December 03, 2018
تعلیم سے عزت ہے

تعلیم سے عزت ہے

والد شروع سے امیر شخص تھے۔ دیالو بھی تھے جو ضرورت مند آتا خالی نہ جاتا۔ اور امی کی سخاوت کے بارے میں عورتیں کہتی تھیں یہ بی بی جنتی ہے۔ وہ نیک اور سلیقہ مند خاتون تھیں اور ابو اپنی مثال آپ تھے۔ غرض ہمارا گھرانہ جنت کا گہوارہ تھا۔ میں بہنوں میں بڑی تھی۔ نیلم اور شہزادی مجھ سے چھوٹی تھیں۔ دونوں بھائی اکبر اور اصغر پڑھنے جاتے تھے مگر ہم بہنیں اسکول نہیں جاتی تھیں۔ اس کی وجہ دادا جان تھے جو رسم و رواج کے پابند تھے۔ وہ پرانے وقتوں کے تھے، انہوں نے ہمارے اسکول جانے پر پابندی لگائی تھی۔ وہ لڑکیوں کی تعلیم کو اچھا نہ جانتے تھے۔ میرے والدین کی خواہش کے باوجود انہوں نے گھر پر بھی کسی استانی کو آنے کی اجازت نہ دی۔
دادا بہت امیر آدمی تھے۔ ان کا رشتے داروں پر بڑا رعب تھا۔ مکان بھی بہت بڑا اور شاندار تھا لوگ اس گھرکو دیکھنے دور سے آتے تھے۔ جب دادا فوت ہوگئے تو کافی مال و دولت کے ساتھ یہ محل جیسی رہائش گاہ ہمیں مل گئی اور لوگوں میں ہمارے ٹھاٹ باٹ کا اور زیادہ چرچہ ہونے لگا۔ دادا کے فوت ہونے سے جہاں ہمیں ان کی کمی محسوس ہوئی وہاں کچھ فائدہ بھی ہوا۔ امی جان نے ہمیں تعلیم دلوانے کے لئے گھر پر استانی رکھ لی، یوں سال بھربعد ہم سب بہنیں اسکول میں داخلہ لینے کے قابل ہوگئیں۔ میری دونوں چھوٹی بہنوں کو اسکول جانے کا شوق تھا مگر مجھے بالکل نہیں تھا۔ وہ روزانہ خوشی خوشی تیار ہوکر جاتیں مگر میں بہانہ کرتی، کبھی سر درد کا کبھی بخار کا۔ والدہ سمجھاتیں کہ تعلیم سے تقدیریں بدلتی ہیں دولت کا کوئی اعتبار نہیں یہ آج ہے کل نہیں… تعلیم ایسی دولت ہے جسے کوئی چھین سکتا ہے اورنہ چرا سکتا ہے۔ تم بہانے مت کیا کرو، اسکول جایا کرو۔
جانے کیوں مجھے پڑھنے سے وحشت ہوتی تھی پڑھائی میں دل لگتا نہ تھا۔ بہنیں سمجھاتیں۔ آپا اسکول جانا اچھا ہوتا ہے۔ دوسری لڑکیوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ سہیلیاں بن جاتی ہیں تو اسکول جانا اچھا لگتا ہے۔ آپ بھی سہیلیاں بنائیں۔ آپ تو اسکول میں کسی سے بات بھی نہیں کرتیں۔ یوں بھی تعلیم ضروری ہے، جاہل انسان کی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ وہ چھوٹی ہو کر سمجھاتیں تو مجھے بڑا برا لگتا۔ پھر بدقسمتی نے گھیرا اور میں نے دل میں ٹھان لی۔ کسی طور اس پڑھائی کے جھنجھٹ سے جان چھڑائوں تاکہ صبح کو سکون سے سونا نصیب ہو۔
ایک روز امی جان گھر میں اکیلی تھیں۔ وہ برآمدے میں پڑی چارپائی پر سو گئیں۔ چولہے میں انگارے پڑے تھے۔ مجھ سے کہا تھا کہ انہیں بجھا دینا۔ میں نے لاپروائی کی۔ ان پر پانی کے چھینٹے ڈال کر نہ بجھایا۔ سوئے اتفاق اسی دم زور کی آندھی چلی تو آگ کی چنگاریاں اڑ اڑ کر صحن میں بکھرنے لگیں۔ کچھ چنگاریاں کونے میں رکھی چٹائیوں پر جا گریں اور ہوا سے سلگ کر شعلہ بن گئیں۔ آگ نے پھر اپنا کمال دکھانا شروع کردیا۔ آناً فاناً ہر شے جو لکڑی سے بنی تھی، اس نے آگ پکڑ لی۔ اسی وقت بارش شروع ہوگئی صد شکر کہ آگ بجھ گئی لیکن والدہ اس حادثے سے سہم گئیں۔ کہتی تھیں کہ لاپروا لڑکی میں نے کہا تھا کہ چولہے میں پڑے انگاروں پر پانی ڈال دینا مگر تو نے نہ ڈالا۔ آج تو میں جل کر مر گئی ہوتی، اگر بارش نے کرم نہ کیا ہوتا۔
