December 03, 2018
بادشاہت قسط 18

بادشاہت قسط 18

’’آپ کا یہ فیصلہ بہت اچھا ہے۔‘‘ کیتھرین تک اس فیصلے کی بازگشت پہنچی تو اس نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہنری ہشتم سے کہا۔ ’’ہم پر رشتوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں، کچھ بھی ہو چارلس آپ کی بیوی کی بہن جوانا کا بیٹا ہے اور ہمارا بھانجا ہے۔‘‘
ہنری نے کیتھرین کی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کیتھرین کی یہ بات درست تھی۔ ہنری ہفتم نے کیتھرین سے آرتھر کی شادی اسی مقصد کے تحت کی تھی کہ وہ فرانس کے خلاف اسپین کو اپنا بنا سکے۔ اسکاٹ لینڈ کے جیمز چہارم سے مارگریٹ کی شادی کے پیش نظر بھی یہی توقع پوشیدہ تھی۔ خود ہنری ہشتم نے میری ٹیوڈر کی شادی، فرانس کے بوڑھے اور قریب المرگ بادشاہ سے اسی لئے کی تھی کہ دیرینہ دشمنی ختم ہو سکے… مگر ایسا نہیں ہوسکا تھا۔ شادی کے محض تین ماہ بعد ہی لوئس یازدھم دنیا سے رخصت ہو گیا تھا۔
نوعمر بیوہ میری ٹیوڈر نے محل کو خیرباد کہہ کر ایک ہوٹل میں پناہ لی تھی اور وہیں اپنے پرانے محبوب سے شادی رچا کر اپنی ایک الگ دنیا بسا لی تھی۔ میری ٹیوڈر سے فرانس کا نیا بادشاہ فرانسس اول شادی کا خواہش مند تھا۔ میری کے چارلس برینڈن سے شادی کے اس اقدام نے اسے سخت ناخوش کر دیا تھا… اس شادی کے طفیل فرانس اور انگلستان کے مابین جو برائے نام قربت استوار ہوئی تھی، وہ ایک بار پھر عداوت اور نفرت میں ڈھل گئی تھی۔
ہنری ہشتم کو اس وقت کئی اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا تھا۔ ایک تو مارگریٹ اور جیمز چہارم کا مسئلہ تھا۔ پھر میری ٹیوڈر اور لوئس یازدھم کی شادی سے جیمز کسی قدر دکھی اور بددل ہوا تھا مگر تین ماہ میں ہی اس کہانی کے ختم ہو جانے کے بعد وہ ایک بار پھر فرانس کی طرف راغب ہو گیا تھا۔
اسپین سے اتحاد کرنے کے بعد انگلستان کے حوصلوں میں کچھ مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ فرانس، اطالیہ میں اپنے مسائل میں الجھا ہوا تھا۔ ہنری ہشتم فرانس کی اس پریشانی اور بدحواسی سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔
’’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم فرانس پر حملہ آور ہوں گے۔‘‘ اس وقت بادشاہ کے خصوصی چیمبر میں انتہائی خفیہ میٹنگ جاری تھی۔ ہنری ہشتم کے علاوہ وزیر وولزی اور تھامس والسے بھی اس میٹنگ میں شریک تھے۔
’’شاہِ فرانس، اطالیہ میں الجھا ہوا ہے۔ ہم لیکے کی طرف سے حملہ کریں گے اور یہ جنگ آسانی سے جیت لیں گے۔‘‘ ہنری ہشتم نے فیصلہ سنا کر داد طلب نگاہوں سے وولزی اور والسے کی طرف دیکھا۔ ہنری ہشتم کی یہ خاص عادت تھی کہ وہ باقاعدہ مشاورتی مجلس بلاتا، سب سے صلاح مشورہ بھی کرتا مگر فیصلہ وہ ہمیشہ اپنی مرضی کا کرتا تھا۔ اس وقت بھی یہی ہوا۔ اس نے تمام حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔
’’میں آپ کے فیصلے سے متفق ہوں۔‘‘ وولزی نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ ’’مگر حملہ کرنے سے پہلے ایک بار تمام پہلوئوں پر اچھی طرح غور کرلیا جائے… ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔‘‘
