December 03, 2018
سابق وزیراعلیٰ پنجاب بکتر بند گاڑی کے سوار!

سابق وزیراعلیٰ پنجاب بکتر بند گاڑی کے سوار!

سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی ’’خادم اعلیٰ‘‘ کی حیثیت سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آمد کم کم ہی ہوا کرتی تھی لیکن کسی اہم اجلاس یا دیگر حکومتی مصروفیت کے لئے وہ جب بھی اسلام آباد آتے تو وہ پورے پروٹوکول اور حفاظتی اقدامات کے حصار میں سفر کرتے تھے۔ آج کل بھی میاں شہباز شریف ’’حفاظتی حصار‘‘ میں ہی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آتے ہیں لیکن اس کی نوعیت خاصی مختلف ہوتی ہے۔ ماضی میں وہ وزیراعلیٰ کیلئے مخصوص لگژری لیموزین میں، جس پر پاکستان کا پرچم آویزاں ہوتا، اسلام آباد کی سڑکوں پر ہٹو بچو کے سائرن بجاتی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کے جلو میں گزرتے تھے۔ خادم اعلیٰ کا شیڈول بڑا سخت ہوا کرتا تھا، اس لئے ان کی طے شدہ مصروفیات ختم ہوتے ہی وہ بلاتاخیر اسلام آباد سے لاہور روانہ ہوجاتے تھے۔ ویسے بھی شہباز شریف کا دل اسلام آباد میں نہیں لگتا تھا اور نہ ہی وہ مری جایا کرتے تھے، تاہم آج کل صورتحال یہ ہے کہ نیب کے حکام انہیں سخت سیکورٹی میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے لاہور سے اسلام آباد لاتے ہیں، ایئرپورٹ سے انہیں منسٹرز کالونی میں واقع اپوزیشن لیڈر ہاؤس پہنچایا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی نیب کے افسران جو سادہ کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں، ان پر نظر رکھتے ہیں جبکہ دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اہلکار بھی ان کی پارلیمانی مصروفیات کے علاوہ ملاقاتیوں کی فہرست بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس دوران بکتربند گاڑی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر اپنی سواری کی منتظر رہتی ہے۔ ماضی کے برعکس اب خادم اعلیٰ کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت اسلام آباد میں ہی گزاریں کیونکہ کہاں منسٹرز کالونی میں پُرتعیش اپوزیشن لیڈر ہائوس، میل ملاقاتیں اور دوست احباب کی گپ شپ اور کہاں لاہور میں نیب کا ایک چھوٹا سا کمرہ جہاں بقول خادم اعلیٰ کے، نہ تو ٹی وی ہے نہ اخباروں کی سہولت اور وہ بے خبری کے عالم میں وقت کاٹنے پر مجبور ہیں!