December 03, 2018
پاکستانی سائنس دانوں کا کمال … سستی مصنوعی جلد تیار

پاکستانی سائنس دانوں کا کمال … سستی مصنوعی جلد تیار

پاکستان میں سینکڑوں خواتین ہر سال کسی مجرم کی وجہ یا حادثے کے باعث جل جاتی ہیں۔ آئے دن ہم خواتین کو جلائے جانے کے مظالم کی خبریں بھی سنتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے افراد میں اموات کی شرح نسبتاً زیادہ ہے جن کا جسم پچاس فیصد سے زیادہ جل جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔ ان سہولتوں میں سب سے اہم انسانی جلد کا نعم البدل یا مصنوعی جلد ہے۔ اب چند پاکستانی ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مقامی سطح پر بیالوجیکل مصنوعی جلد تیار کر لی ہے۔ لاہور کے جناح اسپتال کے برن سینٹر میں قائم ایک لیبارٹری میں ڈاکٹر رؤف احمد ان دنوں مصنوعی جلد کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مالکیولر بایالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ مقامی طور پر تیار کی جانے والی جلد کے پیوند کی قیمت ایک ہزار پاکستانی روپے سے کم ہے۔ ڈاکٹر رؤف احمد نے بتایا کہ جِلد کے دو اقسام کے مصنوعی نعم البدل ہو سکتے ہیں۔ ایک بیالوجیکل یا حیاتیاتی اور دوسرا سنتھیٹک یعنی کیمیاوی ترکیب سے بنائی گئی۔ سنتھیٹک جلد کا نقصان یہ ہے کہ ایک تو اس کا انسانی خلیوں کے ساتھ جُڑنا مشکل ہوتا ہے، دوسرا اس کی ہیئت کو زیادہ لمبے عرصے تک قائم رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ لگ جانے کے بعد اس کے خراب ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ جلد کا جو نعم البدل ڈاکٹر رؤف نے تیار کیا ہے، وہ بیالوجیکل جلد ہے۔ یہ قدرتی جلد کے قریب ترین ہوتی ہے یعنی تقریباً قدرتی جلد جیسی ہی ہوتی ہے۔ مصنوعی جلد سرجری کے دوران بچ جانے والی اضافی انسانی جلد یا پھر گائے یا بھینس کی جلد سے بھی تیار کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر رؤف کے مطابق پہلے مرحلے میں مختلف کیمیکلز کی مدد سے جلد کے اوپری حصے سے تہہ ہٹائی جاتی ہے یعنی تکنیکی اصطلاح میں اسے ڈی ایپی ڈرملائز کیا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے ڈی سیلولیرائز کیا جاتا ہے۔ ’’ان دونوں مراحل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس میں موجود ہر قسم کے وائرس وغیرہ کو ہٹا دیا جائے اور اسے مدافعتی (سسٹم کی طرف سے) مسترد ہونے سے بچایا جا سکے۔‘‘
اگلے مرحلے میں اسے اسٹیرلائز کیا جاتا ہے تاکہ اسے جراثیم سے پاک رکھا جائے۔ ان تمام مرحلوں کو مختلف مشینوں کی مدد سے سرانجام دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رؤف کے مطابق اس کی وجہ دیگر عوامل کے ساتھ وہ کیمیکلز یا کیمیائی مادے ہیں جنہیں استعمال کر کے یہ جلد تیار کی جاتی ہے۔ ان کی لیبارٹری کی مختلف اداروں کے ساتھ شراکت داری ہے جہاں سے وہ یہ کیمیکلز حاصل کرتے ہیں۔ ’’پاکستان کے لحاظ سے میں نے کوشش کی کہ ایسے کیمیکلز استعمال کیے جائیں جو کام بھی وہی دیں اور مہنگے بھی نہ ہوں۔ پاکستان میں ہمارے پاس بلڈ بینکس کی طرح جلد کا بینک نہیں ہے ورنہ ہم زیادہ جلدیں تیار کر سکتے ہیں۔‘‘
