December 03, 2018
ایس ایم ظفر - وکالت سے سیاست تک

ایس ایم ظفر - وکالت سے سیاست تک

ایس ایم ظفر کو اگر اپنی ذات میں انجمن قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ وہ ایک ایسے قانون داں ہیں جو آنکھ بند کرکے بنے بنائے راستوں پر چلنے کے قائل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اجتہادی بصیرت عطا کی ہے۔ وہ نئے راستے بنانے اور الفاظ کو نئی وسعتیں عطا کرنے پر قادر ہیں۔ ایس ایم ظفر ایک ایسے سیاست داں ہیں، جن کے سیاسی فیصلوں اور اقدامات سے اختلاف کرنے والے بھی ان کی متانت اور فراست کا انکار نہیں کرپاتے۔ وہ ایک ایسے مصنف ہیں جنہوں نے اپنے مشاہدے، تجربے اور مطالعے کو اردو اور انگریزی کتابوں کے کوزے میں بند کرکے محفوظ کردیا ہے۔ ان کی کتب ’’میرے مشہور مقدمے‘‘، ’’عوام، پارلیمنٹ اور اسلام‘‘، ’’ڈکٹیٹر کون؟‘‘، ’’پاکستان بنام کرپشن‘‘ اور کالموں کے مجموعے ’’تذکرے، جائزے‘‘ وغیرہ کو قبول عام حاصل ہوا۔ ظفر صاحب ’’انجمن انسانی حقوق‘‘ کے روح رواں ہیں، جو بنیادی حقوق انسانی کے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔
ایس ایم ظفر نے پاکستان سے لیا بھی بہت کچھ ہے کہ وہ آج دنیا میں اسی کے حوالے سے متعارف ہیں اور سائیکل سے کار بلکہ کاروں تک کا سفر انہوں نے پاکستان کے ہی ایک شہر لاہور میں طے کیا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انہوں نے اپنے وطن اور اہل وطن کو دیا بھی بہت کچھ ہے۔ انہیں ان پاکستانیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے جو گفتار اور کردار کے درمیان فاصلے مٹا چکے ہیں اور ہر آنے والا دن جن کی عزت میں اضافہ کرتا جارہا ہے۔ ان کے والد سیّد محمد اشرف شاہ کشفی نظامی، خواجہ حسن نظامی کے خلیفہ تھے اور اہل دل میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ انہی کے خون کا اثر ہے کہ ایس ایم ظفر الفاظ کو زخم نہیں، مرہم لگانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پہلے سوچتے ہیں، تولتے ہیں، پھر بولتے ہیں۔ انہیں لڑنے اور لڑانے میں نہیں، صلح کرنے اور کرانے میں لطف آتا ہے۔ ان کے والد ایک تعمیراتی ادارے میں ملازم تھے، شاید اسی لئے وہ بھی دو فریقوں کو ملانے کے لئے پل بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی سیاست میں بھی یہ شوق نمایاں ہے۔
سیّد محمد ظفر 6؍دسمبر 1930ء کو رنگون میں پیدا ہوئے، قدرے ہوش بھی وہیں سنبھالا۔ والد مرحوم برسوں وہاں مقیم رہے۔ دوسری جنگ عظیم نے انہیں وطن واپس جانے پر مجبور کردیا۔ شکر گڑھ تحصیل کے علاقے ’’قافیاں والا‘‘ میں ان کا آبائی گھر تھا، وہیں ڈیرہ ڈالا۔ چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک دوسرے گائوں کے اسکول میں داخل ہوئے اور وہیں سے میٹرک کا امتحان امتیازی شان کے ساتھ پاس کیا، بورڈ میں اوّل آئے۔ اس کے بعد لاہور پہنچے اور گورنمنٹ کالج کی کشادہ بانہوں میں سمٹ گئے۔
