December 03, 2018
کاش تم نہ ملتیں

کاش تم نہ ملتیں

کبھی کبھی انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں کہ جذباتی فیصلے اسے ایک منٹ میں برباد کر ڈالتے ہیں۔ اطہر بھائی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک روز بھائی اپنی کار کے ساتھ اس مخصوص شو روم کے آگے کھڑے تھے۔ جہاں سے انہیں سواریاں ملتی تھیں۔ ایک برقع پوش لڑکی ان کے پاس آئی اور کہا کہ مجھے فلاں جگہ جانا ہے۔ ایسا کہتے ہوئے لڑکی نے چہرے سے نقاب اٹھا لیا تو اس کا چکا چوند کرنے والا حسن میرے بھائی کو مبہوت کرگیا۔ اطہر کے دل میں خیال آیا کہ رات کے دس بجے اتنی حسین لڑکی کو کافی دور جانا ہے۔ میں انکار کردوں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو کوئی غلط قسم کا ٹیکسی والا مل جائے اور اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہو جائے۔ بھائی نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا یہ سوچتے ہوئے کہ عجب لڑکی ہے جو اتنی رات گئے اتنی دور اکیلی جانا چاہتی ہے۔
راستے بھر وہ خاموش رہی۔ بھائی کی بھی عادت نہ تھی بلاضرورت کسی سے بات چیت کرنے کی۔ جب وہ مطلوبہ مقام آپہنچا جہاں لڑکی نے اترنا چاہا تو بھائی نے گاڑی روک کر پوچھا۔ کہاں اترنا ہے۔ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔ کہیں نہیں۔ بھائی نے گاڑی کی چھت میں نصب بتی روشن کی اور پیچھے مڑ کر دیکھا، لڑکی بے حد پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ بھائی نے پوچھا۔ کوئی ٹھکانہ تو ہو گا؟ وہ بولی۔ کوئی ٹھکانہ نہیں۔ تو کیا پولیس اسٹیشن لے چلوں؟ یہ سن کر وہ مزید پریشان ہو گئی۔ بولی۔ نہیں، نہیں…مجھے پولیس والوں کے حوالے نہ کرو۔ مجھے اپنے گھر لے چلو۔ گھر میں آپ کی والدہ اور بہنیں تو ہوں گی۔ میں صبح چلی جائوں گی۔ ایسا کہتے ہوئے اس کی آواز گلوگیر ہو گئی۔
لڑکی گاڑی سے اترنے پر تیار نہ تھی۔ بھائی نے سوچا کہ رات کے وقت ہنگامہ نہ ہو جائے بہتر ہو گا اسے گھر لے چلوں جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ میں بھائی کے ساتھ لڑکی کو آتا دیکھ کر ششدر رہ گئی۔ والدہ بھی حیران تھیں۔ انہوں نے پوچھا۔ اطہر بیٹا یہ کون تمہارے ساتھ۔ امی جان! میں کیا بتائوں، آپ خود پوچھ لیجیے۔
والدہ کو تشویش ہوئی وہ اپنے کمرے میں لے گئیں۔ پوچھا بیٹی کون ہو۔ کہاں سے آئی ہو۔ کیا کسی مشکل میں ہو؟ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا۔ امی جان… آپ کے سوالات کا جواب کل صبح دوں گی۔ اس وقت سونا چاہتی ہوں۔ ایک رات کے لیے گھر میں پناہ دے دیں۔ کھانا کھائو گی؟ جی ہاں۔ اس نے جواب دیا۔ میں نے اطہر کے لیے کھانا گرم کر لیا تھا۔ امی نے اسے بھی دیا۔ لڑکی نے اپنا نام ثمینہ بتایا۔ رات کا ایک بج گیا تھا۔ مزید سوالات کرنا مناسب نہ سمجھا۔ میری نرم دل ماں نے اسے اپنے کمرے میں اپنی برابر والی چارپائی پر بستر بچھا دیا ۔ وہ لیٹتے ہی سو گئی۔
