December 03, 2018
شوگر ٹیسٹ کا جدید آلہ

شوگر ٹیسٹ کا جدید آلہ

میڈیکل سائنس میں دن بہ دن ترقی ہو رہی ہے تاکہ مریضوں کو بہتر اور فوری طبی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہم اقدام کیا ہے۔ ’’این ایچ ایس‘‘ نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جسے ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا افراد اپنے ہاتھ پر پہن کر جسم کا گلوکوز لیول مانیٹر کر سکیں گے۔ ’’این ایچ ایس‘‘ کا منصوبہ ہے کہ اپریل 2019ء تک جلد پر لگانے والا مانیٹر مریضوں کو دے دیا جائے گا۔ عام طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو خون میں شکر کی مقدار جاننے کے لیے بار بار خون کے نمونے لینے پڑتے ہیں، اور یہ عمل خاصا تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ تاہم ’’فری اسٹائل لیبرے‘‘ نامی جدید آلہ جلد پر پہنا جا سکتا ہے اور یہ بغیر تکلیف کے جسم میں شکر کی مقدار بتاتا رہتا ہے۔
’’فری اسٹائل لیبرے‘‘ میں ایک چھوٹا سا سینسر نصب ہے اور اسے بازو پر لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں نصب ٹرانسمیٹر جلد کے نیچے پائے جانے والے سیال کے اندر موجود شکر کی مقدار کو جانچ سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ معلومات ایک دستی ڈسپلے پر فراہم کر دی جاتی ہیں۔ اس کی مدد سے آپ نہ صرف موجودہ، بلکہ سابقہ ریڈنگز بھی دیکھ سکتے ہیں جس سے آپ کو معلوم ہو سکتا ہے کہ پچھلے کئی دنوں میں آپ کا شوگر لیول کیا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی انگلیوں کے خون کے ٹیسٹ کی ضرورت کو کم کرتی ہے اور ذیابیطس کے شکار افراد کو ان کی حالت معلوم کرنے میں بہت آسانی فراہم کرتی ہے۔ یہ آلہ ’’این ایچ ایس‘‘ نے برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے کو بھی دیا تھا اور وہ اسے استعمال کرتی ہیں۔ ’’این ایچ ایس‘‘ انگلینڈ کے چیف ایگزیکٹو سائمن اسٹیونز کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ہیلتھ اور ٹیکنالوجی اب ’’این ایچ ایس‘‘ کے طویل المعیاد منصوبے کا مرکز ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ’’ ’این ایچ ایس‘‘ انگلینڈ اہم کارروائی کر رہی ہے تاکہ برطانیہ میں ٹائپ ون کے مریض اپنی زندگی کو بہتر بنانے والی ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکیں۔