December 03, 2018
مٹاپے کی چار قسمیں

مٹاپے کی چار قسمیں

وزن کم کرنے والی سرجری سے تمام فربہ افراد کو یکساں فائدہ نہیں ہوسکتا

سائنسدانوں کے دعوے کے مطابق مٹاپے کو چار مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ریسرچرز نے وزن گھٹانے والی سرجری(Weightloss Surgery) میں کامیابی کی شرح کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ دیکھا ہے کہ اس قسم کی سرجری امریکا کے 2400فربہ افراد کی زندگی کیلئے خطرناک ہوسکتی ہے۔ ان نتائج کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے موٹے افراد کے چار مختلف گروپس تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہ دیکھا ہے کہ وزن میں کمی لانے والی سرجری ان لوگوں پر مختلف انداز سے اثر ڈالتی ہے۔ اس تجزیئے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مٹاپے کا کوئی ایک جادوئی علاج نہیں ہے اور ہر ایک کی ضرورت کے مطابق وزن کم کرنے کے علاج پر توجہ دینی چاہئے۔ فربہ افراد کے ان گروپوں کے اگرچہ ابھی تک نام تجویز نہیں کئے گئے ہیں لیکن ذیابیطس کی شرح سے لے کر بسیار خوری تک کے معاملے میں ہر گروپ مختلف نظر آتا ہے۔ پہلے گروپ کو جسے ذیابیطس گروپ کہا جاسکتا ہے، کے مریضوں میں اچھے کولیسٹرول کی سطح کم تر اور ذیابیطس کی سطح بلند تر دیکھی گئی۔ دوسرے گروپ کے مریض کھانے پینے کے معاملے میں بداحتیاطی کرنے والے تھے اور غیر صحت بخش غذائیں زیادہ کھاتے تھے۔ چوتھے گروپ میں وہ لوگ شامل تھے جو بچپن سے ہی مٹاپے میں مبتلا تھے۔ یہ ماہر سائنسدان تیسرے گروپ کی منفرد خصوصیات ڈھونڈنے میں ناکام رہے اور اس گروپ کے حامل افراد میں ملی جلی خصوصیات دیکھی گئیں۔ دوسرے اور تیسرے گروپ کو خاص طور پروزن کم کرنے والی سرجری سے فائدہ حاصل ہوا۔ جریدے ’’اوبسیٹی‘‘ میں شائع ہونے والی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ غیر صحت بخش غذائیں کھانے کے عادی تھے، سرجری سے ان کا وزن سب سے زیادہ کم ہوا۔ ان میں شامل مردوں کا اوسط وزن 28.5؍فیصد جبکہ خواتین کا وزن 33.3؍فیصد کم ہوگیا تھا۔ اپنی نوعیت کے اس پہلے جائزے میں ریسرچرز نے ان مریضوں کا تجزیہ کیا تھا جنہوں نے مارچ 2006ء اور اپریل 2009ء کے دوران وزن کم کرنے والی سرجری کروائی تھی۔ ان میں سے کچھ مریضوں نے ’’گیسٹرک بائی پاس‘‘ سرجری کروائی تھی جس میں جراحتی Staples استعمال کرتے ہوئے معدے کے اوپر ایک چھوٹی سی تھیلی بنا دی جاتی ہے جس سے متعلقہ شخص تھوڑا سا کھا کر اپنا پیٹ بھرا ہوا محسوس کرتا ہے اور اس طرح کم کیلوریز جذب کرتا ہے۔ کچھ دیگر مریضوں کو ’’گیسٹرک بینڈ‘‘ کے مرحلے سے گزارا گیا تھا جس میں سیلیکون کا ایک حلقہ استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی مدد سے معدے کے اوپر چھوٹی تھیلی بنا دی جاتی ہے۔ ریسرچرز نے بعدازاں ایک ایڈوانسڈ کمپیوٹر ماڈل استعمال کرتے ہوئے جسے Latent Class Analysis کہا جاتا ہے، ان شرکاء میں چار مختلف ذیلی گروپ کی شناخت کی۔ پہلے گروپ میں ’’اچھے‘‘ کولیسٹرول کی سطح بہت کم تھی اور ان کے خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ تھی۔ ایک تجزیئے میں دیکھا گیا کہ ان افراد میں دیگر ذیلی گروپوں کے مقابلے میں 98فیصد ذیابیطس کے مریض تھے جبکہ دیگر گروپوں میں ان کی تعداد 30فیصد تھی۔ دوسرے گروپ کے ارکان کو غیر صحت بخش خوراک کھانے والا گروپ بتایا گیا تھا۔ ان میں سے 37فیصد نے دعویٰ کیا کہ وہ الم غلم چیزیں زیادہ کھاتے ہیں۔ اس گروپ کے 61فیصد افراد نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ کھانوں کے درمیانی اوقات میں بھی چرنے چگنے سے باز نہیں آتے اور 92فیصد نے یہ اعتراف کیا کہ وہ اس وقت بھی کھاتے ہیں جب بھوک نہیں لگتی۔ ریسرچرز کو اس وقت خاصی حیرت ہوئی جب انہوں نے یہ دیکھا کہ تیسرے گروپ کے افراد میں اگرچہ کوئی پریشان کن غذائی عادات موجود نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود وہ مٹاپے کا شکار تھے۔ ان میں سے صرف 7فیصد نے یہ بتایا کہ وہ اس وقت بھی کھاتے ہیں جب بھوک نہیں ہوتی ہے۔ ان کے مقابلے میں گروپ ایک میں 37فیصد، گروپ دو میں92 فیصد اور گروپ چار میں ایسے لوگوں کی تعداد 29فیصد تھی۔ ریسرچ رپورٹ کے مصنفین نے لکھا ہے کہ اس کے علاوہ اس گروپ اور دیگر گروپوں میں کوئی فرق موجود نہیں تھا۔ چوتھا گروپ ان افراد پر مشتمل تھا جو بچپن سے مٹاپے میں مبتلا تھے۔ 18سال کی عمر کے جو افراد اس گروپ میں تھے، ان کا BMI (باڈی ماس انڈیکس) 32کے اوسط کے ساتھ سب سے زیادہ تھا جبکہ دیگر ذیلی گروپوں میں BMI لگ بھگ 25تھا۔ واضح رہے کہ 30؍سے زیادہ بی ایم آئی فربہ (Obese)قرار دیا جاتا ہے جبکہ 25سے زیادہ پی ایم ائی کو زیادہ وزنی (OverWeight) کہا جاتا ہے۔ چوتھے گروپ کے افراد کا سرجری سے پہلے کا بی ایم آئی بھی سب سے زیادہ یعنی اوسطاً 59تھا جبکہ اس کے مقابلے میں دیگر گروپ کے افراد کا 45تھا۔ اس ریسرچ کی قائد اور امراض وبائی کی ماہر ایلی سن فیلڈ کا کہنا ہے کہ ایک بچہ جو 5سال کی عمر میں بہت زیادہ فربہ ہوجائے، وہ ان لوگوں سے بہت مختلف ہوسکتا ہے جن کا وزن بتدریج بڑھتا ہے اور 65سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد وہ فربہ ہوجاتے ہیں۔ ریسرچرز نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی تحقیق سے ان مریضوں کو شناخت کرنا ممکن ہوگا جنہیں وزن کم کرنے والی سرجری سے سب سے زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