December 03, 2018
خوشیوں کے منتظر تھے

خوشیوں کے منتظر تھے

میں پانچ برس اور بھائی شکیب سات برس کا تھا جب ابو ہم دونوں کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے کہ ہمارے پیچھے سے آتی ایک گاڑی نے ابو کو ٹکر ماری۔ وہ اُچھل کر دور جا گرے اور بے ہوش ہوگئے۔ گاڑی میں بیٹھی خاتون نے فوراً ڈرائیور سے کہہ کر گاڑی رکوائی۔ انہوں نے ابو کو گاڑی میں ڈالا اور اسپتال لے گئے۔ وہ اسپتال میں ایک ہفتہ بے ہوش رہے، سر پر شدید چوٹ آئی تھی۔ ڈاکٹر اُن کی زندگی نہ بچا سکے۔ ہم غریب لوگ تھے اور یہ صدمہ میری والدہ کے لئے جانکاہ تھا۔ لہٰذا ہمارے برے دن شروع ہو گئے۔ اگرچہ گاڑی کے مالک نے ہر طرح مدد اور مالی امداد کی پیشکش کی لیکن معاوضہ انسانی جان کا بدل کسی طور نہیں ہو سکتا۔
جس گاڑی کی ٹکر سے والد کی وفات ہوئی، وہ احسن کے ابو کی تھی۔ ہمارے اسکول سے کچھ فاصلے پر ایک انگریزی میڈیم اسکول تھا۔ اسی اسکول سے ذرا فاصلے پر ہمارا تین مرلے کا پرانا سا گھر تھا جہاں ہم باپ کے زیرِ سایہ خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔ میری ماں، شوہر کی وفات کے بعد محلے کی بچیوں کو درس قرآن پاک دے کر گزارہ کرنے لگیں۔ احسن کے والد کے ڈرائیور کی غلطی سے یہ حادثہ ہوا اور ہم یتیم ہو گئے۔ اس بات کا اس کے ماں باپ کو بہت احساس تھا۔ وہ لوگ ہمارے گھر آئے۔ امی سے بہت معافیاں مانگیں اور کہا کہ آپ کو جو درکار ہو، طلب کریں، ہم حاضر ہیں۔
ڈرائیور کو جتنی بھی سزا دیں۔ میرا شوہر اب واپس نہیں آ سکتا لہٰذا میں نے اسے معاف کیا اور آپ لوگوں کی کیا غلطی ہے، آپ تو گاڑی نہیں چلا رہے تھے۔ یہ حادثہ رونما ہونا تھا، ہوگیا۔ مجھے کسی سے شکوہ نہیں۔ میں نے اللہ پاک کے واسطے سے معاف کیا۔ اس کے بعد احسن کے والدین ہماری خیر خیریت معلوم کرنے گھر آنے لگے حالانکہ وہ بہت امیر لوگ تھے۔ انکل اشعر کا کاروبار وسیع اور بیرون ملک تک پھیلا ہوا تھا۔
احسن کی والدہ بلنداخلاق خاتون تھیں، جس روز حادثہ ہوا وہ گاڑی میں بیٹھی تھیں اور سارا منظر آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان کے دل پر اس حادثے کا بہت اثر ہوا تھا۔اس حادثے کے بعد ان لوگوں سے ہمارے گھر والوں کے تعلقات استوار ہو گئے۔ وہ آتے اور امی کی دلجوئی کرتے۔ یوں رفتہ رفتہ میری ماں سے آنٹی صبا کی دوستی ہو گئی۔ حالانکہ وہ ایک عالیشان کوٹھی اور ہم ایک چھوٹے سے ٹوٹے پھوٹے گھر میں رہتے تھے۔ آنٹی کے ساتھ کبھی کبھی ان کا بیٹا احسن بھی آتا اور میرے بھائی شکیب کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ کر چٹنی سے روٹی کھاتا، تبھی میں ان لوگوں کو دیکھ کر سوچتی، کون کہتا ہے پیسے والے مغرور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بھی تو پیسے والے ہیں۔ میرا معصوم ذہن ان لوگوں کی تعریفوں کے پل باندھنے لگتا۔ میری ماں کا تو بس نہ چلتا کہ وہ آنٹی صبا کو سر آنکھوں پر بٹھا لیں۔ غریب کے پاس تو دینے کے لیے محبت ہی ہوتی ہے۔