اس دن کے بعد وہ گھرمیں اکیلی رہنے سے ڈرنے لگیں۔ انہوں نے ایک ہی خوف دل میں بٹھالیا کہ میں گھر میں اکیلی رہوں گی تو مجھے کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔ ماں کی ایسی حالت دیکھی تو سوچنے لگی یہ اچھا بہانہ ہے اسکول سے جان چھڑانے کا۔ والد، بھائیوں اور بہنوں کو قائل کیا کہ میرا والدہ کے پاس ہمہ وقت رہنا ضروری ہے ورنہ یہ تنہا رہنے کی وجہ سے بیمار نہ پڑ جائیں۔ ملازمہ آتی تھی مگر کام کرکے چلی جاتی تھی۔ پس میں نے اس خیال کو مضبوطی سے تھاما اور ماں کو باور کرا دیا کہ آپ ہرگز گھر میں اکیلی نہ رہیں ورنہ کوئی حادثہ ہوا تو کون بچائے گا۔ ہر ایک سے کہتی کہ امی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں کوئی ذہنی بیماری ہوجائے، بس ان کی خاطر اسکول جانا چھوڑ دیا ہے اور گھر سنبھالنے لگی ہوں۔
امی ابو کہہ کہہ کر آخرکارچپ ہوگئے کہ تم اسکول جائو۔ ہم انتظام کرلیں گے۔ میرا ایک ہی جواب تھا گھرپر پڑھ لوں گی لیکن میری موجودگی ضروری ہے، امی کو مجھ سے ڈھارس ملتی ہے۔ غرض ضد کر کے گھر بیٹھ گئی اور تعلیم سے پیچھا چھڑالیا۔ میں خوش تھی کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی ہوں، صبح روز تیارہوکر اسکول جانے کے جھنجھٹ سے جان بچی۔ معلوم نہ تھا کہ کتنا بڑا نقصان کرلیا ہے اپنا کہ عمر بھر یہ نقصان پورا نہ ہوسکے گا۔
وقت گزرنے کے ساتھ بعد میں جب عقل آئی تو قسمت نے موقع نہ دیا۔ میرا بھائی اکبر بھی میرے جیسا تھا۔ اس نے آٹھویں کے بعد تعلیم سے منہ موڑ لیا۔ لیکن والد صاحب نے اس کو آوارہ گھومنے نہ دیا، اسے اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کرکے سنبھال لیا۔ یہ اچھا ہوا کہ بھائی کا کاروبار میں دل لگ گیا۔ اس کا رجحان روپیہ کمانے کی طرف ہوگیا۔ والد صاحب کو اس سے مدد ملی اور وہ مزید امیر کبیر ہوتے گئے۔ بھائی نے ان سے ایک نیا کاروبار شروع کروایا۔ وہ ویزے خرید کر لوگوں کو بیرون ملک بھجواتے تھے۔ اس کام میں بہت فائدہ ہوا۔ بہت سے بے روزگار دیہاتی اور مزدور پیشہ ویزے خرید کربیرون وطن جانے لگے۔ وہ قسطوں میں بھی یہ ویزے خرید لیتے تھے۔ معلوم نہیں یہ کام قانونی تھا یا غیرقانونی۔ شروع میں دولت خوب آئی مگر بعد میں خسارہ ہوگیا۔ وہ یوں کہ ابو نے ایک ضرورت مند کو، جسے لوگ کرائے پر سائیکل بھی نہ دیتے تھے اس کے برے حالات دیکھتے ہوئے اپنے کاروبارمیں شامل کرلیا۔ والد صاحب نے اس شخص لطیف کو اکبر کے ساتھ کام پر لگا دیا اور خود اپنے پہلے والے کاروبارپر دوبارہ توجہ مرکوز کردی۔ وہ پہلے آڑھت کا کام کرتے تھے۔
