December 03, 2018
خطرناک مافیا -پہلی قسط

خطرناک مافیا -پہلی قسط

واشنگٹن کی فضا اس روز بہت مختلف لگ رہی تھی۔ صبح سے ہی فضا میں ایک عجیب سی اُداسی اور افسردگی رچی ہوئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سرمئی بادل آسمان کی بلندیوں سے کافی نیچے آگئے ہوں۔ ان کی وجہ سے روشنی کم ہوگئی تھی اور ماحول میں مزید بوجھل پن کا تاثر پیدا ہوگیا تھا۔ سرد ہوا کے جھونکے خبر دے رہے تھے کہ بارش کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے۔ ’’کیپٹال‘‘ کے سامنے اس وقت کم و بیش ایک لاکھ افراد کا مجمع موجود تھا۔
’’کیپٹال‘‘ واشنگٹن کی وہ عمارت تھی جس میں مرکزی حکومت کے تمام اہم دفاتر موجود تھے۔ اس عمارت کے سامنے اس وقت جو لوگ موجود تھے، وہ سب کے سب خاموش تھے مگر اس انداز میں کھڑے تھے جیسے انہیں توقع ہو کہ وہاں کچھ ہونے والا ہے۔ ان میں سے بعض اپنے سامنے موجود طویل و عریض سرکاری عمارت کی طرف اشارے کرکے ایک دوسرے کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھ رہے تھے۔ عمارت کی چھت پر چند آہنی ڈھانچے سے موجود تھے اور لوگ انہی کی طرف دیکھ کر اشاروں ہی اشاروں میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ وہ کیا چیزیں ہیں؟
وہ 4؍مارچ 1933ء کی صبح تھی اور اس روز ’’کیپٹال‘‘ کے سامنے لوگوں کا یوں جمع ہونا خلاف معمول تھا۔ وہ سب عمارت کی چھت پر نظر آنے والے آہنی سے ڈھانچوں کے بارے میں متجسس تھے اور جاننا چاہتے تھے کہ وہ کیا ہیں۔ ان چیزوں کے پیچھے فوجی جوان بھی موجود تھے جو مستعد انداز میں ان چیزوں پر جھکے ہوئے تھے۔ لوگ اشاروں میں ایک دوسرے سے جو سوال کررہے تھے، آخرکار ایک عورت نے اس کا جواب دیا۔
’’یہ مشین گنیں ہیں۔‘‘ اس نے بتایا۔
بہت سے لوگ گہری سانس لے کر رہ گئے۔ درحقیقت اس وقت تک امریکا کے زیادہ تر شہریوں نے مشین گن دیکھی ہی نہیں تھی۔ آس پاس کی گلیوں کے کونوں پر بھی فوجی جوان رائفلیں لیے مستعد انداز میں کھڑے تھے۔ وہ کبھی کبھی مضطربانہ انداز میں ان رائفلوں کو حرکت دینے لگتے تھے۔ فضا میں ہر طرف ایک خاموش اضطراب، بے چینی اور تنائو تھا۔ اس منظر کے بارے میں بعد میں ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے رپورٹنگ کرتے ہوئے لکھا تھا۔ ’’ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے جنگ کا زمانہ ہے اور دشمن کی فوجیں امریکی دارالحکومت کی طرف بڑھ رہی ہیں جس کی حفاظت کے لیے امریکی فوجی مستعد کھڑے ہیں۔‘‘
یہ کوئی ایسی مبالغہ آمیز بات نہیں تھی۔ وہ دور واقعی کچھ ایسا تھا جیسے امریکا کی کسی دشمن کے ساتھ جنگ چل رہی ہو۔ عام شہری اکثر اوقات خوف زدہ سے رہتے تھے۔ ان کا ملک امریکا، جس کے زیادہ تر شہری اس سے پہلے مختلف مشاغل اور تفریحات میں مشغول نظر آتے تھے، اب گویا بالکل بدل کر رہ گیا تھا۔ شراب خانے، تفریح گاہیں، نائٹ کلب یوں اُجڑ کر رہ گئے تھے جیسے دشمن نے ان پر بمباری کردی ہو۔ وہ عورتیں جو پہلے کلبوں میں ڈانس کرتی نظر آتی تھیں اور جن کے دم سے محفلوں میں رونق محسوس ہوتی تھی، اب ڈبل روٹی لینے کے لیے قطار میں کھڑی ہوتی تھیں۔