ہمارے دَر پر جب ان کی شاندار گاڑی آتی تو پڑوسی اسے اللہ کا کرشمہ سمجھا کرتے۔ حادثے کے ایک سال بعد ایک روز میری والدہ اسپتال دوا لینے گئیں۔ ڈاکٹر کے کمرے سے نکلیں تو تیز دھوپ کی وجہ سے گھبراہٹ محسوس ہوئی، ان کو بخار تھا اور وہ میری انگلی پکڑے ہوئی تھیں، شکیب بھی ساتھ تھا۔ ماں نے کہا۔ بیٹا دیکھو کہیں پانی مل جائے تو دو گھونٹ پی کر آگے چلوں، مجھ سے چلا نہیں جا رہا۔ ایک عورت سامنے سے گزری۔ اس کے ہاتھ میں چھوٹا سا کولر تھا شاید اس کا کوئی عزیز اسپتال میں داخل تھا۔ ماں نے شکیب کو اشارہ کیا، وہ اس عورت کے پیچھے دوڑا کہ ماں کے لیے پانی مانگ کر لے آئے۔ اتنے میں امی لان کے کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئیں اور انہوں نے جوتے اتار دیئے، شاید بخار سے ان کے تلوئوں میں گرمی لگ رہی تھی۔ اسی لمحے میں نے دیکھا کہ شکیب پلاسٹک کے مگ میں پانی لے کر آ رہا ہے۔ میں نے کہا۔ امی اٹھو۔ بھائی پانی لے آیا ہے۔ وہ بمشکل اٹھیں اور درخت کے تنے کے پاس پڑے جوتے میں پائوں ڈالا۔ بدقسمتی کہ ان کے جوتے کے اندر کوئی زہریلا سانپ گھس کر بیٹھا تھا۔ پائوں ڈالتے ہی انہیں ڈس لیا۔ ماں نے سسکاری لی اور جوتا اُتار کر پھینک دیا مگر سانپ اپنا وار کر چکا تھا۔ دو، چار قدم بہ مشکل چل سکیں کہ ان پر غنودگی طاری ہونے لگی۔ تھوڑا سا آگے چل کر وہ زمین پر بیٹھ گئیں۔ میری کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ شکیب کو احساس ہوا کہ شاید سانپ کے زہر نے اثر کیا ہے۔ وہ بھاگتا ہوا گیا اور ایک شخص کو جا کر بتایا کہ میری ماں کو سانپ نے کاٹ لیا ہے، وہ وہاں پڑی ہیں۔ اس نے اشارہ کیا۔ آدمی نے اور لوگوں کو بتایا اور ذرا دیر میں ہی بہت سے لوگ امی کے اردگرد آ گئے۔ انہوں نے اسپتال کے عملے سے کسی کو بلایا اور پھر وہ امی کو اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی وارڈ میں لے گئے۔
شکیب بچہ تھا مگر وہ اتنا سیانا ضرور تھا کہ حواس باختہ نہ ہوا۔ اسے احسن کا فون نمبر یاد تھا۔ نرس کو نمبر بتا کر کہا کہ میری آنٹی کو فون کر کے بتائو کہ امی یہاں ہیں اور انہیں سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ نرس نے نمبر ملایا اور ہم دونوں بچوں کو اپنی تحویل میں رکھا۔ آنٹی صبا پندرہ بیس منٹ میں پہنچ گئیں۔ انہوں نے ڈرائیور کے ہمراہ اپنی گاڑی پر ہمیں اپنے گھر بھجوا دیا اور خود امی جان کے پاس ٹھہر گئیں۔ فون کر کے اپنے شوہر کو بھی اطلاع کر دی۔ وہ بھی اسپتال پہنچ گئے۔
اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں وہی جانتا ہے۔ باپ کو پہلے اٹھا لیا تھا اور اب ماں کا سہارا بھی لے لیا۔ اس دنیا میں ہم بِن ماں باپ کے رہ گئے۔ وہ تین مرلے کا ٹوٹا پھوٹا گھر جو ہماری جنت تھا، اب اس پر تالا لگ گیا تھا۔ ان دونوں میاں بیوی نے باہم مشورے کے بعد ہمیں اپنے گھر میں رکھ لیا کیونکہ ہم اپنے گھر میں اکیلے نہ رہ سکتے تھے۔ کچھ دن اداس رہے، پھر ہمارا دل احسن سے لگ گیا۔ وہ مجھے کھلونے دیتا اور ہمارے ساتھ کھیلتا تاہم میرا معصوم ذہن ان کی محل نما کوٹھی سے خوفزدہ ہو گیا تھا۔ یہ جھجک اور خوف کافی عرصہ رہا۔ رفتہ رفتہ آنٹی صبا کے محبت بھرے سلوک سے میں نے اس ماحول کو قبول کیا اور وقت نے مجھے سمجھدار کر دیا۔
ہمیں اس گھر میں کوئی تکلیف نہ تھی۔ انکل اور آنٹی ہمارا خیال رکھتے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے نوکروں کو بھی سختی سے ہدایت کر دی تھی کہ ہمارا خیال رکھیں۔ اب ہم اپنے ماں باپ کے گھر سے زیادہ یہاں عیش و آرام میں تھے۔ اچھا کھاتے، اچھا پہنتے اور روز آنٹی، احسن کے ہمراہ ہمیں سیر کے لئے لے جاتی تھیں۔ بچوں کو جتنا عیش و آرام اور محبتیں مل جائیں، ماں کی محبت جیسی راحت نہیں مل سکتی۔ تاہم خوش نصیب تھے ہم کہ انکل اور آنٹی جیسے مہربان لوگوں کے زیر سایہ تھے ورنہ بے سہارا بچوں کا اس دنیا میں کون اتنا خیال رکھتا ہے۔ ہمیں یتیم ہونے کے بعد دنیا کی سب نعمتیں میسر آ گئی تھیں۔
شکیب بہت حساس تھا اور مجھ سے زیادہ سمجھدار بھی۔ اس نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھ لیا اور خود کو پڑھائی میں گم کر دیا۔ وہ کبھی کبھی مجھے بھی تنہائی میں سمجھاتا کہ بے شک یہ لوگ بہت اچھے ہیں مگر ہمارے اپنے نہیں ہیں۔ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا کہ کبھی تم سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو انہیں ناپسند ہو اور پھر ہم کسی صدمے سے دوچار ہو جائیں۔ ان مہربان میاں بیوی نے ہمیں والدین کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ احسن کے ساتھ سگے بھائی بہن کی طرح پرورش پا کر ہم بڑے ہو گئے۔ اب میں محسوس کرنے لگی کہ احسن کا جھکائو میری جانب ہونے لگا ہے۔ اس بات سے مجھے ڈر لگتا کہ ہم غریب والدین کے یتیم بچے ان لوگوں کے ٹکڑوں پر پلے ہیں۔ اگر ہماری شادی نہیں ہو سکتی تو یہ پسندیدگی ہمارے لئے زہر قاتل ہو جائے گی۔
ایک دن میں نے آنٹی کو انکل سے یہ کہتے سنا۔ مجھے لگتا ہے کہ احسن، تحریم کو پسند کرتا ہے۔ تحریم بہت اچھی نیچر کی بچی ہے۔ اگر ہم ان دونوں کی شادی کر دیں تو کیسا رہے۔ اگر بچے ایک دوسرے کو پسند کریں گے تو اس بارے میں ضرور سوچیں گے۔ مجھے ان کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن پہلے انہیں تعلیم مکمل کرنے دو۔ اس گفتگو سے میرے دل میں جاگزیں سارے خدشات اور خوف ختم ہو گئے۔ گویا ان کے دلوں میں ہمارے غریب و یتیم ہونے سے کوئی سروکار نہ تھا۔ وہ ہمیں واقعی اپنے بچوں کی طرح چاہتے تھے۔ جس روز انکل کو ہارٹ اٹیک ہوا، میں نے سمجھا کہ میرا باپ آج مرا ہے۔ اپنے باپ کا پیار تو مجھے یاد بھی نہ رہا تھا۔ انکل نے ہی باپ جیسا پیار دیا تھا۔ شکیب بھی بہت اداس تھا۔ وہ کافی دن اداس رہا اور چھپ چھپ کر روتا رہا۔ وقت سارے زخم مندمل کر دیا کرتا ہے۔ ہمیں بھی صبر آ گیا۔ اب آنٹی کے کندھوں پر دگنا بوجھ آ گیا۔ انہوں نے اکیلے ہی بچوں کے تمام فرائض ادا کرنے تھے۔
