December 03, 2018
سادگی اور حب الوطنی سے سرشار … عمران خان

سادگی اور حب الوطنی سے سرشار … عمران خان

اپوزیشن خواہ کتنے ہی الزامات عائد کرے، کتنے ہی حقائق بیان کرے، وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو بدعنوانوں کی حکومت قرار دے کر شواہد بھی پیش کردے لیکن یہ بات بہرحال تسلیم کرنی پڑے گی کہ بحیثیت وزیراعظم عمران خان پر اس نوعیت کا کوئی الزام نہیں لگایا جاسکتا اور اس بات کے ناقابل تردید شواہد پیش کیے جاسکتے ہیں اور مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ یہی مثال لے لیجئے کہ پاکستان کا کوئی بھی حکمران جب بالخصوص متحدہ عرب امارات کے دورے پر جاتا ہے تو اُسے اور اس کے وفد کے ارکان کو بیش قیمت گھڑیاں تحفتاً پیش کی جاتی ہیں، یہ وہاں کے حکمرانوں کی میزبانی کا انداز ہے، جو ایک روایت کی شکل اختیار کرگیا ہے لیکن شاید ہی پاکستان کا کوئی ایسا حکمران ہو جو اس تحفے کو سرکاری امانت سمجھ کر توشہ خانے (جہاں ایسے تحائف جمع کرا دیئے جاتے ہیں) میں پہنچا دیتا ہو۔ اگر اس حوالے سے ملک و قوم کے درد اور ایمانداری کا مظاہرہ کرنا ہو تو تحفے کی قیمت کا ’’سرکاری اندازہ‘‘ لگا کر اور کچھ فیصد رقم جمع کرا کے توشہ خانے کی بجائے اُسے اپنے گھر کی زینت بنالیا جاتا ہے۔ ماضی میں اس قصے نے بھی خاصی شہرت پائی تھی کہ ایک سابق وزیراعظم بیش قیمت سونے کے نیکلس کو، جو ایک دوست ملک کی خاتونِ اوّل نے دورۂ پاکستان کے موقع پر کسی نادار بچی کی شادی کے موقع پر اُسے اپنی جانب سے جہیز کے طور پر دینے کے لئے اُن کے حوالے کیا تھا، اپنے گھر لے گئے اور جب تحقیقات میں شور مچا تو منت سماجت کرکے واپس کر دیا۔
گزشتہ دنوں جب وزیراعظم عمران خان متحدہ عرب امارات کے دورے پر گئے تو اُنہیں جس گھڑی کا تحفہ پیش کیا گیا، اُس کی پاکستانی مارکیٹ میں قیمت ایک کروڑ چھیالیس لاکھ روپے ہے اور متعلقہ حکام نے اُنہیں یہ بھی بتایا کہ قانون اور ضابطے کے مطابق اگر وہ یہ گھڑی خود رکھنا چاہیں تو رقم کا کچھ حصہ سرکاری خزانے میں جمع کرا کے وہ یہ گھڑی ذاتی استعمال میں لانے کے مجاز ہوں گے لیکن عمران خان نے خطیر رقم کی اس گھڑی سمیت ملنے والے تمام تحائف توشہ خانے میں جمع کرا دیئے اور اس کی تشہیر بھی نہیں کی گئی۔ تاہم اُن کے وفد کے ارکان نے اس صورت حال میں کیا کیا، اس کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اسی طرح اُن کی سادگی کی بھی ایک مثال دورۂ چین کے موقع پر اُس وقت دیکھنے میں آئی، جب وہ مختلف ممالک سے آئی ہوئی کاروباری شخصیات سے میٹنگ میں مصروف تھے تو مفرحات کی میز پر ایک صاحب کی غلطی سے چائے کی پیالی عمران خان کی شلوار پر گرگئی، جس پر اس کاروباری شخصیت کی پریشانی اور ندامت دیدنی تھی کہ اس کی غلطی سے ایک ملک کے وزیراعظم کے کپڑے خراب ہوگئے۔ جس پر اُس نے معذرت کی گردان کرتے ہوئے نیپکن سے اُن کے کپڑوں پر چائے کے دھبے صاف کرنے کی کوشش کی لیکن عمران خان نے نہ تو اُنہیں کپڑے صاف کرنے دیئے اور نہ خود صاف کیے بلکہ گیلے حصے کو ایک طرف کرتے ہوئے میٹنگ کا تسلسل اور باقی مصروفیات بھی جاری رکھیں۔ یہ منظر وہاں تمام شرکاء کے لیے انتہائی غیرمتوقع بلکہ حیران کن تھا کہ پاکستان جیسے اہم ملک کا وزیراعظم اس قدر سادہ اور اپنے قومی اور ملکی اُمور میں اتنا سنجیدہ ہے کہ اس کی ترجیحات اپنی شخصیت نہیں بلکہ اپنے ملک کے مفادات ہیں۔