ان کے چہرے مرجھائے ہوئے اور بے رونق دکھائی دیتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں مایوسی کے سائے لرزاں نظر آتے تھے۔ وہ مرد جو اپنی آمدنی میں سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ بچاتے رہتے تھے اور ان رقوم سے شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتے رہتے تھے، اب وہ اپنے جاننے والوں اور دوستوں سے چھوٹی چھوٹی رقمیں اُدھار مانگتے پھرتے تھے۔ ان میں سے بعض تو اس سے بھی کہیں زیادہ برے حالوں کو پہنچ چکے تھے۔ وہ فٹ پاتھوں پر کسی گٹر وغیرہ کے قریب ہاتھ پھیلائے بیٹھے نظر آتے۔ انہیں پورے دن میں بھیک کے طور پر، مشکل سے چند سکّے ہی مل پاتے۔ اس پس منظر میں آج لوگ زیادہ حیرانی، پریشانی اور قدرے خوف کے عالم میں شہر کی سب سے بڑی سرکاری عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔
پھر اچانک عمارت کی طرف سے بگل بجنے کی آواز آئی۔ سب لوگ، عمارت کے سامنے، اس حصے کی طرف متوجہ ہوگئے جہاں ایک خاصا بڑا اسٹیج سجایا گیا تھا جس پر ڈائس بھی موجود تھا۔ امریکا کے اس زمانے کے نومنتخب صدر فرینکلن روز ویلٹ عمارت سے برآمد ہوئے اور سرخ قالین پر چلتے ہوئے اسٹیج تک پہنچے۔ پھر وہ ڈائس کی طرف بڑھے۔ ان کی چال ہمیشہ کی طرح باوقار محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ وہ ذرا غیرمتوازن سے انداز میں چل رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اندر ہی اندر کچھ نروس ہیں۔ چیف جسٹس نے ان سے حلف لیا۔ آج ان کی حلف برداری کی تقریب تھی مگر اس تقریب پر خوشی سے زیادہ، ایک بے عنوان سے خوف اور کشیدگی کا غلبہ تھا۔ حلف برداری کے بعد صدر روز ویلٹ ڈائس پر آئے۔ انہوں نے ڈائس کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔
ذرا مضطربانہ انداز میں انہوں نے تقریر شروع کی اور رسمی قسم کی تمہید کے بعد کہا۔ ’’میرے ہم وطنو! ہمیں صرف ایک چیز سے خوف کھانا چاہئے، اور وہ چیز خوف ہی ہے۔ ہمیں خوف کا شکار نہیں ہونا چاہیے، ہمیں خوف سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ جب انسانوں کے دلوں میں خوف بیٹھ جاتا ہے تو ان کی ذہنی صلاحیتیں جواب دے جاتی ہیں۔ اگر انسان اپنے آپ کو خوف سے مغلوب نہ ہونے دے تو وہ شکست کو بھی فتح میں بدل سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے ایک لمحے کے لیے خاموش ہوکر، اپنے سامنے موجود ہجوم کی طرف نظر ڈالی، پھر تقریر کا سلسلہ جوڑتے ہوئے بولے۔ ’’اس وقت ہم نے بے بنیاد خوف، اندیشوں اور وسوسوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، شکست تسلیم کرلی ہے۔ میں افسوس سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارا یہ طرزِعمل درست نہیں ہے۔ ہمیں اس خوف کے غلبے سے نکل کر ایک بہادر فوج کی طرح متحد ہوکر میدانِ عمل میں آنا پڑے گا۔ قوم کو اس وقت ہنگامی حالات کا سامنا ہے۔ یہ ایک طرح سے ایمرجنسی کا دور ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے میں کانگریس سے ہمت افزائی اور حوصلے کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ یہی وہ ہتھیار ہیں جن کے ذریعے ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ ہماری جنگ دراصل مایوسی اور خوف سے ہے۔ ہمیں مایوسی اور خوف کو شکست دینی ہے۔ ہمیں ان دونوں سے بالکل اسی طرح نمٹنا ہے جس طرح میدان جنگ میں فوجیں دشمن سے نمٹتی ہیں۔‘‘