احسن اور شکیب نے تعلیم مکمل کر لی اور میں ایف اے تک پڑھ پائی تھی کہ میری شادی کی باتیں ہونے لگیں۔ شکیب بہت فکرمند نظر آتا تھا۔ جب آنٹی نے میرا نکاح اپنے بیٹے سے کیا، تب کہیں جا کر اس کی فکر دور ہوئی۔ لوگوں کو یہ کسی اور دنیا جیسی باتیں لگتی تھیں کہ ایک سیٹھ کی بیوی نے ایک غریب کلرک کی یتیم بچی سے اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی کر دی لیکن ایسا ناممکن نہیں کہ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو نیک دل ہی نہیں، نیک عمل کرنے میں بھی اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ دو سال تک میں اور احسن خوش و خرم زندگی بسر کرتے رہے۔ ہم آنٹی کے ساتھ ہی رہتے تھے کیونکہ انکل کی وفات کے بعد وہ خود کو اکیلا محسوس کرنے لگی تھیں۔ احسن اور شکیب نے مل کر انکل کا بزنس سنبھال لیا تھا۔
وقت پَر لگا کر اُڑتا جا رہا تھا کہ اچانک احسن کو امریکا جانے کا خیال آ گیا۔ وہ انکل کے بعد امریکا بزنس کے سلسلے میں دو بار پہلے بھی جا چکا تھا۔ اس بار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ وہاں مارکیٹنگ کا جدید کورس کرے گا تاکہ بزنس کو زیادہ ترقی ملے۔ آنٹی نے بہت منع کیا مگر وہ نہ مانا۔ اس وقت تک میرے دو بچے ہو چکے تھے۔ بیٹی بڑی اور بیٹا چھوٹا تھا۔ وہاں جا کر جانے کیا حالات ہوئے کہ احسن نے واپس نہ آنے کی قسم کھا لی۔ نیویارک کی زمین نے اس کے قدم جکڑ لئے۔ اس کے خطوط اور فون آتے مگر وہ خود آنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ایک دن اچانک کسی جاننے والے سے خبر ملی کہ احسن نے نیویارک میں ایک امریکی لڑکی سے شادی کر لی ہے۔ اس خبر نے ہم سب کے اوسان خطا کر دیئے۔ آنٹی نے بیٹے کو فون کیا اور پوچھا۔ کیا تم نے وہاں دوسری شادی کر لی ہے؟
میں نے معاہدے والی شادی کی ہے۔ مستقل رہائش کی خاطر چند سالہ معاہدہ ہے، اس لیے شادی کی ہے، فکر نہ کریں۔ مجھے بھی فون پر تسلی دی کہ تمہاری سہولت کے لیے ایسا کیا ہے تاکہ بعد میں تمہیں اور بچوں کو بلوا سکوں۔ دو سال بعد یہ شادی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ بھلا مجھے امریکا کے قوانین رہائش کی باریکیوں کے بارے میں کیا معلوم تھا۔ میں تو احسن پر بھروسا کرتی تھی اور سوچنا بھی نہ چاہتی تھی کہ وہ مجھے دھوکا دینے کی خاطر جھوٹ بولیں گے۔ دو سال تک وہ فون پر تسلیاں دیتے رہے اور میں بے وقوف بنتی رہی۔