ہم سب کی عادت تھی کہ صبح سویرے بیدار ہو جاتے تھے۔ میں اٹھ کر ناشتہ بنانے لگی اور بھائی نہا دھو کر کام پر جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ لڑکی ابھی تک سوئی ہوئی تھی۔ امی نے بھائی سے کہا کہ تم کام پر چلے جائو ۔ مگر جلد آجانا، تب تک میں اس لڑکی سے بات کر لوں گی۔ اس روز بھائی عصر کے وقت گھر واپس آ گئے کیونکہ لڑکی کو اس کی منزل پر پہنچانا تھا۔ اس دوران والدہ نے کئی بار ثمینہ سے دریافت کیا کہ اسے کہاں جانا ہے اور کس مشکل میں ہے۔ لڑکی نے کچھ نہ بتایا۔ بس یہی کہتی رہی، امی جان سمجھ لیں میں لاوارث ہوں۔ میرا کوئی نہیں ہے۔ آپ اچھے لوگ ہیں۔ اب مجھے یہاں سے کہیں نہیں جانا۔ آپ اپنے پاس رکھ لیں، بیٹی بنا لیں۔
یہ عجیب کشمکش تھی۔ اپنے بارے میں کچھ نہ بتانا اور گھر سے جانے سے بھی انکاری تھی۔ ہم پریشان تھے کہ کیا کریں۔ گھر سے کیسے دھکے دے کر نکالیں۔ دو تین دن اسی شش و پنج میں گزر گئے۔ جب جانے کا کہتے وہ رونے لگتی۔ امی کے ساتھ گھر کا کام کرنے لگتی۔ رات کو ان کے پائوں دبانے بیٹھ جاتی لیکن اپنے بارے میں ایک لفظ بھی نہ کہتی تھی۔
وہ مجھ سے مانوس ہو گئی۔ میں اس کی طرف داری کرتی۔ کھانا بھی میں ہی اصرار کر کے اسے کھلاتی۔ اپنے اچھے کپڑے پہننے کو دیے۔ اس کے پاس تو وہی ایک جوڑا تھا جو وہ پہن کر آئی تھی۔ وہ بہت پرکشش تھی۔ خوبصورت اور با ادب باسلیقہ۔ میرے ساتھ بہت خوش رہتی تھی۔ مجھے اپنا ہمدرد سمجھتی، بھروسہ کرتی تھی کیونکہ میں اس قسم کے سوالات نہیں کرتی تھی جن کے جوابات وہ دینا نہیں چاہتی تھی۔ چند دنوں میں ہی وہ مجھے دوست سمجھنے لگی۔ میرا اس کے ساتھ دل لگ گیا اور وہ بھی مجھ پر اعتماد کر بیٹھی کہ اگر اسے چلے جانے کو کہا جائے گا تو میں اس کی طرف داری کروں گی، اسے سہارا دوں گی۔
آخر ایک روز اس نے مجھ پر بھروسہ کرکے اپنی رام کہانی سنا دی۔ بولی۔ محلے کے ایک لڑکے سے پیار ہو گیا لیکن وہ ہماری برادری کا نہ تھا۔ والدین اس کے ساتھ شادی کے لیے راضی نہ ہوئے تو ایک روز میں اس کے ساتھ گھر سے نکل آئی۔ وہ بزدل مجھے اپنے شہر سے اسلام آباد لے آیا مگر بس سے اترتے ہی غائب ہو گیا۔ شام سے رات ہو گئی اور میں لاری اسٹینڈ پر اس کے انتظار میں کھڑی رہی۔ تو کچھ لوگ مجھے مشکوک سمجھ کر ارد گرد منڈلانے لگے۔ میں بہت گھبرا رہی تھی۔ رات سر پر آچکی تھی اور میرا پرس بھی وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ اس نے کہا۔ یہیں رکو میں ٹیکسی لاتا ہوں۔ پھر کسی جگہ رات ٹھہرنے کا ٹھکانہ ڈھونڈتے ہیں۔ وہ پرس لے کر چلا گیا اور پھر نہیں آیا۔ تب تمہارا بھائی مجھے شریف آدمی دکھا تو میں اس کے پاس گئی اور اس کی ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔ ایسے ہی ایک جگہ کا نام لے دیا۔ جہاں ایک مزار ہے۔ سوچا رات کو مزار پر سو جائوں گی لیکن پھر حوصلہ نہ ہوا اور میں نے تمہارے بھائی سے استدعا کی کہ آج رات اپنے گھر پناہ دے دو۔ شکر ہے کہ میں شریف فیملی میں آگئی ہوں۔ میری قسمت اچھی تھی۔ ورنہ جانے میرے ساتھ کیا ہوتا۔
میں نے بہت چاہا کم ازکم والدین کا نام بتا دے۔ اس نے نہ بتایا کہ بس یہی جواب دیتی تھی کہ معلوم کر کے کیا کرو گی میں نے وہاں جانا ہی نہیں ہے۔ وہ مجھے نہیں رکھیں گے اور بھائی میرے اتنے ظالم ہیں کہ مجھے جان سے مار کر دم لیں گے۔ اس نے مجھ سے درخواست کی سائرہ خدا کے لیے مجھے اپنی بھابی بنا لوں۔ اب میں اس گھر سے کہیں نہیں جانا چاہتی۔ عمر بھر تم لوگوں کی ملازمہ بن کر رہوں گی۔
میں نے ماں کو ساری باتیں بتائیں، بولیں۔ ایک تو لڑکی گھر سے بھاگی ہوئی ہے۔ اس کے خاندان کا کچھ پتا نہیں ہے پھر میں تمہاری خالہ کو کیا جواب دوں گی۔ ثنا سے اطہر کی منگنی ہوئے ایک سال بیت چکا ہے۔ یہ منگنی ہم کسی صورت نہیں توڑ سکتے۔ پھر اطہر اس سے شادی کرنے پر کسی صورت راضی نہ ہوگا۔ امی بھائی ضرور راضی ہو جائیں گے۔ وہی اسے گھر میں لائے ہیں، ابھی نکالا بھی نہیں ہے۔ ثمینہ بہت خوبصورت ہے۔ بھائی کو ٹٹولیے تو سہی کہ ان کے دل میں اس کے لیے کیا ہے… یوں بھی وہ ثنا سے شادی پر کب راضی تھے۔ آپ نے زبردستی منگنی کی۔ مجھے بھی وہ پسند نہیں ہے۔ میرا دل نہیں چاہتا ہے کہ وہ بھابی بن کر ہمارے گھر آئے۔
بیٹی! یہ اس کی وجہ سے ہوا ہے۔ تمہارے دل کو اس لڑکی نے اپنی مٹھی میں لے لیا ہے۔ تبھی تمہیں ثنا بری لگنے لگی ہے۔ مگر بیٹی لمحاتی اور جذباتی فیصلے بعض اوقات زندگی برباد کر دیتے ہیں۔ امی کی اپنی سوچ تھی مگر میری سوچ ماں سے الگ ہی تھی۔ میں سراسر ثمینہ کی طرف دار تھی۔ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اب ہمارے گھر سے جائے یا دربدر ہو۔
آخر کار میں نے اپنے بھائی کو ثمینہ سے نکاح پر آمادہ کر ہی لیا۔ امی ہم دونوں کے دبائو میں آ گئیں۔ خالہ کی ناراضگی کی پروا کیے بغیر اطہر نے ثمینہ سے نکاح کرلیا اور گھر میں جو ایک اذیت ناک کشمکش جاری تھی اس کا خاتمہ ہو گیا۔ بلاشبہ خالہ کو صدمہ ہوا۔ انہوں نے وہی کیا جس کی ہمیں توقع تھی۔ امی سے ناتا توڑ لیا اور نند کو بیٹی کا رشتہ دے دیا۔ بھائی کے نکاح میں چند قریبی لوگوں اور محلے والوں کو مدعو کیا تاکہ بے خوف ہم ثمینہ کو اپنے گھر رکھ سکیں۔ نئے رشتے کے لیے گواہ اور اعلان ضروری تھا۔ ثمینہ کی مراد بر آئی وہ بہت خوش تھی۔ جیسے پچھلے سارے غم بھلا دیے ہوں۔ بھائی جب تھک کر رات کو گھر آتے وہ ان کو منتظر ملتی۔ ثمینہ ان کے بغیر کھانا نہ کھاتی تھی۔ کبھی بھائی کو دیر ہو جاتی یا ایئرپورٹ کی سواری میں رات بھیگ جاتی تو وہ بھوکی ہی سو جاتی۔ میں اور امی اسے سمجھاتے کہ اطہر آ جائے گا تم بھوکی نہ سو جایا کرو مگر وہ ایک لقمہ بھی نہ لیتی۔