صدر نے یہ تقریر اپنے ملک کے عوام کی ہمت اور حوصلہ بڑھانے کے لیے کی تھی لیکن جب وہ تقریر کرکے وائٹ ہائوس میں واپس چلے گئے تو بہت کم لوگ اپنی اندرونی کیفیت پہلے سے بہتر محسوس کررہے تھے۔ ایک عرصے سے ملکی حالات نے لوگوں کو مایوس اور دل گرفتہ کیا ہوا تھا۔ آئے دن نئی نئی افواہیں اُڑتی رہتی تھیں۔ کبھی کوئی کہتا کہ جنگ چھڑنے والی ہے۔ کوئی کہتا کہ ملک میں مارشل لا لگنے والا ہے۔ کسی کا خیال تھا کہ ملک میں بدامنی اور بڑھے گی جس کے بعد شاید ڈکٹیٹر شپ آجائے گی۔
صدر روز ویلٹ کی تقریر کے بعد بھی بہت کم لوگ سمجھ پائے تھے کہ ان کا اشارہ کس خوف اور کس جنگ کی طرف تھا۔ ان دنوں تو ہر بات ممکن نظر آرہی تھی۔ جب بھی کوئی شخص مبہم انداز میں کوئی بات کرتا تھا، ہر کوئی دل ہی دل میں اپنی فہم و فراست کے مطابق اس کی تشریح کرتا تھا۔ بہت کم لوگوں کو اندازہ تھا کہ ملک میں واقعی ایک جنگ کے آثار نمودار ہورہے تھے جس میں بہت سے ہتھیار استعمال ہونا تھے اور بہت سا خون بہنا تھا۔ یہ جنگ امریکا کے وسطی حصے کے بہت سے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی تھی۔
یہ جنگ فوج کو نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے ایک ادارے کو لڑنا تھی جو محکمہ انصاف کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ جان ایڈگر ہوور نامی ایک شخص کو تلاش کرکے اس کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ ابتدا میں اس شخص کی کوئی خاص حیثیت نہیں تھی لیکن صرف بیس ماہ کے عرصے میں اسے تیز رفتاری سے آگے بڑھ کر اس قدر طاقتور بن جانا تھا کہ بڑے بڑے بدمعاشوں سے ٹکرانے اور ان کا قلع قمع کرنے کی بھاری ذمہ داری اس کے کندھوں پر ڈالی جانے والی تھی۔ یہ بدمعاش اپنے اپنے جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ اتنے طاقتور بننے والے تھے کہ پورے امریکا کو خون میں نہلا سکتے تھے۔ دنیا بھر میں ان کے نام کا ڈنکا بجنے والا تھا اور ان میں سے بعض تو ’’لے جنڈ‘‘ کی حیثیت اختیار کرنے والے تھے۔ جان ایڈگر ہوور کو جس ادارے کا سربراہ بنایا گیا تھا، اسے آج دنیا مختصراً ’’ایف بی آئی‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔
٭…٭…٭
امریکا کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں، بلکہ گزشتہ سو سال پر نظر ڈالی جائے اور اس عرصے کے دوران رونما ہونے والے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس دوران کیا کیا واقعات لوگوں کے ساتھ پیش آئے۔ امریکی معاشرہ کیسے کیسے نشیب و فراز اور مدوجزر سے گزرا۔ کیسی کیسی عجیب و غریب شخصیات نے اس سرزمین پر جنم لیا۔ ان شخصیات اور واقعات پر امریکا میں سیکڑوں فلمیں بھی بنی ہیں، بے شمار کہانیاں اور ناول بھی لکھے گئے ہیں لیکن ظاہر ہے، ان فلموں، کہانیوں اور ناولوں میں ان واقعات اور کرداروں کے بارے میں کافی مبالغہ، رنگ آمیزی اور افسانہ طرازی بھی کی گئی ہے، یہ سب کچھ فلموں، کہانیوں اور ناولوں کا تقاضا ہوتا ہے۔ اسی طرح ان چیزوں میں دلچسپی بڑھائی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دور کی امریکی تاریخ کے بہت سے کرداروں کی کہانیاں ایسی ہیں کہ اگر ان میں رنگ آمیزی نہ کی جائے اور ذرا بھی مبالغے سے کام نہ لیا جائے تب بھی وہ اتنی دلچسپ، حیرت انگیز اور ناقابل یقین ہیں کہ مکمل طور پر تخیل کی پیداوار معلوم ہوتی ہیں۔