والد انہیں انجینئر بنانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے وکیل بننے کا فیصلہ کیا اور تعلیم کے دوران ہی اپنے استاد (بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس) سردار محمد اقبال کے دل میں گھر کرلیا۔ امتحان دیتے ہی وہ ان کی ذہانت کو اپنے چیمبر میں لے گئے اور ان کے سائے میں وہ پھلتی پھولتی چلی گئی … ظفر نوجوان تھے کہ ایک مقدمے میں منظور قادر مرحوم جیسے عبقری سے پالا پڑگیا، وہ فریق مخالف کی طرف سے پیش ہورہے تھے۔ کچھ عرصے بعد ایک مقدمے میں اے کے بروہی کے مقابل تھے۔ کرنا خدا کا، ظفر نے دونوں مقدمات جیت لئے۔ اس ظفریابی نے ان کی شہرت کو پر لگا دیئے۔
فیلڈ مارشل ایوب خان کو نئے وزیر قانون کی ضرورت محسوس ہوئی تو ان کی نظر ایس ایم ظفر پر جا ٹھہری۔ انہیں یاد کیا اور وزارت کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلی۔ وکالت ہی نے انہیں سیاست میں دھکیل دیا۔ ایوب خان کا دور ختم ہوگیا لیکن ظفر کی سیاست ختم نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ کے ساتھ ان کا رومانس جاری رہا۔ وہ ایک دھڑے سے دوسرے دھڑے تک پہنچے اور دھڑلے سے اپنا کام کرتے رہے۔ تاہم اس سفر میں نواز شریف سے معانقہ نہ ہوسکا۔ توہین عدالت کے مقدمے میں ان کے وکیل تو بنے، رفیق نہ بن پائے۔ رفاقت انہیں بالآخر چوہدری شجاعت حسین کی میسر آئی۔ سینیٹ کے رکن بھی رہے۔ جنوری 2018 میں عملی سیاست کو خیرباد کہہ دیا۔
قانون کی وزارت انہیں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی پیش کی اور جنرل ضیاء الحق نے بھی … لیکن ان کا دل فیلڈ مارشل کے دسترخوان پر ہی بھر چکا تھا، دوبارہ بھرّے میں نہ آئے۔ پرویز مشرف سے ان کا معاملہ یہ رہا کہ ’’بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں‘‘ ان کے بازار سیاست میں تو رہے لیکن ’’ونڈو شاپنگ‘‘ ہی پر اکتفا کیا۔
جنرل پرویز مشرف کے ’’مارشل لا‘‘ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو عدالت نے ظفر صاحب کو اپنے معاون کے طور پر طلب کرلیا۔ انہی کی تجویز پر سپریم کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کو تین سال میں انتخابات کرانے کا پابند بنایا۔ جنرل موصوف کا اقتدار پنجرے میں بند ہوگیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا یہ ایک مثبت پہلو تھا۔ جنرل پرویز مشرف اور ایم ایم اے کے درمیان مذاکرات ہوئے تو قانونی لگام ظفر صاحب کے ہاتھ میں دے دی گئی۔ پرویز مشرف سے وردی اتارنے کا وعدہ لے لیا گیا لیکن بعد میں وہ مکر گئے اور اپنی نائو ڈبو دی۔
18ممتاز شہریوں نے جنرل پرویز مشرف سے وردی اتارنے کا مطالبہ کیا تو اس پر دستخط کرنے والوں میں ایس ایم ظفر پیش پیش تھے۔ میں بھی اس جرم میں برابر کا شریک تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے ماتھے پر بل پڑ گئے لیکن ظفر صاحب ثابت قدم رہے۔ جنرل (ر) تنویر نقوی کی طرح پسپا ہونے سے انکار کردیا۔
ظفر صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مقدمہ ہالینڈ جاکر لڑا اور جیتا۔ ڈاکٹر صاحب کو ان کی غیرحاضری میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، وہ ختم کردی گئی، اس طرح بین الاقوامی سطح پر بھی ظفر صاحب کی دھاک بیٹھ گئی کہ جس نکتے کو انہوں نے اپنے دلائل کی بنیاد بنایا تھا، اس سے ان کے ہالینڈ کے ساتھی وکیل متفق نہیں تھے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی رائے پر اصرار کیا اور کامیابی نے ان کے قدم چوم لئے۔
ظفر کا نام ہی ان کا کام بن گیا…!