زندگی کے دن یونہی ہنسی خوشی گزرتے رہے۔ ثمینہ امی کی بہت خدمت گزار تھی۔ اب وہ بھی خوش تھیں جبکہ ان کی بھانجی بے حد سست لڑکی تھی جو ہل کر پانی نہ پیتی تھی۔ ماں کہتی تھیں۔ لگتا تھا کہ ثمینہ کو بہو بنا کر غلطی کر رہے ہیں لیکن اب جانا کہ بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔ بھائی نے ایک دوست کو کہہ دیا تھا کہ دبئی کا ویزا ملے تو وہاں جا کر کمانا چاہتا ہوں۔ خوش قسمتی سے ان کی مراد بر آئی اور دوست کے توسط سے وہ دبئی چلے گئے۔ اس وقت ثمینہ بھابھی کی پریشانی دیدنی تھی۔ جب وہ دبئی جا رہے تھے تو وہ روئے جاتی تھیں۔ بڑی مشکل سے چپ کرایا۔ بھائی نے بھی تسلی دی کہ جلد لوٹ آئوں گا۔ پگلی تمہاری خاطر ہی تو جا رہا ہوں کہ تمہیں زیادہ سے زیادہ سکھ اور خوشیاں دے سکوں۔ ان دنوں بھابی امید سے تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی عطا کی جو خوبصورتی میں ماں پر گئی تھی۔
ایک سال بعد بھائی لوٹے تو بیٹی کو دیکھ کر پھولے نہ سماتے تھے۔ بھابی کا اصرار تھا اب لوٹ کر نہ جانا۔ یہیں کام کرو۔ مجھ سے آپ کی جدائی برداشت نہیں ہوتی اور بھائی کہتے تھے، سائرہ کا جہیز بنانا ہے۔ اس کی شادی کرنی ہے کہ ابھی مجھ میں جان ہے۔ تھوڑا عرصہ کما لوں پھر خاصا سرمایہ جمع ہو جائے گا تو کوئی اچھا کاروبار سیٹ کر لوں گا۔ پھر تم لوگوں کو چھوڑ کر نہیں جائوں گا۔ بھابی کبھی کبھی مجھ سے کہتیں کہ اس بات کا ڈر رہتا ہے کہیں آپ لوگوں سے جدا نہ ہو جائوں۔ میں تسلی دیتی کہ آپ کا وہم ہے۔ بھلا ہم کیوں آپ سے جدا ہونے لگے۔ وہ اس خوف سے کبھی گھر سے باہر بھی نہ جاتی تھیں کہ کہیں گم نہ ہو جائیں۔ میں سمجھتی تھی کہ نفسیاتی طور پر الجھن کا شکار ہو جاتی ہیں، تب ہی ایسے وہم کرنے لگتی ہیں۔
وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ ایک اور بیٹی بھی پیدا ہو گئی۔ دونوں بچیاں بھابی کی جان تھیں۔ مجھے بھی یہ ننھی منی پریاں بہت پیاری تھیں۔ اس بار بھائی آئے تو میری شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں اور میں بیاہ کر پشاور آ بسی۔ گھر میں امی اور بھابی تھیں اور دونوں بچیاں،ثمینہ بھائی کو خط لکھتیں کہ اب دبئی چھوڑ دو اور وطن آجائو۔ بچیوں کی حفاظت کے لیے تمہارا یہاں رہنا بہت ضروری ہے۔ بھائی کو کمانے کا چسکا لگ گیا تھا جب بھی آتے یہی کہتے اب کی جا رہا ہوں آئندہ آیا تو پھر نہ جائوں گا۔ اپنی بچیوں کے پاس رہوں گا۔