دوسری عالمگیر جنگ کے بعد امریکا میں پیدا ہونے والے بھی شاید نہ جانتے ہوں کہ چارلس فلائیڈ عرف پریٹی بوائے، نیلسن عرف بے بی فیس، ماما بارکر، جان ڈلنگر اور کلائیڈ بیرو کون تھے۔ بہت سے لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ شاید حقیقی دنیا میں کبھی موجود ہی نہیں تھے۔ وہ انہیں محض فلمی یا کتابی کردار سمجھتے ہیں۔ شاید اسکرپٹ رائٹرز یا ناول نگاروں نے انہیں تخلیق کیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو شاید الکپون کے بارے میں بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا، اس نے امریکا میں کیا کچھ کیا اور جرائم کی دنیا میں اس کا کیا کردار تھا؟
موجودہ دور میں شاید لوگوں کو یہ یقین نہ دلایا جاسکے کہ یہ سب اسی دنیا کے جیتے جاگتے کردار تھے اور اپنے اپنے وقت میں امریکا کے مختلف شہروں میں نہ جانے کیا کیا ہنگامے برپا کرکے، کتنی ہلچل مچا کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ درحقیقت یہ سب تقریباً ایک ہی دور کے لوگ تھے۔ ان کے عروج و زوال کا زمانہ ایک دوسرے سے تھوڑا ہی آگے یا پیچھے کا ہے۔ کلائیڈ بیرو 1909ء میں ڈیلاس میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا نام اپنی ساتھی لڑکی ’’بونی‘‘ کے ساتھ نتھی ہوکر زیادہ مشہور ہوا۔ ان دونوں کی جوڑی ’’بونی اینڈ کلائیڈ‘‘ کے نام سے مشہور تھی۔ اسی نام سے ان کی زندگی پر ایک مشہورِ زمانہ فلم بن چکی ہے۔ ان دونوں کرداروں پر بہت سی کہانیاں اور ناول بھی لکھے جا چکے ہیں۔ کلائیڈ ایک معمولی سا چور تھا۔ بعد میں ایک بے رحم قاتل اور ڈاکو بن گیا۔ اس نے بے شمار ڈاکے ڈالے اور بہت سے قتل کئے۔
نیلسن عرف ’’بے بی فیس‘‘ کی بیوہ کا انتقال 1987ء میں ہوا ہے۔ بڑھاپے میں اس نے اپنی زندگی کے آخری سال ایک طرف بیٹھ کر اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو موسیقی کی دُھن پر ناچتے، گاتے اور تھرکتے ہوئے دیکھ کر گزارے۔ کیلی عرف ’’مشین گن‘‘ کی بیوہ پچیس سال جیل میں گزار کر 1985ء میں اس دنیا سے رخصت ہوئی۔ تاہم ابھی تک کچھ ایسے لوگ زندہ ہیں جنہوں نے جان ڈلنگر کو بینک لوٹتے، بونی اور کلائیڈ کو بے گناہ عام شہریوں اور سرکاری اہلکاروں کے جسموں میں سفاکی سے گولیاں اُتارتے دیکھا تھا یا جنہیں بچپن میں ’’بے بی فیس نیلسن‘‘ کے ساتھ فٹ بال کھیلنے کا اتفاق ہوا تھا۔ وہ آج بھی اپنے بچوں کے بچوں کو ان مشہور زمانہ کرداروں کی کہانیاں سناتے ہیں۔ شاید وہ بچے سوچتے ہوں گے کہ یہ جنّوں بھوتوں کی کہانیاں ہیں۔
1933ء میں جب جان ڈلنگر جیسے لوگ ملک گیر شہرت حاصل کررہے تھے، یا شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ملک گیر رسوائیاں سمیٹ رہے تھے، اس وقت امریکا کے ایک سابق صدر رونالڈ ریگن کی عمر بائیس سال تھی اور وہ عالمی ادارئہ صحت کے تحت چلنے والے ایک ریڈیو اسٹیشن سے پروگرام نشر کررہے تھے۔ امریکا کے ایک اور سابق صدر رچرڈ نکسن کی عمر اس وقت بیس سال تھی اور وہ کیلیفورنیا کے ایک کالج میں ڈراموں میں کام کررہے تھے۔ امریکا کے ایک اور سابق صدر جارج بش کے والد جارج ڈبلیو بش، گرین وچ کے ایک اسکول میں پہاڑے یاد کررہے تھے۔