لطیف ایک چالاک شخص تھا۔ اس نے میرے بھائی اکبر کا ذہن نرم روی سے مٹھی میں لے کر اسے شیشے میں اتار لیا اور ویزا لینے کی خواہش رکھنے والے افراد میں اپنا اثر و رسوخ بڑھالیا۔ اور پوری طرح سارے معاملات پر حاوی ہوگیا، جبکہ ابو کی بہت سی رقم لوگوں میں پھنسی ہوئی تھی۔ انہوں نے رقم دینے سے انکارکردیا۔ یوں ہمارے مالی حالات کو ایسا دھچکا لگا کہ والد صاحب بری طرح مشکلات میں پھنس گئے۔ وہ کہیں کے نہ رہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ان کی کاروباری ساکھ خراب ہوگئی اور وہ مقروض ہوتے گئے۔ گھر میں پریشانی نے ڈیرا جمالیا۔ والدین پریشان ہوں تو بچے بھی پریشان ہوجاتے ہیں، ہمیں باتوں کی سمجھ نہ تھی تاہم یہ پتا تھا کہ والدین پریشان ہیں، میں ہر نماز کے بعد دعا کرتی تھی، اللہ کرے ابو کا قرضہ اتر جائے اور ہم پھر سے خوشحال ہوجائیں۔ لطیف نے جب ابو کے ساتھ کام شروع کیا اس کا اپنا مکان نہ تھا اور اب وہ ایک اچھا گھر اور قیمتی گاڑی خرید چکا تھا۔ وہ ویزے کے کاروبارکو کامیابی سے چلا رہا تھا جبکہ ابو خالی ہاتھ رہ گئے تھے۔
دودھ کا جلا چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ یہ بڑا تلخ تجربہ ہوا تھا۔ ابو حددرجہ محتاط ہوگئے۔ انہوں نے اپنے پراعتماد دوستوں تک کو ادھار مال دینا چھوڑ دیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی ساکھ مزید خراب ہوگئی۔ اب والد صاحب کا کاروبار سنبھالتا نظر نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے جوں توں کرکے سب کا پیسہ ادا کردیا تاکہ لوگ ان کو بددیانت نہ سمجھیں۔
کہتے ہیں کہ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی کیا بات تھی ابا جان کی کہ ان کے نام کی پرچی دیکھ کر ان کے کاروباری دوست بغیر سوچے ہزاروں روپے اٹھا کر دے دیا کرتے تھے اور اب حالات نے اس نہج پر پہنچا دیا تھا گھرکے اخراجات پورے کرنے کے لئے سوچنا پڑتا تھا۔ اکبر بھائی کی منگنی تایا زاد منیرہ سے ہوچکی تھی لیکن یہ لڑکی ہم سے خوش نظر نہ آتی تھی، بلکہ کھنچی کھنچی رہتی تھی۔ ہم سب حیران تھے آخر کیوں منیرہ اپنے بچپن کے منگیتر کو دیکھ کر منہ پھیر لیتی ہے۔ بالآخر یہ بھید کھلا کہ وہ کسی اور لڑکے کو پسند کرنے لگی ہے جس کا نام منان تھا اور وہ ان کا پڑوسی تھا۔ یہ ایک خوبرو مگر لاابالی قسم کا نوجوان تھا۔ اس کے والدین کو علم ہوا تو وہ بھی پریشان ہوگئے۔ کیونکہ ان کو علم تھا کہ منیرہ کی منگنی ہوچکی ہے اور اب اس کا رشتہ کسی اور سے نہیں ہوسکتا، یہ بات عداوتوں کا سبب بن سکتی ہے۔ منان کے والد کے علم میں جب یہ بات لائی گئی انہوں نے کہا کہ میں بیٹے کو گولی مار دوں گا لیکن اس کا رشتہ منیرہ سے نہیں کروں گا۔ وہ میرے دوست کی بیٹی ہے اور اس کی منگنی تایازاد سے ہوچکی ہے۔ اپنے دوست کو کیا منہ دکھائوں کہ میرے بیٹے نے مجھے شرمندہ کردیا ہے۔
