December 03, 2018
زمین کے کتنے چاند ہیں؟

زمین کے کتنے چاند ہیں؟

یورپی ملک ہنگری کی ELTE Eötvös Loránd یونیورسٹی کی جانب سے ایک مقالے میں اِن ڈسٹ کلاؤڈ کی تصدیق کی ہے جنہیں 1961ء میں پولش ماہر فلکیات کازیمیرز کورڈیلیوسکی نے دریافت کیا تھا۔ یہ بادل زمین اور چاند کے درمیان ایل فور اور ایل فائیو نامی پوائنٹس میں واقع ہیں۔ یہ وہ پوائنٹس ہیں جو زمین اور چاند کی کشش سے ان بادلوں کی سطح کو مستحکم رکھتے ہیں۔ ان بادلوں کو کورڈیلیوسکی کلاؤڈ کا نام دیا گیا، جن کے بارے میں کافی عرصے سے شبہات ہیں کہ سورج کی کشش ثقل کے اثرات سے ایل فور اور ایل فائیو پوائنٹس خالی ہوچکے ہیں۔ ان بادلوں کی موجودگی کی تصدیق واقعی بڑی خبر ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے نئے چاند دریافت کرلیے ہیں۔ کورڈیلیوسکی کلاؤڈ، خلا میں اپنی پوزیشن کے باعث زمین کے مدار کے گرد گھومتے ہیں مگر ان کی پوزیشن ایسی جگہ پر ہے جہاں کشش ثقل مٹی کے ذرّات کو نظام کے اندر اور باہر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محققین نے ان بادلوں کو چاند کہنے کی بجائے pseudo سیٹلائیٹس کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ ہمارے چاند کے پڑوس میں واقعی یہ مٹی والے pseudo سیٹلائیٹس بھی زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ ان کلاؤڈز کو تلاش کرنا انتہائی مشکل تھا حالانکہ وہ چاند کی طرح زمین کے قریب ہی ہیں مگر انہیں محققین نے اکثر نظرانداز کیا۔ ویسے تو رات کو آسمان پر تین چاند کو جگمگاتے دیکھنے کا خیال کافی اچھا لگتا ہے مگر یہ مٹی کے بادل بہت زیادہ دھندلے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک دریافت نہیں ہوسکے، تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ہم آسمان پر چاند جیسے کسی خلائی جسم کو رات میں دیکھ سکیں گے۔