ایک اور سابق صدر جیمس کارٹر، عرف جمی کارٹر بھی وہیں تھے اور اسکول میں ضرب جمع تقسیم سیکھ رہے تھے۔ نیوجرسی کے ایک اسکول کی تقریبات میں فرینک سناترا نامی ایک سترہ سالہ لڑکا گانے سنا رہا تھا اور لڑکیاں اس پر فدا ہو رہی تھیں۔ اِلی نوائے کے ایک گھر میں نو سال کا ایک نہایت پُرجوش اور توانا لڑکا باکسنگ سیکھ رہا تھا۔ اس لڑکے کا نام مارلن برانڈو تھا۔ اس کے والد اسے اکثر لعن طعن کیا کرتے تھے اور اس کے بارے میں، اس کے منہ پر، بڑے یقین سے کہتے رہتے تھے کہ وہ زندگی میں کبھی کچھ نہیں کرسکے گا اور زندگی کے کسی میدان میں کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ اس وقت وہ لڑکا ایک نامور باکسر بننے کے خواب دیکھا کرتا تھا اور شاید اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک روز باکسر کے بجائے ایک عظیم اداکار کے طور پر پوری دنیا میں اس کی شہرت ہوگی۔
آج جبکہ لوگ جیبوں میں کئی کئی موبائل فون لئے پھرتے ہیں، آن لائن شاپنگ کرتے ہیں، جنگوں میں لیزر گائیڈڈ بم استعمال ہوتے ہیں، اس دور میں بیسویں صدی کے ان ڈاکوئوں، قاتلوں، لٹیروں اور گینگسٹرز کی کہانیوں پر یقین کرنا ذرا مشکل محسوس ہوتا ہے جنہوں نے اپنے دور میں امریکا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ ان کی زندگی کی داستانیں اب امریکا کی ان پرانی فلموں کی کہانیاں محسوس ہوتی ہیں جنہیں ’’ویسٹرن‘‘ کہا جاتا تھا۔ ان فلموں میں دوردراز کے دیہی علاقوں میں لاقانونیت کا زمانہ دکھایا جاتا تھا لیکن جن لوگوں کا یہاں تذکرہ کیا جارہا ہے، ان کی زندگی کی کہانیاں حقیقی امریکا کی کہانیاں ہیں، ان میں کوئی بات جھوٹ نہیں، کوئی بات تخیل کی پیداوار نہیں۔ ان کہانیوں میں بیسویں صدی کا حقیقی امریکا نظر آتا ہے، فلمی لوکیشنز نہیں۔
1933ء میں پرل ہاربر پر جاپانیوں کی بمباری میں ابھی آٹھ سال باقی تھے۔ ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے میں بارہ سال باقی تھے۔ ایلوس پریسلے کے مشہور ہونے میں تیئس سال باقی تھے لیکن اُس وقت کا اور آج کا امریکا بہت زیادہ مختلف نہیں تھا۔ تھوڑا بہت فرق بس یہی تھا کہ بہت سی سائنسی ایجادات اس زمانے میں موجود نہیں تھیں۔ بہرحال، ایک سے دوسرے شہر فون کرنا، جہازوں میں سفر کرنا، اس وقت بھی عام سی بات تھی۔ ڈاکو اور پولیس والے، دونوں ہی اپنے اپنے کاموں کے سلسلے میں جہازوں میں سفر کرتے تھے۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ اس وقت بھی ایک اہم اخبار اور ’’ٹائم‘‘ ایک اہم رسالہ تھا۔
مردوں اور عورتوں کے ملبوسات آج کل کے ملبوسات سے بہت زیادہ مختلف نہیں تھے البتہ اُس زمانے میں، عورتوں اور مردوں، دونوں میں ہیٹ استعمال کرنے کا رواج زیادہ تھا۔ ہولی وڈ اس وقت بھی فلمیں بنا رہا تھا۔ ’’ٹارزن‘‘ ،’’ڈاکٹر جیکال اینڈ مسٹر ہائیڈ‘‘ جیسی فلمیں خوب رش لیتی تھیں۔ ریڈیو شوق سے سنا جاتا تھا اور امریکا کے آدھے سے زیادہ گھروں میں ریڈیو تھا جس پر کافی حد تک تازہ ترین خبریں سنی جاسکتی تھیں۔ 1933ء کی ایک اہم بات یہ تھی کہ لوگوں کے معاشی حالات اچھے نہیں تھے۔
