December 03, 2018
ریلوے کا ’’وی آئی پی‘‘ سیلون

ریلوے کا ’’وی آئی پی‘‘ سیلون

پاکستان میں ریلوے کا نظام بھی انگریز بہادر ہی چھوڑ کر گیا تھا۔ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی حکومتیں ملک بھر میں کوئی نئی ریلوے پٹری تو نہ بچھا سکیں لیکن کمیشن کی ہوس میں بیرون ملک سے نئے نئے انجن خوب درآمد کئے اور اپنے خاندانوں کی بلکہ آنے والی نسلوں کی دنیا سنوار دی، تاہم ریلوے جیسے بڑی قومی ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ کسی نے کسی شکل میں آج بھی جاری ہے اور اس ادارے کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو، جو کرپشن میں لتھڑا ہوا نہ ہو، جس شخص کا جہاں اور جتنا داؤ لگتا ہے، وہ لگاتا ہے، جس کی ایک چھوٹی سی مثال پیش کی جارہی ہے۔ صدر پاکستان، وزیراعظم، ریلوے کے وفاقی وزیر، سیکرٹری اور چیئرمین اگر ریلوے سے سفر کرنا چاہیں تو اُن کے لیے خصوصی ’’وی وی آئی پی‘‘ سیلون مختص ہوتے ہیں جن میں اُن کے حکومتی منصب کے پیشِ نظر تبدیلیاں بھی کی جاتی ہیں۔ ہر سیلون کے ساتھ ریلوے کے 6سے 8 ملازمین سفر کرتے ہیں، جن میں خانساماں، ویٹر اور سیلون اٹینڈنٹ شامل ہوتے ہیں۔ ’’وی وی آئی پی‘‘ مسافر کو تمام مطلوبہ سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اہم اسٹاف ہر وقت دستیاب ہوتا ہے۔ اس سیلون کے استعمال پر ریلوے کو اضافی اخراجات کرنے پڑتے ہیں جو لاکھوں میں ہوتے ہیں۔
گزشتہ دنوں یہ انکشاف ہوا کہ ریلوے سیلون کے استعمال میں کافی عرصے سے بدعنوانی اور اُس کے غلط استعمال کا سلسلہ جاری ہے اور اس کا ایک ذمہ دار اس وقت گرفت میں آیا، جب وہ ریلوے کے وزیر شیخ رشید کے نام پر سیلون راولپنڈی سے ملتان لے کر گیا اور یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ خود وزیر ریلوے کا پرسنل سیکرٹری تھا۔ موصوف نے اپنے ذاتی دورے کے لیے منسٹری سے ایک لیٹر جاری کردیا کہ انہوں نے ملتان جانا ہے، جس کے لئے سیلون لگایا جائے۔ عین اُس دن جب وزیر ریلوے شیخ رشید راولپنڈی، اسلام آباد میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ کراچی میں ہونے والی ریلوے کی ایک تقریب میں شریک تھے، اُن کے پرسنل سیکرٹری محمد اشفاق اُن کی لاعلمی میں اُن کے خصوصی سیلون میں راولپنڈی سے ملتان کی طرف رواں دواں تھے۔ یہ بات جب وزیر ریلوے شیخ رشید کے علم میں لائی گئی تو انہوں نے انتہائی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین ریلوے کو ہدایت کی کہ پرسنل سیکرٹری کو فوری طور پر معطل کرکے اُس کے خلاف انکوائری کی جائے۔ وزیر موصوف کی ہدایت پر فوری عمل ہوا اور اُن کے سیکرٹری کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی۔ اس دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ موصوف 2000ء کی دہائی میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے ڈیپوٹیشن پر وزیر ریلوے کے ’’پی اے‘‘ کے طور پر ریلوے میں آئے تھے۔ اُس وقت اُن کا پے اسکیل 11 تھا اور اب وہ گریڈ 19 میں ’’ڈائریکٹر ٹو منسٹر‘‘ لگ گئے ہیں جس پر ماضی میں بھی بے شمار اعتراضات اُٹھائے گئے۔ اس انکوائری کے نتیجے میں کئی اور انکشافات بھی سامنے آسکتے ہیں۔