منان کے والد انکل فخر جو ابو کے دوست اور ہمارے محلے دار تھے ان کو میرے والد، تایا اور دادا جان کا بے حد لحاظ تھا۔ جنہوں نے ان پر کچھ احسانات بھی کئے تھے۔ ادھر ابو اور تایا منیرہ کے اس رومانس پر سخت برہم تھے، کیونکہ دونوں بھائیوں کا نہ صرف آڑھت کا کاروبار مشترکہ تھا بلکہ زمین جائیداد ہر شے مشترکہ ملکیت تھی۔ ان کے لئے ایسے وقت منیرہ اور اکبر کی منگنی کا ٹوٹ جانا ایک سانحہ ثابت ہوسکتا تھا۔ تایا نے میرے والد پر زور دیا کہ جلداز جلد منیرہ کو رخصت کرکے گھرلے جائو۔ ابو نے بھی بیٹے کی شادی کی تیاری کرلی۔ تاریخ رکھ دی گئی۔ جب منیرہ کو پتا چلا کہ اس کے بیاہ کی تیاریاں مکمل ہیں تو اس نے منان سے سازباز کرلی اور دونوں نے کورٹ میں جاکر شادی کرلی۔
اس خبر سے ہمارے خاندان پر ایسی بجلی گری جیسے سب کچھ راکھ ہوگیا ہو۔ تایا کے گھر میں طوفان آگیا۔ اور ہمارے گھر کا بھی برا عالم تھا جہاں چند روز بعد شہنائیاں بجنی تھیں وہاں مرگ کا سا سماں تھا۔ تایا اس قدرروئے کہ ان کو دل کا دورہ پڑ گیا۔ یہ معمولی صدمہ نہ تھا، بیٹی کی شادی کے کارڈ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے تقسیم کئے تھے۔ بھائی کی حالت غیر دیکھی تو والد نے انہیں سنبھالا، تسلی دی کہ اللہ کی رضا پر راضی ہو جائو اور سب بھلا کر مکہ اور مدینہ کی زیارت کو چلو جہاں غم گھٹتے ہیں اور خوشیاں بٹتی ہیں۔ ہمیں وہاں سکون ملے گا۔
یہ دونوں عمرے پر روانہ ہوگئے، ان کے جانے کے بعد ماموں امی کے پاس آئے اور میرے رشتے کی بات کی۔ والدہ نے کہا۔ میرے شوہر کو آجانے دو۔ تب جواب دوں گی ان سے مشورہ کرنا ضروری ہے، جب والد صاحب لوٹ آئے تو والدہ نے بتایا کہ اسلم میاں اپنے لڑکے نوید کے لئے مدیحہ کا رشتہ مانگ رہے ہیں۔ والد اس رشتے پر راضی نہ تھے لیکن پھر نانی جان نے آکر بہت منت کی تو مان گئے۔ دراصل وہ نوید کے چلن سے مطمئن نہ تھے، تاہم ماموں اور نانی کی منت سماجت سے میں نوید کی شریک حیات بن گئی۔ اس وقت میری عمر سولہ سال تھی، اکبر بھائی کو بھی نوید کی عادتیں ناپسند تھیں۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میری شادی نوید سے ہو، مگر اکبر بھائی کی مخالفت کی کسی نے پروا نہ کی۔
ماموں کے گھر کا ماحول ہمارے گھر سے بہت مختلف تھا۔ ممانی کی عادات و مزاج سے تو امی پہلے سے واقف تھیں۔ اسی وجہ سے نوید کو داماد بنانے سے ڈرتی تھیں۔ جبکہ ماموں تسلی دیتے تھے کہ ہم تمہاری بیٹی کو پھولوں کی طرح رکھیں گے مگر یہ صرف زبانی کلامی باتیں تھیں۔ ممانی چند دن خود پر جبر کئے رہیں، پھرانہوں نے پنجے نکال لئے۔ اور میں گھر میں سخت پریشان رہنے لگی۔
