ٹائمز کے مطابق ملک میں پرائیویٹ ٹیوشن کی صنعت بہت منافع بخش ہے اور اس کا حجم 750ملین ڈالرز ہے۔ پرائیویٹ ٹیوشن کی صنعت کا حجم اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ ’’پی ایس ایل ای‘‘ کے امتحان کتنے مشکل ہیں۔ کچھ والدین ایسے بھی ہیں جو ملک کے روایتی نظام تعلیم کو چھوڑ کر بچوں کو گھر میں تعلیم دے رہے ہیں۔ ایسے والدین کا مؤقف ہے کہ ایسے نظام کا حصہ بننا غلط ہےجو آپ کو ناخوش بناتا ہے۔
مقابلے کے اس ماحول کے منفی نتائج بھی ہیں۔ سنگاپور میں نوجوانوں کی بڑی تعداد اضطراب اور ہیجان سے متاثر ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایک مقامی این جی او کے مطابق سنگاپور میں 10 سے 29 برس کی عمر کے افراد کی موت کی وجوہات میں ذہنی اضطراب اور پریشانی سب سے نمایاں ہے۔
سنگاپور کی کیمونیکیشن کی وزیرآنگ یی کنگ کہتی ہیں’ہم اس کی ضمانت دیتے ہیں کہ ایسا نظام تعلیم وضع کریں گے جو طالبعلموں کے لیے بہت مشکل نہ ہو۔‘
سنگاپور کی حکومت نے ایک ایسی تعلیمی پالیسی متعارف کرائی ہے جس میں زیادہ توجہ، چیزیں زبانی یاد کرنے کے بجائے تعلیم حاصل کرنے پر ہے اور اس تعلیمی پالیسی ’’تھنکنگ اسکول‘‘ کا نعرہ ہے۔ ’’پڑھاؤ کم، سیکھو زیادہ۔‘‘ اس نظام تعلیم میں بچوں کو اپنے انداز میں پڑھنے اور گروپوں میں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود ایسے طلباء جو اچھے گریڈ حاصل نہیں کر پاتے ان کے ساتھ مختلف رویہ روا رکھا جاتا ہے۔