December 03, 2018
متنازع شخصیت کی دوسری شادی بھی متنازع… !

متنازع شخصیت کی دوسری شادی بھی متنازع… !

بعض دیگر قابلِ ذکر شخصیات کی طرح ڈاکٹر عامر لیاقت حسین بھی متنازع افراد میں سرفہرست نظر آتے ہیں۔ اُن کے علم، فہم و فراست، طرزِ تکلم، برجستگی، اپنے مدمقابل کو زیر کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت اور صورت حال خواہ کتنی ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو، اُس پر دسترس پاکر اُسے اپنے حق میں موڑ لینے کی قابلیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر صاحب کی ان صلاحیتوں کا عملی اظہار صحیح معنوں میں 2010ء میں اُس وقت ہوا، جب انہوں نے جیو ٹی وی سے اپنی طرز کے واحد اور منفرد شو ’’عالم آن لائن‘‘ شروع کیا اور اس سے ایک عالم ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کے براڈ کاسٹر ہونے کی صلاحیتوں کو بھی جِلا ملی۔ یہ اُن کا ایک نیا حوالہ تھا جسے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ اُن کے والد محترم شیخ لیاقت حسین (مرحوم) 1997ء میں قومی اسمبلی کے رکن تھے اور 2002ء عامر لیاقت بھی قومی اسمبلی کے رکن اور وزیر مذہبی اُمور بھی بنے لیکن بعد میں دونوں ذمہ داریوں سے مستعفی ہوگئے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کی زندگی تنازعات سے بھرپور ہے۔ کبھی جعلی ڈگری، کبھی متنازع شو تو کبھی اپنے محسنوں کی کردارکشی میں سپریم کورٹ میں حاضری اور ندامت کا اظہار، کبھی مسلکی نکتہ نظر پر اختلافی بیان تو کبھی سیاسی رنجشیں، اگرچہ وہ خود اس طرح کے تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں، تاہم ان کی شخصیت کو وقتاً فوقتاً دھچکے اور جھٹکے لگتے رہے ۔ حریف کی مخالفت کرنی ہو یا حلیف کا دفاع، ایم کیو ایم سے لے کر تحریک انصاف تک ڈاکٹر صاحب اپنی جماعت کی ترجمانی کا حق خوب اداکرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود خود انہی کی جماعت کے اندر سے ان کی مخالفت میں بھی آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں۔
البتہ گزشتہ دنوں وہ اپنے ازدواجی حوالے سے بھی متنازع ہوگئے۔ یہ کم وبیش اُسی نوعیت کا تنازع تھا جو سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا بھی حوالہ بنا تھا اور دونوں کی مشکلات کی وجہ غیراعلانیہ دوسری شادی اور پاکستان الیکشن کمیشن کا نوٹس لینا تھا۔ کراچی کے ایک رہائشی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو درخواست دی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار عامر لیاقت نے اپنے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی سے کام لیا اور اپنی دوسری اہلیہ کا ذکر نہیں کیا۔ چنانچہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جب رکن اسمبلی عامر لیاقت کو طلب کیا تو انہوں نے وہاں یہ دلیل پیش کی کہ اُن کی دوسری اہلیہ اُن کی منکوحہ ضرور ہیں لیکن نکاح کے باوجود وہ اپنے ہی گھر میں رہائش پذیر ہیں، اُن کی رخصتی نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ ان کے زیرکفالت ہیں۔ چنانچہ الیکشن کمیشن نے اُن کے خلاف یہ درخواست مسترد کردی۔ ہرچند کہ دونوں ارکان اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ڈاکٹر عامر لیاقت نے اپنی دوسری شادی کا اعلان بہ امر مجبوری الیکشن کمیشن کے خوف سے کیا لیکن یہ فرق ہوتا ہے ’’عالم آن لائن ہونے اور وزیر ریلوے لائن‘‘ ہونے کا۔ اب اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے بارے میں تمام باتیں بے معنی ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے شاندار اور باوقار طریقے سے اعلانیہ طور پر تقریب ولیمہ کی جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کے سوا کوئی قابل ذکر شخصیت موجود نہیں تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی دوسری شادی اور ولیمے کی تصاویر بھی اپنی ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیں اور رخصتی کی تصدیق بھی کی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عامر لیاقت کی دوسری شادی کی خبر رواں سال جولائی میں پھیلی تھی، جس کی تصدیق ان کے گھر والوں سے بھی کی جاسکتی ہے۔ اب اتنی تاخیر سے ولیمے کی تصاویر دیکھ کر کچھ لوگوں کو یہ مغالطہ بھی ہوا کہ غالباً ڈاکٹر صاحب نے تیسری شادی کرلی ہے !