مجھے گھر کا کام آتا تھا مگر وہ صحیح کام میں بھی کیڑے نکالتی تھیں۔ نانی سے کہتیں یہ بڑی شہزادی بنی ہوئی ہے کام نہیں کرتی حالانکہ جس کام کا کہتیں، میں کردیتی تھی تب نانی جواب دیتیں۔ اتنا کام تو بچی اکیلی نہیں کرسکتی جونہیں کرسکتی رہنے دو میں کردوں گی۔ تم اس بچی کو سکون سے رہنے دو مگر ممانی جانے کیسی عورت تھی کہ مجھے ستا کر خوش ہوتی تھی، جب تک میں دن میں ایک بار رو نہ لیتی اسے چین نہیں آتا تھا۔ ماموں میری وجہ سے پریشان رہنے لگے وہ سارا معاملہ سمجھتے تھے۔ مگر خاموشی اختیار کرلیتے تھے۔ نوید کا کردار صحیح نہ تھا جہاں نوجوان لڑکیاں ہوتیں وہاں جا گھستے۔ ایک رشتے کی کزن عالیہ تھی اچھی صورت مگر تیز طرار، یہ اس پر فریفتہ ہوگئے۔
عالیہ کا میاں بیرون ملک کمانے گیا ہوا تھا اور یہ اس عورت کی تنہائی بانٹنے کے لئے اس کے گھر کے کاموں کا ذمہ اٹھائے ہوئے تھے۔ یوں میں نے شوہر سے ہاتھ دھولئے اور عالیہ نے میرا گھر برباد کرکے رکھ دیا۔ انہی دنوں نانی وفات پاگئیں جو میرا بڑا سہارا تھیں۔ اب نوید کوکسی کاڈر نہ رہا۔ وہ کھلے بندوں عالیہ کے ساتھ وقت گزارنے لگے۔ ممانی اور ان کی صاحبزادی بھی اس معاملے میں میرا ساتھ نہ دیتی تھیں، بلکہ نوید کا ساتھ دے رہی تھیں یہ سب آنکھوں دیکھی مکھی نگل رہے تھے۔
نوید دن رات عالیہ کے گھررہتے۔ وہیں کھاتے پیتے۔ ممانی کہتیں۔ کیا ہوا وہ بے چاری اکیلی ہے۔ کوئی دیکھنے والا نہیں رات کوتنہا گھر میں ڈرتی ہے۔ آخر کو وہ ہماری رشتے دارہے۔ اپنے مسئلے ہم سے نہ کہے تو کس سے کہے گی۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ نوید نے مجھے خرچہ دینا بند کردیا اور میں پائی پائی کو ماموں اور ممانی کی محتاج ہوگئی۔ میرے ایک بیٹا بھی ہوچکا تھا۔ ساس سے کہتی کہ آپ نوید کو سمجھائیے کہ بچہ بڑا ہورہا ہے۔ اس کے اخراجات بھی بڑھیں گے۔ وہ کہتیں۔ سارا پیسہ وہ عالیہ کو کھلا چکا ہے ،اب ایک ہی صورت ہے۔ عالیہ اپنے میاں کی کمائی سے اسے کاروبار کرا دے یا پھر تم اپنے زیور بیچ کر اسے کاروبار کرائو۔ ورنہ وہ بے کار ہی رہے گا۔ اس کا کاروبار ختم ہوچکا ہے۔
والدہ نے جہیز میں مجھے بہت سا زیور دیا تھا۔ جو اگلے وقتوں کا تھا اور بھاری تھا۔ ساس کے مشورے پر میں نے وہ بیچ کر پیسہ شوہر کو کاروبار کے لئے دے دیا تاکہ دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکیں اور میری قدر کریں۔ نوید نے اس رقم سے کاروبار شروع کیا اور اپنے والد سے الگ ہوگئے، تبھی ماموں امی کے پاس آئے اور کہا کہ یہ تمہاری بیٹی نے اچھا نہیں کیا، اس نے کاروبار کے لئے نوید کو رقم دے دی اور اس نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ حالانکہ وہ میرا بازو تھا، بیٹے کے علیحدہ ہوجانے سے میں ادھورا ہوگیا ہوں۔ اس نے کاروبار الگ کرلیا ہے۔ میں علیحدہ رہ کر کاروبار سنبھال نہیں سکتا۔ مجھے نوکر کھا جائیں گے۔ امی نے مجھ سے باز پرس کی کہ یہ قدم اٹھانے سے پہلے مجھے تم نے اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔ میں نے بتایا کہ ممانی نے کہا تھا کسی کو مت بتانا ورنہ نوید کوسبکی محسوس ہوگی۔ میں نے اس خیال سے رقم انہیں دی کہ وہ عالیہ کو چھوڑ دیں گے اور میرا گھر تباہی سے بچ جائے گا۔