’’ویسے دیکھا جائے تو … یہ منصوبہ بڑا کارآمد نظر آ رہا ہے۔‘‘ تھامس والسے نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ’’شاہ فرانس، اٹلی کے مسائل میں الجھا ہوا ہے اور اس طرح ہم اسپرز کے مقام سے لیکے کی طرف آسانی سے حملہ کر سکتے ہیں۔‘‘
’’گڈ۔‘‘ ہنری ہشتم خوشدلی سے مسکرایا۔
جنگ کی تیاری اور فوج کی روانگی کو انتہائی راز میں رکھا گیا۔ رات کی تاریکی میں فوجیں فرانس کی طرف روانہ ہوئیں اور اسپرز کے مقام پر پڑائو انداز ہو گئیں۔ شاہ فرانس ان دنوں اٹلی کے ساتھ برسر پیکار تھا۔ اسے انگلستان کی فوج کی آمد اور حملے کی تیاری کا علم ہوا تو وہ بوکھلا گیا اور ہنری ہشتم نے یہ جنگ آسانی سے جیت لی۔
٭ … ٭…٭
طویل راہداری میں اداسی اور خاموشی کا راج تھا۔ دبے پائوں آگے بڑھتی شام کے سرمئی سایوں میں عجب سی افسردگی گندھی ہوئی تھی۔ ملکہ مارگریٹ کو ابھی اطلاع ملی تھی کہ ملکہ کیتھرین اپنے کمرے میں درد میں مبتلا ہے… مارگریٹ کو اپنی بے پروائی پر افسوس ہو رہا تھا۔ تخلیق کے کرب سے گزرتی کیتھرین کے پاس اس وقت اسے ہونا چاہئے تھا۔
ہنری جنگ کی وجہ سے اسپرز میں مقیم تھا۔ ہنری کی غیرموجودگی میں اسے بہرحال کیتھرین کے پاس ہونا چاہئے تھا۔ وہ تیزی سے کیتھرین کے کمرے تک پہنچی۔ سامنے لیڈی ڈاکٹر کورینا کھڑی تھی۔ اس کے اداس اور پژمردہ چہرے کو دیکھ کر مارگریٹ خوفزدہ ہوگئی۔
’’ڈاکٹر! سب خیریت تو ہے نا…؟‘‘ اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔ ’’ملکہ عالیہ خیریت سے تو ہیں نا؟‘‘
’’نہیں…‘‘ ڈاکٹر نے دھیمے اور بجھے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ ’’انہوں نے ایک بار پھر مردہ بچی کو جنم دیا ہے… مگر وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں… وہ شدید نفسیاتی دبائو کا شکار ہیں… اور بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں۔‘‘
مارگریٹ نے فرط غم سے آنکھیں بند کرلیں۔ کیتھرین کے درد کو وہ اپنے دل میں محسوس کر رہی تھی۔ یکے بعد دیگرے چار بچوں کی پیدائش اور موت نے کیتھرین کو بے حد پژمردہ اور دل شکستہ کر دیا تھا۔
ایک بچی زندہ تھی… اس کا دم غنیمت تھا۔ اگرچہ وہ بھی مستقل طور پر بیمار رہتی تھی پھر بھی کیتھرین کے لئے اس کا وجود زندہ رہنے کی ایک وجہ تھی۔ البتہ ہنری ہشتم کو بیٹا چاہئے تھا… حکومت اور بادشاہت کا وارث… کیتھرین بھی بیٹے کی ماں بننے کی آرزومند تھی مگر ہنری کے شوق اور طلب کو دیکھتے ہوئے اس کی یہ آرزو ایک جنون بن گئی تھی… وہ ہر حال اور ہر قیمت پر بیٹا چاہتی تھی مگر تقدیر نے ایک بار پھر اس کے دامن میں مردہ بچی ڈال دی تھی۔
مارگریٹ شکستہ قدموں سے چلتی کیتھرین کے کمرے میں داخل ہو گئی۔
سامنے کشادہ بیڈ پر کیتھرین بے سدھ پڑی تھی۔ سال بہ سال بچوں کی پیدائش اور اموات کے غم نے اس کے چہرے کی ساری دلکشی اور رونق چھین لی تھی۔ وہ وقت سے پہلے بوڑھی ہو گئی تھی۔ اس کی گھنی پلکوں سے سجی روشن اور ساحر آنکھیں بجھ سی گئی تھیں اورغلافی پپوٹوں پر ڈھیروں لکیروں نے جھریوں کی شکل اختیار کر لی تھی۔ بال روکھے اور بے رونق ہو گئے تھے۔ مجموعی طور پر وہ ایک عمر رسیدہ اور تھکن سے چور، شکستہ حال، دل گرفتہ عورت دکھائی دے رہی تھی۔