آنٹی کافی پریشان تھیں مگر وہ ہمیں اکیلا چھوڑ کر امریکا نہیں جا سکتی تھیں۔ شکیب کے ہمراہ بزنس بھی وہی دیکھتی تھیں جس پر ہم سب کی خوشحالی کا دارومدار تھا۔ بظاہر میں خاموش تھی مگر میرا سکون تباہ ہو چکا تھا۔ انجانے اندیشے ڈراتے تھے۔ شکیب ایک مجبور بھائی تھا، وہ کیا کر سکتا تھا، سوائے تفکر کرنے یا پھر مجھ کو تسلیاں دینے کے۔ سب سے زیادہ آنٹی پریشان تھیں۔ ان کا اکلوتا بیٹا ہی واحد سہارا تھا۔ شکیب کو بھی بیٹے جیسا سمجھتی تھیں مگر احسن نے ان کے وجود سے جنم لیا تھا۔ وہ کیسے اسے کھونے کا صدمہ سہہ سکتی تھیں۔
احسن کی امریکن بیوی ایک بچے کی ماں بھی بن گئی، تب مجھے ہوش آیا اور میں شدید علیل ہو گئی۔ لگا کہ اب واقعی بے سہارا ہو گئی ہوں۔ میری حالت دیکھ کر آنٹی بیچاری نیم مُردہ ہو گئیں۔ اپنے پوتے اور پوتی کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ بیٹے کو فون کرتیں، بے نقط سناتیں مگر احسن پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ احسن کے امریکا میں دو بچے ہو گئے تھے۔ وہ اب سارے خاندان سے کٹ کر وہاں خوش و خرم زندگی بسر کر رہا تھا جیسے اسے اب کسی کی ضرورت نہ رہی ہو۔ جس عورت سے شادی کی تھی، وہ بھی مالدار تھی۔ رفتہ رفتہ اس نے مجھے اور بچوں کو بھلا دیا اور اب فون کرنے کی زحمت بھی نہ کرتا۔ شکیب پر میری اور آنٹی کی تمام ذمہ داری تھی، اس لئے اس نے شادی بھی نہ کی۔ میں نے تو رو دھو کر صبر کر لیا مگر آنٹی کے وجود کو بیٹے کی جدائی کی وجہ سے گھن لگ گیا تھا۔ وہ روز بہ روز نڈھال ہوتی جا رہی تھیں۔
وقت گزرتا گیا۔ میرا بیٹا نعمان سترہ برس اور بیٹی انیس سال کی ہو گئی۔ ادھر احسن کے امریکن بچے بھی جوان ہو گئے۔ ایک دن خبر ملی امریکن بیوی نے اس سے طلاق لے لی ہے اور بچے بھی باپ کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ یہ خبر ہمیں آنٹی کی ایک رشتے دار خاتون نے دی جس کے پاس احسن جا کر اپنا دکھڑا رویا کرتا تھا۔ وہ اب اپنے پاکستانی بچوں اور مجھ سے ملنا چاہتا تھا۔
میرے بیٹے نے سنا تو کہا۔ امی ہرگز آپ ابو سے صلح نہ کریں گی۔ ہمیں ان سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ان کے بغیر ہی ٹھیک ہیں۔ پھر احسن کے فون اور خط آنے لگے۔ کہتا تھا۔ میرے بیٹے کو امریکا بھیجو، میں اپنے پاس رکھوں گا اور نعمان کو یہاں اعلیٰ تعلیم دلوائوں گا۔ وہ بالکل جانے پر آمادہ نہ تھا مگر شکیب بھائی نے اس پر دبائو ڈالا اور امریکا باپ کے پاس جانے پر راضی کیا۔ وہ ماموں کی بہت مانتا تھا، انکار نہ کر سکا۔
امریکا پہنچ کر نعمان نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ تعلیم مکمل کی اور وہاں ہی ملازمت کر لی۔ ملازمت ملتے ہی گھر کرائے پر لیا اور باپ سے علیحدہ رہنے لگا کیونکہ اس نے مجھے اور بہن کو اپنے پاس بلوانا تھا اور میں ہرگز احسن کے پاس نہ رہنا چاہتی تھی۔جب میرے بیٹے نے مجھے اسپانسر کیا تو میری زندگی میں روشنی کی کرن جگمگائی۔ آج میرا بیٹا اس قابل ہو گیا تھا کہ میرا دکھ بانٹ سکے۔