میرا گھر تباہی سے نہ بچ سکا۔ عالیہ شوہر کی کمائی نوید کو کھلاتی تھی وہ لالچ میں وہاں پڑا ہوا تھا اور ماموں مجھ سے بدگمان تھے، ایک روز میں نے نوید سے احتجاج کیا کہ عالیہ کو چھوڑ دیں یا مجھے… انہوں نے مجھے مارا اور کہا اسے تو نہیں چھوڑ سکتا ہاں تمہارا فیصلہ کردیتا ہوں۔ ماموں نے بھی تسلی دینے کی بجائے والدہ سے کہا میں کیا کروں، سارا قصور تمہاری بیٹی کا ہے نہ یہ ایسا کہتی اور نہ وہ فیصلے کی بات کرتا۔ جیسا چل رہا تھا چلتا رہتا۔ ایک دن وہ گھر لوٹ ہی آتا۔ جوان اولاد ہے میں بیٹے کو مار پیٹ تو نہیں کرسکتا۔ کیا کروں؟ والدہ کو بہت دکھ ہوا کہ اپنی اولاد کی محبت میں، سگا بھائی اپنا نہیں رہا، اب کس سے شکوہ کروں۔
شریفوں کی اس دور میں کوئی نہیں سنتا۔ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا، میں چھ ماہ میکے میںپڑی رہی، کوئی لینے نہ آیا۔ کسی نے والد صاحب کو مشورہ دیا تم داماد کو بیرون ملک بھجوا دو شاید اس طرح تمہاری لڑکی کا گھر بس جائے۔ والد صاحب داماد کو منا کر لائے۔ پیسہ دے کر بیرون ملک بھجوایا،ایک سال بھی وہاں نہ رہے، لوٹ آئے کہ وہاں سخت مشقت کرنا پڑتی ہے۔ وہاں کی نوکری میرے بس کی بات نہیں۔ میں نے صبر کرلیا، جو ماموں خرچہ دیتے صبر شکر سے گزارا کرتی کہ اب تین بچے ہوگئے تھے کہاں جاتی۔
خدا کی کرنی کہ عالیہ کے بارے میں کسی نے اس کے شوہر کو خط لکھ دیا اور اس نے بیوی کو طلاق بھجوا دی، یوں رستے کا کانٹا نکل گیا اور عالیہ سے نوید نے نکاح کرلیا۔ میں بچوں کے ساتھ میکے بھجوا دی گئی۔ والدین نے ماموں سے جھگڑا کیا تو ان لوگوں نے طلاق دے کر میرا قصہ ہی ختم کردیا۔ اب بھابھیوں کا دور تھا جو میرا اپنے گھررہنا پسند نہ کرتی تھیں، میرے بچوں اور ان کے بچوں میں لڑائی ہوجاتی تو جھگڑتیں تنگ آکر امی مجھے لے کر علیحدہ گھر میں رہنے لگیں۔
ایسا کب تک چلتا، کچھ سوچ کر انہوں نے اپنے ایک دور کے رشتے دار سے میرا نکاح کردیا جو کماتا نہ تھا مگر اس نے میرے تینوں بچوں کو قبول کیا۔ والدہ نے ظہیر کو گھر داماد بنالیا تاکہ میں بچوں کے ساتھ اکیلی نہ رہوں، ماں ساری عمر تو میرے ساتھ نہ رہ سکتی تھیں۔ یہ سودا بھی مہنگا پڑا کیونکہ والد میرا خرچہ دیتے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد بھائیوں نے خرچہ دینا بند کردیا۔ اب ہم پانچ نفوس کہاں سے کھاتے، جبکہ ظہیر کو کمانے کی عادت نہ تھی۔ کئی بار بڑے بھائی نے انہیں کام پر لگوایا مگر تھوڑے عرصے بعد چھوڑ کر آجاتے کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوتا۔ والدہ کا انتقال ہوا تو رہی سہی آس بھی دم توڑ گئی۔ ظہیر سے بھی دو بچے ہوگئے تھے پانچ بچوں کے ساتھ نوبت فاقوں تک آپہنچی، بہنیں اپنے گھروں کی۔ بھابھیوں نے بھائیوں سے کہہ کہہ کر خرچہ بند کرا دیا تھا کہ جب تک تم دیتے رہو گے ،ظہیر کمائے گا نہیں۔ ان کے بچے بھوکے مریں گے تو یہ کمائے گا۔