مارگریٹ کو اسے دیکھ کر اس پر رحم آ رہا تھا۔
سولہ سال قبل جب اس کی شادی آرتھر سے ہوئی تھی تو اس وقت وہ کس قدر دلکش دوشیزہ تھی۔ اس کی ہیروں کی سی چمکتی آنکھوں میں کتنے خواب سجے تھے مگر اس کے سارے ہی خواب ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے تھے اور وہ زندگی کے بے آب و گیاہ رستے پر تنہا رہ گئی تھی۔
مردہ بیٹی کی پیدائش کی خبر نے ہنری ہشتم کو بے حد ملول کیا تھا۔ اس نے خود کو پیمانے میں ڈبو دیا تھا۔ غم غلط کرنے کے لئے اس نے اور بھی راستے تلاش کر لئے تھے۔ کیتھرین کے لئے ہنری کے یہ تمام عمل، اذیت ناک اور کرب انگیز تھے۔ اسے یقین تھا کہ گناہ آلود زندگی بدترین نتائج کی حامل ہوتی ہے۔ اس بار بھی مردہ بچی کی پیدائش کے بعد تو اسے یقین واثق ہو چلا تھا کہ یہ سب کچھ ہنری کی بداعمالیوں کی سزا ہے… اور یہیں سے اس کے اور ہنری کے مابین اختلافات کی خلیج بڑھتی چلی گئی۔ رفتہ رفتہ ہنری کیتھرین سے بیزار اور ناخوش رہنے لگا۔
کیتھرین، ایک مریل اور بیمار سی بچی میری ٹیوڈر کی ماں تھی۔ ہنری ٹیوڈر ہشتم اور خود کیتھرین کو میری کی پیدائش پر زیادہ خوشی نہیں ہوئی تھی۔ وہ دونوں ہی بیٹے کی امید رکھے ہوئے تھے۔ مگر گزرتے وقت کے ساتھ کیتھرین کو احساس ہوا تھا، بیٹی ہی سہی جیتی جاگتی زندہ سلامت اولاد کتنی تسکین اور راحت کا باعث ہوتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس کی بیٹی سے محبت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ وہ رات دن اس کی تعلیم و تربیت کی فکر میں سرگرداں رہتی تھی۔ گو کہ وہ ابھی خاصی چھوٹی تھی، مگر کیتھرین کی خواہش تھی کہ ابھی سے اسے کسی بہترین اتالیق کے حوالے کر دیا جائے۔
اس سلسلے میں اس کی فکر کو دیکھتے ہوئے اس کی ڈاکٹر کورینا نے ایک دن اس کے سامنے لارڈ تھامس بولین کی قابل اور دانا بیٹی این بولین کا نام پیش کیا تھا۔ اس کی خوبیاں اور اوصاف کے بارے میں سن کر کیتھرین بے حد متاثر ہوئی تھی اور اس نے سوچا تھا کہ بادشاہ کے آتے ہی اس سے منظوری لے کر این بولین کو میری ٹیوڈر کی اتالیق رکھ لے گی۔
٭ … ٭…٭
این بولین اب نوعمر دوشیزہ نہیں رہی تھی بلکہ بائیس برس کی ایک پختہ کار اور سمجھدار لڑکی تھی۔ وہ زیادہ تر اپنے مستقبل کے تانے بانے بننے میں مصروف رہتی تھی۔ گو کہ اس کے خواب بہت بلند تھے، بچپن سے ہی اس کی ماں اسے ملکہ بننے کا مژدہ سناتی آئی تھی۔ اس نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے فرانس کے متوقع بادشاہ فرانسس اول سے تعلقات بڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر شہزادی میری ٹیوڈر جو اس وقت بادشاہ لوئیس کی ملکہ تھی، نے اس کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا تھا اور اسے زبردستی واپس انگلستان بھیج دیا تھا۔ یہاں آ کر اسے بڑی مایوسی ہوئی تھی۔ کہاں وہ محل کی شاہانہ محفلیں، کہاں یہ روح میں اتر جانے والی تنہا شامیں اور ویران راتیں۔
لارڈ بولین اور لیڈی بولین اپنی اکلوتی اور چہیتی بیٹی کی بے قراری اور اضطراب کو محسوس کر رہے تھے۔ تب ہی ایک شام وہ دونوں بصد اصرار اسے اپنے ساتھ لارڈ تھامس ویٹ کے گھر ڈنر پر لے گئے۔