عوام کے پاس تفریحات سے لطف اندوز ہونے کے لیے رقم نہیں ہوتی تھی۔ 1929ء میں امریکا میں معاشی بحران آیا تھا جو بہت طول کھینچ گیا تھا۔ اس بحران نے لاکھوں لوگوں کو کنگال کردیا تھا، بے شمار لوگ بے روزگار ہوگئے تھے اور بیوی، بچوں سمیت مال گاڑیوں میں گھس کر شہر شہر روزگار تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ بے روزگاری اور مالی مسائل کی وجہ سے حکومت کے خلاف کبھی کبھی مظاہرے بھی ہوجاتے تھے جن میں سے بعض پُرتشدد ہوجاتے تھے اور فوج طلب کرنا پڑ جاتی تھی۔ بعض اوقات فوج کی آمد کے بعد بھی حالات قابو میں نہیں آتے تھے اور فوج کو فائرنگ کرنا پڑ جاتی تھی۔ کبھی کبھی سڑکوں پر ٹینکوں کے گشت کرنے کی نوبت بھی آجاتی تھی۔
٭…٭…٭
نومنتخب امریکی صدر روز ویلٹ حلف اٹھانے کے بعد عوام کے اجتماع کے سامنے جو تقریر کررہے تھے، وہ ریڈیو پر بھی نشر ہو رہی تھی۔ مختلف مقامات پر لاکھوں افراد یہ تقریر سن رہے تھے۔ ان میں چند سرکاری افسر بھی شامل تھے جو شہر کے مرکزی علاقے کی ایک عمارت میں، تیسری منزل پر واقع اپنے دفتر میں ریڈیو سے کان لگائے بیٹھے تھے۔ یہ ایف بی آئی کے لوگ تھے۔ ان کا سربراہ گٹھے ہوئے جسم کا ایک اڑتیس سالہ شخص تھا جس کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی تھیں۔ ان آنکھوں کے نیچے اس کے پپوٹے کچھ سوجے ہوئے سے دکھائی دیتے تھے۔ اسے دیکھ کر اکثر لوگوں کے ذہن میں بُلڈاگ کا خیال آتا تھا۔ اسی کا نام جان ایڈگر ہوور تھا۔ اس کے اور اس کے ماتحتوں کے گھر والوں کو بھی صحیح طور پر معلوم نہیں تھا کہ ان لوگوں کے فرائض کی نوعیت کیا ہے اور وہ حکومت کے لیے کیا خدمات انجام دیتے ہیں۔
ایف بی آئی کا بانی درحقیقت جان ایڈگر ہوور ہی تھا۔ آج کل جس سڑک پر ایف بی آئی کے مرکزی دفاتر واقع ہیں، اسے ’’ہوور اسٹریٹ‘‘ کا نام دیا جا چکا ہے۔ شروع میں ایف بی آئی کی حیثیت ایک اضافی اور خصوصی پولیس فورس کی تھی لیکن ہوور نے اپنی بہترین منصوبہ بندی، انتظامی صلاحیتوں اور دیانتداری کے ذریعے اسے کچھ سے کچھ بنا دیا تھا۔ 1972ء میں ہوور کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس کی موت کو تقریباً چھیالیس سال گزر چکے ہیں لیکن سرکاری حلقوں میں اس کے نام کی بازگشت ابھی تک باقی ہے۔
وہ جب زندہ تھا تو بڑی بڑی سرکاری اور غیرسرکاری شخصیات اس سے خوف محسوس کرتی تھیں۔ خاص طور پر اگر کسی کے دل میں کسی بھی قسم کی کرپشن یا غیرقانونی کام کا خیال آتا تھا تو وہ ایک بار ہوور کے بارے میں ضرور سوچتا تھا۔ بڑے بڑے بدمعاشوں اور گینگسٹر کے لیے بھی اس کا نام خوف کی علامت بن گیا تھا۔ بعض لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس زمانے میں ایف بی آئی کا قیام عمل میں نہ آتا اور اسے ہوور جیسا سربراہ نصیب نہ ہوتا تو امریکا پر آج بدمعاشوں کی حکمرانی ہوتی اور اس کی گلی کوچوں میں قاتل اور لٹیرے دندناتے پھر رہے ہوتے۔ مگر جب ہوور زندہ تھا اور ایف بی آئی کی سربراہی کررہا تھا تو اس بے چارے کو اپنی تمامتر دیانتداری، محنت اور انقلابی اقدامات کے باوجود اپنی نوکری اور اپنے ادارے کا وجود برقرار رکھنے کے لیے بڑے ہاتھ پائوں مارنے پڑتے تھے۔