امریکا پہنچی۔ نعمان اکیلا ہی مجھے ایئرپورٹ پر لینے آیا۔ اس نے بتایا کہ ابو اپنی امریکن بیوی سے مطالبہ کرتے تھے کہ بیٹی پر کنٹرول کرو مگر وہ اس بات پر جھگڑ پڑتی تھی۔ یوں بیٹی شادی سے قبل شادی شدہ ہو گئی اور قابل اعتراض زندگی بسر کرنے پر ماں اسے کچھ نہ کہتی تھی۔ یہی حال بیٹے کا تھا۔ اسی اختلاف کے باعث وہ تینوں ابو کو چھوڑ گئے۔ احسن بیٹی کی روش پر غم سے دیوانے ہو گئے تھے۔ اسے برائیوں سے نہ روک سکتے تھے جو ان کی غیرت پر تازیانہ تھیں۔ ایک دن وہ ہمارے گھر آئے۔ میں نے دروازہ کھولے بغیر کہا کہ اب کیوں آئے ہو۔ میں تم سے ملنا نہیں چاہتی۔ ہماری زندگی کو تہس نہس کر چکے، اب مزید ڈسٹرب مت کرو۔ میں نے در نہ کھولا۔ وہ مایوس ہو کر چلا گیا۔ وہ پاکستان گیا اور شکیب کو منایا کہ کسی صورت اپنی بہن کو راضی کرو۔ بیٹی کی خوشامدیں کیں۔ بیٹیاں تو پھر نرم دل ہوتی ہیں۔ تحریم نے مجھے فون کیا کہ امی مان جایئے، ابو بہت پشیمان ہیں، انہیں معاف کر دیجئے۔ میرا دل نہ چاہتا تھا کہ احسن کو معاف کروں مگر میری بیٹی فون پر رو رہی تھی۔ میں نے اس کی سسکیاں سنیں تو دل پسیج گیا۔
شکیب نے بھی منت کی کہ میری خاطر احسن کو معاف کر دو کیونکہ ان کے والدین کے ہم پر بہت احسانات ہیں اور یہ ہمارے محسن کے بچے ہیں۔ آج انہی محسنوں کا احسان اتارنے کا وقت آ گیا ہے۔ آنٹی بیچاری بیمار اور قریب المرگ تھیں۔ انہوں نے بھی کانپتی آواز میں مجھے فون کیا۔ بیٹی میری طرف دیکھو، احسن کو معاف کر دو۔ ان کی بات میں کیسے ٹالتی، بادل نخواستہ احسن سے صلح کی اور یوں ہمارے بچوں نے پہلی بار ماں اور باپ کو دوبارہ ایک چھت تلے دیکھا۔ رفتہ رفتہ خفگی کی دھند چھٹنے لگی اور بچوں نے باپ کی طرف سے دل صاف کر لیے اور مجھے بھی احسن کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے پر راضی کیا۔ میں نے شرط رکھی کہ اگر احسن پاکستان میں رہیں گے تو میں ان کے ساتھ رہوں گی کہ آنٹی زندگی کے آخری دن گن رہی تھیں۔
ہم اپنے وطن واپس آ گئے۔ ہم سب کو ایک ساتھ دیکھ کر جو خوشی کی چمک میں نے آنٹی صبا کی آنکھوں میں دیکھی، اسے زندگی بھر نہیں بھول سکتی۔ یہ وہ خوشی تھی جس کے لیے وہ ایک مدت تک ترستی رہی تھیں۔ انہیں خوش دیکھ کر میرا دل بھی مسرت سے بھر گیا۔ میں نے سوچا شکیب بھائی نے صحیح کہا تھا کہ یہ جو ہمارے محسن ہیں، آج ان کا قرض اُتارنے کا وقت آ گیا ہے۔
آنٹی صبا جب تک زندہ رہیں، جھولی بھر بھر کر مجھے دعائیں دیتی تھیں۔ انہی کی دعائوں کا ثمر ہے کہ آج مجھے زندگی کی ہر خوشی اور سکون حاصل ہے۔ میرے آنگن میں پھولوں کی خوشبو سی رہتی ہے اور پوتے، پوتیوں، نواسے اور نواسیوں کی چہکار سے سارا آنگن گونجتا رہتا ہے۔ (ت… لاہور)