تھامس ویٹ ایک اچھا اور معروف شاعر تھا۔ وہ بیوی کے انتقال کے بعد تجرد کی زندگی گزار رہا تھا۔ آج تک اس نے کسی دوسری لڑکی کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا مگر جب اس کی نظریں این بولین کے چہرے پر پڑیں تو پھر وہیں جم کر رہ گئیں۔
اس شام این بولین کے لئے زندگی میں خوشی اور دلچسپی کے نئے راستے کھل گئے تھے۔ تھامس ویٹ کے علاوہ بھی کئی لوگ این بولین کے قیامت خیز حسن سے متاثر ہوئے تھے مگر شاعر تھامس ویٹ تو گویا این بولین کا دیوانہ ہو گیا تھا۔ اس شام کے بعد شہر کی تمام تقریبات میں اپنی شاعری میں اس نے این بولین کے حسن و رعنائی کو کچھ اس طرح پیش کیا کہ دور دور تک اس کے حسن کے چرچے پھیل گئے تھے۔
اور پھر یہی چرچے ارل آف نارتھ ہمبرلینڈ ہنری پرسی تک جا پہنچے تھے۔ اس نے سچائی معلوم کرنے کے لئے اپنے مصاحب خاص سلاٹر کو بھیجا تھا۔ ایک محفل میں این بولین کو دیکھ کر خود سلاٹر دم بخود رہ گیا تھا… اس نے واپس جا کر تمام صورت حال سے ہنری پرسی کو آگاہ کیا تو وہ این بولین کو بنا دیکھے ہی اس کا دیوانہ ہو گیا۔
’’سلاٹر! جلد از جلد تم لارڈ بولین کے پاس جائو اور اس سے میری اور این بولین کی شادی کی بات کرو۔‘‘ ہنری پرسی گھڑی کی چوتھائی میں اس حسن کی دیوی کو اپنے شاندار ولا میں لے آنا چاہتا تھا۔ اس نے بیش بہا تحائف کے ساتھ سلاٹر کو لارڈ تھامس بولین کی جاگیر کی طرف روانہ کر دیا۔
این بولین اب خاصی پختہ عمر ہو گئی تھی۔ اس کے ساتھ کی لڑکیاں کئی کئی بچوں کی ماں بن چکی تھیں… یہی وجہ تھی کہ والدین اس کے لئے بے حد فکرمند تھے۔ اگرچہ اس کے حسن کے دیوانے تو بہت تھے مگر اس کے شعلہ وجود کو اپنا بنانے والا ایک بھی نہ تھا۔
ایسے میں ہنری پرسی کا شادی کا پیغام انتہائی خوش آئند تھا۔ سلاٹر نے جس انداز میں اس کی وجاہت اور بے تحاشا دولت کا ذکر کیا تھا اور جس طرح اسے بیش بہا تحفے پیش کئے تھے، اس سے این بولین خاصی متاثر ہوئی تھی۔ اسے یہ نادر و بیش قیمت تحفے بھی پسند آئے تھے، وہ ایسے ہی کسی دولت مند اور وجیہ شخص کی تلاش میں تھی۔ ادھر ادھر دیکھتے خاصا وقت گزر گیا تھا۔ ایسے میں ہنری پرسی کا پیام اندھیرے میں امید کی کرن ثابت ہوا تھا۔ این بولین کے دل میں نئی امنگیں کروٹ لے کر بیدار ہو گئی تھیں۔
لارڈ تھامس بولین بھی سلاٹر کی باتوں سے متاثر ہوا تھا۔ وہ ہنری پرسی کے باپ سے واقف تھا۔ اس کی جاگیر اور اثاثوں کی تفصیلات بھی جانتا تھا۔ این بولین کے لئے اس سے بہتر رشتہ اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا؟ چنانچہ اس نے اس سلسلے میں اپنی ضدی، خودپسند اور خودسر بیٹی سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
’’ہنری پرسی دولت مند ہونے کے ساتھ ایک خوبرو نوجوان بھی ہے۔‘‘ تھامس بولین نے دھیمے لہجے میں کہا۔ لارڈ کی یہ بات ایک میٹھی سی گدگدی بن کر این بولین کی دھڑکنوں میں ہلچل مچا گئی۔