اکثر ممالک میں اس قسم کی شخصیات اور اس طرح کے اداروں کے راستے میں وہاں کا سیاسی نظام رکاوٹ بن جاتا ہے۔ بہت سے بااثر لوگ ان کے خلاف ایک نادیدہ سا محاذ بنا لیتے ہیں۔ ہوور جیسے  لوگوں کو ان کی دیانتداری، انتظامی صلاحیتوں اور محنت کا کوئی صلہ ملنے کے بجائے نوکری کے بھی لالے پڑ جاتے ہیں۔ ہوور کو بھی کئی بار ایسے ہی نامساعد اور ہمت شکن حالات سے واسطہ پڑا اور اس کے راستے میں سیکڑوں رکاوٹیں آئیں لیکن یہ امریکا کی خوش قسمتی تھی کہ ہوور ان حالات سے دلبرداشتہ نہیں ہوا۔ اس نے نہ صرف ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کیا، بلکہ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ اپنی اور اپنے ادارے کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر بناتا چلا گیا۔
ایف بی آئی کے قیام اور ہوور کی آمد سے پہلے امریکا میں قانون نافذ کرنے والے ادارے دراصل صرف کائونٹیز میں بکھرے ہوئے شیرفوں کے دفاتر تھے جنہیں زیادہ تر کرپشن کی دیمک لگی ہوئی تھی۔ ہر کائونٹی کا شیرف خودمختار تھا اور زیادہ تر اسے دیکھنے یا اس کی کارکردگی پر نظر رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا، اس لیے کائونٹی اور شیرف والا نظام کافی حد تک غیرمؤثر تھا۔ جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے بہت بڑھے ہوئے تھے۔
پولیس کے نظام کو بھی بہتر، مضبوط، مربوط اور فعال بنانے کا سہرا ہوور ہی کے سر ہے۔ آج امریکا میں پولیس کا نظام جس شکل میں نظر آتا ہے، اسے اس راستے پر ڈالنے والا بھی اصل میں ہوور ہی تھا۔ ایک ناقابل یقین سی بات یہ ہے کہ یہ سب کام اس نے صرف بیس ماہ میں کئے۔ بیس ماہ کے عرصے میں وہ تقریباً ایک قومی ہیرو کی حیثیت اختیار کرگیا۔ اس کا نام فلموں، کتابوں اور بچوں کی کہانیوں میں شامل ہونے لگا۔
یہی وہ زمانہ تھا جب امریکا میں بڑے بڑے بدمعاش منظرعام پر آرہے تھے، اپنے اپنے گروہ تشکیل دے رہے تھے۔ ان میں سے بعض تو بہت طاقت پکڑ گئے تھے۔ ہوور کو ان کا قلع قمع بھی کرنا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے ادارے کو بھی مضبوط اور طاقتور بنانا تھا۔ یہ سب کچھ کس طرح ممکن ہوا، درحقیقت آپ اسی کی کہانی پڑھنے جارہے ہیں لیکن اس کہانی کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے یہ سارا پس منظر جاننا ضروری تھا۔
ہوور کو ایک آدھ طاقتور شخصیت کی سرپرستی حاصل تھی لیکن اس کی جڑیں کاٹنے والے، مخالفت کرنے والے اور اس کے بارے میں اسکینڈلز بنانے والے بااثر افراد کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اس کے بارے میں کانگریس میں قرارداد تک پیش ہوئی۔ ایک موقع پر ایسا محسوس ہونے لگا کہ اسے برطرف کردیا جائے گا، اس کے محکمے کو ختم کردیا جائے گا، اور یہ بھی بعید نہیں کہ اسے جیل میں ڈال دیا جائے مگر شاید اس کے خلوص نیت اور دیانتداری کی وجہ سے خدا اس کی مدد کررہا تھا۔ وہ ہر مرحلے پر سرخرو رہا۔ صدر روز ویلٹ کے خاص خاص آدمی بھی اس کے مخالف تھے اور انہوں نے ہوور پر واضح کردیا تھا کہ اگر اس کا محکمہ ختم نہ کیا گیا، تب بھی کم از کم اس کا سربراہ ضرور تبدیل کردیا جائے گا۔