مصنوعی بیالوجیکل جلد کا ایک پیوند آٹھ دن میں تیار ہوتا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر تیار ہونے والی جلد برن سینٹر کی حد تک تو استعمال میں لائی جا سکتی ہے مگر کاروباری بنیاد پر نہیں۔ ڈاکٹر رؤف کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مقامی طور پر تیار کی جانے والی جلد کا موازنہ یورپ اور امریکا سے درآمد شدہ جلدوں سے کیا ہے اور وہ بالکل اسی معیار کی ہے، بلکہ کچھ پہلوؤں پر ان جلدوں سے بہتر بھی ہے۔
ابتدائی طور پر 18 مریضوں پر مقامی طور پر تیار کی گئی مصنوعی جِلد استعمال کی جاچکی ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے پہلے جانوروں اور پھر بڑے پیمانے پر انسانوں پر آزمایا جائے گا۔ اس کے بعد یہ کاروباری سطح پر تیار کیے جانے کے لیے دستیاب ہو گی۔
لاہور میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم کے مطابق جھلس جانے والے زیادہ تر افراد میں اموات انفیکشن اور جسم سے پانی اور نمکیات کے تیزی سے اخراج وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ قدرتی جلد کے جل جانے کے بعد اس کے نیچے کے اعضاء جراثیم کے لیے افشا ہو جاتے ہیں۔ انفیکشن کو روکنے کے لیے انسانی جلد کے اس بیالوجیکل نعم البدل کی پیوندکاری ایسے مریض کی زندگی بچانے کے لیے انتہائی موزوں ذریعہ ہے۔ اس طریقے سے انفیکشن اور اہم سیال کے ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ تاہم پاکستان میں اب تک ’’اے سیلولر ڈرمل میٹرکس‘‘ یا انسانی جلد کا بائیولوجیکل نعم البدل تیار نہیں کیا جا رہا تھا اور اسے درآمد کرنا پڑتا تھا۔ درآمد شدہ جلد کا نعم البدل انتہائی مہنگا ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کی پہنچ سے باہر تھا۔ تقریباً ایک مربع انچ درآمد شدہ بیالوجیکل مصنوعی جلد کے پیوند کی قیمت لگ بھگ 900 ؍امریکی ڈالرز یعنی تقریباً ایک لاکھ پاکستانی روپے سے زیادہ پڑتی ہے۔
ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تیار کی گئی جِلد کی کاروباری سطح پر تیاری میں مشکلات ہیں جس کی بنیادی وجہ ’’امپورٹ مافیا‘‘ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جو کمپنی سالانہ اربوں روپے کی ادویات درآمد کر رہی ہو، وہ کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کا وہ کاروبار بند ہو جائے۔‘‘ ان کی مشکل تب زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا طریقہ کار موجود نہیں جس کے ذریعے اِن ایجادات کو کم قیمت پر کاروباری سطح پر تیار کروایا جا سکے۔ ڈاکٹر جاوید کا کہنا ہے کہ ان کے اشتراک نے اب تک 27 فارماسوٹیکل یا دوا پر مبنی پروٹین تیار کر رکھی ہیں۔ ان میں انٹر فیرون انجکشن بھی شامل ہے جو ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو دیا جاتا ہے۔ انہوں نے جو انٹرفیرون مقامی سطح پر تیار کیا تھا، اس کی قیمت محض 1200روپے جبکہ جو درآمد کیا جا رہا تھا اس کی قیمت 12 ہزار روپے پڑتی تھی۔ ڈاکٹر جاوید کا کہنا تھا کہ کبھی عدالتوں میں کیس تو کبھی منظوری کے چکروں میں پھنسا کر آخرکار ان کے سستے انٹرفیرون کو ختم کروا دیا گیا کیوں کہ جو کمپنی سالانہ 40 ؍ارب روپے کا انٹروفیرون درآمد کر رہی ہے، اس کے لیے چند کروڑ میں وکیل کرنا بڑی بات نہیں ہے۔
ڈاکٹر جاوید کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ اس سستی بیالوجیکل مصنوعی جلد کو کاروباری سطح پر تیار اور دستیاب کروائے۔ اس قدر بڑے پیمانے کا کام حکومتی سطح پر ہی ممکن ہے۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر پاکستان میں ایسی سائنسی تحقیقات کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