’’میں چاہتا ہوں جلد از جلد تمہارا گھر بس جائے۔‘‘ این بولین کو سوچوں میں گم دیکھ کر لارڈ بولین نے کہا۔ ’’شاید میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔‘‘ وہ شرمسار سے انداز میں مسکرا کر بولا۔ ’’بہت جلد سہانے خواب دیکھنے لگتا ہوں۔‘‘
’’خواب تو میں بھی دیکھنے لگی ہوں۔‘‘ این بولین نے سر جھکا کر دل ہی دل میں سوچا۔ ’’شاید خواب دیکھنا انسان کا پسندیدہ عمل ہے… انسان کی سب سے بڑی مسرت یہی دل ساز خواب ہیں اور بڑی کلفت بھی یہی دل سوز خواب ہیں۔ اس میں وقت کی کوئی قید ہے نا عمر کی… یہ خواب نہ ہوں تو انسان مردہ ہو جاتا ہے… انسان جانے کتنی تلخ حقیقتوں اور کتنے سہانے خوابوں میں زندگی بسر کرتا ہے۔ خوابوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ بے قیمت مل جاتے ہیں اور خوابوں کی برائی بھی یہی ہے کہ یہ بے طلب مل جاتے ہیں۔‘‘
لارڈ تھامس بولین نے کن انکھیوں سے اس کی دمکتی آنکھوں کی طرف دیکھا جن سے خوابوں کی کرنیں پھوٹتی صاف دکھائی دے رہی تھیں۔
’’خدا کرے کہ میری چہیتی بیٹی کا کبھی کوئی بھی خواب ٹوٹنے نہ پائے۔‘‘ تھامس بولین نے خلوص دل سے دعا کی اور جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
تھامس بولین کے جاتے ہی این بولین دوبارہ ہنری پرسی کے خیالوں میں ڈوب گئی۔ اب اسے بے چینی سے ہنری پرسی کی آمد کا انتظار تھا۔
اور پھر جلد ہی اس کی آمد کی خبر آ گئی۔ لارڈ بولین اس کے جلد آنے پر بے حد خوش تھا۔ خبر ملتے ہی اس نے ہنری پرسی کے شایان شان انتظامات شروع کروا دیئے تھے۔ وہ اس شاندار رشتے کو کسی صورت ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتا تھا۔
این بولین اب شادی کی عمر کو پہنچ گئی تھی، بلکہ اب تو برس، دو برس میں اس کی شادی کی عمر نکلنے والی ہو رہی تھی۔ وہ اس کی شادی کی طرف سے سخت فکر مند تھا۔ وہ این بولین کے لئے اچھا شوہر حاصل کرنے کا خواہاں تھا۔ این بولین پر مرنے والے بے شمار تھے مگر اس کا شوہر بننے کا اہل ان میں سے کوئی بھی نہ تھا۔ اب ہنری پرسی کے حوالے سے لارڈ بولین کو کچھ امید بندھی تھی۔ جانے کیوں اسے یقین ہو چلا تھا کہ اسے این کے لئے جیسے شوہر کی تلاش ہے، ہنری پرسی ویسا ہی ہے۔
دوسری طرف ہنری پرسی بھی لارڈ بولین اور این بولین کو متاثر کرنے کی فکر میں لگا تھا۔ اس نے این بولین کے لئے بیش بہا اور نادر و نایاب تحائف کا بھی اہتمام کیا تھا، جس میں ہیرے جواہرات کے بیش بہا زیورات شامل تھے۔ وہ اس نادر روزگار حسینہ کو اپنی شخصیت کے ساتھ اپنی دولت سے بھی مرعوب کرنا چاہتا تھا۔
شب و روز سفر کرتا آخرکار وہ ’’بولین ولا‘‘ پہنچ گیا۔ تھامس بولین نے اپنی بیوی جین بولین کے ساتھ اس کا استقبال کیا۔ وہ دونوں ہنری پرسی کی شاندار شخصیت سے متاثر ہوئے تھے۔ وہ ایک قدآور، خوبرو اور وجیہ جوان تھا۔ اس کی چال ڈھال اور رکھ رکھائو سے دولت و ثروت کا اظہار ہوتا تھا۔ جین کو وہ داماد کے روپ میں اچھا لگا تھا۔ وہ ہر لحاظ سے این بولین کا شریک حیات بننے کے قابل تھا۔
ہنری پرسی کی متلاشی نظریں ادھر ادھر بھٹک رہی تھیں۔ دل کی بے قراری اور اضطراب میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ شوق کی چنگاری بھڑک کر شعلہ بن چکی تھی۔ وہ جلد از جلد اس حور شمائل کا دیدار کرنے کے لئے بے چین تھا۔ مگر وہ سراپا ناز جانے کن پردوں میں چھپی بیٹھی تھی۔ وہ آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گیا۔ تب ہی سلاٹر نے اسے خوشخبری دی تھی کہ کچھ ہی دیر میں اس کی این بولین سے ملاقات متوقع ہے۔