ایف بی آئی، یعنی ’’فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن‘‘ کا نام شروع میں یہ نہیں تھا۔ کئی سال تک اس کا نام ’’بیورو آف انویسٹی گیشن آف جسٹس ڈپارٹمنٹ‘‘ رہا۔ اس کا قیام 1924ء میں عمل میں آیا تھا۔ روز ویلٹ کے برسراقتدار آنے تک اس ادارے یا ایجنسی کو کام کرتے ہوئے نو سال ہوچکے تھے لیکن اس کی مخالفت بدستور جاری تھی۔ تاہم اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دینے والوں کی مدد قدرت کس طرح کرتی ہے، اس کا اندازہ ایک واقعے سے لگایا جاسکتا ہے۔
صدر روز ویلٹ کی حلف برداری سے صرف دو دن پہلے والش نامی ایک سینیٹر میامی سے واشنگٹن آنے کے لیے ٹرین میں سوار ہوئے۔ موصوف کی عمر بہتّر سال تھی لیکن چند دن پہلے ہی انہوں نے ایک چوبیس سالہ کیوبن لڑکی سے شادی کی تھی۔ ٹرین میں انہوں نے ایک الگ تھلگ خصوصی کوپے بک کرایا تھا جس میں ’’نوبیاہتا‘‘ جوڑے کے سوا کوئی قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔ یہ سینیٹر صاحب صدر روز ویلٹ کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے اور اس مشن پر میامی سے روانہ ہوئے تھے کہ صدر سے مل کر ہوور کی برطرفی کی بات کریں گے۔
دوسری صبح جب ’’دلہن‘‘ کی آنکھ کھلی تو اس نے شوہر کو اپنے پہلو میں مُردہ پایا۔ طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے تو اپنی رپورٹ میں یہی لکھا کہ سینیٹر صاحب کو دل کا دورہ پڑا تھا جس کے باعث ان کی موت واقع ہوگئی لیکن بعد میں وہی ڈاکٹر آپس میں، سرگوشیوں میں باتیں کرتے پائے گئے کہ شاید سینیٹر صاحب نے اپنی نوجوان اور نوبیاہتا دلہن کے سامنے، دلہن سے بھی زیادہ نوجوان بننے کی کوشش کی تھی اور زیادہ امکان یہی تھا کہ اس سلسلے میں انہوں نے کچھ دوائوں سے مدد لی ہو، جن کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
اس طرح قدرت گاہے گاہے ہوور کی مدد کرتی رہتی تھی۔ تاہم خود ہوور کو بھی کبھی کبھی اس بات پر افسوس ہوتا تھا کہ اس جیسے دیانتدار اور انقلابی افسروں کی قسمتوں کے فیصلے سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہوتے تھے جن میں سے اکثر کرپٹ اور لالچی تھے۔ تاہم اس نے اس حقیقت سے دلبرداشتہ ہونے کے باوجود اپنا مشن ترک نہیں کیا۔ حالانکہ مجرموں کے معاملے میں ایف بی آئی کا یہ عالم تھا کہ اسے گرفتاری کے اختیارات بھی حاصل نہیں تھے۔ اگر ایف بی آئی کے لوگ مجرموں کو گرفتار کرنا چاہتے تھے تو ہر جگہ انہیں مقامی پولیس کی مدد حاصل کرنا پڑتی تھی۔ ایف بی آئی والے اپنے پاس ہتھیار بھی نہیں رکھتے تھے۔ ان پر یہ قانونی پابندی تو نہیں تھی لیکن ہوور نے ازراہِ احتیاط اپنے طور پر یہ پالیسی اپنائی تھی۔
اس نے اپنے سامنے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مثال رکھی تھی۔ اس کا کہنا تھا۔ ’’ہم لوگ تفتیش کار ہیں، پولیس والے نہیں ہیں۔‘‘
ابتدا میں ایف بی آئی کی شکل اور بھی مختلف تھی۔ اس کا قیام تو 1908ء میں عمل میں آگیا تھا لیکن اس وقت یہ ادارہ یا ایجنسی صرف