یہ سردیوں کے دن تھے۔ امی بیمار پڑی تھیں اور دونوں بچیوں کو بھی بخار آ رہا تھا۔ مجبور ہو کر بھابی بچیوں کو لے کر اسپتال گئیں اور پھر واپس نہ لوٹیں۔ خدا جانے ان کے ساتھ کیا ہوا، زمین کھا گئی کہ آسمان نگل گیا۔ امی نے مجھے فون کرایا۔ میں اسلام آباد اپنے شوہر کے ہمراہ پہنچی، حتی المقدور انہیں تلاش کیا۔ کچھ پتا نہ چلا۔ کیونکہ وہ محلے پڑوس تک میں نہ جاتی تھیں۔ کبھی شاذ ہی بچیوں کی دوا کے لیے نکلتی تھیں تو بھی پڑوسن یا ان کی کسی بچی کو ہمراہ لے کر جاتی تھیں۔ اس روز بھی وہ پڑوسن کے ساتھ جانا چاہتی تھیں مگر اچانک ان کے مہمان آ گئے تو انہوں نے ساتھ جانے سے معذرت کر لی اور اپنے بارہ سالہ بیٹے کو بھابی کے ہمراہ بھیج دیا۔ سلمان ہی رکشہ لایا تھا اور بھابی کے ساتھ اسپتال گیا تھا۔ صبح کا گیا شام کو سلمان اکیلا گھر لوٹ آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ تمام وقت ثمینہ بھابی اور بچیوں کو اسپتال میں ڈھونڈتا رہا جب نہ ملیں تو آخر تھک ہار کر اسپتال کے ایک ملازم کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا جو سلیمان کو گھر چھوڑ گیا۔
یہ ایک ایسا معمّہ تھا کہ حل نہ ہو سکا۔ بھائی کو ہم نے دبئی اطلاع کی۔ وہ پریشان حال وطن آ گئے جہاں تک ہو سکا ثمینہ بھابی اور بیٹیوں کی تلاش کی… کچھ سراغ نہ ملا۔ بھائی کی حالت ناگفتہ بہ ہو گئی جیسے جیتے جی مر گئے ہوں۔ ہم سے جدائی ثمینہ کی قسمت میں لکھی تھی جس سے وہ ڈرا کرتی تھی۔ اس کی جدائی تو شاید ہم سہہ جاتے اب دو بچیوں کی جدائی کون سہہ سکتا تھا۔ امی اسی غم میں چل بسیں، لیکن بھائی کو اپنی بیٹیوں کا غم دیمک کی طرح چاٹتا رہا۔ کاش ثمینہ اپنے خاندان اور ماضی کے بارے تھوڑا سا حال بتا دیتی تو آج شاید اسے ڈھونڈنا آسان ہو جاتا۔
وقت گزرتا رہا اور اس واقعے کو سترہ سال گزر گئے۔ اچانک ایک دن جبکہ میرا بیٹا شدید بیمار تھا ہم اسے لے کر اسپتال گئے، جس وارڈ میں وہ داخل تھا تو قریبی وارڈ میں نرس کو بلانے گئی تو ایک بیڈ کے پاس سے گزر ہوا۔ ایک مریضہ جو سفید چادر میں لپٹی ہوئی تھی، بہت کمزور اور نحیف نظر آ رہی تھی، اس نے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میں اس کے قریب گئی تو صورت جانی پہچانی لگی لیکن پہلی نظر میں پہچان نہ سکی۔ تب مجھے میرے نام سے اس نے پکارا تو میں چونک گئی۔ یہ ثمینہ تھی، بیماری نے جس کی ایسی حالت کر دی تھی، ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھی۔ میں نے بے اختیار کہا۔ ثمینہ کیا یہ تم ہو ؟ ہاں میں ہوں سائرہ۔ تم کہاں غائب ہو گئی تھیں۔ ہم تلاش کر کے تھک گئے۔ کہنے لگی۔ تم مجھے عمر بھر تلاش کرتیں تو بھی ڈھونڈ نہیں سکتی تھیں۔ میں انہی لوگوں کے چنگل میں پھنس گئی تھی جن کے چنگل سے نکل کر تمہارے گھر ایک رات پناہ لی تھی اور پھر اس پناہ سے انہی کے خوف کی وجہ سے نہ نکلتی تھی۔ مجھے اپنے والدین اور گھر کا پتا بھی معلوم نہ تھا۔ بہت چھوٹی تھی جب مجھے اغوا کر کے فروخت کیا گیا اور جس محلے میں رہی اس کا نام لینا بھی شرفا گوارا نہیں کرتے۔ کیسے بتاتی کہ کہاں سے نکل بھاگی ہوں۔ بھیڑیوں کی دنیا سے اگر ان کا کمزور شکار بھاگ بھی جائے تو بھیڑیئے آسانی سے نہیں چھوڑتے۔ آخر دم تک پیچھا کرتے ہیں۔ وہ لوگ بھی میرا پیچھا کرتے رہے ہوں گے۔ اسی خوف سے میں نے تمہارے بھائی سے نکاح کی استدعا کی تھی۔ عزت کی چار دیواری میں قید ہونے کے لیے مگر بھیڑیوں کو اپنا شکار بھولتا نہیں۔ کسی طرح انہیں پتا چل گیا کہ میں کہاں ہوں۔
اس دن اسپتال میں انہی میں سے ایک نے مجھے بچیوں سمیت دیکھ لیا۔ فوراً اپنے دو ساتھیوں کو بلوا لیا۔ جونہی گیٹ سے باہر نکلی۔ انہوں نے میرے منہ پر رومال رکھ دیا اور بچیوں کو بھی اٹھا کر گاڑی میں ڈال دیا۔ وہ آناً فاناً روانہ ہو گئے اور پھر مجھے یہ خبر نہ رہی کہ کہاں ہوں، ہوش آیا تو اسی جگہ تھی جہاں سے نکل کر بھاگی تھی۔ اپنا نہیں اب تو اپنی بچیوں کی فکر اور بربادی کا غم دیمک کی طرح چاٹنے لگا تھا۔ مگر برائی کے اڈے چلانے والوں کو کسی ماں کے جذبات اور کسی کی حرمت و عزت کا احساس نہیں ہوتا۔ اتنا سن کر میرے دل کی دھڑکن رکنے لگی۔ ثمینہ کی آواز بھی کمزوری کے باعث ڈوبتی جاتی تھی۔ میں نے جلدی سے پوچھا۔ لیکن اب بچیاں کہاں ہیں اور یہاں تمہیں کون ڈال گیا ہے۔
اس سے پہلے کہ ثمینہ بچیوں کے بارے میں کچھ بتاتی موت نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور اس نے آخری ہچکی لی۔ نرس کو میں نے آواز دی وہ دوڑی ہوئی آئی۔ اس نے نبض چیک کی اور ڈاکٹر کو بلانے چلی گئی۔ میں دم بخود کھڑی تھی، نرس سے میں نے پوچھا۔ اس خاتون کے ورثا کون ہیں۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ دو بندے چند روز پہلے ان کو یہاں داخل کرا گئے تھے۔ وہ دوبارہ نہیں آئے۔ میں چیک کرتا ہوں۔ اس نے کائونٹر پر جا کر معلومات کیں۔ رجسٹر سے ورثا کے نام اور پتا معلوم کیا۔
حیرت ہوئی جب وارث کے آگے میرے بھائی اطہر کا نام لکھوا دیا گیا تھا اور پتا بھی ہمارے گھر کا تھا۔ میں نے اپنے شوہر کو بلایا، وہ آ گئے۔ ان کو صورتحال بتائی، وہ بولے۔ اطہر بھائی کو معلوم ہو گا کہ ثمینہ ملی اور چلی بھی گئی، لیکن جب بچیوں کے بارے میں حقائق کا علم ہوگا تو ان کا کیا حال ہو گا… ثمینہ اس جگہ کا پتا نہ بتا سکی تھی جہاں بچیاں تھیں۔ یقیناً وہ اب تک جوان ہو چکی ہوں گی۔ کیا خبر ان ظالموں نے ان کو فروخت کر دیا ہو۔ اس سے آگے میرے ذہن نے سوچنے سے انکار کر دیا۔ اطہر بھائی دبئی میں تھے۔ ہم نے ثمینہ کی تدفین کرا دی۔ آج بھی گمشدہ بھتیجیوں کے بارے میں سوچتی ہوں تو دکھ سے دل بند ہونے لگتا ہے، اے کاش ثمینہ میرے بھائی کو نہ ملتی۔ (س۔ پشاور)