خصوصی لائونج میں این بولین اپنی خادمائوں کے ساتھ ہنری پرسی کی منتظر تھی۔ ہنری پرسی جوں ہی کمرے میں داخل ہوا، این بولین اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے اس وقت آسمانی رنگ کا ایک انتہائی نفیس اور بیش قیمت لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ اس لباس میں اس کا سچے موتیوں کا سا صبیح رنگ دمک رہا  تھا۔ وہ سرتاپا ایک قیامت تھی۔ سراپا حسن تھی اور اپنی ذات میں بے مثال تھی۔
ہنری پرسی کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ اپنی جگہ حیرت کی تصویر بن کر رہ گیا۔ اس کے دل نے بے تابانہ دھڑک کر نوید دی کہ یہی وہ چہرہ ہے جس کی اسے تلاش تھی، یہی ہے وہ ہستی جو دل میں قیام کرنے کے قابل ہے… اور یہی ہے وہ وجود جو اس کے شاندار ولا میں رہنے کا اعزاز حاصل کر سکتا ہے۔
رات کے کھانے تک وہ دونوں ایک دوسرے سے خاصے مانوس ہوگئے تھے۔ اب وہ دونوں قدرے بے تکلفی سے گفتگو کر رہے تھے۔ ان کی آنکھوں سے پسندیدگی اور چاہت ہویدا تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو پا کر بے حد مسرور تھے۔
ڈنر کی ٹیبل پر لارڈ تھامس بولین اور لیڈی بولین نے بھی ان دونوں کی باہمی پسندیدگی اور مسرت کو محسوس کیا تھا۔ نتیجے میں ان دونوں کے دلوں میں بھی اطمینان اور خوشی کا احساس اتر گیا تھا۔
اگلے دن ہنری پرسی نے لارڈ بولین کے سامنے نہایت ادب سے این بولین سے شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ این بولین اس رشتے کے لئے آمادہ تھی، چنانچہ دو دن بعد ان دونوں کی منگنی کی رسم ادا کر دی گئی۔ لارڈ تھامس بولین، اس کی بیوی لیڈی بولین اور خود این بولین اس رشتے سے بے حد خوش تھے اور ہنری پرسی کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ وہ جس خواب کو اپنی پلکوں میں چھپا کر لایا تھا… اب اس کی تعبیر اپنے ساتھ لے جا رہا تھا۔ اس کا بس چلتا تو شادی کر کے این بولین کو اپنے ساتھ ہی لے جاتا مگر طے یہ پایا تھا کہ شادی کی رسم چھ ماہ بعد دسمبر میں ادا کی جائے گی…این بولین، لارڈ بولین کی اکلوتی اور چہیتی بیٹی تھی۔ وہ اس کی شادی بہت دھوم دھام سے کرنا چاہتا تھا اور اس کے لئے تھوڑا وقت درکار تھا۔
٭ … ٭…٭
کھوجی ہیری کے آدمی جب ڈوگریس کے قید خانے تک پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے تھے کہ قید خانہ خالی تھا… ان کی اطلاع کے مطابق ڈوگریس کو اسی قید خانے میں رکھا گیا تھا، مگر جب وہ قیدی کو آزاد کرانے زندان تک پہنچے تو یہ دیکھ کر ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں کہ زندان کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور قیدی غائب تھا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ ایک نے دوسرے سے کہا۔ ’’وہ اسی قید خانے میں تھا… مگر اب یہاں موجود نہیں ہے۔ اگر وہ یہاں نہیں ہے… تو پھر کہاں ہے؟‘‘
