December 03, 2018
معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی کے گاؤن کا…

معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی کے گاؤن کا…

یادش بخیر کچھ عرصہ قبل پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت سے قومی اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر بلانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت اپنی مرضی سے اجلاس بلانا چاہتی تھی، جس پر اپوزیشن کے ارکان نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر قومی اسمبلی کا ’’علامتی‘‘ احتجاجی اجلاس بلا لیا، جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت حکومت مخالف جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور دلچسپ بات یہ تھی کہ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے اسپیکر کا خصوصی گاؤن پہن کر اجلاس کی صدارت کی۔ پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں ہونے والے اس اجلاس میں ایوان میں ہونے والی کارروائی کی طرز پر ہی نکتہ اعتراض، کال اٹینشن نوٹس اور ایجنڈے کے حوالے سے کارروائی کی گئی، تاہم بعد میں یہ نکتہ ایک سنجیدہ صورت حال اختیار کر گیا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کا وہ مخصوص سیاہ گاؤن جسے پہن کر اسپیکر ایوان کی کارروائی چلاتے ہیں، وہ ان کے چیمبر سے باہر کیسے آیا؟ اس کی باقاعدہ انکوائری کرائی گئی، پھر اس کی خبریں بھی شائع ہوئیں لیکن بعد میں یہ معاملہ دبا دیا گیا۔ اب یہ بات منکشف ہوچکی ہے کہ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر سردار ایاز صادق کے ایک وفادار ملازم نے، جس کی رسائی اسپیکر کے چیمبر تک تھی، یہ واردات کی تھی اور قومی اسمبلی کے موجودہ اسپیکر اسد قیصر کو بھی یہ بات معلوم ہوچکی ہے لیکن فی الحال وہ اس پر خاموش ہی ہیں۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق اسپیکر کا گاؤن پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر نہیں لے جایا جاسکتا اور نہ ہی اسپیکر ایوان سے باہر یہ گاؤن پہن کر ایسی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’موجودہ اسپیکر نے سابق اسپیکر کی طرفداری کی۔‘‘