کمانا آتا تو پہلے ہی کما لاتا۔ بالآخر مجھے گھرسے قدم نکالنا پڑا۔ جہاں جاتی کہتے کوئی کورس کرلو تو نوکری ملے گی اپنی کوششوں سے مڈل پاس کیا تھا۔ پھر کام سیکھ لیا کام اچھا کرسکتی تھی لیکن باقاعدہ ڈپلومہ نہ تھا۔ آسامیاں نکلتیں تو ڈپلومہ مانگتے۔ ایک جگہ کسی نے بتایا۔ انٹرویو ہورہے ہیں۔ میں گئی۔ کلرک کی منت کی کہ نام لسٹ میں شامل کرلو اس نے کہا۔ بغیر ڈپلومہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ میں نے کہا کہ مجھے داخلہ دلوا دو تاکہ سند ملے تو اپنا کلینک کھول سکوں۔ اس نے کہا۔ بی بی تمہاری عمر زیادہ ہے۔ میں نے بہت کہا کہ میں نے کام سیکھا ہے۔ اسپتال کا سارا عملہ مجھے جانتا ہے۔ بہت ضرورت مند ہوں۔ اس نے جھوٹا وعدہ کیا مگر لسٹ میں نام نہ ڈالا۔ مایوس ہوکر آگئی۔
گھر آکربہت روئی سوچا کہ بہنوں نے تعلیم کو نہ چھوڑا دونوں نے بی اے، بی ایڈ کرلیا۔ تو اچھی جگہ رشتے ہوگئے اور میں نے پڑھائی کومنہ نہ لگایا آج کوئی مجھ ضرورت مند کومنہ نہیں لگاتا۔ اے کاش تعلیم کا دامن نہ چھوڑتی کم از کم میٹرک ہی پاس کرلیتی تو ایل۔ایچ۔وی کے کورس میں داخلہ مل جاتا۔
سچ ہے ہم جیسوں کی، اس پڑھی لکھی دنیا میں کوئی جگہ نہیں لیکن بچوں کا پیٹ بھی بھرنا تھا۔ ایک امیر کبیر باپ کی بیٹی اَن پڑھ جاہل رہ گئی تو اب کوئی پوچھتا نہ تھا۔ مجبوراً دایا کا پیشہ اختیار کرلیا گھر پر پرائیویٹ طور پر ’’ایل ایچ وی‘‘ کا کام کرتی تھی کوئی غریب مریضہ آجاتی تو گھر پر اس کی ڈلیوری کرا دیتی۔ تھوڑے پیسے لیتی تو زیادہ غریب عورتیں میرے پاس آنے لگیں، تھوڑی فیس میں گزارہ چلنے لگا۔ یوں اللہ نے وہ مفلسی کے دن ٹالے اور بچے جوں توں کرکے پروان چڑھائے، ان کو سرکاری اسکولوں میں پڑھنے ڈال دیا کہ جس میں لیاقت ہوگی وہ باقی کنبے کا سہارا بن جائے گا۔ ظہیر گھربیٹھ گئے تھے، کبھی کام لگ جاتا چند دن کرلیتے۔ پھرچھوڑ دیتے بس ایسے ہی وقت پاس ہوتا گیا۔
اللہ تعالیٰ ضرور سنتا ہے آخر وقت نے پلٹا کھایا۔ میری بڑی بیٹی اور بڑے بیٹے دونوں کو حالات کا احساس ہوگیا تھا۔ انہوں نے بہت محنت سے پڑھا اور کامیاب ہوگئے۔ میری دعائوں اور اپنی محنت سے ایک بیٹا انجینئر بنا اوربیٹی ڈاکٹر بن گئی۔ اللہ نے ایک بار پھرعزت بھری زندگی دی اور یہ ڈولتی کشتی کنارے لگی۔ آج میرے گھر میں جوملازمہ کام کرنے آتی ہے، اس کے بچوں کو میں خود پڑھاتی ہوں اور ملازمہ کو قائل کرتی ہوں کہ اگر مفلسی دور کرنی ہے اور عزت کی زندگی کی آرزو ہے تو انہیں پڑھائو چاہے تمہیں ان کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے مگر تعلیم کی اہمیت کو سمجھو۔ یہی ایک سیڑھی مفلس کے پاس ہوتی ہے، جس پر چڑھ کر وہ ذلت کی پستیوں سے نکل سکتا ہے۔ (ش۔م … ڈیرہ غازی خان)