جس وقت کھوجی ہیری کے آدمی ڈوگریس کو شاہی قصر کے تہہ خانوں اور قید خانوں میں ڈھونڈتے پھر رہے تھے، ٹھیک اسی وقت ڈوگریس، شاہ ہنری ہشتم کے آدمیوں کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کی سرحد پار کر کے انگلستان میں داخل ہو رہا تھا۔
اب تک ڈوگریس کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اسے زنداں سے کیوں نکالا گیا ہے اور کہاں پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کے چہرے پر کپڑا منڈھا ہوا تھا۔ آنکھوں کے سامنے ہی نہیں اس کے دل و ذہن میں بھی اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ تمام شب تیزرفتار گھوڑوں پر سفر کے بعد صبح دم وہ لوگ ایک سرائے کے سامنے رکے تھے۔ انہوں نے ڈوگریس کے چہرے کا کپڑا اتار دیا تھا۔
’’آپ خیریت سے تو ہیں نا مسٹر ڈوگریس؟‘‘ ان میں سے ایک نے ڈوگریس سے نرم اور مؤدبانہ لہجے میں پوچھا۔ ’’تیزرفتار سفر نے یقیناً آپ کو تھکا دیا ہو گا۔ اس سرائے میں آپ ناشتے کے بعد کچھ دیر آرام کر لیجئے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد ہمارا سفر دوبارہ شروع ہو گا۔‘‘
’’مگر آپ لوگ ہیں کون؟‘‘ ان کے نرم اور شائستہ لہجے کی وجہ سے ڈوگریس کو سوال کرنے کا حوصلہ ہوا تھا۔ ’’اور مجھے کہاں لے جا رہے ہیں… اور کس کے حکم پر؟‘‘
’’ہم شاہ انگلستان کے خدام ہیں۔‘‘ ان دونوں میں سے ایک جس کا نام ٹام تھا، نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔ ’’ہمیں بادشاہ سلامت نے بھیجا تھا… اب ہم لندن کے لئے روانہ ہونے والے ہیں۔‘‘
’’لندن؟‘‘ ڈوگریس حیرت سے بولا۔ ’’کیا ہم اسکاٹ لینڈ میں نہیں ہیں؟‘‘
’’نہیں… اب ہم انگلستان کی سرحد میں ہیں۔‘‘ ٹام اطمینان بھرے انداز میں مسکرایا۔ ’’بہت جلد آپ کو لندن پہنچا دیا جائے گا۔‘‘
’’آپ کو ملکہ عالیہ مارگریٹ کے بارے میں بھی کچھ معلومات ہیں؟‘‘ ڈوگریس کے دل میں سر اٹھانے والا سوال بالآخر اس کے لبوں تک آ گیا۔
’’جی وہ بہ خیروعافیت لندن کے شاہی محل میں موجود ہیں۔‘‘ دوسرے خادم نے جواب دیا۔ ’’وہ اپنے بھائی شاہ ہنری ہشتم کے پاس ہیں… اور انہوں نے ہی آپ کو اس زندان سے نکلوایا ہے۔‘‘
ڈوگریس کا دل بے اختیار زور سے دھڑک اٹھا۔ مارگریٹ زندہ سلامت اور بہ خیروعافیت تھی… اس نے شاہ ہنری ہشتم کو سب کچھ بتا دیا تھا… تب ہی اس نے ڈوگریس کو شاہ اسکاٹ لینڈ کی قید سے آزاد کروایا تھا۔ ایک پرمسرت احساس اس کے رگ و پے میں سرایت کر گیا تھا… گو کہ وہ تھکن سے چور تھا مگر اس وقت خود کو بے حد ہشاش بشاش محسوس کر رہا تھا۔ ناشتے کے بعد وہ بے خبر سو گیا… دوپہر کے کھانے کے بعد ان کا سفر پھر شروع ہو گیا تھا۔
ڈوگریس کو سمندر کے کنارے ایک کاٹیج میں پہنچا دیا گیا تھا کیونکہ اس کا تعلق اسکاٹ لینڈ کی بحریہ سے تھا۔ وہ ایک قابل اور لائق کپتان تھا، چنانچہ ہنری ہشتم نے اس کے لئے اسی فیلڈ کو مناسب سمجھا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اسے کسی اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز کر کے آخرکار اس کی شادی مارگریٹ سے کر دی جائے۔ اسی لئے اس نے روک شائر کی بندرگاہ کی تعمیر کی ذمہ داری ڈوگریس کو سونپنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ڈوگریس کو اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ کی قید سے زندہ سلامت نکال لانے کے بعد اس کے اور مارگریٹ کی ملن کی راہ میں دوسرا بڑا مسئلہ، اس کا شوہر جیمز چہارم تھا… وہ کسی بھی قیمت پر مارگریٹ کو طلاق دینے پر تیار نہیں ہوتا اور اس کے ہوتے ہوئے مارگریٹ کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی تھی۔
