December 03, 2018
پاکستان کا دورہ سشما سوراج کی تمنا

پاکستان کا دورہ سشما سوراج کی تمنا

برطانیہ کی سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کو جس طرح ان کے ملک کی ’’آئرن لیڈی‘‘ کہا جاتا تھا، اسی طرح بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی ان کے حمایتی حلقے بھارت کی ’’آئرن لیڈی‘‘ قرار دیتے ہیں، تاہم اب اس آئرن لیڈی نے خرابی صحت کے باعث انتخابی سیاست سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا ہے اور 2019ء میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ تین سال قبل جب ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آئی تھیں تو ان کا بہت پرتپاک استقبال ہوا اور وہ اپنی پذیرائی پر کافی شاداں اور نازاں دکھائی دیتی تھیں۔ بعض مواقع پر انہوں نے مروجہ سفارتی تقاضوں سے قطع نظر دونوں ملکوں کے تعلقات اور عوامی سطح پر رابطوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ اسلام آباد سے دہلی روانگی سے قبل ایک عشائیے میں انہوں نے اس وقت کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی ایک خواہش یا تمنا کا اظہار کچھ یوں کیا تھا ’’میں چاہتی ہوں کہ سیاست اور حکومتی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد پاکستان کے دورے پر آئوں اور بالخصوص لاہور میں کسی پروٹوکول اور سیکورٹی کے اقدامات کے بغیر گھوموں پھروں۔‘‘ اپنے 41سالہ سیاسی کیریئر کے دوران سشما سوراج چار مرتبہ لوک سبھا اور تین مرتبہ راجیہ سبھا کی رکن منتخب ہوئیں۔ انہوں نے پہلا انتخاب 25 سال کی عمر میں لڑا تھا اور اب ان کی عمر 66سال ہے۔ وہ دہلی کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ تھیں اور اس عہدے پر 1986ء میں فائز ہوئی تھیں۔ سشما سوراج کا 2016ء میں کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ 2019ء کا الیکشن نہیں لڑوں گی اور پارٹی کو بھی اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔ اس فیصلے پر ان کے شوہر سوراج کوشل نے، جو بھارتی ریاست میزو رام کے گورنر بھی رہ چکے ہیں، ٹویٹ کیا ’’تھینک یو میڈم کہ آپ نے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد سشما سوراج پاکستان آنے کی اپنی خواہش پوری کریں گی؟