December 03, 2018
جسم کے مدافعتی نظام میں خون کے سفید خلیات کا کردار

جسم کے مدافعتی نظام میں خون کے سفید خلیات کا کردار

اگر کوئی جرثومہ، وائرس یا فنگی (Pathogens) بہت زیادہ سخت جان، عیار یا اتنی بڑی تعداد میں ہو کہ ابتدائی جسمانی دفاعی لائنوں کو عبور کرکے آگے بڑھ جائے تو پھر ان سے نمٹنے کیلئے قدرت نے پیش آمدہ صورت حال کے مطابق ڈھل جانے والے مدافعتی نظام کا بندوبست کر رکھا ہے۔ موافقت پیدا کرنے والے دفاعی نظام کی اہم قوتوں میں خون کے سفید خلیات شامل ہیں جن کو Lymphocytes کہتے ہیں۔ دیگر سفید خلیات کے برعکس ’’لمفو سائٹس‘‘ کو اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ وہ ایک مخصوص قسم کے Pathogen پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ’’لمفوسائٹس‘‘ کی دو قسمیں B-cells اور T-cells ہوتی ہیں۔ یہ دونوں خلیات اس وقت مشترکہ کارروائی کرتے ہیں جب خون کے سفید خلیات (Macrophage) کیمیائی پیغامات کے ذریعے حملہ آورپیتھوجین کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ایسے کیمیائی پیغامات کو Interleukins کہتے ہیں۔ کسی بھی پیتھوجین کو گھیرے میں لینے کے بعد ’’میکرو فیج‘‘ پیتھوجین کے انٹیلی جنس کے بارے میں تفصیلات سے باخبر کرتا ہے۔ یہ اینٹی جین راز افشا کرنے والے سالمے ہوتے ہیں جو کسی مخصوص پیتھوجین سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس معلومات کی بنیاد پر مدافعتی نظام مخصوص B-cells اور T-cells کی شناخت کرتا ہے جو اس پیتھوجین کو پہچاننے اور ان سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک بار جب یہ کامیابی کے ساتھ شناخت کرلئے جاتے ہیں تو یہ خلیات بہت تیزی سے اپنی پیداوار بڑھانے لگتے ہیں اور وہ حملہ آور پیتھوجین کو قابو کرلیتے ہیں۔ B خلیات اینٹی باڈیز سے جسم کو بھر دیتے ہیں۔ یہ اینٹی باڈیز وہ سالمے ہیں جو کسی مخصوص پیتھوجین کو غیر مسلح کرتے ہیں یا اس سے چپک کر اسے ہدف ظاہر کرکے دیگر خون کے سفید خلیات کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ انہیں نیست و نابود کریں۔ جب T خلیات اپنے اہداف کو شناخت کرلیتے ہیں تو وہ ان سے چپک کر زہریلے کیمیکلز خارج کرنا شروع کرتے ہیں جن سے پیتھوجینز تباہ ہوجاتے ہیں۔ Tخلیات کو خاص طور پر یہ صلاحیت بخشی گئی ہے کہ وہ آپ کے جسم کے ان خلیات کو تباہ کرے جو کسی خطرناک وائرس سے بیمار ہوگئے ہیں۔ اس پورے عمل میں کئی دن لگتے ہیں بلکہ اسے مکمل ہونے میں اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس عرصے کے دوران جب خون کے سفید خلیات حملہ آور خوردبینی جسیموں کا مقابلہ کررہے ہوتے ہیں، آپ کی طبیعت خراب رہتی ہے۔ خوش قسمتی سے جسم کے مدافعتی نظام کو اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ وہ ماضی سے سیکھ سکتا ہے۔ اس وقت جبکہ آپ کا جسم پیتھوجینز کا مقابلہ کرنے کیلئے B-cells اور T-cells تیار کررہا ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ یادداشت والے خلیات یعنی Bخلیات اور Tخلیات کی نقلیں بھی تیار کرتا رہتا ہے جو پیتھوجینز کو شکست دینے کے بعد دفاعی نظام میں موجود رہتے ہیں اور اگر آئندہ اس قسم کے پیتھوجینز دوبارہ حملہ آور ہوں تو یہ یادداشت والے خلیات بہت تیزی سے جوابی حملہ کرسکتے ہیں اور آپ کا جسم حملہ آوروں کو انفیکشن پھیلانے سے پہلے ٹھکانے لگا سکتا ہے۔ دیگر الفاظ میں آپ کا جسم بیرونی حملہ آور پیتھوجین کے خلاف تحفظ (Immunity) حاصل کرلیتا ہے۔ یہی کام ٹیکے یا ویکسین بھی کرتے ہیں یعنی آپ کے جسم میں اتنے پیتھوجینز داخل کئے جاتے ہیں جن سے یادداشت والے خلیات تو تیار ہوجاتے ہیں لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ آپ بیمار ہوجائیں۔