مگر ہنری ہشتم نے اس وقت ڈوگریس کی بازیابی پر ہی اکتفا کیا تھا۔ دوسرے مسئلے پر غور کرنے کے لئے ابھی اس کے پاس بہت وقت تھا۔
روک شائر پہنچنے کے بعد اس نے ٹام سے پوچھا۔ ’’کیا یہاں میری ملاقات بادشاہ سلامت ہنری ہشتم سے ہوسکے گی؟‘‘ دراصل وہ مارگریٹ سے ملاقات کے بارے میں سوال کرنا چاہ رہا تھا… مگر پھر اس نے کچھ سوچ کر بادشاہ کا نام لیا تھا۔
’’ہاں بالکل۔‘‘ ٹام نے پرجوش لہجے میں جواب دیا۔ ’’مگر اس کے لئے آپ کو کچھ انتظار کرنا پڑے گا… بادشاہ سلامت آج کل اپنی فوجوں کے ساتھ سرحدی علاقے میں ہیں… ان کے واپس آنے کے بعد آپ ان سے ضرور مل سکیں گے۔‘‘
٭ … ٭…٭
فرانس اور انگلینڈ کے سرحدی زون میں ہنری ہشتم کی فوجیں خیمہ زن تھیں، وہاں فرانس کی فوجیں بھی موجود تھیں مگر فرانس کی جنگی حکمت عملی یہ تھی کہ جوں ہی انگلینڈ اس پر حملہ آور ہو گا، وہ اسکاٹ لینڈ کو اشارہ کر دے گا، اسکاٹ لینڈ زبردست جنگی تیاری کے ساتھ سرحدی علاقے کی جانب بڑھ رہا تھا۔
ہنری یہ بات جانتا تھا کہ فرانس، اسکاٹ لینڈ کو انگلینڈ کے خلاف جنگ کے لئے اکسانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر اسے اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اسکاٹ لینڈ، انگلینڈ سے جنگ کرنے کی حماقت کرے گا کیونکہ انگلینڈ کی فوجی طاقت اسکاٹ لینڈ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی مگر جیمز چہارم انتقام کی آگ میں جل رہا تھا اور پوری فوجی تیاری کے ساتھ سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا۔
فلاڈن کے میدانی علاقے میں اس وقت سرمئی شام رات کی سیاہی سے گلے مل رہی تھی۔ اس خیموں کی بستی کے انتہائی دائیں جانب واقع آرام دہ اور شاندار خیمے میں ہنری ٹیوڈر ہشتم کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ ایک چھوٹی تپائی پر قندیل روشن تھی۔ قندیل کے مدھم اجالے میں خیمے کا ماحول خواب ناک محسوس ہو رہا تھا۔ ہر شے اونگھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
ہنری کا مشیر خاص، کرنیمر ہاتھ باندھے، سر جھکائے ہنری کے سامنے خاموش کھڑا تھا۔
تب ہی خیمے کے دروازے پر آہٹ ہوئی اور دروازے پر استادہ دربان نے اندر جھانک کر مدھم آواز میں خبر رساں بش کی آمد کی اطلاع دی تھی۔
’’اچھا وہ آ گیا…‘‘ بادشاہ سیدھا ہوتا ہوا بولا۔ ’’فوراً حاضر کیا جائے۔‘‘
اگلے ہی لمحے شاطر آنکھوں والا، دبلا پتلا خبر رساں بش قدرے جھک کر خیمے میں داخل ہوا۔ پھر اس نے مزید جھک کر بادشاہ کی خدمت میں تعظیم پیش کی۔
’’کیا خبر لائے ہو؟‘‘ بادشاہ کے گمبھیر لہجے میں ایک بے نام سی بے تابی نمایاں تھی۔
’’وہ خبر درست ہے۔‘‘ بش نے مؤدبانہ لہجے میں جواب دیا۔ ’’اسکاٹ لینڈ